Pages

ویلنٹائن ڈے : یوم محبت یا دعوت تباہی؟





چودہ فروری   کو    دنیا بھر میں یہ دن ”یوم محبت “ کے نام سے منایا جاتا ہے۔ قوم، نسل اور مذہب کی قید سے بالا تر ہو کر انسانوں کی ایک بڑی تعدا د بشمول مسلمان اس کا اہتمام کرتی ہے۔ ۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ اس ”یوم محبت“ کی تاریخی حقیقت سے سوائے چند ایک کے کوئی واقف نہیں۔
ویلنٹائن کی حقیقت کیا ہے؟
یہ رسم کئی صدیاں پرانی ہے۔ تاریخی اعتبار سے اس دن کی حقیقت کے بارے میں ایک سے زائد آراءہیں۔ ؒویلنٹائن“ نامی کسی شخص کی طرف منسوب تقریبا نصف درجن کہانیاں ایسی ہیں جن کو اس ”یوم محبت“ کا یوم آغاز تصور کیا جاتا ہے ۔ ان تمام روایات کو یہاں ذکرکرنا ، پھر تاریخی تحقیق کے ذریعے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرنا، تاریخی شواہد کی روشنی میں کسی ایک کو اس ”یوم محبت “ کا نقطہ آغاز قرار دینا ہمارا مقصود نہیں ۔ ان بے شمار قصوں میں سے چند ایک کا ذکرکافی ہو گا جن کو پڑھ کر اندازہ ہو جائے گا کہ یہ واقعہ کس حد تک حقیقی ہے، اس کو بنیاد بنا کر ایک پورا دن اس کردار کے لئے خاص کرنا کس کہاں تک عقلمندی ہے ۔
ایک قصہ اس طرح ہے کہ رومی بت پرست تھے ۔ ان رومیوں کے ایک پوپ نے ،جس کا نام ”ویلنٹائن “ تھا ،نے بت پرستی چھوڑ کر عیسائیت قبول کر لی۔ جس کی پاداش میں اسے سزائے موت دے دی گئی۔ لیکن بعد میں جب رومیوں نے عیسائیت قبول کر لی تو انہوں نے پوپ ویلنٹائن کے یوم وفات کو ”یوم محبت “ کے طور پر منایا۔ اس طرح ویلنٹائن ڈے کا آغاز ہوا۔ اس روایت کا مبنی بر حقیقت ہونا تقریبا محال لگتا ہے۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ رومی فوج کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا تھا، لوگ فوج میں بھرتی ہونے سے کتراتے تھے۔ بادشاہ نے جب محسوس کیا کہ شادی شدہ لوگ اپنے اہل و عیال کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تو اس نے شادیوں پر پابندی لگا دی۔ ایک رائے یہ ہے کہ بادشاہ کا خیال تھا کہ بہادر اور جرات مند فوجی کا غیر شادی شدہ ہونا ضروری ہے۔ کیوں کہ ایسے نوجوان دیگر افکار سے آزاد ہوتے ہیں ۔ الغرض فلسفہ جو بھی تھا ، بادشاہ نے شادی پر پابندی لگا دی۔ ویلنٹائن نامی ایک پادری نے بادشاہ کے حکم کے خلاف چھپ کر شادیاں کروانا شروع کردیں، یا خود شادی کر لی۔ جس کی پاداش میں اسے سزائے موت دے کی گئی۔ اور یہ 14فروری کا دن تھا۔ بعد میں اس ویلنٹائن کی یاد میں یہ دن منایا جانے لگا۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ویلنٹائن نے ایک راہبہ سے 14فروری کو یہ کہہ کر شادی رچالی کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ 14فروری کا دن ایسا ہے کہ اس دن اگر راہب اور راہبہ آپس میں میلاپ کر لیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جاتا۔ یاد رہے کہ عیسائی مذاہب میں ایک فرقے کے عقائد کے مطابق راہب اور راہبہ زندگی بھر کنوانے رہتے ہیں۔ ان کی مذہبی تعلیمات کے مطابق جو کوئی اپنے آپ کو کلیساءکی خدمت کے لئے پیش کر دے تو وہ عمر بھر شادی نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ شادی اور پھر ازدواجی زندگی کی صورت میں وہ اصلی گناہ دوبارہ ایکٹیویٹ ہو جاتا ہے جس کا ارتکاب آدم علیہ السلام اور بی بی حوا نے کیا تھا اور حضرت عیسی علیہ السلام نے صولی پر چڑھ کر تمام انسانیت کی جانب سے اس کا کفارہ ادا کیا تھا۔
ویلنٹائن کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے راہبہ نے ہاں کر دی اور انہوں نے شادی رچا لی۔ اس جرم کی پاداش میں انہیں سزا ئے موت دے دی گئی۔ تب سے لوگ اس دن کو یوم محبت کے نام سے مناتے ہیں۔
اگر اس واقعہ کو سچ مان لیا جائے تو عقل کا تقاضا یہ ہے کہ عیسائی مذہب کے مطابق اس دن کو ”یوم مذمت “ کے طور پر منانا جاتا۔ کیوں کہ اس دن ایک مذہبی روایت کے خلاف قدم اٹھایا گیا ۔ کلیسا کے اصولوں کو پامال کیا گیا ، اور اہل کلیسا میں سے دو اہم لوگوں نے مذہبی تعلیمات کے صراحتا خلاف کام کیا ۔ لیکن اس سب کے باوجود عیسائیت کے پیروکار اس دن کو ”یوم محبت“ کے طور پر مناتے ہیں اور مذہبی پادریوں کی جانب سے کبھی اس کی مذمت نہیں کی گئی ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہل کلیسا کو بھی اپنی تعلیمات کے غیر فطری ہونے کا احساس ہو چکا ہے ۔
مزے کی بات یہ ہے کہ عیسائی تاریخ میں ویلنٹائن نامی تین افراد کا ذکر ملتا ہے اور تینوں کو کسی نہ کسی جرم میں موت کی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔
حقیقت کچھ بھی ہو یہ دن عیسائی برادری کے لئے عید کی حیثیت اختیار کر گیا، جو پہلے پہل تو صرف بعض جگہوں پر منایا جاتا تھا لیکن ذرائع ابلاغ کی وسعت نے اس طرح کی کئی خبائث کو اسلامی معاشروں میں بھی پروان چڑھا دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ دن ہمارے ہاں بھی اسی اہتمام و احترام سے منایا جانے لگا۔ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم احساس کمتری کا اس قدر شکار ہو چکے ہیں کہ مغرب کی ہر روایت اپنانے کو نہ صرف قابل فخر سمجھتے ہیںبلکہ اسی تقلید کو ہر قسم کی روشن خیالی اور جدیدیت کا معیار سمجھتے ہیں۔
اسلام ایک مکمل دین اور ضابطہ حیات ہونے کے ساتھ ساتھ فطری مذہب ہے۔ اس نے اپنے ماننے والوں کی تمام طبعی خواہشات کے پیش نظر ان تمام معاملات زندگی کو اپنی تعلیمات میں سمویا ہے جو تقاضائے بشری ہیں۔ لیکن ان جذبات کی تکمیل و تسکین کے لئے اسلام نے مسلمانوں کو بے لگا م نہیں چھوڑا بلکہ کچھ اصول وضع کئے ہیں۔ ان اصولوں کے مطابق کئے جانے والا ہر کام عبادت شمار ہوتا ہے ۔ اسلام خوشی اور تفریح سے ہر گز منع نہیں کرتا بلکہ صحت مند تفریح کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اسی کے پیش نظر مسلمانوں کے لئے سال میں دو عیدیں رکھی ہیں۔ تا کہ مسلمان اس دن خوشی کا اظہار کر سکیں، ایک دوسرے کو تحائف دیں، دعوتیں کریں۔ اس کے علاوہ شادی بیاہ کی تقریبات یا اس طرح کے دیگر ایسے مواقع جو انسانی زندگی کا لازمہ اور معاشرے کی ضرورت ہیں ان میں بھی خوشی منانے کی پوری اجازت ہے۔
 اسلام خوشی منانے کا ہر گز مخالف نہیں۔ لیکن جو تہوار کوئی مذہبی یا تہذیبی پس منظر رکھتے ہوں۔ جس کا منایا جانا کسی مذہبی واقعے کی یاد دلاتا ہو، اس کو منانا اسلامی نقطہ نظر سے ٹھیک نہیں۔ مذہبی تہواروں کی کو منانے کا مقصد کچھ روایات ، تصورات اور عقائد کو انسانی معاشروں میں پروان چڑھانا ہوتا ہے۔ اس لئے دیگر مذاہب کے مذہبی تہوار منانا خطرے سے خالی نہیں۔
ان اسلامی ایام کے علاوہ کسی بھی ایسے دن کا منانا جس کا ہماری روایات سے تعلق نہیں علماءکے متفقہ فتویٰ کے مطابق بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔ اور اس دن تحفے دینا اور کسی بھی سرگرمی میں شامل ہونا ”تعاون علی الاثم و العدوان“ (برائی اور زیادتی کے کام میں تعاون) کے تحت آتا ہے۔
ایک طبقہ کی رائے ہے کہ اسلام خوشی منانے سے ہر گز منع نہیں کرتا اس لئے اس دن خوشی منانے میں کوئی حرج نہیں۔ مزید یہ کہ آپ ان کے طریقے مت اپنائیں بلکہ اسلامی طریقے اپناکر اسلامی انداز میں یہ دن منا سکتے ہیں اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔۔ افسوس ہے ان دانشوروں پر ۔ طریقہ بدلنے سے کوئی غلط کام جائز نہیں ہو جاتا۔ اگر خوشی ہی منانی ہے تو کسی اور دن کا انتخاب کر لیجئے۔ اسی دن منانا ضروری ہے؟
اس دن خوشی منانے کا مطلب ان کی مشابہت اختیار کرنا ہے، اور اسلام کی واضح تعلیمات ہیں کہ ”جس نے کسی قوم کی مشابہت کی وہ انہیں میں سے ہے“ اب ہر انسان خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ کن میں سے ہونا پسند کرتا ہے۔
یہ تو مذہبی پہلو ہے۔ معاشرتی اور اخلاقی پہلو سے یہ دن جو برائیاں ساتھ لاتا ہے وہ کوئی بھی شریف النفس قبول نہیں کر سکتا۔ مغربی اور غیر اسلامی معاشروں کا جو کلچر میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کو یہ دن منانے کی دعوت دیتا ہے ، وہ طریقے بھی سکھاتا ہے، اس دن کی راہ و رسم سے بھی آگاہ کرتا ہے ۔ محبت اور عشق کے خوبصورت پردوں میں جنسی بے راہ روی اس دن کا خاصہ ہے۔ بظاہر محبت کا پرچار ہے لیکن درحقیقت تباہی ہی تباہی ہے ۔ اخلاق کی تباہی، معاشرتی اقدار کی تباہی، وسائل اور اوقات کی تباہی اور بالآخر خاندانی نظام کی تباہی۔
یہ ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے کہ اس برائی کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔ لوگوں میں اسلامی تعلیمات کے حوالے سے آگہی پیدا کریں، اس دن اور ایسے دیگر تہواروں کی خرابیوں اور خرافات سے اپنی نوجوان نسل کو آگا کرنے کے ساتھ اسے اس دلدل میں گرنے سے بچانے کی کوشش کریں۔
بطور خاص وطن عزیز جن اخلاقی، معاشرتی، اور معاشی بحرانوں سے گزر رہا ہے وہ کسی صورت بھی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے تہواروں پر سرکاری طور پر پابندی لگائیں۔ تاکہ اخلاقی اور جانی نقصان کے ساتھ ساتھ ملکی وسائل کا نقصان بھی روکا جا سکے۔
اگر ہم نے ابھی آنکھیں نہ کھولیں، اپنی روایات کا پاس نہ رکھا اور مغرب کی تقلید میں مست رہے تو وہ وقت دور نہیں کہ ہم اخلاقی زوال میں مغرب سے آگے نکل جائیں۔
اپنی ملت پے قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

