3.25.2012

بنگلہ دیش، مشرقی تیمور اور سوڈان کے بعد اب بلوچستان



تحریر: راجہ اکرام الحق
امریکہ بالخصوص اور سارا عالم کفر بالعموم کسی نہ کسی طریقے سے کسی نہ کسی جگہ عالم اسلام کے خلاف اعلانیہ یا خفیہ طور پر کہیں برسر عمل ہے اور کہیں برسر پیکار۔ اور یہ آج کی بات نہیں بلکہ یہ حق و باطل  کی کشمکش اتنی ہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسان کی ذات۔  عالم اسلام کے خلاف یہ مہم مختلف النوع ہے۔ کہیں بے بنیاد دعووں کی بنیاد پر براہ راست حملہ آور ہو کر، کہیں مسلم ممالک میں بسنے والی اقلیتوں کے حقوق کے نام پر اور کہیں مسلم ممالک میں لسانی و علاقائی عصبیتوں کے بنا پر  اندرونی خلفشار پیدا کر کے۔
لیکن ان ساری حکمت عملیوں میں سے جو دور رس نتائج کی حامل ہے اور جس کے زخموں سے رستے خون کے دھبے کئی برساتوں کے بعد بھی نہیں دھلتے وہ ہے اسلامی ممالک کی علاقائی تقسیم، کبھی اقلیتوں کے حقوق کے نام پر اور کبھی لسانی بنیادوں پر۔
1971 میں پاکستان کو دو لخت کر کے بنگلہ دیش بنانا بظاہر  یوں لگتا ہے کہ ایوب خان کی نخوت اور ذو الفقار علی بھٹو کی انانیت کا نتیجہ ہے لیکن ان حضرات کی ان کاوشوں کے ساتھ ساتھ بیرونی طاقتوں کا منصوبہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں . اگر 2005 میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب  سے ڈی کلاسیفائیڈ کی گئی رپورٹ بعنوان "Pakistan  America Relations. A reassessment" دیکھی جائے تو بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ 1971 میں پیش کی جانے والی اس رپورٹ میں امریکہ بہادر کے عزائم کیا تھے۔  
پاکستان کو دو لخت کرنے کے بعد سامراج کی نظریں مسلمانوں کے سب سے بڑے ملک انڈونیشیا پر جم گئیں۔ پھر وہاں جو کچھ ہوا، اقوام متحدہ نے جس طرح مداخلت کی وہ حیران کن ہے۔ کشمیر، فلسطین اور برما میں جو انسانیت سوز مظالم نصف صدی سے بھی زائد عرصہ سے برپا تھے وہ  اس کے سوئے ہوئے ضمیر کو نہ جگا سکے ۔  دیکھتے ہی دیکھتے  مشرقی تیمور نام سے ایک عیسائی ریاست معرض وجود میں آ گئی۔
اس عظیم معرکے میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اگلی نظر سوڈان پر جم گئی۔ وسیع رقبے پر محیط، قدرتی ذخائر اور بالخصوص تیل کی دولت سے مالا مال ایک اسلامی ملک امریکہ اور اس کی باندی اقوام متحدہ کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹکنے لگا۔ بنگلہ دیش اور انڈونیشیا کی طرح یہاں بھی وہی حکمت عملی اپنائی گئی، علیحدگی پسندوں کو مظلوم ثابت کر کے  "انسانیت کی محبت" میں سرشار ہو کر ان کی مدد کے لیے خدائی مددگار کے طور پر  پہنچ گئے اور بالآخر سوڈان کو دو لخت کر دیا۔
لگتا یوں ہے کہ وہ اپنے تئیں مسلم دنیا کے ہر اس ملک کو نشانہ بناتے ہیں جن سے خطرہ ہوتا ہے کہ مستقبل میں وہ کسی ایسے مقام پر آ سکتا ہے جو ان کے لیے مشکلات پیدا کر سکے۔  اسی لیے پہلے پاکستان، پھر انڈونیشیا اور اس کے بعد سوڈان کے ساتھ یہ گھناؤنا کھیل کھیلا۔  لیکن اس عظیم سانحے کے بعد بھی پاکستان نے  خود کو سنبھالا، حالات جیسے تیسے گزرتے گئے اور بالآخر پاکستان مسلم دنیا کا پہلا ایٹمی ملک بن کر دنیا کے سامنے آیا، جس کے بعد ایک بار پھر توپوں کا رخ پاکستان کی طرف ہو گیا۔
اس کے بعد عراق سے خطرہ تھا کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اب ایران ایک ایسا ملک ہے جو کسی بھی وقت ایٹمی طاقت بن سکتا ہے اس لیے سارے ہی عالم کفر کے پیٹ میں اس پر بھی مروڑ اٹھ رہے ہیں ۔
