Pages

نصاب تعلیم کا نفسیاتی پہلو: پہلو تہی کے منفی اثرات



راجہ اکرام الحق:
نوجوان قوم کے معمار ہوتے ہیں اور ان معماران کی بہترین تعمیر   میں جہاں والدین، معاشرہ اور استاد کردار ادا کرتے ہیں وہیں نصاب تعلیم  کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہوا کرتا  ہے۔  کیوں کہ نصابِ تعلیم ذہنی پرداخت اور فکری تشکیل کے ساتھ ساتھ شخصیت کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔  بچے کے ناپختہ اور صاف ذہن میں جو تصویر درسگاہ میں ابتدائی سال سے اپنے نقش و نگار ابھارنا شروع کرتی ہے تعلیم سے فراغت تک وہ تصویر اس حد تک پختہ ہو جاتی ہے کہ اس کے نقوش انمٹ ہو جاتے ہیں۔ 

اس لیے کسی بھی ملک میں نصاب سازی کے کام کو  بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔ نصاب سازی کا کام  پختہ، تجربہ کار اور ماہرین نفسیات کو سونپا جاتا ہے تا کہ  ایسا  نصاب تیار ہو  جو ملکی و ملی مفاد سے ہم آہنگ ہو اور مطلوبہ افراد کار کی تیاری میں ممد و معاون ہو۔  لہذا یہ کہنا کسی طور غلط نہ ہو گا کہ تعلیم کا اہم ہدف انسان سازی ہے۔  جس نے اس صنعت پر توجہ دی  اس نے دنیا سے اپنا لوہا منوایا اور جس نے اس معاملے میں نا اہلی  اور عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا غلامی اس کا مقدر ٹھہری۔  

یوں تو وطن  عزیز میں اس وقت درجن بھر کے لگ بھگ نظام ہائے تعلیم رائج ہیں  لیکن اگر ہم اپنی سہولت کے لیے کسی  بڑی  اور واضح تقسیم پر قناعت کرنا چاہیں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا نظام تعلیم تین  بڑے نظاموں میں منقسم  ہے۔ ایک حکومتی یا سرکاری نظام تعلیم، دوسرا پرائیویٹ نظام تعلیم جس میں بیشتر برطانیہ اور امریکہ کا تیار کردہ نصاب  رائج ہے۔  اور تیسرا  دینی نظام تعلیم جو کہ مدارس عربیہ کی صورت میں ملک کے طور و عرض میں رائج ہے۔ ان تینوں نظاموں سے تیار ہونے والے افراد کے رویے، طرز عمل ، ذہنی ساخت اور انداز فکر  ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتا ہے  کیوں کہ ان تینوں نظام ہائے تعلیم کے نصابات ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔ 

اگر سرکاری  نظام تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہےکہ   انسان سازی کی یہ صنعت  اپنی پیداواری صلاحیت کے لحاظ سے بانجھ پن کا شکار ہے۔   کہیں نہ کہیں کوئی ایسی کمی ضرور ہے  جس کی وجہ سے یہ تعلیمی ڈھانچہ  ملکی و ملی تقاضوں   اور معاشرتی اقدار سے اہم آہنگ رجال کار فراہم کرنے سے قاصر ہے  ۔ اس سے نکلنے والے  بیشتر افرا د  فکری و عملی طور پر کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ  ذہنی  مرعوبیت کا شکار ہوتے ہیں۔ اور علمی بالغ  نظری کے  فقدان کے ساتھ ساتھ حب الوطنی کے جذبہ مطلوبہ  سے عاری بھی  ہوتے ہیں۔   اس کے مقابلے میں پرائیویٹ یا نجی تعلیمی نظام کے فارغ التحصیل جن کے شب و روز  آکسفورڈ اور کیمبرج کے نصاب ہائے تعلیم کو پڑھتے ہوئے گزرتے ہیں ، اور جن کی فکری و ذہنی  پرداخت اسی خاص ماحول میں ہوتی ہے وہ  علمی طور پر مضبوط اور  پر اعتماد تو ہوتے ہیں لیکن ملکی مفاد اور جذبہ حب الوطنی کے فقدان کا شکار ہوتے ہیں۔یہی لوگ برسر اقتدار آتے ہیں اور بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے ملکی مفاد اور خود مختاری  تک کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔  اول الذکر جو کام مرعوبیت کی وجہ سے کر تے ہیں وہی کام ثانی الذکر  خوشنودی کے لیے کر گزرتے ہیں۔ الغرض دونوں ہی طرح کے افراد ہمارے معاشرتی اور ملکی مزاج  کے لیے سود مند نہیں ہیں۔
  اس  ساری صورتحال کی اصل وجہ یہی ہے کہ ان نصاب ہائے تعلیم کی تیاری ہماری قومی و معاشرتی نفسیات اور ضرورتوں کے مطابق نہیں ہوئی۔ سرکاری نظام تعلیم لارڈ میکالے کے "سنہری اصولوں" پر کاربند ہے تو پرائیوٹ نظام سارا کا سارا ہے ہی درآمد شدہ۔ 


ان دو نظاموں کے مقابلے میں  رائج  دینی نظام تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو  وہ ایک اور انتہا پر ہے۔  لب و لہجہ اور انداز و اطوار پانچ صدیاں قبل والے، اپنے سوا کسی کو خاطر میں نہ لینا ،  اپنا کلام پیش کر دینا اور جواب آں غزل سننے کا روادار نہ ہونا۔  اسی کا نتیجہ ہے کہ بہت سے ایسے معاملات جو افہام و تفہیم اور مذاکرے و مکالمے سے حل ہو سکتے ہیں ان میں بھی  نوبت دست و گریباں ہونے تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ حال تو اپنے ہم مذہب  افراد کے ساتھ ہے۔ جہاں تک غیر مسلموں کا تعلق ہے  تو وہ اس قابل ہی نہیں کہ ان کے ساتھ مکالمہ کیا جائے ۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ مدارس میں رائج نصاب اس زمانے کا ہے جب مسلمان حاکم اور طاقت ور تھے۔ لہذا نصاب وہ نفسیاتی پہلو  رچا بسا ہے جو ایک حکمران قوم کا ہوا کرتا ہے۔
  مدارس دینیہ میں رائج موجودہ  نصاب اورنگزیب کے زمانے میں  نظام الدین فرنگی محلی کا ترتیب دیا ہوا" درس نظامی"  ہے۔ اس وقت مسلمان اقتدار میں تھے اور مقتدر قوم کی فکری و  ذہنی ساخت نفسیاتی طور پر محکوم سے کئی لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔  اسی کے پیش نظر  "درس نظامی" کی تیاری میں اُس وقت اور حالات کے تقاضوں کو پیش نظر رکھا گیا،  ان ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی جو ایک حکمران قوم کی ہوا کرتی ہیں اور ایسا نصاب تیار کیا گیا جس سے نکلے ہوئے افراد نہ صرف معاشرتی بلکہ انتظامی و حکومتی ذمہ داریاں بھی  بانداز احسن ادا کر سکیں۔  جبکہ آج کے دور میں مسلمانوں کی حالت کا اگر جائزہ لیا جائے تو ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد کے بعد سے اب تک ہم کبھی ذہنی، کبھی جسمانی اور کبھی دونوں طرح کی  غلامیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ آج کے دور کے تقاضے اس دور سے یکسر مختلف ہیں، اب معاملہ حاکم اور محکوم کا نہیں رہا، بلکہ کہیں مسلمان مغلوب ہیں اور کہیں معاملہ برابری کی سطح کا ہے۔ ایسے میں مذاکرات ، مکالمہ، کچھ دو اور کچھ لو کے اصولوں کو اپنانا ناگزیر ہے لیکن طبقہ علماء میں یہ خو بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ 