"قادری" انقلاب تماشا: ڈور کس کے ہاتھ ہو سکتی ہے؟





یوں تو حضرت کے سارے ہی کام کسی پیچیدہ خواب کی تعبیر کے طور پر ہوتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ خواب میں گزارے ہوئے سالوں کی تعداد اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے (تلمذ والا خواب بطور مثال) لیکن موجودہ انقلابی جذبہ، اس کا طریقہ کار اور وقت کا انتخاب کسی خواب کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کا محرک براہ راست کوئی حکم نامہ ہے جس کے ساتھ ساتھ دنیاوی بشارتیں اور انعام و کرام بھی بیش بہا ملے ہیں۔
سب ہی یہ سوچ رہے ہیں کہ آخر یوں بیٹھے بٹھائے اچانک قادری صاحب کے دل میں پاکستان اور پاکستانیوں سے ہمدردی کے جذبات کیسے امڈ آئے؟ کیسے وہ دیکھتے ہی دیکھتے اس قدر بیتاب ہوئے کہ کینیڈا سے اٹھے اور پاکستان میں انقلاب کی آمد تک کے لیے خود کو ایک (محل نما) کنٹینر میں محصور کر دیا۔
یوں تو ہمارے ہاں ہر ہی مسئلے کا سبب امریکہ اور اسرائیل کو کہا جاتا ہے اور اب یہ ایک مزاح کی حیثیت اختیار کر گیا ہے لیکن موجودہ وقت اور حالات میں اگر ہم خطے کی صورتحال، زمینی حقائق اور واقعاتی شواہد پر غور کریں تو صاف لگتا ہے کہ عین انتخابات کے وقت میں یہ پسوڑی ڈالنا بلکہ ڈلوانا کسی خاص مقصد کے پیش نظر ہے۔ اور یہ اس کا محرک خواب نہیں بلکہ کوئی "نادیدہ قوت" ہے
اگر ہم خطے کی صورتحال دیکھیں تو اگلے سال ہمارے پڑوسی ملک افغانستان سے امریکہ بہادر اپنی تمام تر ہزیمت سمیٹتے ہوئے واپسی کے لیے رخت سفر باندھ رہا ہے جس کا اظہار وہ تسلسل کے ساتھ کر رہا ہے۔ لیکن یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ  وہ اپنی ہزیمت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ تاہم اہل نظر اچھے طریقے سے جانتے ہیں کہ اس کے  12 سالہ قیام کے بعد بھی افغانستان کی جو حالت ہے وہ پہلے سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔
اب امریکہ بہادر چاہتا ہے کہ وہ فاتحانہ انداز سے رخصت ہو جس کے لیے اسے خطے میں کچھ معاونین کی ضرورت ہے۔ ان معاونین میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے اور اس کے بعد بھارت اور دیگر ہیں۔ لہذا ان معاونین سے اپنی مرضی کا تعاون حاصل کرنے کے لیے وہاں پر ہم خیال حکومتوں اور فوجی قیادتوں کا ہونا از حد ضروری ہے۔ بھارت تو امریکہ نواز ہے ہی کیوں کہ امریکہ نے اسے بہت نوازا ہے اور وہاں حکومت بدلنے کا قریب قریب کوئی امکان نہیں۔
البتہ پاکستان کی موجودہ حکومت مکمل طور پر امریکہ کے تابع ہے جس کی ناقابل تردید مثالیں ریمنڈ ڈیوس، ایبٹ آباد واقعہ اور میمو گیٹ کیس ہیں۔ تاہم فوجی قیادت کے ساتھ بھی بہت سے معاملات میں امریکہ کی ہم آہنگی چلی آ رہی ہے خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں بہت سے اتار چڑھاؤ کے بعد اب تعلقات معمول پر ہیں۔
لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف انتخابات سر پر ہیں اور موجودہ حکومت کا جانا یقیینی ہے۔ آئندہ بننے والی کوئی بھی حکومت چاہے وہ ن لیگ کی ہو یا عمران خان کسی کے ساتھ مل کر بنا لے یا کسی اور جماعت کی ہو۔ اول تو وہ اپنی مقبولیت کوداؤ پر لگا کر امریکہ کے ساتھ ایسا کوئی کھلا تعاون نہیں کرے گا اور اگر چاہے بھی تو وہ اپنے پہلے سال میں امریکہ کے ساتھ اس طرح تعاون نہیں کر سکے گا جیسا کہ اس وقت امریکہ کو ضرورت ہو گی۔
دوسری جانب موجودہ فوجی قیادت کی مدت بھی قریب الاختتام ہے اور نئی قیادت یقینا نئی حکومت کے ساتھ مل کر نئی ترجیحات کا تعین کرے گی، نئی پالیسیاں بنائے گی اور نئے انداز سے کام کرے گی اور وہ بھی امریکہ کی باعزت واپسی میں شاید کوئی کردار ادا کرنے کے بجائے اپنی ساکھ بنانے اور افغانستان میں اپنا حصہ بنانے کے لیے کوشش کرے۔
ایسے وقت میں امریکہ بہادر کے پاس اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں کہ انتخابات کو ملتوی کرایا جائے، موجودہ حکومت کسی نہ کسی طرح برقرار رہے یا کوئی اور نگران حکومت ہو جو ان کی اپنی مرضی کی ہو، یا پھر ایسے حالات پیدا کر دیئے جائیں کہ مجبوراً فوج اقتدار پر قابض ہو جائے۔ اور یہ واضح ہے کہ فوج اگر آ گئی تو پھر کیانی صاحب کی مدت ملازمت غیر معینہ مدت تک بڑھ جائے گی۔
نیز یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ افغانستان میں ہزیمت کا سامنا صرف امریکہ کو نہیں بلکہ 40 کے قریب دیگر ممالک بھی ہیں جو اس جنگ میں براہ راست شامل ہیں اور  شکست کا بہت بڑا حصہ ان سب میں برابر تقسیم ہو گا۔ لہذا پاکستان میں ہونے والے حالیہ تماشے کے پیچھے امریکہ کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک بھی برابر کے شریک ہو سکتے ہیں خاص طور پر کینیڈا بھی کیوں کہ اس نے بھی افغانستان کی گنگا میں اشنان کرنے کے لیے اپنے فوجی بھیج رکھے ہیں۔
شنید ہے کہ امریکی پیسہ براستہ کینڈا آئے تو اس کی اثر پذیری میں کئی گناہ اضافہ ہو جاتا ہے (مسکراتے ہوئے)
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

