کراچی کو خطرہ کس سے ہے؟






خوشحالی اور بدحالی ، امن اور بد امنی، انصاف اور ظلم ہر معاشرے میں کسی نہ کسی صورت میں پائے جا سکتے ہیں۔ انسانوں کے اعمال اور نصیب دونوں ہی ان کے وجود اور معدوم ہونے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اگر اعمال راست ہوں، نیکی کا بول بالا ہو، ایثار و قربانی کے جذبات موجود ہوں، دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا جاتا ہو تو بدحالی کے بجائے خوشحالی، بدامنی کے بجائے امن و آشتی اور ظلم کے بجائے انصاف ہوتا ہے ۔ لیکن اگر نفسا نفسی کا عالم ہو، ہر طرف آپا دھاپی مچی ہو، اپنی آسائشوں کے لئے دوسروں کے منہ کا نوالہ چھیننے کو عیب تصور نہ کیا جاتا ہو، دنیاوی جاہ ہی مقصد زندگی بن جائے تو پھر معاملہ بالکل برعکس ہو جاتا ہے۔

لیکن کچھ لوگوں پر قسمت کی دیوی مہربان ہوتی ہے۔ ان تمام بد اعمالیوں کے باوجود بھی یہ مصیبتیں ان پر نازل نہیں ہوتیں۔۔ مگر کب تک، مہلت کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے ، اور جو سبق نہ سیکھے اس کا انجام دردناک ہی نہیں عبرت ناک بھی ہوتا ہے۔
شہر کراچی ایک زمانے میں روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، ملک بھر سے رزق کے متلاشی کراچی کا رخ کرتے تھے۔ اور اس شہر نے کبھی کسی کو مایوس واپس نہیں کیا بلکہ ہمیشہ خوش آمدید ہی کہا اور ایک ماں کی طرح اپنی آغوش میں پناہ دی۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر لوگ تلاش معاش کے لئے یہاں آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔

یہ بھی مسلم حقیقت ہے کہ اگر کراچی سے ان افراد نے حصول معاش کیا تو بدلے میں اس کی ترقی میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑا ویران حصہ(سہراب گوٹھ سے لے کر لالو کھیت تک) گنجان آباد علاقے میں تبدیل ہو گیا۔ سستی اور وافر افرادی قوت کے باعث ملک بھر سے سرمایہ کاروں نے کراچی کا رخ کیا اور بے شمار کارخانے کراچی کی رونق اور کشش میں روز افزوں اضافہ کرنے لگے۔
لیکن پھر ہمارے اعمال بدلے۔ نیتوں میں کھوٹ آنا شروع ہونے لگی۔مال کی ہوس میں اضافہ ہوا۔ آنکھوں پر حرص و ہوا کی پٹی چڑھ گئی اور وہی لوگ جو کل تک ہمارے بھائی تھے دشمن نظر آنے لگے۔ ہمیں کراچی کی زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگ لگنے لگی۔ اور باہر سے آنے والے بوجھ محسوس ہونا شروع ہو گئے۔

پھر کیا ہوا؟ وہی جو اس کا فطری نتیجہ ہے۔ امن و امان تباہ ہو گیا۔ اپنے اپنوں کے گلے کاٹنے لگے، روشنیاں تاریکیوں میں بدل گئیں، صنعتیں خسارے کا شکار ہو گئیں۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے کراچی خوف کی علامت بن گیا۔

ذمہ دار کوئی بھی ہو ، قصور کسی کا بھی ہو، لیکن یہ ہے ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ۔
اب جب کہ وطن عزیز چاروں جانب سے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی چالوں اور سازشوں کا شکار ہے۔ ایک کے بعد دوسری مصیبت رونما ہو رہی ہے۔ ملک کا ایک حصہ مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسے میں پھر ایک بار ایک بڑی تعداد کے لئے شہر کراچی آخری امید ہے۔ لیکن دوسری جانب اہل وطن کو ایک دوسرے پر الزام تراشیوں سے فرصت نہیں۔ سب کا مدعا یہی ہے کہ کراچی کو خطرہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ خطرہ کس سے ہے۔