کسی بھی ملک کا نظام تعلیم  جن مقاصد و اہداف کے حصول کے لیے کوشاں ہوتا ہے مذکورہ بالا نظام ہائے تعلیم  ان  مقاصد  و اہداف کے حصول میں مطلوبہ کامیابی حاصل کرنے سے تا حال قاصر ہیں۔  اس ناکامی میں جو  عنصر کلیدی کردار ادا کر رہا ہے وہ نصاب تعلیم ہے۔ نصاب کا نفسیات کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔   نصابِ تعلیم  طلبہ کی ذہنی پرداخت پر نفسیاتی پہلو سے اس طرح اثر انداز ہوتا ہے کہ ان کی ظاہری و باطنی  شخصیت  میں غیر محسوس انداز سے ایک خاص نفسیاتی طرز عمل غالب آ جاتا ہے اور اس نفسیاتی طرز عمل کا رنگ معمولات حیات میں جا بجا  نظر آتا ہے۔

ان معروضات کے پیش نظر ہمارے ارباب اقتدار کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔   بطور خاص موجودہ  ملکی حالات میں ہم جس قدر قحط الرجال کا شکار ہیں ایسے میں یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ  موجودہ نصاب کی اساسی کتب اور بنیادی مضامین کو برقرار رکھتے ہوئے  ایسا نصاب تیار کیا جائے تو جو ملکی تقاضوں اور ہماری معاشرتی اقدار سے ہم آہنگ ہو  اور جس کے تیار کردہ رجال کار اپنی مطلوبہ ذمہ داریاں بانداز احسن ادا کر سکیں۔  

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سانحہ نوابشاہ: کون مرا کس نے مارا؟





ابھی 22 مئی کے زخموں سے خون رسنا بند نہیں ہوا تھا کہ 25 مئی بروز جمعہ کو ایک اور سانحہ رونما ہو گیا۔ صوبہ سندھ کے ضلع نوابشاہ میں قاضی احمد کے مقام پر کراچی سے کوہاٹ جانے والی ایک بس پرفائرنگ کر کے 8 افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔  میری معلومات کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں کراچی سے پنجاب یا سرحد  جانے والی مسافر بسوں پر اس طرح فائرنگ کی گئی ہو۔ اگر پہلا نہ بھی ہو تو اس نوعیت کے واقعات  شاذ و نادر ہی ہیں۔"لوٹ مار کے واقعات اس سے مستثنیٰ ہیں کیوں کہ وہ کم و بیش ہر جگہ رونما ہوتے رہتے ہیں"  واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ مرحومین کی مغفرت فرمائے اور  ان کے خون کی قربانی  کے بدلے وطن عزیز کو امن کی دولت سے نوازے۔ آمین

یہ فائرنگ کس نے کی،  نشانے پر کون تھا، پس پردہ مقاصد کیا تھے  اور کون  سے عناصر  اس میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ ان سوالوں کا جواب یا تو عینی شاہدین دے سکتے تھے یا پھر تفتیش کے بعد ہی مصدقہ طور پر کچھ کہا جا سکتا تھا۔ تاحال اس حوالے سے کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی کہ  اس فعل مذموم کا ارتکاب کس نے کیا اور کس کے کہنے پر کیا۔

بادی النظر میں یہ کہا جا سکتا ہے  کہ سندھ کا علاقہ ہے، مرنے والوں میں صوبہ پنجاب کے لوگ بھی شامل ہیں،  سندھی قوم پرستوں کو پنجاب سے پرخاش ہے جس کی بنا پر وہ اس طرح کااقدام کر سکتے ہیں۔

   لیکن معاملہ اس کے بالکل برعکس  نکلا۔  ابھی سندھی، پنجابی اور پٹھا ن خاموش تھے کہ مہاجر صوبے کے دعوے داروں نے اس واقعہ کو کیش کرانا شروع کر دیا۔ سوشل میڈیا پر یہ افواہیں پھیلانا شروع کر دیں کہ "اردو بولنے والوں اور مہاجروں کو قتل کیا گیا"۔ بظاہر دیکھا جائے تو مہاجروں کا اس پورے واقعے سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ کیوں کہ نہ تو ان کا علاقہ تھا اور نہ کوہاٹ جانیوالی کسی بس میں ان کا پایا جانا ضروری تھا۔ لیکن اس کے باوجود جس انداز سے ان لوگوں نے افواہیں پھیلانا شروع کیں اس نے ان کے کردار کو مشکوک بنا دیا۔
22 مئی کو سندھ 
قوم پرستوں کی ریلی پر فائرنگ کر کے 11 فراد کی ہلاکت کے بعد ایم کیو ایم پر جو الزامات لگ رہے تھے اس سے توجہ ہٹانے کے لیے اس واقعے کا جس طرح ایم کیوا یم  نے سہارا لینے کی کوشش کی  اس سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ 

تفتیش کا پہلا اصول ہی شک ہے۔ اسی شک کے فلسفے کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایم کیو ایم یا مہاجر صوبے کے دعویداروں نے جس انداز سے سانحہ نوابشاہ کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کی ہے اس سے اس شک کو تقویت ملتی ہے کہ اس واقعے میں ملوث عناصر میں ان کا پایا جانا بعید از قیاس نہیں۔ عین ممکن ہے کہ کراچی کے واقعہ سے توجہ ہٹانے اور سندھ قوم پرستوں کو سبق سکھانے کے لیے معصوم پنجابیوں اور پٹھانوں کی بلی چڑھائی گئی  ہو۔