طاہر بھائی الطاف بھائی: پاکستان کی شامت آئی؟؟





وطن عزیز نے اپنی 65 سالہ زندگی میں جو نابغے دیکھے ہیں ان کی مثال دیگر ممالک اپنی سو سالہ تاریخ میں پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ ہر نابغہ اپنے تئیں، نجات دھندہ، انقلابی، کامیابی کا روشن استعارہ اور پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے والا ہوتا ہے۔ باقی تو اپنی اپنی توانائیاں صرف کر کے اور ملک کا بیڑہ غرق کر کے کسی نہ کسی حد تک سکون کی کیفیت میں ہیں۔
ابھی پرانی نجات دھندوں کے حب الوطنی کے جذبات کے اثرات سے عوام پاکستان نکلے ہی نہ تھے کہ انقلابیوں کی ایک اور فوج برساتی مینڈکوں کی طرح پھدکتی کودتی ایک بار پھر عوام کے سینے پر مونگ دلنے کے لیے میدان عمل میں اتر آئی ہے۔
ابھی عمران خان کے سونامی انقلاب کے تھپیڑوں میں کچھ کمی آئی تھی، کچھ جھاگ بیٹھی تھی کہ ایک اور انقلابی، جو سیاست کی بھول بھلیوں میں بے مثال ناکامیوں سے مایوس ہو کر مذہب کے میدان میں جھنڈے گاڑنے کے لیے بدیس سدھار گئے تھے ایک بار پھر انقلاب کے ہاتھوں مجبور ہو کر وطن عزیز واپس آ گئے ہیں اور دن رات عوام کے غم میں گھل رہے ہیں۔ اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ پاکستان کے استحکام، اس کے نظام کی اصلاح اور عوام کی بہبود کے لیے اس سیاسی جماعت کو اپنا ہمسفر اور ہم نشین بنایا ہے جو تشکیل پاکستان کو اس صدی کی سب سے بڑی غلطی کہتے ہیں، جو وطن سے اس قدر محبت کرتے ہیں کہ یہاں آنے تک کی ہمت نہیں کر پاتے اور جن کے کارنامے ان کی حب الوطنی کی زندہ و جاوید مثال ہے۔
یوں تو موصوف کے معتقدین انہیں شیخ الاسلام سے کم کسی مرتبے پر رکھنے کے سرے سے روادار ہی نہیں لیکن شیخ صاحب کے کارنامے اور قصے اگر سن لیے جائیں تو بادی النظر میں ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ شاید انہیں کسی خاص مقصد کے لیے تیار کیا گیا اور اب استعمال کیا جا رہا ہے۔ حضرت کے خطبات، ان کے خواب اور بیانات سننے کے بعد ایک من چلے نے فی البدیہہ انہیں ایسا لقب دیا جو ان کی اصل حقیقت کو آشکار کرنے کے لیے کسی بھرپور مقالے سے زیادہ مؤثر ہے۔ اور ہو ہے "شیک الاسلام"۔ جس طرح کے کارنامے حضرت اب تک منصہ شہود پر آئے ہیں اس کے بعد شیخ کے بجائے Shake الاسلام والا لقب زیادہ جامع، زیادہ قرین قیاس اور زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔
رہی سہی کسر اس وقت پوری ہو گئ جب اسلام کے شیخ نے قادیانیوں کے سب بے بڑے حمایتی کو اپنا دست و بازو بنا لیا اور یہاں تک فرما دیا کہ ایم کیو ایم اور ہم ایک روح دو جسم ہیں۔ مقام حیرت ہے کہ تھوڑی سی شہرت اور مدد حاصل کرنے کے لیے شیک صاحب کہاں تک گر گئے۔
لیکن یہ حیرت تو ہمیں ہے، ان کے لیے تو یہ جوڑ فطری ہے کیوں کہ ایک جانب شیک الاسلام ہیں تو دوسری جانب شیک الباکستان۔ دونوں مل کر اسلام اور پاکستان کو جو حشر کرنے پر تلے ہوئے ہیں اس کا اندازہ ذی شعور حلقوں کو روز اول ہی سے ہو رہا ہے۔
ایک جملہ معترضہ کے طور پر یہ بات بھی ذکر کر دی جائے تو مفید ہو گی کہ، فصلی انقلابیوں کی قدر مشترک ہے کہ وزیر اعظم بننے کا شوق یکساں طور پر پایا جاتا ہے۔ عمران خان تو نئے انتخابات کے بعد خود کو وزیر اعظم سے کم کسی پوسٹ پر دیکھنے کے روادار نہیں لیکن شیک صاحب تو ابھی سے نگران سیٹ اپ کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور 14 جنوری والے Shake Pakistan مارچ کا اہم ایجنڈہ بھی یہی ہے ۔
اب دیکھئے شیک الاسلام اور شیک الباکستان مل کر کیا گل کھلاتے ہیں۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

