ویلنٹائن ڈے: یوم محبت یا دعوت تباہی ؟


تحریر: راجہ اکرام الحق

14
فروری آنے کو ہے۔دنیا بھر میں یہ دن”یوم محبت “کے نام سے منایا جاتا ہے۔ قوم، نسل اور مذہب کی قید سے بالا تر ہو کر انسانوں کی ایک بڑی تعدا د بشمول مسلمان اس کا اہتمام کرتی ہے۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ اس”یوم محبت“کی تاریخی حقیقت سے سوائے چند ایک کے کوئی واقف نہیں۔

ویلنٹائن کی حقیقت کیا ہے؟

یہ رسم کئی صدیاں پرانی ہے۔ تاریخی اعتبار سے اس دن کی حقیقت کے بارے میں ایک سے زائد آراء ہیں۔ ”ویلنٹائن“ نامی کسی شخص کی طرف منسوب تقریبا نصف درجن کہانیاں ایسی ہیں جن کو اس ”یوم محبت“ کا یوم آغاز تصور کیا جاتا ہے ۔ ان تمام روایات کو یہاں ذکرکرنا ، پھر تاریخی تحقیق کے ذریعے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرنا، تاریخی شواہد کی روشنی میں کسی ایک کو اس ”یومِ محبت “ کا نقطہ آغاز قرار دینا ہمارا مقصود نہیں ۔ ان بے شمار قصوں میں سے چند ایک کا ذکرکافی ہو گا جن کو پڑھ کر اندازہ ہو جائے گا کہ یہ واقعہ کس حد تک حقیقی ہے، اس کو بنیاد بنا کر ایک پورا دن اس کردار کے لئے خاص کرنا کس کہاں تک عقلمندی ہے ۔

ایک قصہ اس طرح ہے کہ رومی بت پرست تھے ۔ ان رومیوں کے ایک پوپ نے ،جس کا نام ”ویلنٹائن “ تھا ،نے بت پرستی چھوڑ کر عیسائیت قبول کر لی۔ جس کی پاداش میں اسے سزائے موت دے دی گئی۔ لیکن بعد میں جب رومیوں نے عیسائیت قبول کر لی تو انہوں نے پوپ ویلنٹائن کے یوم وفات کو ”یوم محبتکے طور پر منایا۔ اس طرح ویلنٹائن ڈے کا آغاز ہوا۔ اس روایت کا مبنی بر حقیقت ہونا تقریباً محال لگتا ہے۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ رومی فوج کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا تھا، لوگ فوج میں بھرتی ہونے سے کتراتے تھے۔ بادشاہ نے جب محسوس کیا کہ شادی شدہ لوگ اپنے اہل و عیال کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تو اس نے شادیوں پر پابندی لگا دی۔ ایک رائے یہ ہے کہ بادشاہ کا خیال تھا کہ بہادر اور جرات مند فوجی کا غیر شادی شدہ ہونا ضروری ہے۔ کیوں کہ ایسے نوجوان دیگر افکار سے آزاد ہوتے ہیں ۔ الغرض فلسفہ جو بھی تھا ، بادشاہ نے شادی پر پابندی لگا دی۔ ویلنٹائن نامی ایک پادری نے بادشاہ کے حکم کے خلاف چھپ کر شادیاں کروانا شروع کردیں، یا خود شادی کر لی۔ جس کی پاداش میں اسے سزائے موت دے کی گئی۔ اور یہ 14فروری کا دن تھا۔ بعد میں اس ویلنٹائن کی یاد میں یہ دن منایا جانے لگا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ویلنٹائن نے ایک راہبہ سے 14فروری کو یہ کہہ کر شادی رچالی کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ 14فروری کا دن ایسا ہے کہ اس دن اگر راہب اور راہبہ آپس میں میلاپ کر لیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جاتا۔ یاد رہے کہ عیسائی مذاہب میں ایک فرقے کے عقائد کے مطابق راہب اور راہبہ زندگی بھر کنوارے رہتے ہیں۔ ان کی مذہبی تعلیمات کے مطابق جو کوئی اپنے آپ کو کلیساءکی خدمت کے لئے پیش کر دے تو وہ عمر بھر شادی نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ شادی اور پھر ازدواجی زندگی کی صورت میں وہ "اصلی گناہ " (Original Sin)دوبارہ ایکٹیویٹ ہو جاتا ہے جس کا ارتکاب آدم علیہ السلام اور بی بی حوا نے کیا تھا اور حضرت عیسی علیہ السلام نے صولی پر چڑھ کر تمام انسانیت کی جانب سے اس کا کفارہ ادا کیا تھا۔
ویلنٹائن کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے راہبہ نے ہاں کر دی اور انہوں نے شادی رچا لی۔ اس جرم کی پاداش میں انہیں سزا ئے موت دے دی گئی۔ تب سے لوگ اس دن کو یوم محبت کے نام سے مناتے ہیں۔

