نیا سال: نئی فکر اور نئی امید




دنیا میں مختلف قومیں مختلف ایام مختلف حوالوں سے مناتی آئی ہیں ۔ ان ایام کے پیچھے کوئی  تاریخی ورثہ یا کوئی ایسا تاریخی واقعہ ہوتا ہے جس کی یاد  منانے  یا کسی تاریخی انسان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے یہ دن منائے جاتے ہیں۔ انسانی زندگی جب ترقی کے مراحل اور منازل طے کرتی آگے بڑھنے لگتی اور  مختلف اقوام نے فتوحات کے ذریعے دیگر اقوام کے علاقوں پر قبضہ کیا تو  مختلف قبائل اور اقوام کو مل جل کر رہنے اور زندگی بسر کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران جہاں اور بہت سی عادات اور رسم و رواج منتقل ہوئے وہیں مختلف تہوار بھی منتقل ہوئے۔ان تہواروں میں سے بعض ایسے تھے جو کہ خاص مذہبی رنگ میں منائے جاتے تھے۔ اور کچھ ایسے تھے جو کسی علاقے کے ساتھ خاص تھے جن  میں کسی مذہبی تعلیم کا  عمل دخل نہیں تھا۔

دیگر کئی تہواروں کی طرح نئے سال کی پہلی رات یا نیو ایر نائٹ  New Year Night کو بھی ایک تہوار کا درجہ حاصل ہو گیا ہے اور یہ بھی ایک عرصہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں بڑے زورو شور سے منائی جاتی ہے۔اس کا آغاز انیسویں صدی میں برٹش رائل نیوی کے ایک جہاز سے ہوا اور خشکی میں سب سے پہلے ء1910 میں ایک ساحلی شہر اینا ڈین میں منایا گیا۔ 1980ء تک تو یہ لعنت یورپ تک ہی محدود تھی لیکن اس کے بعد یہ مرض وبا کی طرح پھیلا اور پوری دنیا کوبشمول بر صغیر اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
وطن عزیز پاکستان میں پہلی بار 90کی دہائی میں اس تقریب کا آغاز ہوا ۔ کیوں کہ انگریز برصغیر سے چلا تو گیا لیکن جاتے جاتے ایسے انڈے بچے دے گیا جو اندھی تقلید میں اپنے اکابر سے بھی کئی ہاتھ آگے ہیں۔ پہلے پہل یہ صرف بڑے لوگوں کا شوق ہوا کر تا تھا لیکن اب سر عام اس رات کو منایا جاتا ہے۔ اربوں روپے کے جام چھلکائے جاتے ہیں، کروڑوں کی بجلی اور گیس ضائع کی جاتی ہے، انواع و اقسام کے کھانوں پر لاکھوں روپے لگا دیئے جاتے ہیں۔ سیکڑوں خواتین اپنی چادر عصمت تارتار کرواتی ہیں ، کیوں کہ عموما ایسی پارٹیوں میں سنگلز کی انٹری ممنوع ہوتی ہے۔

دو روز بعد ایک بار پھر نئے سال کا آغاز ہو رہا ہے اور یقینا ایک بڑی تعداد اس رات کو اسی طرح منانے کے لیے بے چین و بیتاب ہوں گے۔  نہ صرف عوام بلکہ بہت سے حکومتی اہلکار بھی پر تول رہے ہوں گے۔ لیکن اس بار وطن عزیز جن حالات سے گزر رہا ہے ایسے میں وقت کا تقاضا یہی ہے کہ  حکومت کو اس قسم کی تمام تقریبات پر سختی سے پابندی لگا دینی چاہیئے۔ کیوں کہ ملک ویسے بھی دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ اربوں ڈالرز کے قرضے لیے جا رہے ہیں ۔ بجلی اور گیس نایاب ہو چکی ہے، بے روزگاری اور افراط زر کی بدترین صورتحال ہے ۔ ان حالات میں اس طرح کے کسی کام کی اجازت دینا بجائے خود حکومت کے عقل و شعور پر ایک سوالیہ نشان ہو گا ۔  اگر ان بے حیائی کے کاموں میں صرف ہونے والا پیسا بچا کر کسی مثبت کام میں صرف کیا جائے تو کئی لوگ اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
خاص طور پر خادم اعلی جناب شہباز شریف صاحب کو اس پر خصوصی توجہ د ینی چاہیئے تاکہ وطن اور اہل وطن دونوں کے لئے بہتری ہو کیوں کہ اس قسم کے کاموں کے لئے داتا کی نگری ۔لاہور ۔ بہت مشہور ہے ۔ لہذا وہاں ہونے والی ہر ایسی سرگرمی کے ذمہ دار وہ براہ راست ہوں گے کیوں کہ یہ ان کی مسئولیت میں آتا ہے۔

اسلام خوشی منانے کے بالکل منافی نہیں ہے بلکہ صحت مند تفریخ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ لیکن جس تفریح میں مال کے  اسراف کے ساتھ ساتھ جان کے ضیاع کا بھی خطرہ ہو ، معاشرے کی اخلاقی اقدار تباہ ہوتی ہوں، طبلے کی تھاپ پر جوانیاں ناچتی ہوں اور ہوس کے متلاشی ابن آدم مال و زر کے زور پر بنت حوا کی چادر عصمت تار تار کرنے پر تلے ہوں وہاں اسلام حکومت کو پابند کرتا ہے کہ اس کام کو روکے اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دے۔ تاکہ معاشرہ بہتر انسانی اقدار کی روشنی میں ترقی کرتا رہے۔
اسلامی تہذیب کی بذات خود ایک مکمل اور جامع تہذیب ہے۔ اس میں جہاں انسان کی دیگر فطری خواہشات و ضروریات کا خیال رکھا گیا ہے وہیں خوشی کو منانے کے لئے ایسے تہوار بھی مقرر کر دئیے گئے ہیں جن میں انسان اپنی خوشی کا اظہار کر سکتا ہے۔ لیکن ایک خصوصیت جو صرف اسلام کی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کسی بھی حالت میں ہوں، خوشی یا غمی، حد سے زیاتی کو برا جانا گیا ہے۔

ہر مسلمان کو خود اس موضوع پر سوچنا چاہیئے کہ اس مختصر زندگی  کا ایک اور سال بیت گیا، موت ایک سال مزید قریب آ گئی ۔ کیا یہ وقت رقص و سرود کی محفلیں سجانے، ناچنے اور بھنگڑے ڈالنے کا ہے یا یہ رات اپنے رب کے سامنے سر جھکا کر گزشتہ گناہوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگنے اور آئندہ کے لیے راہ راست پر چلنے کی توفیق مانگنے کا ہے۔
بطور پاکستانی بھی ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم نے گزشتہ سال ملک و ملت کے لیے کون سا ایسا کام کیا جس سے بہتر نتائج کی توقع کی جا سکتی ہو۔ اگر نہیں کیا تو آئندہ کے لیے غور و فکر کریں اور ایسی منصوبہ بندہ کریں جو ہمارے لیے انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی مفید ہو۔  گزشتہ سال میں حالات و واقعات کی وجہ سے جو مایوسیاں پیدا ہوئی ہیں انہیں ختم کرنے اور امید کے دیے روشن کرنے کے لیے مثبت اور تعمیری سوچ کو پروان چڑھانے اور فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے ۔ اس لیے مل کر سوچنا ہو گا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے کون سی ایسی  حکمت عملی  ہو گی بہتر نتائج لا سکتی ہے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>