ایک گروہ کے خیال میں خطرہ ”اسلا مائیزیشن “ سے ہے، دوسرے کے خیال میں خطرہ ”طالبانائزیشن“ سے ہے، تیسرے کے خیال میں ”پٹھانائزیشن“ سے ہے اور ایک بڑی تعداد کے خیال میں کراچی کو خطرہ صرف ”الطافائزیشن“ یا ”مہاجرائزیشن“ سے ہے۔

ایک لمحے کے لئے ہم یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ مذکورہ بالا تما ہی گروہوں سے کراچی کو خطرہ ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہو گا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ کس ملک سے ان کا تعلق ہے؟ کہاں کی شہریت کے حامل ہیں؟ کس دین و مذہب کے ماننے والے ہیں؟
تو جواب کا خلاصہ یقینا یہی ہو گا کہ یہ سب تو ”اپنے“ ہی لوگ ہیں۔ اسلام کے ماننے والے ہیں، پاکستان میں بسنے والے ہیں اور پاکستان ہی کے شہری بھی ہیں۔ تو اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ کراچی کو خطرہ ”اپنوں “ سے ہے۔

اگر ہم سب فرقہ واریت اور گروہ بندی کو نظر انداز کر کے ملکی مفاد کے لئے سوچنا شروع کر دیں تو نہ صرف کراچی بلکہ وطن عزیز پاکستان تمام خطرات سے نکل سکتا ہے۔
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اگر وطن عزیز کو امن و آشتی کا گہوارا بنانا ہے، کراچی کو ایک بار پھر روشنیوں کا شہر بنانا ہے اور دنیا میں نام روشن کرنا ہے تو ہمیں اپنے اعمال پر نظر ثانی کرنی ہو گی۔ان حالات میں غیروں کو کوسنا اورتمام فسادات اور ہنگاموں کا ذمہ دار انہیں ٹھہرانا اپنے دل کو طفل تسلی دینے سے زیادہ کچھ نہیں ہو گی۔ کیوں کہ کراچی کو خطرہ کسی اور سے نہیں بلکہ خطرہ ”اپنوں“ سے ہے ۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

جوہری توانائی کا تحفظ : پس پردہ حقائق ، ممکنہ صورت



تحریر: راجہ اکرام الحق
جوہری ہتھیاروں کو دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے اور دنیا کو  "جوہری دہشت گردی" سے بچانے کے اعلانیہ ایجنڈے کے تحت دوسری جوہری تحفظ کی سربراہی کانفرس جنوبی کوریا کے دار الحکومت سیول میں 26 مارچ کو منعقد ہوئی۔  اس سلسلے کی پہلی کانفرنس12 اور 13 اپریل  2010ء کو امریکہ کے شہر واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوئی تھی، کانفرنس میں دنیا بھر کے پچاس سے زائد ممالک  اور تنظیموں نے شرکت کی جن میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں۔  ۔  کانفرنس کا ایجنڈا تین نکاتی تھا ؛