اگر اس واقعہ کو سچ مان لیا جائے تو عقل کا تقاضا یہ ہے کہ عیسائی مذہب کے مطابق اس دن کو ”یوم مذمتکے طور پر منایا جاتا۔ کیوں کہ اس دن ایک مذہبی روایت کے خلاف قدم اٹھایا گیا ۔ کلیسا کے اصولوں کو پامال کیا گیا ، اور اہل کلیسا میں سے دو اہم لوگوں نے مذہبی تعلیمات کے صراحتاً خلاف کام کیا ۔ لیکن اس سب کے باوجود عیسائیت کے پیروکار اس دن کو ”یوم محبت“ کے طور پر مناتے ہیں اور مذہبی پادریوں کی جانب سے کبھی اس کی مذمت نہیں کی گئی ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہل کلیسا کو بھی اپنی تعلیمات کے غیر فطری ہونے کا احساس ہو چکا ہے ۔

مزے کی بات یہ ہے کہ عیسائی تاریخ میں ویلنٹائن نامی تین افراد کا ذکر ملتا ہے اور تینوں کو کسی نہ کسی جرم میں موت کی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔

حقیقت کچھ بھی ہو یہ دن عیسائی برادری کے لئے عید کی حیثیت اختیار کر گیا، جو پہلے پہل تو صرف بعض جگہوں پر منایا جاتا تھا لیکن ذرائع ابلاغ کی وسعت نے اس طرح کی کئی خبائث کو اسلامی معاشروں میں بھی پروان چڑھا دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ دن ہمارے ہاں بھی اسی اہتمام و احترام سے منایا جانے لگا۔ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم احساس کمتری کا اس قدر شکار ہو چکے ہیں کہ مغرب کی ہر روایت اپنانے کو نہ صرف قابل فخر سمجھتے  ہیں بلکہ اسکی تقلید کو ہر قسم کی روشن خیالی اور جدیدیت کا معیار سمجھتے ہیں۔

اسلام ایک مکمل دین اور ضابطہ حیات ہونے کے ساتھ ساتھ فطری مذہب ہے۔ اس نے اپنے ماننے والوں کی تمام طبعی خواہشات کا لحاظ کرتے ہوئے  ان تمام معاملات زندگی کو اپنی تعلیمات میں سمویا ہے جو تقاضائے بشری ہیں۔ لیکن ان جذبات کی تکمیل و تسکین کے لئے اسلام نے مسلمانوں کو بے لگا م نہیں چھوڑا بلکہ کچھ اصول وضع کئے ہیں۔ ان اصولوں کے مطابق کئے جانے والا ہر کام عبادت شمار ہوتا ہے ۔ اسلام خوشی اور تفریح سے ہر گز منع نہیں کرتا بلکہ صحت مند تفریح کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اسی کے پیش نظر مسلمانوں کے لئے سال میں دو عیدیں رکھی ہیں۔ تا کہ مسلمان اس دن خوشی کا اظہار کر سکیں، ایک دوسرے کو تحائف دیں، دعوتیں کریں۔ اس کے علاوہ شادی بیاہ کی تقریبات یا اس طرح کے دیگر ایسے مواقع جو انسانی زندگی کا لازمہ اور معاشرے کی ضرورت ہیں ان میں بھی خوشی منانے کی پوری اجازت ہے۔

اسلام خوشی منانے کا ہر گز مخالف نہیں۔ لیکن جو تہوار کوئی مذہبی یا تہذیبی پس منظر رکھتے ہوں۔ جس کا منایا جانا کسی مذہبی واقعے کی یاد دلاتا ہو، اس کو منانا اسلامی نقطہ نظر سے ٹھیک نہیں۔ مذہبی تہواروں کی کو منانے کا مقصد کچھ روایات ، تصورات اور عقائد کو انسانی معاشروں میں پروان چڑھانا ہوتا ہے۔ اس لئے دیگر مذاہب کے مذہبی تہوار منانا خطرے سے خالی نہیں۔

