فکرِ اقبال کا پیغام ۔ نوجوانوں کے نام



آج 9  نومبر اس عظیم انسان کا یوم پیدائش ہے جسے ہم میں سے اکثر بطور شاعر جانتے ہیں لیکن اسے صرف شاعر کہنا اس کی شان میں کمی کے مترادف ہے۔ گزشتہ صدی کا ایک عظیم مفکر، جس کی فکر نے کبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا کر دیا، ایک عظیم فلسفی جس کے فلسفے نے بےعملی کے عمومی رویے سے ہٹ کر عملیت اور جدو جہد کا درس دیا۔ ایک سیاسی مدبر جس نے بیسویں صدی کے سب سے کامیاب نظریہ ‘‘نظریہ پاکستان’’ کا تصور پیش کیا اور اسے حقیقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک صوفی جس نے تمام قدیم رائج شدہ تصورات کے خلاف آواز اٹھائی جن کے خلاف بولنے پر کفر کے فتوے منتظر تھے جس کا ذکر ‘‘ابلیس کی مجلس شوریٰ’’ میں بالتفصیل ہے۔ذکرو فکر صبح گاہی اور مزاج خانقاہی میں پختہ تر ہو کر دنیا و ما فیہا سے بے خبر ہونے کی مذمت کرتے ہوئے اس حقیقی تصوف اور تزکیے کا درس دیا جو مطلوب شریعت ہے۔ ایک شاعر بے مثل جس نے زلف گرہ گیر، وصل و فراق، عشق و حسن کے جاں گداز جذبات اور ہوش ربا داستانوں سے ہٹ کر ایک مژدہ جانفزا اور ایک پیام امید دیا۔ شاندار ماضی کی جھلک دکھا کر پر شکوہ مستقبل کے لئے حال میں جدو جہد کرنے کا درس دیا۔ جمود و انحطاط سے نکل کر اجتہاد و ارتقاء کی شاہراہ پر گامزن ہونے کا جوش و ولولہ دیا۔

اقبال کی فکر کو عموما تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ تین ادوار ہیں جن میں فکری ارتقاء ہوا۔ یہ تقسیم اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس کے بغیر بادی النظر میں ان کے ابتدائی اور آخری دور کے خیالات میں تضاد نظر آتا ہے۔ وہی اقبال جو ایک دور میں ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے اور مبہم طور پر ایک قوم کے تصور کی طرف جار رہے تھے جس کا ایک ثبوت ان کا مندرجہ ذیل شعر ہے
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
لیکن جب انہوں نے انگلستان جا کر مغربی قومیت اور وطنیت کو قریب سے دیکھا اور اسلام کے سیاسی و سماجی نظام کا خصوصی مطالعہ کیا تو جدید جغرافیائی وطنیت کے شدید مخالف اور وطن اور سرحدوں کی قید سے ما وراء ہو جاتے ہیں اور صرف اسلام کو ہی قومیت کی بنیاد قرار دیتے ہیں
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
اور
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
عام شاعرانہ اور فلسفیانہ بے عملی اور حال مستی کے بر عکس علامہ اقبال اقبال بطور ایک مفکر اور شاعر تحرک کے قائل تھے۔ ان کا خیال تھا کہ معاشرے کو متحرک رکھنے کے لئے ہر دم تازہ افکار و خیالات از حد ضروری ہیں "جہانِ تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود" یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جمود کو ختم کرکے اس فکری ارتقاء اور عقلیت پسندی کی حمایت کی جس کو مسلمان علماء ایک عرصہ سے چھوڑ چکے تھے۔ تہذیبی زوال چونکہ علمی اور فکری زوال کے باعث آتا ہے اور اس وقت مسلمان من حیث القوم فکری اور علمی حوالے سے شدید جمود، زوال اور احساس محرومی کا شکار تھے۔ ماضی پرستی کی دھن میں مستقبل سے نظریں چرا رہے تھے۔ انہوں نے اعتماد، خودی اور جدو جہد کا درس دے کر دل مسلم میں وہ تمنا پیدا کرنے کی کوشش کی جو قلب کو گرما دے اور روح کو تڑپا دے۔ اور مسلم نوجوانوں کو چشم تصور میں وہ گردوں دکھایا جس کا وہ ایک ٹوٹا ہوا ستارا ہے۔ علامہ اقبال کے افکار میں یہ حقیقیت پسندی، عملیت، فکری و عملی ارتقاء کی دعوت اور فلسفہ خودی اس لئے تھا کہ ان کی فکر براہ راست قرآن و سنت سے ماخوذ ہے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو فکر سے زیادہ عمل پر زور دیتی ہے اور انہیں یہ یقین تھا کہ اسلام ہی وہ زندہ قوت ہےجو ذہن انسانی کو نسل و وطن کی قیود سے آزاد کر کے بنی نوع انسان کی فلاح کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔
 آج مسلمان جس فکری و عملی دیوالیہ پن کا شکار ہیں، جمود و انحطاط کی جس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، غیروں سے مرعوبیت اور ذہنی غلامی کی جن پستیوں میں گرے ہوئے ہیں اس کی مثال اسی شکست خورہ شاہین کی سی ہے جو کرگسوں میں پلا ہو۔ ان حالات میں فکر اقبال ایک مژدہ جانفزا اور امید کا پیغام ہے۔ اس بار ہمیں روایتی انداز میں صرف تقاریب کا اہتمام کرنے اور پھر سب کچھ بھول جانے کے بجائے پیام اقبال کو سمجھنا ہوگا، اور یہ عہد کرنا ہو گا اب جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں والی زندگی کی حقیقت کو پانا ہے اور اس فکر کو اپنا کر خودی کے اس مقام تک پہنچنا ہے کہ
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

پھر ان شاء اللہ حالات بدلیں گے اور اس آدم خاکی کو وہ عروج حاصل ہو گا کہ انجم بھی سہم جائیں گے۔
لیکن اگر اب بھی ہم نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور اس پیغام کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی کوشش نہ کی تو "ہماری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں" 

تحریر: راجہ اکرام الحق
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بھارت میں دہشت گردی کا اصل چہرہ



 تحریر : راجہ اکرام الحق
بھارت شاید خطے کا واحد ایسا ملک ہے جس میں جہاں ایک طرف علیحدگی کی سب سے زیادہ تحریکیں سرگرم عمل او ر فعال ہیں وہیں مذہبی انتہا پسند اپنے سوا کسی کو چین سے رہنے کی اجازت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان دو اسباب نے دیگر بے شمار کے ساتھ مل کر بھارت کی اندرونی حالت کو خطرناک حد تک تشویش ناک بنا دیا ہے۔ بطور خاص گزشتہ چند سالوں کے دوران ہونے والے مختلف واقعات نے دہشت گردی کی جو ایک لہر دوڑا دی ہے اس سے ہر انسان ہراساں نظر آتا ہے۔ جس میں احمد آباد ک، مکہ مسجد حیدر آباد، درگاہ اجمیر شریف اور مالی گاؤں میں بم دھماکے کا واقعہ ، پٹنہ میں عیسائیوں کے خلاف ہونے والے فسادات ، سمجھوتہ ایکپریس میں آتش زدگی اور ممبی پر ہونے والے حملے قابل ذکر ہیں۔