6 ستمبر یوم دفاع پاکستان اور اس کے تقاضے



قوموں اورملکوں کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو عام ایام کے برعکس بڑی قربانی مانگتے ہیں۔یہ دن فرزندان وطن سے حفاظت وطن کے لئے تن من دھن کی قربانی کا تقاضا کرتے ہیں، ماؤں سے ان کے جگر گوشے اور بوڑھے باپوں سے ان کی زندگی کا آخری سہارا قربان کرنے کامطالبا کرتے ہیں۔قربانی کی لازوال داستانیں رقم ہوتی ہیں، سروں پر کفن باندھ کر سرفروشان وطن رزمگاہ حق و باطل کا رخ کرتے ہیں ،آزادی کو اپنی جان و مال پر ترجیح دے کر دیوانہ وار لڑتے ہیں، کچھ جام شہادت نوش کر کے امر ہو جاتے ہیں اور کچھ غازی بن کر سرخرو ہوتے ہیں۔ تب جا کر کہیں وطن اپنی آزادی، وقار اور علیحدہ تشخص برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
یہ ایام فیصلہ کن ہوتے ہیں، اگر قربانی کا حق ادا نہ کیا جائے، جان و مال کو وطن پر ترجیح دی جائے، ماں کی ممتا اپنے جگر گوشے کو قربان کرنے سے گریزاں ہو، بوڑھا باپ اپنا اور خاندان کا سہارا کھونے کے لئے تیار نہ ہو تو پھر وطن اپنا وجود کھو بیٹھتے ہیں، قومیں تاریخ کا حصہ اور پارینہ قصہ بن جاتی ہیں، اور آزادی کی کے بجائے غلامی کی زندگی قوموں کا مقدر بن جاتی ہے۔
ایسا ہی ایک دن وطن عزیز پاکستان پر بھی آیا جب بھارت نے اپنے خبث باطن سے مجبور ہو کر ستمبر 1965ءکو پاکستان پر شب خون مارا۔ بھارت کا خیال تھا کہ راتوں رات پاکستان کے اہم علاقوں پر قبضہ کر لیں گے اور ناشتے میں لاہور کے پائے کھائیں گے۔ لیکن انہیں اندازہ نہیں کہ شیر سویا ہوا ہو پھر بھی شیر ہی ہوتا ہے۔ افواج پاکستان اور عوام پاکستان نے مل کر دیوانہ وار دشمن کا مقابلہ کیا۔ سروں پر کفن باندھ کر دشمن سے بھڑ گئے، جسموں سے بارود باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے، عوام نے اپنا سب کچھ دفاع وطن کے لئے قربان کر دیا۔ اور ہندو بنیے کے ناپاک عزائم کو رزق خاک بنا دیا ۔طاقت کے نشے سے چور بھارت پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کے لئے آیا تھا لیکن ہمشہ کے لئے ناکامی کا بد نما داغ اپنے سینے پر سجا کر واپس گیا۔ وہ شاید اس بات سے بھی واقف نہیں کہ جو زمین شہداءکے لہو سے سیراب ہوتی ہے وہ بڑی ذرخیز اور بڑی شاداب ہوتی ہے۔ اس کے سپوت اپنی دھرتی کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو توڑنے اور اس کی طرف دیکھنے والی ہر میلی آنکھ کو پھوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جان وار دیتے ہیں لیکن وطن پر آنچ نہیں آنے دیتے۔ اور اس کا بہترین مظاہرہ 6ستمبر 1965ءکو کیا گیا، انتہائی بے سرو سامانی کے عالم میں بھی جرات و بہادری کی وہ درخشاں مثالیں قائم کی گئیں کہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔
آج ہم 44واں یوم دفاع منا رہے ہیں، ہر سال کی طرح اس سال بھی وطن عزیز کے لئے دعائیں ہوں گی، سرکاری اور نجی سطح پر تقاریب کا اہتمام ہوتا ہے، افواج پاکستان پریڈ پیش کرتی ہیں ، توپوں کی سلامی سے شہداءکو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ دفاع وطن کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کے دعوے کئے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اور پھر شام ہو جاتی ہے ، جب صبح سو کر اٹھتے ہیں تو سب کچھ بھول جاتا ہے۔ ایک دن قبل کئے گئے وعدے اور دعوے بھول جاتے ہیں ۔ پھر وہی کاروبار زندگی، وہی سیاست کی سیاہ کاریاں، وہی دولت کی ہوس، وہی اقتدار کی جنگ، وہی کاسہ لیسی ، وہی غیروں کی غلامی، وہی ازلی دشمنوںسے دوستی کی پینگیں ۔۔۔ نیز ہر وہ کام جو دفاع وطن کے فلسفے کے خلاف اور جو شہداءکے مقدس خون سے غداری کے مترادف ہو، حب الوطنی کے لبادے میں کیا جاتا ہے۔
کیا اسی لئے شہداءنے اپنا خون، ماؤں نے اپنے جگر گوشے اور قوم نے اپنے سپوت قربان گاہ عشق میں وار دیئے تھے؟ کیا ہم نے اسی لئے قربانیوں کی داستانیں رقم کی تھیں کہ پھر اسی دشمن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گے؟ کیا جرات و بہادری کا یہی تقاضا ہے کہ اپنا جائز حق مانگنے کے لئے بھی منتیں اور سماجتیں کی جائیں، دشمن ہمارا پانی بند کر دے، ہماری شہ رگ پر قابض ہو کر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے اور ہم مذاکرات کے لئے اپنے سارے وسائل صرف کر دیں، جس کا نتیجہ سوائے دشمن کو مزید مہلت دینے کے کچھ نہ ہو۔ ؟


اگر قیامت کے دن ان ماؤں نے ہمارا گریبان پکڑکر سوال کر لیا کہ کیا اسی لئے ہم نے اپنے بیٹے وطن کے لئے وارے تھے تو کیا جواب ہو گا۔ ؟ اگر شہیدوں نے پوچھ لیا کہ کیا ہم اسی لئے جان سے ہارے تھے تو کیا جواب ہوگا؟

آج وطن عزیز جن حالات سے دوچار وہ انتہائی تشویش ناک ہیں ۔ اندرونی اور بیرونی طور پر دشمنان پاکستان ہماری جڑیں کھوکھلی کرنے میں مصروف عمل ہیں، ایک طرف بھارت ہے جس کو چین نصیب نہیں، دوسری جانب افغان سرحد پر استعماری قوتیں اسلامی جمہوریہ کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہیں۔ اندرونی طور پر قبائلی علاقوں میں اپنی ہی فوج اپنی ہی عوام کے خلاف برسرپیکار ہے۔ بلوچستان میں ہماری اپنی کوتاہیوں کے باعث آزادی کی تحریک دن بدن زور پکڑ رہی ہے۔ خودکش حملوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ مہنگائی بام عروج پر پہنچ چکی ہے۔اور حکمران اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔
امریکہ بہادر پاکستان کے اندر تک گھس آیا ہے، بدنام زمانہ ”بلیک واٹر “ امریکی سفارتخانے کی زیر سرپرستی مصروف ہے۔ پاکستان کی سالمیت کا ضامن ایٹمی پروگرام خطرات میں گھرتا جا رہا ہے اور ہم سوئے ہوئے ہیں۔

ان مشکل حالات میں ضروری ہو گیا ہے کہ ایک بار پھر اسی جذبے کے ساتھ دفاع وطن کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ وہی جرات اور بہادری، وہی عزم و استقلال اور وہی جہد مسلسل ہمارا زاد راہ ہو۔ اس سے ایک طرف ہم بیرونی دشمن کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے تقویت حاصل کریں تو دوسری جانب اندرونی مشکلات کا مقابلہ کرنے میں تحمل و برداشت کا مظاہرہ کریں۔ تاکہ ہماری طرف سے اٹھنے والا کوئی جذباتی قدم دشمن کو فائدہ نہ دے۔
آزادی بہت بڑی نعمت ہے اور نعمت قربانی مانگتی ہے۔ جتنی بڑی نعمت ہو اتنی بڑی قربانی ہوتی ہے ۔ ہمارے اسلاف نے قربانیاں دیں جس کے نتیجے میں ہم آج آزاد فضا میں جی رہے ہیں۔ دنیا کے نقشے پر ایک آزاد وطن اور آزاد قوم کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے قربانی کا جذبہ ماند پڑتا ہے اسی طرح آزادی کا تصور بھی دھندلاتا جاتا ہے۔

بدقسمتی سے آج ہم اسی دور سے گزر رہے ہیں۔ ہم نے قربانی سے انحراف کیا تو دشمنوں نے ہر محاذ سے ہماری آزادی کو چیلنج کر دیا۔ ڈرون حملوں سے لے کر اسلام آباد میں امریکہ کے 200گھر کرائے پر لینا، بلیک واٹر کی کاروائیاں، بلوچستان میں آزادی کی تحریک، سرحد کی صورتحال اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

آئیے مل کر عہد کریں کہ وطن عزیز پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر وطن عزیز کی فلاح اور دفاع کے لئے کردار ادا کریں گے۔ اور اپنے قول و فعل سے کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے وطن عزیز کی عزت پر حرف آ سکے۔