ان اسلامی ایام کے علاوہ کسی بھی ایسے دن کا منانا جس کا ہماری روایات سے تعلق نہیں علماءکے متفقہ فتویٰ کے مطابق بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔ اور اس دن تحفے دینا اور کسی بھی سرگرمی میں شامل ہونا تعاون علی الاثم و العدوان“ (برائی اور زیادتی کے کام میں تعاون) کے تحت آتا ہے۔

ایک طبقہ کی رائے ہے کہ اسلام خوشی منانے سے ہر گز منع نہیں کرتا اس لئے اس دن خوشی منانے میں کوئی حرج نہیں۔ مزید یہ کہ آپ ان کے طریقے مت اپنائیں بلکہ اسلامی طریقے اپناکر اسلامی انداز میں یہ دن منا سکتے ہیں اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔۔ افسوس ہے ان دانشوروں پر ۔ طریقہ بدلنے سے کوئی غلط کام جائز نہیں ہو جاتا۔ اگر خوشی ہی منانی ہے تو کسی اور دن کا انتخاب کر لیجئے۔ اسی دن منانا ضروری ہے؟

اس دن خوشی منانے کا مطلب ان کی مشابہت اختیار کرنا ہے، اور اسلام کی واضح تعلیمات ہیں کہ ”جس نے کسی قوم کی مشابہت کی وہ انہیں میں سے ہے“ اب ہر انسان خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ کن میں سے ہونا پسند کرتا ہے۔

یہ تو مذہبی پہلو ہے۔ معاشرتی اور اخلاقی پہلو سے یہ دن جو برائیاں ساتھ لاتا ہے وہ کوئی بھی شریف النفس قبول نہیں کر سکتا۔ مغربی اور غیر اسلامی معاشروں کا جو کلچر میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کو یہ دن منانے کی دعوت دیتا ہے ، وہ طریقے بھی سکھاتا ہے، اس دن کی راہ و رسم سے بھی آگاہ کرتا ہے ۔ محبت اور عشق کے خوبصورت پردوں میں جنسی بے راہ روی اس دن کا خاصہ ہے۔ بظاہر محبت کا پرچار ہے لیکن درحقیقت تباہی ہی تباہی ہے ۔ اخلاق کی تباہی، معاشرتی اقدار کی تباہی، وسائل اور اوقات کی تباہی اور بالآخر خاندانی نظام کی تباہی۔

یہ ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے کہ اس برائی کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔ لوگوں میں اسلامی تعلیمات کے حوالے سے آگہی پیدا کریں، اس دن اور ایسے دیگر تہواروں کی خرابیوں اور خرافات سے اپنی نوجوان نسل کو آگا کرنے کے ساتھ اسے اس دلدل میں گرنے سے بچانے کی کوشش کریں۔

بطور خاص وطن عزیز جن اخلاقی، معاشرتی، اور معاشی بحرانوں سے گزر رہا ہے وہ کسی صورت بھی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے تہواروں پر سرکاری طور پر پابندی لگائیں۔ تاکہ اخلاقی اور جانی نقصان کے ساتھ ساتھ ملکی وسائل کا نقصان بھی روکا جا سکے۔
اگر ہم نے ابھی آنکھیں نہ کھولیں، اپنی روایات کا پاس نہ رکھا اور مغرب کی تقلید میں مست رہے تو وہ وقت دور نہیں کہ ہم اخلاقی زوال میں مغرب سے آگے نکل جائیں۔

اپنی ملت پے قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سانگھڑ: سیاسی بساط میں تبدیلی مگر ۔۔۔!





