12.09.2011

اسلام پسندوں کی فتوحات اور ضرورت احتیاط



یہ ایک مصدقہ حقیقت ہے کہ اسلام کی فطرت میں ایک ایسی قدرتی لچک ہے کہ اسے جتنا دبایا جائے اتنا ہی ابھرتا ہے۔ اور جب ابھرتا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی۔ ابتدائے اسلام سے ہی کفر نے پوری کوشش کی کہ اس نظام زندگی کو پھلنے پھولنے نہ دیا جائے، اس مقصد کے لیے انہوں نے ہر ممکن طریقہ آزمایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ  و سلم کی ذات گرامی کو لالچ دے کر، پر کشش مراعات کا یقین دلا کر اور جب بات نہ بنی تو ایذا رسانی اور قتل کے منصوبوں تک نوبت پہنچ گئی۔ اور پھر پوری ملت کفر نے اسلام کو مٹانے کے لیے گٹھ جوڑ کر لیا لیکن یہ سارا دباؤ خود ان کے لیے وبال جان بن گیا اور اسلام اپنی اس قدرتی و فطری لچک کی وجہ سے ابھرتا ہی چلا گیا ۔ 

سقوط خلافت عثمانیہ کے کے بعد سے لے کر آج تک ایک بار پھر  اسلام اور مسلمان کسی نہ کسی طور پرغیر مسلم تسلط کے زیر سایہ رہے ۔ بلکہ ایک طویل عرصہ تک تمام ہی مسلم ممالک نو آبادیاتی نظام میں جکڑے رہے۔ اس نو آبادیاتی دور میں مسلمانوں کی تہذیب، کلچر، رسم و رواج اور زبان تک کو بدل دیا گیا۔ ایک طرف انگریز اور دوسری جانب فانسیسی طاقت نے مسلمانوں کی ظاہری و باطنی تباہی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔  اور اب تک کسی نہ کسی صورت میں ان طاقتوں کا اثر و رسوخ مسلمان ممالک پر قائم ہے، حکومت سازی سے لے کر قانون سازی  اور پالیسی سازی تک ہر ہر پہلو ان کے زیر اثر ہے۔  ظاہری آزادی حاصل ہونے کے بعد بھی اب تک بیشتر مسلم ممالک اسی نظام یعنی سیکولرزم کو اپنائے ہوئے ہیں ۔ اسلام پسندوں کا ناطقہ بند کرنے کے لیے مصر  کے مصطفی کمال سے لے کر حسنی مبارک تک، ترکی کے کمال اتا ترک اور اس کے پیروکاروں اور تیونس میں علی زین العابدین جیسے حکمرانوں نے جس طرح اسلام دشمنی کی مثالیں قائم کیں وہ کسی تذکرے کی محتاج نہیں ۔ 

کیوں کہ اسلام زمانے میں دبنے کو نہیں   آیا اس لیے اس سارے عمل کا ایک رد عمل ضرور سامنے آنا تھا۔ 2011ء اس رد عمل کا سال ثابت ہوا۔ تیونس میں ایک نوجوان کی خود سوزی کے نتیجے میں شروع ہونے والا عوامی احتجاج بالآخر اسلامی انقلاب کی صورت میں ظاہر ہوا اور اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں 52 فیصد نشستیں اسلام پسند لے گئے۔ یہ انقلاب اب تک کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور کتنے ہی جابروں کا بوریا بستر گول کروا چکا ہے۔ تیونس کے بعد مراکش  میں بھی احتجاج شروع  ہوئے جس کے نتیجے میں انتخابات ہوئے تو وہاں بھی اسلام پسندوں نے معرکہ مار لیا ۔ مراکش میں حکام کے مطابق اعتدال پسند اسلامی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (پی جے ڈی) نے پارلیمانی انتخابات جیت لیے ہیں۔ اب مصر میں انتخابات کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک کی اطلاع کے اخوان المسلمون اکثریت حاصل کرنے والی جماعت ہے۔ اس سے قبل ترکی میں سیکولرزم کے سخت پہرے میں اسلام پسندوں کی مسلسل کامیابی کے مناظر بھی دنیا دیکھ چکی کے۔ عسکری میدان میں دیکھا جائے تو  افغانستان میں مسلمان مجاہدین طالبان نے عالمی طاقت اور اس کے اتحادی چالیس سے زائد ممالک کی فوج کو ناکوں چنے چبوا دیے ہیں اور اب مذاکرات کرنے اور افغانستان سے باعزت واپسی کے لیے مختلف طرح سے پاپڑ بیل رہے ہیں۔