تفتیش کا دوسرا اہم اصول یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ واقعہ سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔  اس اصول کے پیش نظر دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ اس سانحے سے فائدہ حاصل کرنے کی سب سے پہلی کوشش ایم کیو ایم کی جانب سے کی گئی جس نے ان کے کردار کو اور بھی مشکوک بنا دیا۔

اس اندوہناک سانحے کی تفتیش کے دوران تمام ہی پہلووں کو مد نظر کر تمام عناصر کو  زیر تفتیش لایا جانا ضروری ہے تا کہ مجرم کیف کردار تک پہنچ سکیں اور آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام ہو سکے۔

ایک اور اہم بات جو سب پاکستانیوں کو مد نظر رکھنی چاہیے اس طرح کے واقعات لسانی تعصب کو ہوا دینے کے لیے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں اور ملک دشمن عناصر  تعصب کی آگ کو بھڑکانے کے لیے ان واقعات کو  بہت مؤثر انداز سے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس لیے جوش کے بجائے ہوش کا دامن تھامنا ہو گا تا کہ سماج دشمن اور ملک دشمن عناصر کے مقاصد پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکیں۔  

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کراچی کو خطرہ کس سے ہے؟






خوشحالی اور بدحالی ، امن اور بد امنی، انصاف اور ظلم ہر معاشرے میں کسی نہ کسی صورت میں پائے جا سکتے ہیں۔ انسانوں کے اعمال اور نصیب دونوں ہی ان کے وجود اور معدوم ہونے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اگر اعمال راست ہوں، نیکی کا بول بالا ہو، ایثار و قربانی کے جذبات موجود ہوں، دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا جاتا ہو تو بدحالی کے بجائے خوشحالی، بدامنی کے بجائے امن و آشتی اور ظلم کے بجائے انصاف ہوتا ہے ۔ لیکن اگر نفسا نفسی کا عالم ہو، ہر طرف آپا دھاپی مچی ہو، اپنی آسائشوں کے لئے دوسروں کے منہ کا نوالہ چھیننے کو عیب تصور نہ کیا جاتا ہو، دنیاوی جاہ ہی مقصد زندگی بن جائے تو پھر معاملہ بالکل برعکس ہو جاتا ہے۔

لیکن کچھ لوگوں پر قسمت کی دیوی مہربان ہوتی ہے۔ ان تمام بد اعمالیوں کے باوجود بھی یہ مصیبتیں ان پر نازل نہیں ہوتیں۔۔ مگر کب تک، مہلت کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے ، اور جو سبق نہ سیکھے اس کا انجام دردناک ہی نہیں عبرت ناک بھی ہوتا ہے۔
شہر کراچی ایک زمانے میں روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، ملک بھر سے رزق کے متلاشی کراچی کا رخ کرتے تھے۔ اور اس شہر نے کبھی کسی کو مایوس واپس نہیں کیا بلکہ ہمیشہ خوش آمدید ہی کہا اور ایک ماں کی طرح اپنی آغوش میں پناہ دی۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر لوگ تلاش معاش کے لئے یہاں آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔

یہ بھی مسلم حقیقت ہے کہ اگر کراچی سے ان افراد نے حصول معاش کیا تو بدلے میں اس کی ترقی میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑا ویران حصہ(سہراب گوٹھ سے لے کر لالو کھیت تک) گنجان آباد علاقے میں تبدیل ہو گیا۔ سستی اور وافر افرادی قوت کے باعث ملک بھر سے سرمایہ کاروں نے کراچی کا رخ کیا اور بے شمار کارخانے کراچی کی رونق اور کشش میں روز افزوں اضافہ کرنے لگے۔
لیکن پھر ہمارے اعمال بدلے۔ نیتوں میں کھوٹ آنا شروع ہونے لگی۔مال کی ہوس میں اضافہ ہوا۔ آنکھوں پر حرص و ہوا کی پٹی چڑھ گئی اور وہی لوگ جو کل تک ہمارے بھائی تھے دشمن نظر آنے لگے۔ ہمیں کراچی کی زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگ لگنے لگی۔ اور باہر سے آنے والے بوجھ محسوس ہونا شروع ہو گئے۔

پھر کیا ہوا؟ وہی جو اس کا فطری نتیجہ ہے۔ امن و امان تباہ ہو گیا۔ اپنے اپنوں کے گلے کاٹنے لگے، روشنیاں تاریکیوں میں بدل گئیں، صنعتیں خسارے کا شکار ہو گئیں۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے کراچی خوف کی علامت بن گیا۔

ذمہ دار کوئی بھی ہو ، قصور کسی کا بھی ہو، لیکن یہ ہے ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ۔
اب جب کہ وطن عزیز چاروں جانب سے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی چالوں اور سازشوں کا شکار ہے۔ ایک کے بعد دوسری مصیبت رونما ہو رہی ہے۔ ملک کا ایک حصہ مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسے میں پھر ایک بار ایک بڑی تعداد کے لئے شہر کراچی آخری امید ہے۔ لیکن دوسری جانب اہل وطن کو ایک دوسرے پر الزام تراشیوں سے فرصت نہیں۔ سب کا مدعا یہی ہے کہ کراچی کو خطرہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ خطرہ کس سے ہے۔

ایک گروہ کے خیال میں خطرہ ”اسلا مائیزیشن “ سے ہے، دوسرے کے خیال میں خطرہ ”طالبانائزیشن“ سے ہے، تیسرے کے خیال میں ”پٹھانائزیشن“ سے ہے اور ایک بڑی تعداد کے خیال میں کراچی کو خطرہ صرف ”الطافائزیشن“ یا ”مہاجرائزیشن“ سے ہے۔

ایک لمحے کے لئے ہم یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ مذکورہ بالا تما ہی گروہوں سے کراچی کو خطرہ ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہو گا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ کس ملک سے ان کا تعلق ہے؟ کہاں کی شہریت کے حامل ہیں؟ کس دین و مذہب کے ماننے والے ہیں؟
تو جواب کا خلاصہ یقینا یہی ہو گا کہ یہ سب تو ”اپنے“ ہی لوگ ہیں۔ اسلام کے ماننے والے ہیں، پاکستان میں بسنے والے ہیں اور پاکستان ہی کے شہری بھی ہیں۔ تو اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ کراچی کو خطرہ ”اپنوں “ سے ہے۔