  •  جوہری دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات  
  •  جوہری مواد اور اس سے متعلق  سہولیات کا تحفظ
  • جوہری مواد کی غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام 
اس دو روزہ اجلاس میں کون کون سی چیزیں زیر بحث آئیں اور آئندہ کے لیے کیا لائحہ عمل طے کیا گیا اس حوالے سے بے شمار تفصیلات ذرائع ابلاغ میں جا بجا موجود ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جوہری تحفظ کے ان اجلاسوں کا اصل اہداف کیا وہی ہیں جن کا تذکرہ برسر منبر کیا جاتا ہے یا اصل مقاصد اور اہداف پس پردہ ہیں جنہیں "جوہری دہشت گردی" سے بچاؤ کے پردے میں رہ کر حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔؟
اصل ہدف جس کا  چرچا ہے اور جس کے نام پر خرچا ہو رہا ہے وہ جوہری ہتھیاروں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں لگنے سے بچانے کے اقدامات ہیں لیکن  اجلاس کے دوران ہونے والے خطاب اور بالخصوص کانفرنس کے بانی اور روح رواں امریکی صدر کا خطاب اگر سنا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یا تو اس طرح کے اجلاس کااصل مقصد وہ نہیں جو بتایا جاتا ہے یا پھر یہ سمٹ اپنے ہدف سے بہت دور جا چکا ہے۔
اس سے پہلے 2010ء میں ہونے والے پہلے اجلاس کا اگر جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس پروگرام کا اصل ہدف دنیا کے دیگر ممالک کو جوہری توانائی سے دور کر کے امریکہ اپنی اجارہ داری اور چودہراہٹ قائم کرنے کے لیے پیش رفت کر رہا ہے۔ اسی طرح کی صورتحال اس بار کے اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے۔  کیوں کہ اگر کانفرنس کا ہدف واقعتا جوہری مواد کا تحفظ ہے تو اس ایجنڈے میں سر فہرست ایسے اقدامات ہونے چاہیے تھے جن کے ذریعے موجودہ مواد کو محفوظ سے محفوظ تر بنایا جا سکے تا کہ ان تک دہشت گردوں کی رسائی ممکن نہ رہے اور پر امن مقاصد کے لیے ان سے استفادے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔  نیز جن ذمہ دار ممالک کے پاس جوہری توانائی کے حصول کی صلاحیت ہے اور وہ اسے پر امن مقاصد کے لیے یا اپنے دفاع کو بہتر بنانے کے لیے  حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کے ساتھ ہر ممکنہ تعاون کیا جائے تا کہ اس پر صرف چند ممالک کی اجارہ داری نہ رہے۔  اس کے پیش نظر ضروری تھا کہ اس کانفرنس میں وہ تمام ممالک شریک ہوں جو یہ توانائی رکھتے ہیں اور وہ بھی جو اس کے حصول کے بالقریب پہنچ چکے ہیں یا اس حوالے سے کوشش کر رہے ہیں اور عالمی برادری میں متنازعہ فریق کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ تا کہ تمام  متعلقہ ممالک کا موقف سامنے آ جاتا اور بہتر حکمت عملی طے کرنے میں کامیابی ہوتی۔ لیکن گزشتہ بار کی طرح اس بار بھی  اس اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا۔ اور پھر دوران اجلاس ان کو تنبیہ بھی کی جاتی رہی۔

اس اجلاس سے ہٹ کر اگر پاکستانی ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے امریکہ بہادر اور ان کے جغادریوں کے تیور دیکھے جائیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ  ان کے لیے قابل ہضم نہیں ہے۔ اور اس سے بڑھ کر وہ دوہرا معیار جو بھارت اور پاکستان کے حوالے سے برتا جاتا ہے کہ ایک طرف بھارت کے ساتھ معاہدے اور تعاون اور دوسری طرف پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر تشویش کے اظہار اور اس کے خاتمے کے لیے کوششیں۔ 

حالات اس نہج پر جا رہے ہیں کہ کسی بھی چیز کو آئی سو لیشن میں رکھ کر نہیں دیکھا جا سکتا پورے منظر نامے کی ہر ہر کڑی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ یہ اجلاس اور اسے سے قبل جوہری توانائی کے حوالے سے امریکہ اور اس کے ہمنواؤں کی حکمت عملی سے واضح ہے کہ اس کا اصل مقصد اپنی بالادستی کے برقرار کی کوشش ہے جس  کے لیے  ہر اس ملک پر چڑھ دوڑنے کے لیے تیار ہے جو اس جانب پیش رفت کرتا ہو۔ اس حوالے سے ایران، شمالی کوریا اور پاکستان کےساتھ امریکی سلوک شاہد عدل ہے۔ 