سانگھڑ کا نام سنتے ہی ذہن میں سب سے پہلے جو نام آتا ہے وہ پیر صاحب پگارا کا ہے۔ اور یہ کہنا کسی طور خلاف حقیقت نہیں ہو گا کہ "سانگھڑ اور پیر صاحب پگارا" لازم ملزوم ہیں کیوں کہ جب سے وطن عزیز معرض وجود میں آیا ہے تب سے سانگھڑ نہ صرف روحانی طور پر پیر صاحب کی مریدیت میں رہا ہے بلکہ سیاسی طور پر بھی یہاں مسلم لیگ فنکشنل کی ہی حکمرانی رہی ہے۔ سانگھڑ کی سیاست پر فنکشنل لیگ ایک طویل عرصہ اس طرح قابض رہی ہے کہ یہ بات مشہور ہو گئی تھی کہ اگر پیر صاحب انتخابات میں کسی نشست پر "کھمبا" بھی کھڑا کر دیں تو وہ بلا مقابلہ جیت جائے گا۔
لیکن یہ سب کچھ پیر پگارا ہفتم شاہ مردان شاہ کی حیات تک ہی درست رہا۔ 11 جنوری 2012ء بروز بدھ کو ان کی وفات کے  بعد ہر گزرتے دن کے ساتھ نہ صرف گدی کی گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے بلکہ سیاسی نظم و ضبط اور اثر و رسوخ بڑی تیزی سے رو بزوال ہے۔
پیر شاہ مردان شاہ کی وفات کے بعد جب دستار فضیلت بڑے فرزند پیر صبغت اللہ شاہ راشدی کے سر پر رکھی گئی اور باقی برادران نے نہ صرف ان کی حمایت کی بلکہ سیاسی سرپرستی بھی متفقہ طور پر ان کے سپرد کی تو یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ قیادت کی تبدیلی اور نسبتاً نوجوان قیادت کی آمد سے نہ صرف روحانی اثر کا دائرہ وسیع ہو گا بلکہ سیاست میں بھی خوش آئند تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ لیکن گزرتے وقت نے ان اندازوں کو غلط ثابت کر دیا۔
ابتدا  میں تو نئے پیر پگارا نے بڑا جوش و خروش دکھایا، نئے فیصلے کیے، کچھ پرانی روایات کو توڑا (سندھی ٹوپی اور اجرک وغیرہ کا استعمال)، سندھ کی قوم پرست جماعتوں کو ساتھ ملا کر سندھ  کی سیاست میں بڑی ہلچل مچانے کی کوشش کی اور اہم پیش رفت کے طور پر 17 دسمبر 2012ء حیدرآباد میں ایک جلسہ عام کا انعقاد کر دیا۔ سندھ کی سیاست میں بلاشبہ یہ ایک اہم تبدیلی پیش رفت تھی اور توقع کی جا رہی تھی کہ مئی 2013ء میں منعقد ہونے والے انتخابات میں سندھ کی سیاسی بساط میں بڑے پیمانے پر تبدیلی رونما ہو گی اور پی پی پی کی روایتی اور جاگیردارانہ سیاست کے مقابلے میں نئے چہرے سامنے آئیں گے جو سندھ کی تقدیر بدلنے میں کردار ادا کریں گے۔
لیکن 2013ء کے انتخابات میں ایک بار پھر پاکستان پیپلز پارٹی بازی لے گئی اور سندھ میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ جبکہ فنکشنل لیگ نے نئی قیادت کے علی الرغم ترقی کے بجائے زوال کی جانب سفر کا آغاز کر دیا۔ اگرچہ عام اتنخابات میں اپنی سابقہ اور موروثی نشتیں حاصل کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہو گئے لیکن عوام کو نظر انداز کرنے کے رویے میں تبدیلی نہ لانے کی وجہ سے اپنی نشستوں پر اپنی گرفت برقرار نہ رکھ سکے جس کا واضح ثبوت چند ہی ماہ بعد منعقد ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج ہیں۔
بطور مثال صرف ایک نشست این اے 235 کا تذکرہ مفید ہو گا۔ اس تذکرے کی وجہ اس سیٹ کی اہمیت ہے۔ عام انتخابات میں پیر شاہ مردان شاہ کے منجھلے فرزند صدر الدین راشدی نے دو حلقوں سے حصہ لیا اور دونوں میں کامیابی حاصل کی۔ بعد ازاں این اے 236 اپنے پاس رکھا اور 235 خالی کر دیا۔ اسی سال اگست میں جب اس خالی کردہ نشست پر ضمنی انتخابات ہوئے تو پی پی پی نے شاذیہ مری کو اپنا امیدوار نامزد کیا جس نے کم و بیش 10 ہزار کے مارجن سے کامیابی حاصل کی جس کے مقابلے میں فنکشنل لیگ کے منجھے ہوئے سیاستدان اور علاقے میں اثر و رسوخ رکھنے والے خدا بخش راجڑ تھے۔ باوجود اس کے کہ راجڑ صاحب وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں اس نشست پر کوئی کمال نہ دکھا سکے حالانکہ 2010ء میں جب یہ نشست غلام دستگیر راجڑ کی نا اہلی کی وجہ سے خالی ہوئی تھی تو خدا بخش راجڑ یہاں سے بلا مقابلہ منتخب ہو گئے تھے۔

