3.30.2012

کراچی کو خطرہ کس سے ہے؟






خوشحالی اور بدحالی ، امن اور بد امنی، انصاف اور ظلم ہر معاشرے میں کسی نہ کسی صورت میں پائے جا سکتے ہیں۔ انسانوں کے اعمال اور نصیب دونوں ہی ان کے وجود اور معدوم ہونے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اگر اعمال راست ہوں، نیکی کا بول بالا ہو، ایثار و قربانی کے جذبات موجود ہوں، دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا جاتا ہو تو بدحالی کے بجائے خوشحالی، بدامنی کے بجائے امن و آشتی اور ظلم کے بجائے انصاف ہوتا ہے ۔ لیکن اگر نفسا نفسی کا عالم ہو، ہر طرف آپا دھاپی مچی ہو، اپنی آسائشوں کے لئے دوسروں کے منہ کا نوالہ چھیننے کو عیب تصور نہ کیا جاتا ہو، دنیاوی جاہ ہی مقصد زندگی بن جائے تو پھر معاملہ بالکل برعکس ہو جاتا ہے۔

لیکن کچھ لوگوں پر قسمت کی دیوی مہربان ہوتی ہے۔ ان تمام بد اعمالیوں کے باوجود بھی یہ مصیبتیں ان پر نازل نہیں ہوتیں۔۔ مگر کب تک، مہلت کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے ، اور جو سبق نہ سیکھے اس کا انجام دردناک ہی نہیں عبرت ناک بھی ہوتا ہے۔
شہر کراچی ایک زمانے میں روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، ملک بھر سے رزق کے متلاشی کراچی کا رخ کرتے تھے۔ اور اس شہر نے کبھی کسی کو مایوس واپس نہیں کیا بلکہ ہمیشہ خوش آمدید ہی کہا اور ایک ماں کی طرح اپنی آغوش میں پناہ دی۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر لوگ تلاش معاش کے لئے یہاں آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔

یہ بھی مسلم حقیقت ہے کہ اگر کراچی سے ان افراد نے حصول معاش کیا تو بدلے میں اس کی ترقی میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑا ویران حصہ(سہراب گوٹھ سے لے کر لالو کھیت تک) گنجان آباد علاقے میں تبدیل ہو گیا۔ سستی اور وافر افرادی قوت کے باعث ملک بھر سے سرمایہ کاروں نے کراچی کا رخ کیا اور بے شمار کارخانے کراچی کی رونق اور کشش میں روز افزوں اضافہ کرنے لگے۔
لیکن پھر ہمارے اعمال بدلے۔ نیتوں میں کھوٹ آنا شروع ہونے لگی۔مال کی ہوس میں اضافہ ہوا۔ آنکھوں پر حرص و ہوا کی پٹی چڑھ گئی اور وہی لوگ جو کل تک ہمارے بھائی تھے دشمن نظر آنے لگے۔ ہمیں کراچی کی زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگ لگنے لگی۔ اور باہر سے آنے والے بوجھ محسوس ہونا شروع ہو گئے۔

پھر کیا ہوا؟ وہی جو اس کا فطری نتیجہ ہے۔ امن و امان تباہ ہو گیا۔ اپنے اپنوں کے گلے کاٹنے لگے، روشنیاں تاریکیوں میں بدل گئیں، صنعتیں خسارے کا شکار ہو گئیں۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے کراچی خوف کی علامت بن گیا۔

ذمہ دار کوئی بھی ہو ، قصور کسی کا بھی ہو، لیکن یہ ہے ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ۔
اب جب کہ وطن عزیز چاروں جانب سے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی چالوں اور سازشوں کا شکار ہے۔ ایک کے بعد دوسری مصیبت رونما ہو رہی ہے۔ ملک کا ایک حصہ مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسے میں پھر ایک بار ایک بڑی تعداد کے لئے شہر کراچی آخری امید ہے۔ لیکن دوسری جانب اہل وطن کو ایک دوسرے پر الزام تراشیوں سے فرصت نہیں۔ سب کا مدعا یہی ہے کہ کراچی کو خطرہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ خطرہ کس سے ہے۔

ایک گروہ کے خیال میں خطرہ ”اسلا مائیزیشن “ سے ہے، دوسرے کے خیال میں خطرہ ”طالبانائزیشن“ سے ہے، تیسرے کے خیال میں ”پٹھانائزیشن“ سے ہے اور ایک بڑی تعداد کے خیال میں کراچی کو خطرہ صرف ”الطافائزیشن“ یا ”مہاجرائزیشن“ سے ہے۔

ایک لمحے کے لئے ہم یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ مذکورہ بالا تما ہی گروہوں سے کراچی کو خطرہ ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہو گا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ کس ملک سے ان کا تعلق ہے؟ کہاں کی شہریت کے حامل ہیں؟ کس دین و مذہب کے ماننے والے ہیں؟
تو جواب کا خلاصہ یقینا یہی ہو گا کہ یہ سب تو ”اپنے“ ہی لوگ ہیں۔ اسلام کے ماننے والے ہیں، پاکستان میں بسنے والے ہیں اور پاکستان ہی کے شہری بھی ہیں۔ تو اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ کراچی کو خطرہ ”اپنوں “ سے ہے۔

اگر ہم سب فرقہ واریت اور گروہ بندی کو نظر انداز کر کے ملکی مفاد کے لئے سوچنا شروع کر دیں تو نہ صرف کراچی بلکہ وطن عزیز پاکستان تمام خطرات سے نکل سکتا ہے۔
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اگر وطن عزیز کو امن و آشتی کا گہوارا بنانا ہے، کراچی کو ایک بار پھر روشنیوں کا شہر بنانا ہے اور دنیا میں نام روشن کرنا ہے تو ہمیں اپنے اعمال پر نظر ثانی کرنی ہو گی۔ان حالات میں غیروں کو کوسنا اورتمام فسادات اور ہنگاموں کا ذمہ دار انہیں ٹھہرانا اپنے دل کو طفل تسلی دینے سے زیادہ کچھ نہیں ہو گی۔ کیوں کہ کراچی کو خطرہ کسی اور سے نہیں بلکہ خطرہ ”اپنوں“ سے ہے ۔

3 comments:

Shoiab Safdar نے لکھا ہے

کراچی کو خطرہ ہمارے اعمال و نظریات و خیالات سے ہے یعنی کہ

March 30, 2012 at 11:31 AM
sufyan bhatti نے لکھا ہے

nice blog goooooooooooooooooooood janab

April 7, 2012 at 4:50 PM
Nadeem نے لکھا ہے

عمدہ بلاگ اور عمدہ تحریر ہے، ما شاء اللہ۔ لیکن یوں محسوس ہوا کہ آپ الطافائزیشن اور مہاجرائزیشن کو مترادف کے طور پر بیان کر رہے ہیں ۔ حاشا و کلا یہ درست نہیں ہے۔

May 24, 2012 at 11:09 PM

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