جوہری توانائی کی تابکاری اور اس کے نقصانات اپنی جگہ لیکن اگر اس کا مؤثر اور تعمیری استعمال کیا جائے تو  اس کے فوائد بھی بے شمار ہیں ۔ تاہم اس کا ایک اہم فائدہ  کسی بڑی عالمی جنگ کے امکانات کا خاتمہ ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ توانائی ہر فریق کے پاس یکساں موجود ہو۔ کیوں کہ اگر  فریقین کے پاس ہو گی تو استعمال کا امکان نہیں اور اس کی مثال پاکستان اور بھارت سے لی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر کسی ایک کے پاس ہو اور دوسرے کے پاس نہ ہو تو پھر استعمال کے امکانات کئی گناہ بڑھ جاتے ہیں۔  اس کی مثال تاریخ میں موجود بھی ہے اور آئندہ کے لیے امکان اور توقع بھی ہے۔  مثال بھی امریکہ بہادر نے پیش کی جب صرف اس کے پاس یہ توانائی تھی  اور جاپان کے پاس نہیں تھی تو امریکہ نے بلا خطر استعمال کیا ، اور آئندہ بھی امریکہ ہی سے توقع کی جا سکتی ہے کہ اپنی انا کی ناک اونچی رکھنے اور اپنی مزعومہ عالمی قوت برقرار رکھنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ 

اگر حقیقت پسندی سے سوچا جائے تو جوہری مواد کے منفی استعمال اور اس کی تابکاری سے بچنے کی دو ہی صورتیں ہیں۔ یا تو تمام ہی ممالک تابکاری والے مواد کو  تلف کر دیں اور صرف  توانائی  کے مقاصد کے لیے ضروری مواد پر اکتفا کریں، یا پھر تمام ہی ممالک کے پاس یکساں صلاحیت ہو تا کہ کسی کو دوسرے پر جارحانہ اقدام کرنے کی جرات نہ ہو۔ بصورت دیگر امریکہ اور دگر بڑی طاقتیں اپنی چودہراہٹ قائم کرنے کے لیے یونہی سب کو بیوقوف بناتی رہیں گی اور ترقی پذیر ممالک کے لیے اس حوالے سے ہونے والے تمام ہی اقدامات و اجلاس  نشستن، خوردن و برخاستن سے زیادہ کچھ نہیں ہوں گے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بنگلہ دیش، مشرقی تیمور اور سوڈان کے بعد اب بلوچستان