اگر ہم سب فرقہ واریت اور گروہ بندی کو نظر انداز کر کے ملکی مفاد کے لئے سوچنا شروع کر دیں تو نہ صرف کراچی بلکہ وطن عزیز پاکستان تمام خطرات سے نکل سکتا ہے۔
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اگر وطن عزیز کو امن و آشتی کا گہوارا بنانا ہے، کراچی کو ایک بار پھر روشنیوں کا شہر بنانا ہے اور دنیا میں نام روشن کرنا ہے تو ہمیں اپنے اعمال پر نظر ثانی کرنی ہو گی۔ان حالات میں غیروں کو کوسنا اورتمام فسادات اور ہنگاموں کا ذمہ دار انہیں ٹھہرانا اپنے دل کو طفل تسلی دینے سے زیادہ کچھ نہیں ہو گی۔ کیوں کہ کراچی کو خطرہ کسی اور سے نہیں بلکہ خطرہ ”اپنوں“ سے ہے ۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

جوہری توانائی کا تحفظ : پس پردہ حقائق ، ممکنہ صورت



تحریر: راجہ اکرام الحق
جوہری ہتھیاروں کو دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے اور دنیا کو  "جوہری دہشت گردی" سے بچانے کے اعلانیہ ایجنڈے کے تحت دوسری جوہری تحفظ کی سربراہی کانفرس جنوبی کوریا کے دار الحکومت سیول میں 26 مارچ کو منعقد ہوئی۔  اس سلسلے کی پہلی کانفرنس12 اور 13 اپریل  2010ء کو امریکہ کے شہر واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوئی تھی، کانفرنس میں دنیا بھر کے پچاس سے زائد ممالک  اور تنظیموں نے شرکت کی جن میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں۔  ۔  کانفرنس کا ایجنڈا تین نکاتی تھا ؛

  •  جوہری دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات  
  •  جوہری مواد اور اس سے متعلق  سہولیات کا تحفظ
  • جوہری مواد کی غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام 
اس دو روزہ اجلاس میں کون کون سی چیزیں زیر بحث آئیں اور آئندہ کے لیے کیا لائحہ عمل طے کیا گیا اس حوالے سے بے شمار تفصیلات ذرائع ابلاغ میں جا بجا موجود ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جوہری تحفظ کے ان اجلاسوں کا اصل اہداف کیا وہی ہیں جن کا تذکرہ برسر منبر کیا جاتا ہے یا اصل مقاصد اور اہداف پس پردہ ہیں جنہیں "جوہری دہشت گردی" سے بچاؤ کے پردے میں رہ کر حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔؟
اصل ہدف جس کا  چرچا ہے اور جس کے نام پر خرچا ہو رہا ہے وہ جوہری ہتھیاروں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں لگنے سے بچانے کے اقدامات ہیں لیکن  اجلاس کے دوران ہونے والے خطاب اور بالخصوص کانفرنس کے بانی اور روح رواں امریکی صدر کا خطاب اگر سنا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یا تو اس طرح کے اجلاس کااصل مقصد وہ نہیں جو بتایا جاتا ہے یا پھر یہ سمٹ اپنے ہدف سے بہت دور جا چکا ہے۔
اس سے پہلے 2010ء میں ہونے والے پہلے اجلاس کا اگر جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس پروگرام کا اصل ہدف دنیا کے دیگر ممالک کو جوہری توانائی سے دور کر کے امریکہ اپنی اجارہ داری اور چودہراہٹ قائم کرنے کے لیے پیش رفت کر رہا ہے۔ اسی طرح کی صورتحال اس بار کے اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے۔  کیوں کہ اگر کانفرنس کا ہدف واقعتا جوہری مواد کا تحفظ ہے تو اس ایجنڈے میں سر فہرست ایسے اقدامات ہونے چاہیے تھے جن کے ذریعے موجودہ مواد کو محفوظ سے محفوظ تر بنایا جا سکے تا کہ ان تک دہشت گردوں کی رسائی ممکن نہ رہے اور پر امن مقاصد کے لیے ان سے استفادے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔  نیز جن ذمہ دار ممالک کے پاس جوہری توانائی کے حصول کی صلاحیت ہے اور وہ اسے پر امن مقاصد کے لیے یا اپنے دفاع کو بہتر بنانے کے لیے  حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کے ساتھ ہر ممکنہ تعاون کیا جائے تا کہ اس پر صرف چند ممالک کی اجارہ داری نہ رہے۔  اس کے پیش نظر ضروری تھا کہ اس کانفرنس میں وہ تمام ممالک شریک ہوں جو یہ توانائی رکھتے ہیں اور وہ بھی جو اس کے حصول کے بالقریب پہنچ چکے ہیں یا اس حوالے سے کوشش کر رہے ہیں اور عالمی برادری میں متنازعہ فریق کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ تا کہ تمام  متعلقہ ممالک کا موقف سامنے آ جاتا اور بہتر حکمت عملی طے کرنے میں کامیابی ہوتی۔ لیکن گزشتہ بار کی طرح اس بار بھی  اس اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا۔ اور پھر دوران اجلاس ان کو تنبیہ بھی کی جاتی رہی۔

اس اجلاس سے ہٹ کر اگر پاکستانی ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے امریکہ بہادر اور ان کے جغادریوں کے تیور دیکھے جائیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ  ان کے لیے قابل ہضم نہیں ہے۔ اور اس سے بڑھ کر وہ دوہرا معیار جو بھارت اور پاکستان کے حوالے سے برتا جاتا ہے کہ ایک طرف بھارت کے ساتھ معاہدے اور تعاون اور دوسری طرف پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر تشویش کے اظہار اور اس کے خاتمے کے لیے کوششیں۔ 

حالات اس نہج پر جا رہے ہیں کہ کسی بھی چیز کو آئی سو لیشن میں رکھ کر نہیں دیکھا جا سکتا پورے منظر نامے کی ہر ہر کڑی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ یہ اجلاس اور اسے سے قبل جوہری توانائی کے حوالے سے امریکہ اور اس کے ہمنواؤں کی حکمت عملی سے واضح ہے کہ اس کا اصل مقصد اپنی بالادستی کے برقرار کی کوشش ہے جس  کے لیے  ہر اس ملک پر چڑھ دوڑنے کے لیے تیار ہے جو اس جانب پیش رفت کرتا ہو۔ اس حوالے سے ایران، شمالی کوریا اور پاکستان کےساتھ امریکی سلوک شاہد عدل ہے۔ 