ہار جیت کھیل کا حصہ ہے لیکن اصل چیز ہوتی ہے اسپورٹس مین اسپرٹ اور کچھ کر دکھانے کا جذبہ۔ لیکن بصد افسوس یہاں مفقود ہے۔ نہ عام انتخابات میں فنکشنل کی کامیابی نے ان کے رویے میں تبدیلی لائی اور نہ ضمنی انتخابات میں ناکامی ان پر اثر انداز ہو سکی۔ عوام کا کوئی پرسان حال پہلے تھا نہ اب۔ لیکن پی پی پی نے اس خلا کو محسوس کیا اور اسے پر کرنے کے لیے محنت کی۔ صوبہ سندھ کے باقی اضلاع میں پی پی پی کا کچھ نہ کچھ اثر رہا ہے لیکن سانگھڑ میں باوجود کوشش کے کبھی کامیابی نہ ہو سکی تھی۔ شاید اسی وجہ سے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے سانگھڑ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور اس محنت کے اثرات بڑی تیزی سے نظر آنا شروع ہو رہے ہیں۔
عوام کی ایک قابل ذکر تعداد کی نہ صرف نظریں پی پی پی پر ہیں بلکہ وہ اپنا آئندہ کا سیاسی قبلہ پی پی پی کو بنانے کے لیے بیتاب نظر آتے ہیں۔ شنید ہے کہ عنقریب وزیر اعلیٰ سندھ اور فریال تالپر سندھ کے دیگر قائدین کے ہمراہ سانگھڑ کا دورہ کرنے والے ہیں جس موقع پر علاقہ کی اہم شخصیات اور ان کے حامیوں کی ایک قابل ذکر تعداد فنکشنل لیگ کو خیرباد کہہ کر پی پی پی سے ناطہ جوڑنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ تبدیلی ہمیشہ خوش آئند ہوتی ہے اور یقیناً یہاں بھی اس کے کچھ مثبت اثرات مرتب ہوں گے، عوام کی آواز کو کچھ نہ کچھ پذیرائی ملے گی اور عشروں سے فائلوں کے بوجھ تلے مسائل حل ہونے کی امید پیدا ہوگی۔
جہاں یہ بات خوش آئند ہے کہ عوام میں شعور بیدار ہو رہا ہے اور گدی کی روایتی سیاست دم توڑ رہی ہے وہیں یہ بات باعث تشویش ہے کہ اس خلا کو پر کرنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی بھی کرپشن کی سرخیل، روایتی، موروثی سیاسی جماعت ہے جس کی سیاست کا عظیم محور جاگیردارانہ سیاست ہی ہے۔ گدی کی روایت سے نکل کر جاگیرداری نظام میں الجھ جانا آسمان سے گر کر کھجور میں اٹکنے کے مترادف ہو گا۔ 

سانگھڑ اور اہلیان سانگھڑ کے حق میں بہتر یہ ہوتا کہ کوئی تیسری قوت سامنے آتی جو ان روایتی جماعتوں سے ہٹ کر کوئی نیا لائحہ عمل لے کر میدان میں آتی تا کہ سانگھڑ کے حالات بدلنے کی توقع کی جا سکتی ۔ لیکن حالات سے لگتا ہے کہ جغرافیائی اور ترقیاتی اعتبار سے پس ماندہ علاقے کو ابھی مزید کرب سے گزرنا ہے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

موسم انکشافات: تخریب میں مضمر تعمیر کا پہلو





پاکستانی سیاسیت بلا شبہ نازک دور سے گزر رہی ہے۔ وطن عزیز جمہوریت اور آمریت کے سنگم پر کھڑا ہے، اک قدم آگے گیا تو جمہوریت، پیچھے ہٹا تو آمریت اور یہیں کھڑ ا رہا تو موسم انکشافات و الزامات جو واضح طور پر سیاست کے خد و خال پر اثر انداز ہو گا۔ حالات کا تناؤ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ مخالف تو رہے ایک طرف، ایک ہی صف میں کھڑے لوگ باہم دست و گریباں ہونے کو ہیں۔ مخالفین پر الزام لگانے اور ان کے کچے چٹھے کھولنے کے بجائے اپنے ہی ہم خیال و ہم رقاب لوگوں کو بے نقاب کرنے کی ظالم رسم چل پڑی ہے۔
 