بھارت کا رویہ شروع ہی سے یہ رہا ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات رونما ہونے کے بعد تحقیق و تفتیش کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہوئے فوری طور پر الزام لگا دیتا ہے اور میڈیا بھی غیر جانبداری اور معروضیت کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے۔پھر پروپیگنڈے کا ایسا طوفان بدتمیزی برپا ہوتا ہے کہ اصل حقائق، اصل مجرم اور اصل چہرے اس کے شور تلے دب جاتے ہیں۔ اس طرح کی غیر سنجیدہ حرکت سے ان عناصر کو مزید ہلہ شیری ملتی ہے اور وہ اپنے نئے ہدف کے لئے تیاری میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کئی سال گزرنے کے باوجود بھارت نہ تو اصل مجرموں تک پہنچ سکا ہے اور نہ ہی ان واقعات کی روک تھام کے لئے کوئی مؤثر اقدامات کر سکا ہے۔
بھارت کی طرف سے سر فہرست ملزمان پڑوسی ملک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ، کالعدم جہادی تنظیمین یا انڈیا سے تعلق رکھنے والی مسلمان تنظیمیں انڈین مجاہدین اور سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (SIMI)ہی ہوتے ہیں۔ پہلے سے تیار شدہ ان ملزمان کی موجودگی انہیں تحقیق و تفتیش کی صعوبتوں اور پیچیدگیوں سے یکسر بے نیاز کر دیتی ہے۔ لیکن یہ اصل چہر نہیں ہے۔
قارئین کو یاد ہو گا کہ سمجھوتہ ایکسپریس اور مالی گاؤں والے واقعات کے بعد کرنل پروہت کا کردار سامنے آیا تھا جوکہ دہشت گردوں کے ساتھ تعاون میں ملوث تھا۔ پھر اس کے بعد ممبئی حملوں میں کرنل پروہت کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے والے ہیمنت کرکرے کی موت کا واقعہ بھی اسے انداز سے ہوا کہ ہندوستان میں دہشت گردی کے اصل چہرے کے خدو خال مزید واضح ہو گئے۔
اسی چہرے کو مزید بے نقاب کرنے کے لئے حال ہی میں انڈیا سے ایک کتاب چھپی ہے who killed karkary? The Real face of Terrorism in India ۔اس کتاب کے مصنف ایس ایم مُشِرف ہیں جو کہ سابق انسپیکٹر جنرل پولیس ۔مہاراشٹر ہیں ۔ مصنف نے 310صفحات کی اس کتاب میں ہیمنت کرکرے کے قتل کے اصل مجرموں کو بے نقاب کرنے کے لئے ممبئی حملوں اور ہندوستان میں ہونے والے ان اہم واقعات کی تحقیق پیش کی ہے جن میں بظاہر پڑوسی ملک ، آئی ایس آئی ، یا پھر بھارت کی کچھ اسلامی تنظیموں کو ہی مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔لیکن اس کتاب میں تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ اس کے پیچھے ہندو انتہا پسند وں او ر بطور خاص ہندوتوا کا ہاتھ ہے جن کی پشت پناہی فوج کے موجودہ اور سابقہ افسران کر رہے ہیںجن میں کرنل پروہت سب سے قابل ذکر ہے ۔کتاب میں موجود دلائل بہت ہی واضح انداز میں اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتے یں کہ ہیمنت کرکرے اصل مجرموں تک پہنچ چکا تھا اس لئے اس کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت قتل کروا دیا گیا۔ ان میں سے چند اہم واقعات کا ذکر اس اجمال کی تفصیل کے لئے کافی ہوگا۔