 اس سارے منظر نامے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام اور اسلامی قوتیں ایک بار پھر ابھرنا شروع ہو گئی ہیں۔  لیکن یہ سب ملت کفر اتنی آسانی سے ہضم نہیں ہو رہا۔  سیکولر عناصر کی شکست پرمغربی نظریات سے متاثر جماعتیں خاصی پریشان ہیں۔دراصل سیکولر جماعتوں کو انتخابات سے قبل اپنی کامیابی کا پکایقین تھا۔ شکست سے دوچار ہونے کے بعد انہوں نے الزامات لگانے اور تیونس کے مستقبل کے حوالے سے شکوک وشبہات پیدا کرنے شروع کردیے ہیں۔ مصر میں اخوان المسلمون کی نظر آتی کامیابی سے اسرائیل کے پیٹ میں مروڑ پڑنا شروع ہو چکے ہیں۔ اور اسرائیل کے خدشات براہ راست امریکہ کے خدشات تصور کیے جاتے ہیں کیوں کہ سارے کھیل کے اصل مہرے یہودیوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ 

کامیابیوں کا یہ موسم بہت ہی احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک ایک قدم پھونک پھونک کر اٹھانا ہوگا۔ انتقال اقتدار کے سارے مراحل بہت ہی حکمت عملی کے ساتھ طے کرنا ہوگا۔ اسلام کا آغاز جس طرح بالتدریج ہوا، محرمات اور مکروہات کی تعلیمات جس طرح مرحلہ وار دی گئیں اور ان پر عمل در آمد کے لیے جو طریقہ کار اپنایا گیا  اس کی روح کے مطابق آئندہ کی منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔  جلد بازی یا جذباتیت کا مظاہرہ منفی نتائج پیدا کر سکتا ہے۔  اس حوالے سے ترکی میں جو طریقہ کار اپنایا گیا اس کا مطالعہ کرنا، اسے سمجھنا اور اس کے مطابق لائحہ عمل طے کر کے معاملات کو آگے بڑھانا یقینا مفید ہو گا۔  

کامیابی یقینا خوشی کا احساس دلاتی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لانے اور  اس موقع کو درست طور پر استعمال کرنے کی توفیق طلب کرنے  کی بھی ضرورت ہے۔ اور یقینا فتح مکہ کے موقع پر فاتح عظیم نبی رحمت صلی اللہ علیہ و سلم نے جو نمونہ ہمارے لیے چھوڑا اس سے بہتر کوئی مثال نہیں ہو سکتی۔ تشکر کے جذبات سے سر جھکا ہوا ہو ، دشمنوں کے لیے "لا تثریب علیکم الیوم " کا اعلان ہو اور "لتکون کلمۃاللہ ھی العلیا" کا مقصد عظیم منتہائے نظر ہو۔

10 comments:

Razi نے لکھا ہے

koun sa islami inkilab, ye inkilab nahi tha wawela tha.

December 9, 2011 at 11:49 AM
عکس خیال نے لکھا ہے

بلا شبہ ابتداء جسے اسلامی انقلاب کہا گیا تھا وہ ایک عوامی احتجاج تھا ظلم کے خلاف جو گزشتہ کئی عشروں سے روا رکھا گیا تھا۔ لیکن جب انتخابات کا مرحلہ آیا اور عوام نے اپنے ماضی کا جائزہ لیا اور سیکولرزم کے خوشنما پردے میں چھپے تلخ حقائق کو دیکھا تو پھر اسلام کی آغوش رحمت میں پناہ لینے میں ہی عافیت جانی۔
اور اب تیونس، مراکش، اور مصر کے انتخابی نتائج اس بات کی واضح دلیل ہیں ۔ اور امید ہے کہ یہ صدی اسلام کی صدی وہ گی

December 9, 2011 at 11:55 AM
Editor نے لکھا ہے

اچھی تحریر ہے ۔۔۔مگر میں آپ سے متفق نہیں ہوں اگر آپ جذبات کو ایک طرف رکھ کر تجزیہ کریں تو ان ملکوں میں اسلام کے نام پر امریکہ نے فائدہ اٹھایا۔۔میں لکھوں گا تو زیادہ ہو جائے گا۔میرا مشورہ ہے کہ تحقیق کریں تو آپ پر سب عیاں ہو جائے گا

December 10, 2011 at 4:51 AM
عکس خیال نے لکھا ہے

مکرمی ایڈیٹر صاحب
آپ کی بات سے جزوی اتفاق ہے کہ مجموعی طور پر امریکہ نے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی اور اٹھایا بھی ۔۔ لیکن کیا تیونس، مراکش اورمصر کے انتخابات میں جن کو کامیابی مل رہی ہے یہ بھی امریکہ کا فائدہ ہے؟؟