پہلے جاوید ہاشمی نے اپنے ہی قائد اور تحریک انصاف کے چیئرمین کو بے نقاب کیا اور اس کے مزعومہ انقلاب کی قلعی کھول دی۔ ابھی اس کایا پلٹ کا اثر پوری طرح زائل نہ ہوا تھا کہ اسی جماعت کا ایک اور اہم رہنما شاہ محمود قریشی اپنے ہی بھائی کے ہاتھوں سر عام بے نقاب ہو گیا۔ شاہ صاحب نے یقینا الطاف حسین حالی کا یہ مصرعہ گنگنایا ہو گا کہ "دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت"۔ حسن اتفاق دیکھیے جس مارچ اور دھرنے کے پیچھے وردی کی کارفرمائی کی پیش گوئیاں گردش کر رہی ہیں سارے انکشافات انہیں افواہوں  کو تقویت دیتے معلوم ہوتے ہیں۔ طویل دھرنا اور مارچ  جس مقام پر کھڑا ہے یہاں ایسے دھچکے یقینا جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں لیکن عمران خان اور تحریک انصاف ان کو بانداز احسن سہار گئے۔ حالات ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں اور تناؤاس قدر ہے کہ نہ عمران نے ہتک عزت کا دعویٰ کیا اور نہ حکومت کی جانب سے ان معاملات کی تحقیق کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی کیوں کہ اس وقت دونوں ہی جانب جنگی صورتحال نافذ ہے۔

اس میں شک نہیں کہ اس صورتحال سے حکومت اور موجودہ جمہوریت کو بچانے کی خاطر جمع ہونے والا اتحاد بجا طور پر محظوظ ہو رہا تھا لیکن کہتے ہیں کہ "دشمن مرے تے خوشی نہ کرییے سجناں وی مرجاناں"۔
حکومت اور اس کے جمہوریت بچاؤ اتحادیوں کی خوشی کا مزہ اس وقت کرکرا ہو گیا جب موسم انکشافات و الزمات نے یہاں بھی اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا۔ جمہوریت بچانے کی خاطر ساری جماعتیں(99 فیصد) متحد تھیں اور معاملات حسن اسلوبی سے آگے بڑھ رہے تھے کہ چوہدری نثار کو نہ جانے کیا سوجھی کہ اپنی توپوں کا رخ مارچیوں کے بجائے اپنے اتحادیوں کی جانب موڑ کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کا براہ راست نشانہ ایوان بالا میں پی پی کے قائد ایوان معروف قانون دان اعتزاز احسن بنے۔ حکومت کے لیے اور بالخصوص نواز شریف کے لیے یہ صورتحال انتہائی تشویش کا باعث ہے اسی لیے ان کی جانب سے معافی اور معذرت کا عمل مسلسل جاری ہے جس میں ان کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف بھی برابر حصہ ڈال رہے ہیں لیکن چوہدری نثار کی جانب سے بیان واپس لینے یا وضاحت کرنے کی کوئی خبر تا حال احقر کی نظر سے نہیں گزری۔
یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ چوہدری نثار پوری غزل سنا دیں اور چوہدری اعتزاز احسن بردباری سے اسے برداشت کر جائیں اور اپنا کلام پیش نہ کریں۔ دو دن بعد انہوں نے بھی جواب آں غزل پیش کر کے محفل کو کشت و زعفران بنا دیا ۔کلام نرم و نازک کے عادی نے اپنی روایت سے ہٹ کر جارحانہ انداز سے بیٹنگ کی۔

ایسے وقت میں جب حکومت کے لیے اپنی بقا اور نواز شریف کے لیے اپنی وزارت عظمیٰ سب سے اہم بلکہ عزت کا مسئلہ بنا ہوا ہے اور اس کو بچانے کے لیے ایک ایک جماعت کا تعاون انتہائی اہم ہے ایسے میں چوہدری نثار کی جانب سے اس پیش رفت نے سب کو انگشت بدنداں کر دیا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ چوہدی نثا ر کا اپنے بیان پر ڈٹے رہنا اور میاں برادران کا مسلسل معافی پر معافی مانگے چلے جانا اس بات کا غماز ہے کہ مسئلہ سنجیدہ اور پیچیدہ ہے۔ یہ صورتحال جہاں ایک جانب بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے وہیں اس میں عمران اور اس کے ہمنواؤں کے لیے تسکین کا سامان بھی ہے۔ یہ صورتحال دیکھ کر خیال آتا ہے کہ سیاست بڑی بے رحم چیز ہے جس میں عزت سادات رہتی ہے نہ شریفوں کی دستار۔