اس سلسلے کا سب سے اہم واقعہ مالی گاؤں میںہونے والا بم دھماکا ہے۔ 29 ستمبر 2008ءکو یہ واقعہ رونما ہوا ۔ اس کی تحقیقات کی ذمہ داری اینٹی ٹیرورزم اسکواڈ(ATS) کے سربراہ ہیمنت کرکرے کو دی گئی۔ دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے پہلی مرتبہ پیشہ ورانہ انداز میں تحقیق کی گئی اور اس کے نتائج نے نہ صرف انڈیا بلکہ پوری دنیا کی آنکھیں کھول دیں۔ جمہوریت اور سیکولرزم کے سارے دعوے زمین بوس ہو گئے۔ تحقیق نے یہ ثابت کر دیا کہ مسلح افواج کے افسران، حکومتی مشینری، انتہا پسند ہندوتوا اور سنگھ پریوار کا اس واقعے کے ساتھ واضح تعلق ہے۔
اور پھر بھارتی فوج کی تشکیل کردہ Court of Inquiry کی طرف سے اپنی آزاد تحقیقات کے بعد کرنل پروہت کے کورٹ مارشل کی سفارش نے رہی سہی کسر نکال دی جس کے بعد اس امر میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا کہ مالی گاؤں دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ اس تحقیق کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس اصل دہشت گرد نیٹ ورک کا سراغ مل گیا جو دہشت گردی کے تقریبا ہر واقعے میں کسی نہ کسی طور پر ملوث ہے اور جس کے کرتا دھرتا لوگوں میں کئی پردہ نشینوں کے نام بھی آتے ہیں۔
کرنل پروہت اور ان کے تائید یافتہ افراد اور گروہوں نے نہ صرف اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی بلکہ اور بھی انتہائی اہم واقعات میں ملوث ہونے کا اقرار کیا جو بھارت کے لئے نہ صرف اندرونی طور پر بلکہ دیگر ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات کے لئے بھی غیر معمولی حد تک خطرناک تھے ، اور کسی بھی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے تھے۔ان میں سے اہم ترین 19 فروری 2007ءکو سمجھوتا ایکسپریس کا سانحہ ، 18مئی 2007ءکو مکہ مسجد حیدر آباد میں ہونے والا دھماکہ اور 11 اکتوبر 2007ءکو اجمیر شریف درگاہ پر ہونے والا دھماکہ ہیں۔ ان تمام ہی واقعات کے ذمہ داری ابتدائی طور پر پڑوسی ملک اور مسلمان تنظیموں پر ہی لگائی گئی تھی لیکن تحقیقات نے بالکل برعکس نتائج سامنے لائے۔
26 نومبر 2008ءکو ممبئی میںہونے والے حملوں کی آڑ میں ہیمنت کرکرے کو اس کی ایمانداری کا بہترین ”صلہ“ دیتے ہوئے قتل کروا دیا گیا۔قانون کا تقاضا تھا کہ اس قدر اہم شخصیت کے قتل کی تحقیق فوری طور پر ہو جاتی لیکن تا حال حکومتی سطح پر اس طرح کی کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی جو بذات خود کسی سازش کا پتہ دیتی ہے۔ یاد رہے مالیگاو ¿ں پر ہونے والی تحقیقات پر بی جے پی ناپسندیدگی کا اظہار کر چکی تھی ۔
ہندو ستان میں دہشت گردی کا اصل چہرہ دیکھنے کے لئے بھی اس قتل کی تحقیقات ناگزیر ہیں تا کہ پتہ چلایا جا سکے کہ آخر وہ کون لوگ ہیں جو نہ صرف دہشت گردی میں ملوث ہیں بلکہ اس کی روک تھام کرنے والے افسران کو راستے سے ہٹانے کا کام بھی بڑی صفائی سے کر رہے ہیں۔
