طاہر بھائی الطاف بھائی: پاکستان کی شامت آئی؟؟





وطن عزیز نے اپنی 65 سالہ زندگی میں جو نابغے دیکھے ہیں ان کی مثال دیگر ممالک اپنی سو سالہ تاریخ میں پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ ہر نابغہ اپنے تئیں، نجات دھندہ، انقلابی، کامیابی کا روشن استعارہ اور پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے والا ہوتا ہے۔ باقی تو اپنی اپنی توانائیاں صرف کر کے اور ملک کا بیڑہ غرق کر کے کسی نہ کسی حد تک سکون کی کیفیت میں ہیں۔
ابھی پرانی نجات دھندوں کے حب الوطنی کے جذبات کے اثرات سے عوام پاکستان نکلے ہی نہ تھے کہ انقلابیوں کی ایک اور فوج برساتی مینڈکوں کی طرح پھدکتی کودتی ایک بار پھر عوام کے سینے پر مونگ دلنے کے لیے میدان عمل میں اتر آئی ہے۔
ابھی عمران خان کے سونامی انقلاب کے تھپیڑوں میں کچھ کمی آئی تھی، کچھ جھاگ بیٹھی تھی کہ ایک اور انقلابی، جو سیاست کی بھول بھلیوں میں بے مثال ناکامیوں سے مایوس ہو کر مذہب کے میدان میں جھنڈے گاڑنے کے لیے بدیس سدھار گئے تھے ایک بار پھر انقلاب کے ہاتھوں مجبور ہو کر وطن عزیز واپس آ گئے ہیں اور دن رات عوام کے غم میں گھل رہے ہیں۔ اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ پاکستان کے استحکام، اس کے نظام کی اصلاح اور عوام کی بہبود کے لیے اس سیاسی جماعت کو اپنا ہمسفر اور ہم نشین بنایا ہے جو تشکیل پاکستان کو اس صدی کی سب سے بڑی غلطی کہتے ہیں، جو وطن سے اس قدر محبت کرتے ہیں کہ یہاں آنے تک کی ہمت نہیں کر پاتے اور جن کے کارنامے ان کی حب الوطنی کی زندہ و جاوید مثال ہے۔
یوں تو موصوف کے معتقدین انہیں شیخ الاسلام سے کم کسی مرتبے پر رکھنے کے سرے سے روادار ہی نہیں لیکن شیخ صاحب کے کارنامے اور قصے اگر سن لیے جائیں تو بادی النظر میں ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ شاید انہیں کسی خاص مقصد کے لیے تیار کیا گیا اور اب استعمال کیا جا رہا ہے۔ حضرت کے خطبات، ان کے خواب اور بیانات سننے کے بعد ایک من چلے نے فی البدیہہ انہیں ایسا لقب دیا جو ان کی اصل حقیقت کو آشکار کرنے کے لیے کسی بھرپور مقالے سے زیادہ مؤثر ہے۔ اور ہو ہے "شیک الاسلام"۔ جس طرح کے کارنامے حضرت اب تک منصہ شہود پر آئے ہیں اس کے بعد شیخ کے بجائے Shake الاسلام والا لقب زیادہ جامع، زیادہ قرین قیاس اور زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔
رہی سہی کسر اس وقت پوری ہو گئ جب اسلام کے شیخ نے قادیانیوں کے سب بے بڑے حمایتی کو اپنا دست و بازو بنا لیا اور یہاں تک فرما دیا کہ ایم کیو ایم اور ہم ایک روح دو جسم ہیں۔ مقام حیرت ہے کہ تھوڑی سی شہرت اور مدد حاصل کرنے کے لیے شیک صاحب کہاں تک گر گئے۔
لیکن یہ حیرت تو ہمیں ہے، ان کے لیے تو یہ جوڑ فطری ہے کیوں کہ ایک جانب شیک الاسلام ہیں تو دوسری جانب شیک الباکستان۔ دونوں مل کر اسلام اور پاکستان کو جو حشر کرنے پر تلے ہوئے ہیں اس کا اندازہ ذی شعور حلقوں کو روز اول ہی سے ہو رہا ہے۔
ایک جملہ معترضہ کے طور پر یہ بات بھی ذکر کر دی جائے تو مفید ہو گی کہ، فصلی انقلابیوں کی قدر مشترک ہے کہ وزیر اعظم بننے کا شوق یکساں طور پر پایا جاتا ہے۔ عمران خان تو نئے انتخابات کے بعد خود کو وزیر اعظم سے کم کسی پوسٹ پر دیکھنے کے روادار نہیں لیکن شیک صاحب تو ابھی سے نگران سیٹ اپ کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور 14 جنوری والے Shake Pakistan مارچ کا اہم ایجنڈہ بھی یہی ہے ۔
اب دیکھئے شیک الاسلام اور شیک الباکستان مل کر کیا گل کھلاتے ہیں۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>