December 10, 2011 at 4:54 AM
Dr. iftikhar Raja نے لکھا ہے

جناب بہت جزباتی قسم کی تحریر ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں سے اسلام کو ایسا نکالا گیا کہ بس، اسپین، جنوبی اٹلی، بلقان، یونان یہ وہ خطے ہیں جہاں سے اسلام کو نکالا گیا کہ بس نکل ہی گیا، دبایا گیا اور بس دب ہی گیا، ابھی ایک لہر چلی ہے مگر یہ بھی مجھے خوف ہے کہ بجھتے چراغ کی ایک بھڑک ہی نہ ہو، ورنہ مجموعی طورپر اس وقت دنیا کے کسی بھی ملک میں اسلامی نظام مکمل طور نافظ نہیں ہے، ہاں مسلمان ہر جگہ ہیں

December 10, 2011 at 6:46 AM
عکس خیال نے لکھا ہے

مکرمی راجہ افتخار صاحب
تشریف آوری اور تبصرے کے لیے شکریہ قبول کیجئے
آپ نے بجا فرمایا کہ دنیا میں ایسے ممالک ہیں جہاں سے اسلام کو نکالا گیا اور تا دم تحریر وہاں اسلام کا دوبارہ نفاذ نہیں ہو سکا۔
تو عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کے دبنے کا ایک دور تھا جو مسلمانوں کے اعمال کے باعث ہوا اور اب تک وہی دور چل رہا تھا۔
اب حالات و واقعات سے روشنی اور امید کی ایک کرن نظر آ رہی ہے کہ مسلمانوں نے سیکولرزم کے نتائج سے سبق سیکھا ہے اور اسلام کی طرف رجوع کا فیصلہ کیا ۔۔ جس کی مثال کے طور پر حالیہ انتخابات کے نتائج کا ذکر کیا گیا تھا۔۔۔
لیکن یہ ابھی آغاز ہے اور اس دھندلکی تصویر کو نمایاں ہو کر سامنے آنے میں ایک عرصہ لگے گا۔ کیوں کہ زوال کی تاریخ بہت طویل ہے۔ اس لیے اتنا وقت نہ سہی اس کا نصف بھی لگے تو کافی ہے اور ہمیں انتظار کرنا ہو گا اور اپنے تئیں کوشش کرنی ہو گی ۔۔

اور اس بات سے تو مجھے اتفاق ہے کہ واقعی اس وقت کسی ملک میں اسلامی نظام نافذ نہیں ۔۔ لیکن اس لہر کے دور رس اثرات میں سے ایک اثر اسلام کا نفاذ بھی ہو گا ۔۔

December 10, 2011 at 11:45 AM
OMAR BIN KHATTAB نے لکھا ہے

aspects jtni b hon in tmam waqeyaat ki . mgr phr b roz e roshan ki tra yeh baat eyaan he k ISLAM ne ghalib hona he bht jald ab islam k ghalib honay ka kya mtlb he ? mere nazdeek islmaic system only on papers hi kafi o shafi he . 1 bhai ne baat ki spain , greece wghera ki to janab agr us wqt k muslims k imaan hm jese logo ki tra na hue hotay to aj spain pr b ISLAM ka jhnda lehra raha hota . we r muslims so hm ne DEEN ko sb se pehle sb se agay rkhna he baqi social economic political aspects baad me aati hen . last me btata chloon k christians k pass saleebi jangon k baad kuch nai bcha tha . yeh to yaoodiyon ki mehrbani he chritians pr k unhon ne sahara dia un ko . aj america ko zalim kehne walay bhool jatay hen k poori dunya ki economy and politics israeel me bethay yahoodiyon ki soch ka natija he jo unhon ne 100-200 saal pehle sochi thi ....... !

December 12, 2011 at 4:26 AM
Behna Ji نے لکھا ہے

السلام علیکم
جی بالکل صحیح تجزیہ کیا آپ نے، ایسا ہی ہے یعنی اسلام کے غلبے کا وقت قریب ہے انشاءاللہ-اسکا یقین یا تو کفار کو ہے یا پھر ان مسلمانوں اور مجاہدین کو جو مزاہمت اور مدافعت کی اگلی صفوں میں ہیں- باقی مسلمان یا تو سوئے ہوئے ہیں یا پھرکم علمی اور کمزور ایمان کی وجہ سے غیر یقینی کی کیفیت میں ہیں-

ام عروبہ

April 21, 2012 at 10:07 AM
Muhammad Akram نے لکھا ہے

محترم راجا صاحب؛
آپ کی تحریریں سوچ کی نئی راھیں کھولتی ھیں۔ان کو جاری رکھیں۔

August 20, 2012 at 8:57 AM
M Islam نے لکھا ہے

AAP NY BHT ACHI BATAIN BAYAN KI HA ALLAH PAK AAP KO MAZEED TARAKI ATA FARMAIYN.(AMEEN)

February 3, 2013 at 12:27 AM

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