ایس ۔ایم ۔ مُشرِف نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اس قتل میں IB ملوث ہے۔ اس خدشے کی چند وجوہات ہیں جو کافی وزن رکھتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ حکومت کو بریف کرنے کا کام آئی بیIB کے ذمہ ہے، اور کرکرے کی تحقیقات آئی بھی کی رپورٹ کے بالکل برعکس جار ہی تھیں جو اس کے لئے نہ صرف خفت کا باعث تھیں بلکہ آئی بی کی ساکھ کے لئے بھی نقصان دہ تھیں۔ اس شرمندگی اور بدنامی سے بچنے کے لئے ضروری تھا کہ یہ کانٹا ہی نکال دیا جائے ۔مصنف نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ IB برہمنوں کا ایک ٹولہ ہے جن کے ہندوتوا کے ساتھ گہرے مراسم ہیں۔ چونکہ ہندوستان میں ہونے والی تمام تر دہشت گردی میں ہندو انتہا پسند وں کا ہاتھ ہوتا ہے جن کی پشت پناہی سرکاری اور سیاسی سطح ہوتی ہے۔ اس لئے وہ کسی ایسے شخص کو ہرگز برداشت نہیں کر سکتے جو ان کے کالے کرتوتوں کو بے نقاب کر سکتا ہے۔
یہاں ایک اور بات قابل غور ہے کہ کرنل پروہت پر نہ صرف کرکرے کی تحقیق میں بلکہ مسلح افواج کی طرف سے کی جانے والی تحقیق میں بھی جرم ثابت ہو چکا ہے اور اس کے کورٹ ماشل کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگانا ہر گز مشکل نہیں کہ کرنل کے عہدے پر فائز یہ شخص تنہا یہ کام نہیں کر رہا بلکہ ضرور اسے اپنے اعلی افسران کا آشیر باد اور جونیئرز کا مکمل تعاون حاصل ہو گا۔ ایک پورا نیٹ ورک ہے جو پوری تندہی کے ساتھ نہ صرف مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے بلکہ پاکستان اور مسلم تنظیموں کو بدنام کرنے میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہا۔
اس ساری بحث سے پتہ چلتا ہے کہ اصل دہشت گرد ہندو انتہا پسند ہیں جن کو مسلح افواج اور IB کا مکمل تعاون اور آشیر باد حاصل ہے۔
ہندوستان میں ہونے ولی دہشت گردی کے اصل چہرے کو دیکھنے کے لئے یہ کتاب انتہائی ناگزیر ہے ۔پالیسی سازوں، تجزیہ نگاروں اور اہل قلم کے لئے اس کا مطالعہ انتہائی مفید ہو گا ۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

دہشت گردی یا پارس کا پتھر

ساری دنیا کہتی ہی نہیں جانتی بھی ہے کہ دہشت گردی ایک لعنت ہے۔  کوئی مذہب تو کجا کوئی ہوشمند اور ذی شعور انسان اس کی اجازت نہیں دے سکتالیکن یہی دہشت گردی اپنی تمام تر خامیوں، تباہیوں اور نقصانات کے باوجود بعض ممالک کے لئے پارس کا پتھر ثابت ہوئی ہے۔
پارس کا پتھر اس حوالے سے مشہور ہے کہ دہ خود تو پتھر ہوتا ہے لیکن اگر لوہے کو چھو لے تو اسے سونا بنا دیتا ہے۔اردو لغت میں اسکے بارے میں لکھا ہے کہ ’’ایک پتھر جس کی نسبت مشہور ہے کہ لوہے سے چھو جائے تو اسے سونا بنا دیتا ہے‘‘۔ اب اس میں  کتنی حقیقت ہے اور کتنا فسانہ ہے اس راز سے اہل علم ہی شناسا ہوں گے۔
لیکن ان تمام ممالک کی فہرست میں سب سے نمایاں نام تو امریکہ بہادر کا ہے جسے دہشت گردی کے پارس پتھر نے سونا بنا دیا ۔ بلکہ یوں کہیے کہ اس کو تو کسی  پری کی جادو کی چھڑی مل گئی ہے جسے جیسا گھماتا ہے وہ ویسا ہی ہو جاتا ہے ۔۔۔ کبھی کبھی تو یوں کہنا  زیادہ بہتر لگتا ہے کہ جیسے اس کے ہاتھ میں تو عمرو عیار کی زنبیل آگئی ہے اوراس میں جس چیز کا خیال دل میں لا کر ہاتھ ڈالتا ہے وہ چیز اس کے اندر سے نکل آتی ہے ۔