تحریر: راجہ اکرام الحق
امریکہ بالخصوص اور سارا عالم کفر بالعموم کسی نہ کسی طریقے سے کسی نہ کسی جگہ عالم اسلام کے خلاف اعلانیہ یا خفیہ طور پر کہیں برسر عمل ہے اور کہیں برسر پیکار۔ اور یہ آج کی بات نہیں بلکہ یہ حق و باطل  کی کشمکش اتنی ہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسان کی ذات۔  عالم اسلام کے خلاف یہ مہم مختلف النوع ہے۔ کہیں بے بنیاد دعووں کی بنیاد پر براہ راست حملہ آور ہو کر، کہیں مسلم ممالک میں بسنے والی اقلیتوں کے حقوق کے نام پر اور کہیں مسلم ممالک میں لسانی و علاقائی عصبیتوں کے بنا پر  اندرونی خلفشار پیدا کر کے۔
لیکن ان ساری حکمت عملیوں میں سے جو دور رس نتائج کی حامل ہے اور جس کے زخموں سے رستے خون کے دھبے کئی برساتوں کے بعد بھی نہیں دھلتے وہ ہے اسلامی ممالک کی علاقائی تقسیم، کبھی اقلیتوں کے حقوق کے نام پر اور کبھی لسانی بنیادوں پر۔
1971 میں پاکستان کو دو لخت کر کے بنگلہ دیش بنانا بظاہر  یوں لگتا ہے کہ ایوب خان کی نخوت اور ذو الفقار علی بھٹو کی انانیت کا نتیجہ ہے لیکن ان حضرات کی ان کاوشوں کے ساتھ ساتھ بیرونی طاقتوں کا منصوبہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں . اگر 2005 میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب  سے ڈی کلاسیفائیڈ کی گئی رپورٹ بعنوان "Pakistan  America Relations. A reassessment" دیکھی جائے تو بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ 1971 میں پیش کی جانے والی اس رپورٹ میں امریکہ بہادر کے عزائم کیا تھے۔  
پاکستان کو دو لخت کرنے کے بعد سامراج کی نظریں مسلمانوں کے سب سے بڑے ملک انڈونیشیا پر جم گئیں۔ پھر وہاں جو کچھ ہوا، اقوام متحدہ نے جس طرح مداخلت کی وہ حیران کن ہے۔ کشمیر، فلسطین اور برما میں جو انسانیت سوز مظالم نصف صدی سے بھی زائد عرصہ سے برپا تھے وہ  اس کے سوئے ہوئے ضمیر کو نہ جگا سکے ۔  دیکھتے ہی دیکھتے  مشرقی تیمور نام سے ایک عیسائی ریاست معرض وجود میں آ گئی۔
اس عظیم معرکے میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اگلی نظر سوڈان پر جم گئی۔ وسیع رقبے پر محیط، قدرتی ذخائر اور بالخصوص تیل کی دولت سے مالا مال ایک اسلامی ملک امریکہ اور اس کی باندی اقوام متحدہ کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹکنے لگا۔ بنگلہ دیش اور انڈونیشیا کی طرح یہاں بھی وہی حکمت عملی اپنائی گئی، علیحدگی پسندوں کو مظلوم ثابت کر کے  "انسانیت کی محبت" میں سرشار ہو کر ان کی مدد کے لیے خدائی مددگار کے طور پر  پہنچ گئے اور بالآخر سوڈان کو دو لخت کر دیا۔
لگتا یوں ہے کہ وہ اپنے تئیں مسلم دنیا کے ہر اس ملک کو نشانہ بناتے ہیں جن سے خطرہ ہوتا ہے کہ مستقبل میں وہ کسی ایسے مقام پر آ سکتا ہے جو ان کے لیے مشکلات پیدا کر سکے۔  اسی لیے پہلے پاکستان، پھر انڈونیشیا اور اس کے بعد سوڈان کے ساتھ یہ گھناؤنا کھیل کھیلا۔  لیکن اس عظیم سانحے کے بعد بھی پاکستان نے  خود کو سنبھالا، حالات جیسے تیسے گزرتے گئے اور بالآخر پاکستان مسلم دنیا کا پہلا ایٹمی ملک بن کر دنیا کے سامنے آیا، جس کے بعد ایک بار پھر توپوں کا رخ پاکستان کی طرف ہو گیا۔
اس کے بعد عراق سے خطرہ تھا کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اب ایران ایک ایسا ملک ہے جو کسی بھی وقت ایٹمی طاقت بن سکتا ہے اس لیے سارے ہی عالم کفر کے پیٹ میں اس پر بھی مروڑ اٹھ رہے ہیں ۔