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اب کے عید کیسے منائیں؟

 
 
عید کا سماں ہے ، ہر انسان شاداں و فرحاں ہے ، بچے اجلے لباس پہنے اپنے ہم جولیوں کے ساتھ کھیل کود میں مگن ہیں ، ایک بچہ افلاس و یاس کی تصویر بنے آبدیدہ نگاہوں سے حسرت کے ساتھ بچوں کو کھیلتے اور خوش ہوتے دیکھ رہا ہے ۔
ایک انتہائی شفقت بھری آواز پر بچہ چونک گیا ۔ بیٹا آپ نے نئے کپڑکیوں نہیں پہنے؟ یہ سوال سن کر بچے کی آنکھوں میں آنسو تیز ہو گئے ، کہنے لگا مجھے میرے حال پر چھوڑ دیجئے ۔ اصرار پر کہنے لگا کہ میرے والدین نہیں ہیں، کون مجھے نہلا دھلا کر تیار کرے گا، کون میرے لئے نئے کپڑے لائے گا؟۔ یہ سن کر سوال کرنے والا آبدیدہ ہو گیا، پیار سے پوچھا۔ کیا تم یہ نہ چاہو گے کہ میں تمہارا باپ بن جاؤں، فاطمہ تمہاری بہن ہو، علی تمہارے چچا ہوں، اور حسن اور حسین تمہارے بھائی (رضوان اللہ علیہم اجمعین)۔بچا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان گیا۔آپ اسے ساتھ لے گئے، نہلا دھلا کر نئے کپڑے پہنائے ، یہ سب دیکھ کر بچے کی چہرے پر بھی بشاشت آ گئی، اک حوصلہ ملا کہ اس کا بھی کوئی ہے۔ بچہ گیا اور دوسرے بچوں میں گھل مل گیا۔
یہ ایک چھوٹا سا واقعہ اپنے اندر خوشی کے سب سے بڑے موقع کے حوالے سے ہمارے لئے مشعل را ہ ہے۔ رحمت کائنات، فخر موجودات سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں درس دیا کہ”عید صرف خوش ہونے کا ہی نہیں بلکہ خوش کرنے کا نام ہے، اور اصلی خوشی وہی ہے جو دوسرے کے چہرے پر سجائی جائے“۔

عید کیا ہے؟ ایک تہوار ، خوشی کا تہوار ۔ خوشی کا تہوار وہ قدر مشترک ہے جو ہر قوم اور مذہب میں پائی جاتی ہے،اور ہر قوم کے کچھ دن اور مواقع ایسے ہیں جن میں وہ خوشی مناتے ہیں، انداز اپنے اپنے مذہب، تہذیب اور روایات کے مطابق ہوتے ہیں۔
اسلام ایک مکمل اور فطری دین ہے ،فطرت انسانی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نے بھی اپنے پیرو کاروں کے لئے خوشی اورغم کے حوالے سے نہ صرف تعلیمات دی ہیں بلکہ خوشی اور تفریح کے مواقع بھی مہیا کیے ہیں ۔ اسلام صحت مند تفریح کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس لئے دیگر اقوام کے مقابلے میں ہماری خوشیاں منانے کا انداز بھی ذرا مختلف ہوتا ہے۔
عہد رسالت میں دیکھیں تو عید کے دن مسجد نبوی کے صحن میں نیزہ بازی کے مقابلے ہو رہے ہیں، مختلف فن کے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے کندھے پر ٹھوڑی رکھ کر دیکھتی رہتی ۔۔
نہ صرف بچوں کو بلکہ بڑوں کی تفریح کا بھی خیال رکھنا ہمارے آقا صلی اللہ علیہ و سلم کا عمل ہے اور اس میں ہمارے لئے تعلیمات ہیں ۔
اگر ہم اپنے حالات کا جائزہ لیں، اپنے خوشی منانے کے طریقے کو دیکھیں تو احساس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی اقدار کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ صحت مند تفریح کے بجائے اغیار کی تقلید میں اس طرح کی محافل کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں بیہودگی اور فحاشی کے تمام مظاہر خوشی کے نام پر سجائے جاتے ہیں۔
صحت مند تفریح کے بجائے مضر صحت و اخلاق سرگرمیاں سر عام کی جاتی ہیں، سینما گھروں میں رونق اور بوڑھے والدین گھروں پر اکیلے۔ اپنے بچوں کے سوا کسی کے بچوں کا کوئی احساس نہیں، افلاس زدہ بچوں کو اپنے ساتھ گھر لا کر نئے کپڑے پہنانا تو کجا انہیں اپنے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتے، کپڑے خراب ہو جائیں گے، جراثیم لگ جائیں گے۔

بلا شبہ عید ایک خوشی کا موقع ہے اور ہمیں خوش ہونے کا حکم دیا گیا ہے، یہاں تک کہ روزہ بھی منع کردیا گیا ہے اور فرمایا کہ ”یہ کھانے پینے اور خوش ہونے کے دن ہیں“۔
لیکن اگر ایک نظر ہم امت مسلمہ کی حالت پر دوڑائیں تو کیا اس کے بعد بھی ہمیں یہ حق پہنچتا ہے کہ ہم پھلجھڑیاں اڑائیں، قہقہے لگائیں، شادیانے بجائیں، سویاں کھائیں، فلمیں دیکھیں اور ناچیں گائیں؟ کیا ہم اتنے بے حس ہو گئے ہیں کہ ہمیں اپنوں کا احساس ہے نہ وعدوں کا پاس؟ کیا نبوی طریقہ خوشی ہمارے لئے قابل عمل نہیں، کیا ہمیں یہ نہیں سکھایا گیا کہ خوش ہونا ہی نہیں بلکہ خوش کرنا بھی ہے۔
اگر ہم سمجھتے ہیں کہ ہم مجبور ہیں، لاچار ہیں، بے بس ہیں، ظالم طاقتور ہے، ہم اپنے بھائیوں کے لئے ، اپنی بہنوں کے لئے اپنی ماؤں اور بیٹیوں کے لئے کچھ نہیں کر سکتے ۔ انہیں پنجہ ظلم سے آزادی نہیں دلا سکتے تو کم از کم اس عید کے موقع پر ان مظلوموں کے لئے چند گھڑیاں مختص تو کر سکتے ہیں، جن میں ہم بارگاہ رب العزت میں دست دعا دراز کریں ، کہ اللہ انہیں ظلم سے نجات دلائے، اللہ ظلم کی کمر توڑ دے۔ اللہ تعالی افغانستان، کشمیر، فلسطین، اور دنیا میں جہاں جہاں بھی مسلمان مظلوم ہیں ان کو ظلم سے نجات دے، ظلم کی سیاہ رات چھٹ جائے اور آزادی کا نور ان پر سایہ فگن ہو
عید کا دن اہل پاکستان سے درخواست کرتا ہوا نظر آتا ہے کہ
افلاس ہے رقص کناں جن کی ٹوٹی پھوٹی کٹیاوں میں
تم اپنی عید منا کر ان کو بھول نہ جانا دعاوؤں میں
وہ افغانی کہساروں میں جن کے ماں باپ شہید ہوئے
ان معصوموں کی چیخیں ہر سو، پھیل رہی ہیں فضاؤں میں
بھارت کے ظلم کی دھوپ میں وہ کشمیری قافلے پا پیادہ
ہے جن کی طلب کہ آکر بیٹھیں ، پاکستان کی چھاؤں میں
وہ بنگلہ دیشی کیمپوں میں جو روز دعائیں کرتے ہیں
اس پاکستان سے الفت کی زنجیر ہے جن کے پاؤں میں
اس مسجد اقصی کی چھت پر اور صحن میں جن کا بسیرا ہے
وہ سارے کبوتر جو محصور ہیں ، خوں آشام بلاؤں میں
تم اپنی عید منا کر ان کو بھول نہ جانا دعاؤں میں