جوہری توانائی کی تابکاری اور اس کے نقصانات اپنی جگہ لیکن اگر اس کا مؤثر اور تعمیری استعمال کیا جائے تو  اس کے فوائد بھی بے شمار ہیں ۔ تاہم اس کا ایک اہم فائدہ  کسی بڑی عالمی جنگ کے امکانات کا خاتمہ ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ توانائی ہر فریق کے پاس یکساں موجود ہو۔ کیوں کہ اگر  فریقین کے پاس ہو گی تو استعمال کا امکان نہیں اور اس کی مثال پاکستان اور بھارت سے لی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر کسی ایک کے پاس ہو اور دوسرے کے پاس نہ ہو تو پھر استعمال کے امکانات کئی گناہ بڑھ جاتے ہیں۔  اس کی مثال تاریخ میں موجود بھی ہے اور آئندہ کے لیے امکان اور توقع بھی ہے۔  مثال بھی امریکہ بہادر نے پیش کی جب صرف اس کے پاس یہ توانائی تھی  اور جاپان کے پاس نہیں تھی تو امریکہ نے بلا خطر استعمال کیا ، اور آئندہ بھی امریکہ ہی سے توقع کی جا سکتی ہے کہ اپنی انا کی ناک اونچی رکھنے اور اپنی مزعومہ عالمی قوت برقرار رکھنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ 

اگر حقیقت پسندی سے سوچا جائے تو جوہری مواد کے منفی استعمال اور اس کی تابکاری سے بچنے کی دو ہی صورتیں ہیں۔ یا تو تمام ہی ممالک تابکاری والے مواد کو  تلف کر دیں اور صرف  توانائی  کے مقاصد کے لیے ضروری مواد پر اکتفا کریں، یا پھر تمام ہی ممالک کے پاس یکساں صلاحیت ہو تا کہ کسی کو دوسرے پر جارحانہ اقدام کرنے کی جرات نہ ہو۔ بصورت دیگر امریکہ اور دگر بڑی طاقتیں اپنی چودہراہٹ قائم کرنے کے لیے یونہی سب کو بیوقوف بناتی رہیں گی اور ترقی پذیر ممالک کے لیے اس حوالے سے ہونے والے تمام ہی اقدامات و اجلاس  نشستن، خوردن و برخاستن سے زیادہ کچھ نہیں ہوں گے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بنگلہ دیش، مشرقی تیمور اور سوڈان کے بعد اب بلوچستان