اب دنیائے اسلام کے دو ہی ممالک ہیں جو کسی بہتر پوزیشن  میں ہیں ، ایک ایران اور دوسرا پاکستان۔ اور آج امریکہ سمیت ساری ہی سامراجی طاقتیں ان دو ممالک کے خلاف بھرپور انداز سے سازشیں کرنے میں مصروف عمل ہیں۔  ایران پر پابندیاں لگانے کی مہم پورے زور و شور سے جاری ہے اور اسرائیل حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
پاکستان کے خلاف خفیہ طور پر بلیک واٹر، ریمنڈ ڈیوس اور مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے سازشوں کے جال بنے گئے، دہشت گردی کی ایسی آگ لگائی گئی کہ پورا پاکستان لیپٹ میں آگیا۔ ایک  طرف حکومت پر دباؤ ڈال کر شمالی وزیر ستان سمیت اس پوری پٹی میں عوام اور فوج کو آمنے سامنے کر کے بغاوت کی کوشش کرائی گئی اور دوسری جانب بلوچستان کے ناراض لوگوں کو ہر طرح سے سپورٹ کر کے انہیں پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی گئی، انہیں بلوچستان میں بیس کیمپ مہیا کیے گئے جہاں سے وہ اپنی  سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
ویسے تو یہ ساری سازش پس پردہ تھی کیوں کہ امریکہ بظاہر پاکستان کے ساتھ دوستی کا دم بھرتا تھا۔ لیکن جب سلالہ چیک پوسٹ کا سانحہ رونما ہو ا اور  نام نہاد دوستی کی دیوار میں دراڑ پڑ گئی تو امریکی جن بوتل سے باہر آ گیا اور وہاں بلوچستان کے حق میں قرار دادیں پیش ہونا شروع ہو گئیں۔  
صورتحال ایک بار پھر 1971 کی طرح ہے، علیحدگی پسندوں کو تب بھی بھارت کے ذریعے اسلحہ مہیا کیا گیا اور اب بھی وہیں سے ہر طرح کا تعاون ہو رہا ہے، بلکہ اب تو اور بھی کئی ممالک اس کار خیر میں حصہ ملا رہے ہیں۔ تب بھی بھارت سے مداخلت کروائی گئی اور پاکستان نے جب دوست سے مدد مانگی تو جواب بھیجا جانے والا ساتواں بحری بیڑا آج تک مدد کو نہیں پہنچ سکا۔  اور اب بھی بلوچستان میں شورش برپا کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان میں  بھارت کو مضبوط کیا جا رہا ہے تا کہ بوقت ضرورت مداخلت کرنی پڑے تو مشکلات نہ ہوں۔
اور آزاد بلوچستان کی اس سازش میں نہ صرف پاکستان بلکہ ایران کو بھی  گستاخی کی سزا دینے کا منصوبہ شامل ہے، کیوں کہ گریٹر بلوچستان کے نقشے میں نہ صرف پاکستانی علاقہ بلکہ ایران کا وہ حصہ جہاں بلوچ آباد ہیں وہ بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔
سامراج  دشمن تو روز اول سے ہی مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے آئے ہیں اور کامیاب ہوتے آئے ہیں ۔ لیکن مقام افسوس یہ ہے کہ مسلمان اس قدر دھوکے کھانے  اور ذلت آمیز شکست سے دو چا رہونے کے بعد بھی آج تک اپنی ان غلطیوں کا ازالہ نہیں کر سکے جن کے باعث دشمن ہر بار جیت جاتا ہے اور ہمارے حصے میں سوائے ہزیمت و ذلت کے اور کچھ نہیں آتا۔
اس وقت بلوچستان جس نازک دور سے گزر رہا ہے اس میں اگر اپنی غلطیوں اور زیادتیوں کا ازالہ نہ کیا گیا، حالات کے تقاضوں کو نہ سمجھا گیا، مظلوموں کی داد رسی نہ کی گئی اور بنگلہ دیش، مشرقی تیمور اور سوڈان جیسے واقعات سے سبق حاصل نہ کیا گیا تو پھر دشمن کو الزام دینے کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ وہ تو  دشمن ہے اور وہی کرے گا جو اس کے مفاد میں ہے۔ قصور تو ہمارا ہے کہ ہم اپنے مفادات سے بے خبر ہیں اور خود ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں کہ دشمن فائدہ اٹھائے ۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>