حالات کے اس تناؤ، الزام تراشی، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش سے اگرچہ ملک اور عوام کا بے حد نقصان ہوا ہے، لیکن اس تخریب میں ایک پہلو تعمیر کا بھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ الزام تراشی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کام پاکستانی سیاست میں کوئی نئی روایت یا انہونی بات نہیں لیکن جس طرح کے حالات گزشتہ نصف ماہ سے چل رہے ہیں، تناؤ اور بے یقینی کی جو کیفیت ہے، عوام جس کرب و اذیت سے گزر رہی ہے اور پھر ذرائع ابلاغ جس طرح پل پل بدلتے حالات اور چہروں سے اترتے نقاب عوام کو دکھا رہے ہیں، سوشل میڈیا نے جس طرح اظہار ما فی الضمیر کی کھلی آزدی فراہم کی ہے ایسے وقت میں سیاست دانوں کا یوں باہم دست و گریبان ہونا، ملکی مفاد پر ذاتی مفاد اور انا کو ترجیح دینا، اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کے لیے ملکی سالمیت اور استحکام کو داؤ پر لگانا یقینا عوام کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہو گا۔

ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کا اگر جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ بہت سے اذہان واضح ہو رہے ہیں، دھند چھٹ رہی ہے، پرانی سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور جیالے اپنے قائدین سے متنفر ہو رہے ہیں اور نئے اور مخلص قائدین کی تلاش میں ہیں۔ نہ صرف روایتی سیاسی جماعتوں کے کارکنان بلکہ نئی ابھرنے والی تحریک انصاف کی موجودہ حکمت عملی نے اس کے اپنے کارکنان کو بھی شدید مایوس کیا ہے۔ ہو سکتا ہے جو کام انقلاب اور دھرنے سے نہیں ہوا وہ اہل سیاست کی حرکتیں کر دکھائیں، عوام کی آنکھیں کھل جائیں، اور وہ تبدیلی اور انقلابی شعور بیدار ہو جس کا پاکستان اور عوام پاکستان کو برسوں سے انتظار ہے۔عین ممکن ہے کہ اس تخریب  میں مضمر ہو ایک صورت بھلائی کی۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

انقلاب کی گرتی ساکھ




تحریر: راجہ اکرام الحق


14 اگست 2014 ءسے جاری آزادی مارچ حقیقی اور لغوی آزادی کی جانب بڑی تیزی سے رواں دواں ہے۔ اور خدشہ ہے کہ اگر یہ سفر اسی رفتار سے جاری رہا تو سرزمین پاکستان پر آزادی کا ایسا سورج اپنی پوری تابانی کے ساتھ ضو فشاں ہو گا کہ "مادر پدر آزادی" بھی منہ چھپاتی پھرے گی۔ لیکن برا ہو جاوید ہاشمی کا جنہوں نے اپنی خود نوشت "ہاں میں باغی ہوں" کی لاج رکھتے ہوئے ایک بار پھر بغاوت کر دی۔ ہاشمی صاحب کو تو اس بغاوت کے کئی فائدے ہو سکتے ہیں لیکن عمران خان کے حق میں یہ بغاوت خود کش حملے سے کم نہیں۔ البتہ ہاشمی صاحب کے انکشافات اور خدشات سننے کے امپائر کی انگلی کے تعین میں کچھ رہنمائی ملی۔

یار لوگوں نے اٹھتے ہی ہاشمی صاحب کی نیت میں فتور تلاش کر لیا۔ نہ تحقیق کی گزارش نہ الزامات عائد کرنے والے پر کوئی کیس اور نہ ہرجانے کا دعویٰ۔ لیکن اگر جاوید ہاشمی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا جائزہ لیا جائے اور ان کا تقابل ان کی بدن بولی (باڈی لینگویج) سے کیا جائے، ان کے سابقہ کردار پر نگاہ ڈالی جائے، زمینی حقائق اور منظر نامے کو پیش نظر رکھ کر سوچا جائے تو کوئی ایک وجہ ایسی نہیں ملتی جس کی بنیاد پر ہاشمی صاحب کی نیت میں فتور والے نظریے کو تقویت ملتی ہو۔ نیز یہ بات بھی اہم ہے کہ ہاشمی صاحب کے انکشافات اپنی نوعیت کے نئے الزامات نہیں بلکہ آزادی مارچ کے آغاز پر ہی اصحاب فہم نے اشاروں کنایوں میں تو کبھی کھلے بندوں ان خدشات کا اظہار کر دیا تھا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، دونوں جماعتوں کے دھرنے کے طریقہ کار، وقت کی ہم آہنگی اور مطالبات کی یکسانیت کی وجہ سے یہ تاثر پختہ ہوتا گیا کہ واقعتا کوئی قوت ہے جو اس سارے پتلی تماشے کی ڈور کو بڑے ماہرانہ انداز سے حرکت دے رہی ہے، ہاشمی صاحب نے اس مفروضے پر مہر تصدیق لگا کر اسے حقیقت کا روپ دے دیا۔
 