آئیے مل کر عہد کریں کہ اس عید پر کسی بچے کے آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دیں گے، کسی غریب کو تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیں گے، تاکہ کوئی غربت کا مارا یہ نہ کہے کہ
عید آئی ہے لیکن میری کہاں ہے
میری خاموشی میری زباں ہے
کپڑے پھٹے ہیں جوتے پرانے
عید آگئی ہے مجھ کو رلانے
اللہ اس عید کو امت مسلمہ کے لئے خوشیوں اور مسرتوں کا دن بنائے، ظلم سے نجات اور اسلام کے بول بالے کا دن بنائے۔آمین
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

جشن آزادی کیوں منائیں ؟






اب صف ماتم اٹھا دو نوحہ خوانی چھوڑ دو
موت ہے عنوان جس کا وہ کہانی چھوڑ دو

اس بار کا یوم آزادی جن حالات میں آیا ہے ان میں جشن منانے کا خیال واقعی انسان کو مغموم کر دیتا ہے اور مایوسی کے مہیب سائے اس قدر چھا گئے ہیں کہ مختلف اطراف سے "جشن نہیں ماتم" کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔

لیکن اگر کچھ دیر جذبابیت سے نکل کر حقیقت پسندی سے سوچا جائے تو مایوسی اور اس کے نتیجے میں "ماتم" کی صدائیں بلند دور رس نقصانات کا باعث ہو سکتی ہیں۔

جشن کا مطلب ضروری نہیں کے بھنگڑے ڈالنا اور شہنائیاں بجانا ہو۔ یوم آزادی منانے کے ایک سے زائد طریقے ہیں۔ جن میں سے حالات کے مطابق کوئی بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ اور اس کا مقصد جہاں اس آزادی کی نعمت کا شکر بجا لانا، اپنے بزرگوں کی قربانیوں کا اعتراف کرنا، آنے والی نسل میں آزادی کا احساس اور شعور بیدار کرنا ہے وہیں اس کا ایک اہم مقصد معاشرے کے ناسوروں کے‌خلاف آواز اٹھانا، اور بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے اس دن ایک بار پھر وہی عزم کرنا جس کے ساتھ 1947 میں مسلمان قوم اٹھی تھی اور بر صغیر کو تقسیم کر کے ایک مسلمان ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر کیا تھا۔

ماتم اور وہ بھی اس روز ۔۔۔ یہ تو اس طبقہ فکر کی فتح ہو گی جس نے روز اول سے آج تک اس اسلامی ریاست کی مخالفت کی اور نظریہ پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ یہ سارے حالات انہی کے پیدا کردہ ہیں، اور اگر وہ محبان وطن سے اس روز ماتم کروانے میں کامیاب ہو گئے تو پھر ہم اپنی آنے والی نسل کو کیا شعور آزادی دیں گے؟


آزادی کا جشن منانا زندہ قوموں کا شعار ہے اور اس سے قوم کو ایک نیا جوش، ایک نیا جذبہ اور ایک ولولہ تازہ ملتا ہے۔ ہم آج جن حالات سے گزر رہے ہیں یقینا ان کی وجہ سے مایوسی اور بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے اور ہو رہی ہے۔ اور مایوسی ایک ایسی مہلک وبا ہے جب یہ کسی قوم میں پیدا ہو جائے تو پھر ترقی کا عمل یکسر رک جاتا ہے۔ کیوں کہ آگے بڑھنے اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ صرف اسی میں پیدا ہو سکتا ہے جس میں امید کا دیا روشن ہو، جسے بہتر مستقبل کا یقین ہو اور جسے اس بات پر بھروسہ ہو کہ میری محنت ضائع نہیں ہو گی بلکہ اس کے نتیجے میں بہتر حالات اور ترقی ملے گی۔

موجودہ حالات میں جشن آزاد کو اس کے تمام تر تقاضوں کے مطابق منانا، عوام میں آزادی کا شعور بیدار کرنا اور وطن عزیز کی ترقی، بہتری اور استحکام کے لیے عوام پاکستان کے دلوں میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔   اس کے لیے ارباب حکومت سے لے کر نیچے تک ہر ہر ذی شعور شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔

حالات واقعی بہت ناگفتہ بہ ہیں لیکن بہتری کی امید کے ساتھ مایوسی کا خاتمہ ضروری ہے۔
اس موقع پر مکرمی اجمل انجم صاحب کی تازہ ترین نظم کے چند اشعار ضرور پیش کرنا چاہوں گا

وطن کی مٹی ۔۔۔۔۔ یقین رکھنا
کہیں جہاں میں ، خزاں کی رُت دائمی نہیں ہے
ستم کی کالی سیاہ راتیں ، طویل بھی ہوں
تو ان کا ڈھلنا
رُتیں بدلنا ۔۔۔۔۔ نسیم ِ صبح ِ بہار چلنا
یہ دین ِ فطرت ہے ، عین ِ حق ہے
یہ بالیقیں ہے
یقین رکھنا ۔۔۔۔۔ شب ِ ستم کا ، عذاب رُت کا
یہ بالیقیں دور ِ آخریں ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