تحریر: راجہ اکرام الحق
امریکہ بالخصوص اور سارا عالم کفر بالعموم کسی نہ کسی طریقے سے کسی نہ کسی جگہ عالم اسلام کے خلاف اعلانیہ یا خفیہ طور پر کہیں برسر عمل ہے اور کہیں برسر پیکار۔ اور یہ آج کی بات نہیں بلکہ یہ حق و باطل  کی کشمکش اتنی ہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسان کی ذات۔  عالم اسلام کے خلاف یہ مہم مختلف النوع ہے۔ کہیں بے بنیاد دعووں کی بنیاد پر براہ راست حملہ آور ہو کر، کہیں مسلم ممالک میں بسنے والی اقلیتوں کے حقوق کے نام پر اور کہیں مسلم ممالک میں لسانی و علاقائی عصبیتوں کے بنا پر  اندرونی خلفشار پیدا کر کے۔
لیکن ان ساری حکمت عملیوں میں سے جو دور رس نتائج کی حامل ہے اور جس کے زخموں سے رستے خون کے دھبے کئی برساتوں کے بعد بھی نہیں دھلتے وہ ہے اسلامی ممالک کی علاقائی تقسیم، کبھی اقلیتوں کے حقوق کے نام پر اور کبھی لسانی بنیادوں پر۔
1971 میں پاکستان کو دو لخت کر کے بنگلہ دیش بنانا بظاہر  یوں لگتا ہے کہ ایوب خان کی نخوت اور ذو الفقار علی بھٹو کی انانیت کا نتیجہ ہے لیکن ان حضرات کی ان کاوشوں کے ساتھ ساتھ بیرونی طاقتوں کا منصوبہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں . اگر 2005 میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب  سے ڈی کلاسیفائیڈ کی گئی رپورٹ بعنوان "Pakistan  America Relations. A reassessment" دیکھی جائے تو بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ 1971 میں پیش کی جانے والی اس رپورٹ میں امریکہ بہادر کے عزائم کیا تھے۔  
پاکستان کو دو لخت کرنے کے بعد سامراج کی نظریں مسلمانوں کے سب سے بڑے ملک انڈونیشیا پر جم گئیں۔ پھر وہاں جو کچھ ہوا، اقوام متحدہ نے جس طرح مداخلت کی وہ حیران کن ہے۔ کشمیر، فلسطین اور برما میں جو انسانیت سوز مظالم نصف صدی سے بھی زائد عرصہ سے برپا تھے وہ  اس کے سوئے ہوئے ضمیر کو نہ جگا سکے ۔  دیکھتے ہی دیکھتے  مشرقی تیمور نام سے ایک عیسائی ریاست معرض وجود میں آ گئی۔
اس عظیم معرکے میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اگلی نظر سوڈان پر جم گئی۔ وسیع رقبے پر محیط، قدرتی ذخائر اور بالخصوص تیل کی دولت سے مالا مال ایک اسلامی ملک امریکہ اور اس کی باندی اقوام متحدہ کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹکنے لگا۔ بنگلہ دیش اور انڈونیشیا کی طرح یہاں بھی وہی حکمت عملی اپنائی گئی، علیحدگی پسندوں کو مظلوم ثابت کر کے  "انسانیت کی محبت" میں سرشار ہو کر ان کی مدد کے لیے خدائی مددگار کے طور پر  پہنچ گئے اور بالآخر سوڈان کو دو لخت کر دیا۔
لگتا یوں ہے کہ وہ اپنے تئیں مسلم دنیا کے ہر اس ملک کو نشانہ بناتے ہیں جن سے خطرہ ہوتا ہے کہ مستقبل میں وہ کسی ایسے مقام پر آ سکتا ہے جو ان کے لیے مشکلات پیدا کر سکے۔  اسی لیے پہلے پاکستان، پھر انڈونیشیا اور اس کے بعد سوڈان کے ساتھ یہ گھناؤنا کھیل کھیلا۔  لیکن اس عظیم سانحے کے بعد بھی پاکستان نے  خود کو سنبھالا، حالات جیسے تیسے گزرتے گئے اور بالآخر پاکستان مسلم دنیا کا پہلا ایٹمی ملک بن کر دنیا کے سامنے آیا، جس کے بعد ایک بار پھر توپوں کا رخ پاکستان کی طرف ہو گیا۔
اس کے بعد عراق سے خطرہ تھا کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اب ایران ایک ایسا ملک ہے جو کسی بھی وقت ایٹمی طاقت بن سکتا ہے اس لیے سارے ہی عالم کفر کے پیٹ میں اس پر بھی مروڑ اٹھ رہے ہیں ۔
اب دنیائے اسلام کے دو ہی ممالک ہیں جو کسی بہتر پوزیشن  میں ہیں ، ایک ایران اور دوسرا پاکستان۔ اور آج امریکہ سمیت ساری ہی سامراجی طاقتیں ان دو ممالک کے خلاف بھرپور انداز سے سازشیں کرنے میں مصروف عمل ہیں۔  ایران پر پابندیاں لگانے کی مہم پورے زور و شور سے جاری ہے اور اسرائیل حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
پاکستان کے خلاف خفیہ طور پر بلیک واٹر، ریمنڈ ڈیوس اور مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے سازشوں کے جال بنے گئے، دہشت گردی کی ایسی آگ لگائی گئی کہ پورا پاکستان لیپٹ میں آگیا۔ ایک  طرف حکومت پر دباؤ ڈال کر شمالی وزیر ستان سمیت اس پوری پٹی میں عوام اور فوج کو آمنے سامنے کر کے بغاوت کی کوشش کرائی گئی اور دوسری جانب بلوچستان کے ناراض لوگوں کو ہر طرح سے سپورٹ کر کے انہیں پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی گئی، انہیں بلوچستان میں بیس کیمپ مہیا کیے گئے جہاں سے وہ اپنی  سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
ویسے تو یہ ساری سازش پس پردہ تھی کیوں کہ امریکہ بظاہر پاکستان کے ساتھ دوستی کا دم بھرتا تھا۔ لیکن جب سلالہ چیک پوسٹ کا سانحہ رونما ہو ا اور  نام نہاد دوستی کی دیوار میں دراڑ پڑ گئی تو امریکی جن بوتل سے باہر آ گیا اور وہاں بلوچستان کے حق میں قرار دادیں پیش ہونا شروع ہو گئیں۔  
صورتحال ایک بار پھر 1971 کی طرح ہے، علیحدگی پسندوں کو تب بھی بھارت کے ذریعے اسلحہ مہیا کیا گیا اور اب بھی وہیں سے ہر طرح کا تعاون ہو رہا ہے، بلکہ اب تو اور بھی کئی ممالک اس کار خیر میں حصہ ملا رہے ہیں۔ تب بھی بھارت سے مداخلت کروائی گئی اور پاکستان نے جب دوست سے مدد مانگی تو جواب بھیجا جانے والا ساتواں بحری بیڑا آج تک مدد کو نہیں پہنچ سکا۔  اور اب بھی بلوچستان میں شورش برپا کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان میں  بھارت کو مضبوط کیا جا رہا ہے تا کہ بوقت ضرورت مداخلت کرنی پڑے تو مشکلات نہ ہوں۔
اور آزاد بلوچستان کی اس سازش میں نہ صرف پاکستان بلکہ ایران کو بھی  گستاخی کی سزا دینے کا منصوبہ شامل ہے، کیوں کہ گریٹر بلوچستان کے نقشے میں نہ صرف پاکستانی علاقہ بلکہ ایران کا وہ حصہ جہاں بلوچ آباد ہیں وہ بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔
سامراج  دشمن تو روز اول سے ہی مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے آئے ہیں اور کامیاب ہوتے آئے ہیں ۔ لیکن مقام افسوس یہ ہے کہ مسلمان اس قدر دھوکے کھانے  اور ذلت آمیز شکست سے دو چا رہونے کے بعد بھی آج تک اپنی ان غلطیوں کا ازالہ نہیں کر سکے جن کے باعث دشمن ہر بار جیت جاتا ہے اور ہمارے حصے میں سوائے ہزیمت و ذلت کے اور کچھ نہیں آتا۔
اس وقت بلوچستان جس نازک دور سے گزر رہا ہے اس میں اگر اپنی غلطیوں اور زیادتیوں کا ازالہ نہ کیا گیا، حالات کے تقاضوں کو نہ سمجھا گیا، مظلوموں کی داد رسی نہ کی گئی اور بنگلہ دیش، مشرقی تیمور اور سوڈان جیسے واقعات سے سبق حاصل نہ کیا گیا تو پھر دشمن کو الزام دینے کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ وہ تو  دشمن ہے اور وہی کرے گا جو اس کے مفاد میں ہے۔ قصور تو ہمارا ہے کہ ہم اپنے مفادات سے بے خبر ہیں اور خود ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں کہ دشمن فائدہ اٹھائے ۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بہترین معاشرے کی تشکیل میں عورت کا کردار



تحریر : راجہ اکرام الحق 

معاشرہ خاندان سے اور خاندان افراد سے بنتا ہے۔ یعنی کہ معاشرے کی بنیادی اکائی اور بنیادی جز فرد ہے، مختلف اجزاء یعنی افراد کے مجموعے سے کل یعنی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ تو جب تک اجزاء یعنی فرد ہر  لحاظ سے مکمل، مفید اور با صلاحیت نہیں ہو گا تب تک بہترین معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔
اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ بہترین معاشرے کے لیے بہترین افراد کی ضرورت ہے، اور بہترین افراد کی تیاری کے لیے بہترین تربیت کا کردار انتہائی ابتدائی اور اہم ہے۔ 

فرد کی تربیت کے مختلف مراحل  ہیں جن سے گزر کر ایک بہترین فرد تیار ہوتا ہے جو آگے جا کر وہ خاندان اور پھر معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوتا ہے۔  تربیت کے ان مراحل میں سے سب سے اہم مرحلہ پیدائش سے لے کر سن شعور میں پہنچنے تک کا ہے، بلکہ جدید تحقیق کے مطابق یہ مرحلہ پیدائش سے کچھ ماہ قبل ہی شروع ہو جاتا ہے ۔ 