اب دنیائے اسلام کے دو ہی ممالک ہیں جو کسی بہتر پوزیشن  میں ہیں ، ایک ایران اور دوسرا پاکستان۔ اور آج امریکہ سمیت ساری ہی سامراجی طاقتیں ان دو ممالک کے خلاف بھرپور انداز سے سازشیں کرنے میں مصروف عمل ہیں۔  ایران پر پابندیاں لگانے کی مہم پورے زور و شور سے جاری ہے اور اسرائیل حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
پاکستان کے خلاف خفیہ طور پر بلیک واٹر، ریمنڈ ڈیوس اور مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے سازشوں کے جال بنے گئے، دہشت گردی کی ایسی آگ لگائی گئی کہ پورا پاکستان لیپٹ میں آگیا۔ ایک  طرف حکومت پر دباؤ ڈال کر شمالی وزیر ستان سمیت اس پوری پٹی میں عوام اور فوج کو آمنے سامنے کر کے بغاوت کی کوشش کرائی گئی اور دوسری جانب بلوچستان کے ناراض لوگوں کو ہر طرح سے سپورٹ کر کے انہیں پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی گئی، انہیں بلوچستان میں بیس کیمپ مہیا کیے گئے جہاں سے وہ اپنی  سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
ویسے تو یہ ساری سازش پس پردہ تھی کیوں کہ امریکہ بظاہر پاکستان کے ساتھ دوستی کا دم بھرتا تھا۔ لیکن جب سلالہ چیک پوسٹ کا سانحہ رونما ہو ا اور  نام نہاد دوستی کی دیوار میں دراڑ پڑ گئی تو امریکی جن بوتل سے باہر آ گیا اور وہاں بلوچستان کے حق میں قرار دادیں پیش ہونا شروع ہو گئیں۔  
صورتحال ایک بار پھر 1971 کی طرح ہے، علیحدگی پسندوں کو تب بھی بھارت کے ذریعے اسلحہ مہیا کیا گیا اور اب بھی وہیں سے ہر طرح کا تعاون ہو رہا ہے، بلکہ اب تو اور بھی کئی ممالک اس کار خیر میں حصہ ملا رہے ہیں۔ تب بھی بھارت سے مداخلت کروائی گئی اور پاکستان نے جب دوست سے مدد مانگی تو جواب بھیجا جانے والا ساتواں بحری بیڑا آج تک مدد کو نہیں پہنچ سکا۔  اور اب بھی بلوچستان میں شورش برپا کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان میں  بھارت کو مضبوط کیا جا رہا ہے تا کہ بوقت ضرورت مداخلت کرنی پڑے تو مشکلات نہ ہوں۔
اور آزاد بلوچستان کی اس سازش میں نہ صرف پاکستان بلکہ ایران کو بھی  گستاخی کی سزا دینے کا منصوبہ شامل ہے، کیوں کہ گریٹر بلوچستان کے نقشے میں نہ صرف پاکستانی علاقہ بلکہ ایران کا وہ حصہ جہاں بلوچ آباد ہیں وہ بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔
سامراج  دشمن تو روز اول سے ہی مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے آئے ہیں اور کامیاب ہوتے آئے ہیں ۔ لیکن مقام افسوس یہ ہے کہ مسلمان اس قدر دھوکے کھانے  اور ذلت آمیز شکست سے دو چا رہونے کے بعد بھی آج تک اپنی ان غلطیوں کا ازالہ نہیں کر سکے جن کے باعث دشمن ہر بار جیت جاتا ہے اور ہمارے حصے میں سوائے ہزیمت و ذلت کے اور کچھ نہیں آتا۔
اس وقت بلوچستان جس نازک دور سے گزر رہا ہے اس میں اگر اپنی غلطیوں اور زیادتیوں کا ازالہ نہ کیا گیا، حالات کے تقاضوں کو نہ سمجھا گیا، مظلوموں کی داد رسی نہ کی گئی اور بنگلہ دیش، مشرقی تیمور اور سوڈان جیسے واقعات سے سبق حاصل نہ کیا گیا تو پھر دشمن کو الزام دینے کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ وہ تو  دشمن ہے اور وہی کرے گا جو اس کے مفاد میں ہے۔ قصور تو ہمارا ہے کہ ہم اپنے مفادات سے بے خبر ہیں اور خود ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں کہ دشمن فائدہ اٹھائے ۔

2 comments:

M.Ali S نے لکھا ہے

good blog. keep it up

March 25, 2012 at 12:14 PM
abbasbashir نے لکھا ہے

good work bro. app ne sahi leakha

May 23, 2012 at 10:11 AM

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