ہاشمی صاحب کے انکشافات اور خدشات کو ایک جانب رکھ کر بھی اگر دیکھا جائے اور دونوں تنظیموں کے پروگرامات اور مارچ کا جائزہ لیا جائے تو یہ تصور پختہ ہو جاتا ہے کہ واقعتا سب کچھ پہلے سے طے شدہ ہے۔ ایک ہی وقت کا انتخاب، ایک ہی روٹ کا انتخاب، دھرنے کے لیے ایک ہی جگہ کا انتخاب، ایک مطالبے میں مکمل یکسانیت اور یکساں ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ، ایک ہی وقت میں مارچ کو آگے بڑھانے کا فیصلہ، ریڈ زون اور پارلیمینٹ ہاؤس میں گھسنے اور توڑ پھوڑ کی مشترکہ کوشش، پی ٹی وی پر حملہ اور بالآخر 2 ستمبر کو "دو جان یک کنٹینر"  کا عملی مظاہرہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ میچ فکس تھا اور سب کچھ پیشگی طے شدہ تھا۔ لیکن ہاشمی صاحب نے جو پسوڑی ڈال دی ہے اس کے بعد امپائر کو اپنی ساکھ بچانے کی فکر زیادہ ہے اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ اب میچ کا فیصلہ مختلف ہو سکتا ہے۔
 
انقلاب مارچ ایک طرف، آزادی مارچ اپنی جگہ، مطالبات کا قرین عقل ہونا یا نہ ہونا اور فریقین کا رویہ اپنی جگہ، تاہم یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ ہاشمی صاحب کی پریس کانفرنس کے بعد عمران خان کی حیثیت عرفی زائل ہو چکی، اس سارے ڈرامے میں ان کا کردار مشکوک ہو چکا بلکہ اگر غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو منتخب حکومت کے خلاف خفیہ سازش کرنے اور اس سازش میں قابل احترام ملکی ادارے کو ملوث کرنے کے جرم میں بغاوت کا مقدمہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس وقت ملکی حالات اس قدر گھمبیر ہیں کہ شاید اس جانب کسی کی سوچ ہی نہیں جا رہی۔
 
ابھی ہاشمی صاحب کے انکشافات پر سیر حاصل بحث ہوئی ہی نہیں تھی کہ مرید حسین نے تحریک انصاف کے ایک اور سرکردہ رہنما اور اپنے بڑے بھائی شاہ محمود قریشی کے حوالہ سے انکشافات کا دفتر کھول دیا۔ ان الزامات میں بھی مرکزی کردار فوج ہی نظر آ رہی ہے جس نے تحریک انصاف کے "آزادی مارچ" کو مزید مشکوک بنا دیا اور ہچکولے کھاتی کشتی کو مزید خطرے میں ڈال دیا۔ 

اس سارے منظر نامے کے بعد سوال یہ ہے کہ اب عمران خان کے وعدوں، دعووں، جمہوریت پسندی، آزدی مارچ کی کیا حیثیت رہ گئی ؟ کیا ان حالات میں عمران خان کا نواز شریف کے استعفیٰ کے مطالبے پر اڑا رہنا عقل مندی ہے۔ کیا نواز شریف کا استعفیٰ زیادہ ضروری ہے یا عمران خان کا اپنی حیثیت عرفی بحال کرنا زیادہ ضروری ہے؟ کیا اگر یہ انکشافات بے بنیاد ہوتے، یا الزامات میں صداقت نہ ہوتی تو عمران خان اس طرح ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیتے یا ہتک عزت کا کیس کر کے بھاری بھرکم ہرجانے کا دعویٰ کرتے؟عمران خان یا تحریک انصاف بے شک تسلیم نہ کریں لیکن فوج کا فوری اظہار لا تعلقی اور عمران کی خاموشی بزبان حال بہت کچھ کہہ گئی ہے۔ یہی سوالات قریشی صاحب کے حوالہ سے بھی اٹھائے جا سکتے ہیں۔

دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ خان صاحب اور تحریک انصاف اب وزارت عظمیٰ کی جنگ کو کچھ وقت کے لیے موؤخر کر کے پہلے اپنی حیثیت عرفی کی بحالی پر توجہ دیں اس سے قبل کہ ان کا تیزی سے گرتا ہوا قبولیت کا گراف صفر سے بھی نیچے لڑھک جائے اور سوائے افسوس کے کچھ نہ بچے۔ اور عوام نے تحریک انصاف اور عمران خان کی صورت میں اپنے حسین مستقبل کا جو خواب دیکھا تھا وہ مکمل چکنا چور نہ ہو جائے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>