اس ابتدائی مرحلے میں ایک عورت ماں کے روپ میں معاشرے کی تشکیل کا کار گراں مایہ سر انجام دینا شروع کر دیتی ہے۔  یہ تربیت اگر اچھے انداز سے ہو گی اور ان تمام تقاضوں کو پورا کرنے والے ہو گی جو ایک بچے کا قوم کا معمار اور بہترین معاشرے کا صورت گر بنانے کے لیے ناگزیر ہیں تو معاشرہ بہترین ہوگا ۔ لیکن اگر تربیت کے اس مرحلے میں ماں اپنے کردار سے غفلت برتے، یا بوجوہ کردار ادا نہ کر سکے اور تربیت میں کمی رہ جائے تو پھر بہتر معاشرے کی توقع رکھنا ایک خواب ہی ہو سکتا ہے۔

بہترین معاشرے اور قوموں کی تشکیل میں عورت کی اسی اہمیت کے پیش نظر ہی ہٹلر نے کہا تھا کہ  "تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو میں تمہیں  پڑھی لکھی قوم دوں گا " یعنی پڑھی لکھی ، ترقی یافتہ اور بہترین قوم اور معاشرے کی تشکیل میں اصل کردار ماں کا ہے
اسی حوالے سے عربوں نے بھی عورت کی اہمیت کو محسوس کیا اور کہا کہ تعليم رجل واحد ھو تعليم لشخص واحد، بينما تعليم امرأة واحدة يعني تعليم أسرة بكاملھا‘‘ ایک مرد کو تعلیم دینا ’سکھانا‘ فرد واحد کو تعلیم دینا ہے جبکہ ایک عورت کو تعلیم دینا ایک پورے خاندان کو تعلیم دینے کے مترادف ہے۔ اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایک عورت کی تعلیم ایک پورے خاندان کی تعلیم کے مترادف ہے اور جب خاندان تعلیم یافتہ اور مہذب ہوں گے تو اس کے نتیجے میں بننے اور تشکیل پانے والا معاشرہ بھی بہترین ہو گا ۔ 

صرف بطور ماں ہی نہیں بلکہ بطور استاد بھی عورت کا کردار زیادہ اہم ہے۔ خاص طور پر تعلیم کے ابتدائی مراحل میں عورت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ صرف آج کی بات ہی نہیں شروع سے ہی بچے ابتدائی تعلیم اور قرآن پاک کی تعلیم خواتین کے پاس پڑھتے ہیں۔ جدید تعلیمی نظام کا جائزہ لیں تو مونٹیسوری اسکول سے  لے کر آگے کے مراحل تک خواتین ہی اہم کردار ادا کر رہی ہیں ۔ 

عورت کی اہمیت کسی لحاظ سے بھی مرد سے کم نہیں بلکہ شایدکہیں زیادہ ہوتی ہے کیونکہ ایک مرد علم حاصل کرکے زیادہ سے زیادہ اپنے گھر کے لے مفید واقع ہوسکتا ہے جبکہ عورت کی تعلیم کا اثر گھر و گھرانے سے بڑھ کر شہر و معاشرے تک پھیل جاتا ہے۔ ایک مہذب عورت ہی بہترین انسانی تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ ایک با کردار اور مضبوط ارادہ عورت ہی دلیر قوم کو جنم دیتی ہے۔ ایک پرہیزگار و صاحب تقویٰ عورت ہی متقی و عبادت گزار بندے تربیت کرتی ہے۔ بالاخر یہ ماں ہی ہے جو ابتدا میں اپنے بچے کی تربیت کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کے پروان چڑھنے کے لیے مناسب ماحول فراہم کرتی ہے۔ اپنے گھریلو ماحول اور معاشرے کی فضاء کو اپنے اور دیگر بچوں کے لیے مہیا کرتی ہے۔ گویا جس معاشرے میں بھی تعلیم یافتہ خواتین کی کثرت ہوگی وہاں نہ صرف گھر کا ماحول بلکہ معاشرہ بھی انسانی نشو ونما کے لیے نہایت سازگار ہوگا۔ جیسا کہ مشہور ہے انسان کا لباس اس کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے اسی طرح ایک پاک و پاکیزہ ماحول اور صاف ستھرا محلہ وہاں بسنے والوں کی شخصیت کی مفسر و مبیّن ہوتا ہے۔ یعنی ایک صاف ستھری گلی، پاکیزہ در و دیوار اور مہذب لوگ پڑھے لکھے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔

پوری تاریخ میں کہیں کوئی ایسی فتح دکھائی نہیں دیتی جس میں خواتین کے مضبوط ارادوں کے بغیر مردوں کو کچھ حاصل ہوا ہو۔ اسلام کے آغاز کی سختیوں میں ام عمارؒکی دلیرانہ شجاعت نظر آتی ہے، ہجرت حبشہ میں جناب ام حبیبہ نظر آتی ہیں، شعب ابی طالب میں جناب خدیجہ ؑ نمایاں دیکھائی دیتی ہیں۔ اسی طرح جناب فاطمہ زہرا ؑ جنگ بدر کے معرکے سے لے کر، احد کے میدان میں، خندق کے حصار میں، ہر جگہ مردوں کے شانہ بشانہ کہیں زخمیوں کی تیمارداری، کہیں مردوں کو رجزخوانی کے ساتھ حوصلہ اور وقت آنے پر ہاتھوں میں ہتھیار لے کر رسول اللہ ؐ کی جان کی حفاظت کرتی نظر آتی ہیں۔

المختصر  بہترین معاشرے کی تشکیل میں عورت کا کردار کلیدی ہے ۔ اگر اقوام عالم میں نمایاں مقام حاصل کرنا ہے تو ہمیں خواتین کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینی ہو گی۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

نیا سال: نئی فکر اور نئی امید




دنیا میں مختلف قومیں مختلف ایام مختلف حوالوں سے مناتی آئی ہیں ۔ ان ایام کے پیچھے کوئی  تاریخی ورثہ یا کوئی ایسا تاریخی واقعہ ہوتا ہے جس کی یاد  منانے  یا کسی تاریخی انسان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے یہ دن منائے جاتے ہیں۔ انسانی زندگی جب ترقی کے مراحل اور منازل طے کرتی آگے بڑھنے لگتی اور  مختلف اقوام نے فتوحات کے ذریعے دیگر اقوام کے علاقوں پر قبضہ کیا تو  مختلف قبائل اور اقوام کو مل جل کر رہنے اور زندگی بسر کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران جہاں اور بہت سی عادات اور رسم و رواج منتقل ہوئے وہیں مختلف تہوار بھی منتقل ہوئے۔ان تہواروں میں سے بعض ایسے تھے جو کہ خاص مذہبی رنگ میں منائے جاتے تھے۔ اور کچھ ایسے تھے جو کسی علاقے کے ساتھ خاص تھے جن  میں کسی مذہبی تعلیم کا  عمل دخل نہیں تھا۔