میڈیا کا بنیادی مقاصد سےاعراض: اہل فکر کی ذمہ داری



تحریر: راجہ اکرام الحق
ذرائع ابلاغ کے بنیادی مقاصد میں سے اہم ترین تین مقاصد ہیں، تفریح، ذہن سازی اور معلومات کی فراہمی۔ اگر ان تین مقاصد کا تجزیہ کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اصل مقصد ذہن سازی ہے جس کے لیے تفریح کے مختلف ذرائع اور معلومات کی فراہمی کو بطور وسیلہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ذہن سازی در اصل قوم سازی Nation building   ہے اور اس کے لیے معاشرے کی ضرورت، اس کی سماجی و معاشرتی اقدار اور وقت و حالات کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر منصوبہ سازی کرنا اور لائحہ عمل طے کرنا ضروری ہے  تب ہی ان مقاصد کا حصول ممکن ہوگا۔ شاید ذہن سازی اور انسان سازی کے اس اعلیٰ  مقصد کی وجہ سے ہی صحافت کو مقدس پیشہ گردانا جاتا ہے۔
ان مقاصد کی روشنی میں اگر ہم وطن عزیر کے ذرائع ابلاغ کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا میڈیا نہ صرف یہ کہ بنیادی مقاصد سے کوسوں دور ہے بلکہ کسی اور کے اہداف کی تکمیل کرتا نظر آتا ہے۔ تفریح اور معلومات کی فراہمی کے لیے جو معیارات ذرائع ابلاغ نے طے کیے ہوئے ہیں ان میں نہ تو ہمارے معاشرے کی ضروریات کا لحاظ ہے، نہ معاشرتی و سماجی اقدار کو درخور اعتناء سمجھا گیا ہے اور نہ ہی وقت اور حالات کے تقاضوں کو خاطر میں لایا گیا ہے۔
اس بے راہ روی کی اہم وجوہات میں سرمایہ دارانہ ذہنیت، استعمار کی نقالی اور ذہنی مرعوبیت اہم ترین ہیں۔ سرمایہ دارانہ ذہنیت نے ذرائع ابلاغ کو سرمایہ داروں کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے، ان کے منافع کو دگنا کرنے اور ان کے لیے عوام کا خون نچوڑنے کی کے نئے افق تلاش کرنے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ معلومات اور تفریح کے ذرائع میں سے ان چیزوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جن کا معاشرے کی ضروریات سے دور دور تک کا واسطہ نہیں ہوتا۔ بنیادی مسائل سے آگاہی کے بجائے اشتہارات اور گلیمر پر سارا سارا دن گزر جاتا ہے۔ اشتہارات میں بھی ان اشیاء کو جگہ دی جاتی ہے جو نوے فیصد عوام کی نہ تو ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی ان تک رسائی کی سکت۔ ملکی مسائل سے آگاہی کے بجائے غیر ملکی فلموں اور فلم سٹارز کی تعریف و توصیف میں گھنٹوں صرف کر دیے جاتے ہیں۔
ایک اسلامی ملک جس میں  بسنے والے چھیانوے فیصد  سے زائد مسلمان ہوں، جن کے بزرگوں نے اسلام کے نام پر ایک مملکت حاصل کرنے کے لیے ناقابل بیان قربانیاں دی ہوں اس میں رائج ذرائع ابلاغ کا معیار، اس کا ضابطہ اخلاق، اس کی ترجیحات اور اس کے وسائل کا استعمال کن خطوط کی روشنی میں اور کس بنیاد پر ہونا چاہیے اس حوالے سے اصولا کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن کچھ عاقبت نا اندیشوں نے ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی اور کسی حد تک کامیاب بھی ہو گئے۔ شومئی قسمت کہ وطن عزیز کے ہر اہم ادارے اور ذرائع ابلاغ کے ہر اہم چینل پر  ایسے ہی افراد کا کہیں قبضہ اور کہیں اثر و رسوخ ہے۔
بسا اوقات یوں لگتا ہے کہ دنیا بھر کا میڈیا فی الحقیقت ایک ہی  مرکز سے کنٹرول ہو رہا ہے۔ ایک مخصوص لابی ہے جس نے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کو خرید رکھا ہے  اور کوئی بھی پروگرام اس کی  طے کی گئی منصوبہ بندی کے خلاف نشر نہیں ہو سکتا۔ کسی چیز کا ہوا کھڑا کرنا ہو تو دنیا بھر کا میڈیا یک جان ہو جاتا ہے اور شرق و غرب میں ایک ہی صدا سنائی دیتی ہے۔ اور اگر اس میڈیا کے ارباب اختیار نہ چاہیں تو بڑے سے بڑا مسئلہ کوئی توجہ حاصل نہیں کر سکتا۔ جسے چاہیں مجرم بنا دیں اور جسے چاہیں ہیرو بنا دیں ۔  جسے چاہیں ترقی کے بام عروج پر پہنچا دیں اور جسے چاہیں صفر کی قدر سے بھی نیچے لے جائیں۔
غیر مسلم اور غیر نظریاتی ممالک میں موجود ذرائع ابلاغ کسی نہ کسی حد تک اپنے ملکی مفاد  کو پیش نظر رکھتے ہیں لیکن اسلامی ممالک میں میڈیا کی صورتحال بہت تشویش ناک ہے۔ معاشرتی اقدار اور اخلاقی ضوابط تو درکنار ملکی مفاد تک کا لحاظ نہیں رکھا جاتا ۔ ایسے میں ارباب اقتدار اور اہل فکر و دانش کو اس اہم شعبے کی جانب توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے۔ حکومت ایک ایسا ضابطہ اخلاق طے کرے جو صرف حکومتی مفاد کا تحفظ نہ کرتا ہو بلکہ ملکی مفاد، معاشرتی و سماجی اقدار اور اخلاقی ضابطوں  کا جامع ہو۔ جس میں ملکی مسائل اور ان کے حل کے لیے عوامی شمولیت کے حوالے سے  آگاہی کے ساتھ ساتھ اخلاقی و سماجی قدروں کے پرچار اور تحفظ کا اہتمام بھی ہو۔ اگر اب بھی حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے اور ذرائع ابلاغ اسی نہج پر رواں دواں رہے تو ہمارے موجود خاندانی نظام،  سماجی قدروں اور ملکی مفاد کا بھی جنازہ نکل جائے گا۔
محب وطن اہل فکر و دانش اور اصحاب ثروت کا کام ہے کہ وہ  آگے بڑھ کر ذرائع ابلاغ کے میدان میں جگہ بنائیں، نئے ذرائع پیدا کریں اور معاشرے کی فکری نشو و نما میں اپنا کردار ادا کریں۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>