دیگر کئی تہواروں کی طرح نئے سال کی پہلی رات یا نیو ایر نائٹ  New Year Night کو بھی ایک تہوار کا درجہ حاصل ہو گیا ہے اور یہ بھی ایک عرصہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں بڑے زورو شور سے منائی جاتی ہے۔اس کا آغاز انیسویں صدی میں برٹش رائل نیوی کے ایک جہاز سے ہوا اور خشکی میں سب سے پہلے ء1910 میں ایک ساحلی شہر اینا ڈین میں منایا گیا۔ 1980ء تک تو یہ لعنت یورپ تک ہی محدود تھی لیکن اس کے بعد یہ مرض وبا کی طرح پھیلا اور پوری دنیا کوبشمول بر صغیر اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
وطن عزیز پاکستان میں پہلی بار 90کی دہائی میں اس تقریب کا آغاز ہوا ۔ کیوں کہ انگریز برصغیر سے چلا تو گیا لیکن جاتے جاتے ایسے انڈے بچے دے گیا جو اندھی تقلید میں اپنے اکابر سے بھی کئی ہاتھ آگے ہیں۔ پہلے پہل یہ صرف بڑے لوگوں کا شوق ہوا کر تا تھا لیکن اب سر عام اس رات کو منایا جاتا ہے۔ اربوں روپے کے جام چھلکائے جاتے ہیں، کروڑوں کی بجلی اور گیس ضائع کی جاتی ہے، انواع و اقسام کے کھانوں پر لاکھوں روپے لگا دیئے جاتے ہیں۔ سیکڑوں خواتین اپنی چادر عصمت تارتار کرواتی ہیں ، کیوں کہ عموما ایسی پارٹیوں میں سنگلز کی انٹری ممنوع ہوتی ہے۔

دو روز بعد ایک بار پھر نئے سال کا آغاز ہو رہا ہے اور یقینا ایک بڑی تعداد اس رات کو اسی طرح منانے کے لیے بے چین و بیتاب ہوں گے۔  نہ صرف عوام بلکہ بہت سے حکومتی اہلکار بھی پر تول رہے ہوں گے۔ لیکن اس بار وطن عزیز جن حالات سے گزر رہا ہے ایسے میں وقت کا تقاضا یہی ہے کہ  حکومت کو اس قسم کی تمام تقریبات پر سختی سے پابندی لگا دینی چاہیئے۔ کیوں کہ ملک ویسے بھی دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ اربوں ڈالرز کے قرضے لیے جا رہے ہیں ۔ بجلی اور گیس نایاب ہو چکی ہے، بے روزگاری اور افراط زر کی بدترین صورتحال ہے ۔ ان حالات میں اس طرح کے کسی کام کی اجازت دینا بجائے خود حکومت کے عقل و شعور پر ایک سوالیہ نشان ہو گا ۔  اگر ان بے حیائی کے کاموں میں صرف ہونے والا پیسا بچا کر کسی مثبت کام میں صرف کیا جائے تو کئی لوگ اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
خاص طور پر خادم اعلی جناب شہباز شریف صاحب کو اس پر خصوصی توجہ د ینی چاہیئے تاکہ وطن اور اہل وطن دونوں کے لئے بہتری ہو کیوں کہ اس قسم کے کاموں کے لئے داتا کی نگری ۔لاہور ۔ بہت مشہور ہے ۔ لہذا وہاں ہونے والی ہر ایسی سرگرمی کے ذمہ دار وہ براہ راست ہوں گے کیوں کہ یہ ان کی مسئولیت میں آتا ہے۔

اسلام خوشی منانے کے بالکل منافی نہیں ہے بلکہ صحت مند تفریخ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ لیکن جس تفریح میں مال کے  اسراف کے ساتھ ساتھ جان کے ضیاع کا بھی خطرہ ہو ، معاشرے کی اخلاقی اقدار تباہ ہوتی ہوں، طبلے کی تھاپ پر جوانیاں ناچتی ہوں اور ہوس کے متلاشی ابن آدم مال و زر کے زور پر بنت حوا کی چادر عصمت تار تار کرنے پر تلے ہوں وہاں اسلام حکومت کو پابند کرتا ہے کہ اس کام کو روکے اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دے۔ تاکہ معاشرہ بہتر انسانی اقدار کی روشنی میں ترقی کرتا رہے۔
اسلامی تہذیب کی بذات خود ایک مکمل اور جامع تہذیب ہے۔ اس میں جہاں انسان کی دیگر فطری خواہشات و ضروریات کا خیال رکھا گیا ہے وہیں خوشی کو منانے کے لئے ایسے تہوار بھی مقرر کر دئیے گئے ہیں جن میں انسان اپنی خوشی کا اظہار کر سکتا ہے۔ لیکن ایک خصوصیت جو صرف اسلام کی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کسی بھی حالت میں ہوں، خوشی یا غمی، حد سے زیاتی کو برا جانا گیا ہے۔

ہر مسلمان کو خود اس موضوع پر سوچنا چاہیئے کہ اس مختصر زندگی  کا ایک اور سال بیت گیا، موت ایک سال مزید قریب آ گئی ۔ کیا یہ وقت رقص و سرود کی محفلیں سجانے، ناچنے اور بھنگڑے ڈالنے کا ہے یا یہ رات اپنے رب کے سامنے سر جھکا کر گزشتہ گناہوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگنے اور آئندہ کے لیے راہ راست پر چلنے کی توفیق مانگنے کا ہے۔
بطور پاکستانی بھی ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم نے گزشتہ سال ملک و ملت کے لیے کون سا ایسا کام کیا جس سے بہتر نتائج کی توقع کی جا سکتی ہو۔ اگر نہیں کیا تو آئندہ کے لیے غور و فکر کریں اور ایسی منصوبہ بندہ کریں جو ہمارے لیے انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی مفید ہو۔  گزشتہ سال میں حالات و واقعات کی وجہ سے جو مایوسیاں پیدا ہوئی ہیں انہیں ختم کرنے اور امید کے دیے روشن کرنے کے لیے مثبت اور تعمیری سوچ کو پروان چڑھانے اور فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے ۔ اس لیے مل کر سوچنا ہو گا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے کون سی ایسی  حکمت عملی  ہو گی بہتر نتائج لا سکتی ہے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>