قصہ دراصل یہ ہے کہ دنیا میں کسی نے بھی اجتماعی طور پر کبھی دہشت گردی کی بین الاقوامی اور جامع تعریف متعین نہیں کی ہے ۔جنگل کے قانون کی طرح ہر جنگلی جانور کا اپنا ہی قانون اور قاعدہ ہے ۔ اب اگردہشت گردی کی تعریف  متعین ہو جاتی توامریکہ اور اس کے حواری اپنی مرضی سے اس پارس پتھر کا استعمال نہیں کر سکتے تھے۔
اب چونکہ دہشت گردی کی تعریف متعین نہیں ہے لہذا جو بات امریکہ سرکار کو اچھی نہ لگی وہ دہشت گردی ہے۔ کسی نے بات نہ مانی تو وہ دہشت گرد ہے ۔ غرضیکہ دہشت گردی اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود امریکہ کے لئے پارس کا پتھر ثابت ہوئی۔ اب وہ جس انداز میں مرضی چاہیں اپنی خواہشات پوری کر سکتے ہیں ، اور اس کام میں ان کے حواری ان کے شانہ بشانہ ہیں۔
اسرائیل کو لیجئے۔ دہشت گردی اس کے لئے بھی ایک انعام سے کم نہیں۔ جب دل چاہا فلسطین پر حملہ کر دیا ۔۔ وجہ ؟؟  ”دہشت گردی “ کی روک تھام۔اس کے بعد اقوام متحدہ سمیت کوئی اسے روک نہیں سکتا۔
بھارت بھی اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں ۔ اس کے لئے تو دہشت گردی کسی نعمت  سے کم نہیں۔ پچھلے دنوں بھارت  کئی بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو نے کی وجہ سے بین الاقوامی تنقید کا نشانہ بنا ہوا تھا اور اس پر اپنے ملک میں اقلیتوں کے ساتھ وحشت و بربریت رواں رکھنے  پر  کچھ دباؤ تھا۔جس کے باعچ اسے اپنی خواہشات کی تکمیل میں مشکلات کا سامنا تھا۔
مثال کے طور پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے حق خود ارادیت نہ دینے کا مجرم ہونے کی وجہ سے اسے مختلف اطراف سے تنقید کا سامنا تھا۔ اب پانی کے مسئلے پر سند ھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزیاں زوروں پر ہیں ۔ پاکستان نے شور مچایا تو بھارت سرکار پر تنقید ہونے لگی۔
اب اس کے پاس مذاکرات کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا جس میں لازما بھارت کو رسم دنیا نبھانے کی خاطر ہی سہی  کچھ توماننا پڑتا ۔ اسی اثناء میں بھارت کی لاٹری نکل آئی اور ممبئی حملے ہوگئے جو دہشت گردی کے کھاتے میں لکھ دیئے گئے۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بغیر تحقیق کئے پاکستان پر الزام لگا دیا گیا۔ بھارتی میڈیا نے بھی حکومت کے کندھے سے کندھا ملا لیا اور پوری دنیا میں پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا۔پاکستانی قیادت پختہ عمر سیاست دانوں کی سیاسی نا پختگی کی وجہ سے بوکھلا گئی ۔
پاکستانیوں کی بوکھلاہٹ نے بھارت سرکار کے حوصلے اور بلند کر دئیے جس کے نتیجے میں انہوں نے پروپیگنڈا اور تیز کر دیا۔ پاکستان پر دباؤ اتنا بڑھا کہ اس کو اپنے پرانے تمام مسائل بھول گئے ۔ اور بھارت کے ساتھ  ثبوت ڈھونڈنے میں بھائی بھائی ہو گئے ۔۔  یہ حملے کس نے کرائے، اس کے پیچھے کن عناصر کا ہاتھ تھا۔ خود اندرونی علیحدگی پسند اس میں ملوث ہیں یا بیرونی ہاتھ ہے۔ یہ ساری باتیں ابھی تک تشنہ جواب ہیں ۔ جبکہ ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ یہ حملے خود بھارت سرکار کا کارنامہ ہے ۔
حقیقت جو بھی ہے بھارت کے لئے یہ دہشت گردی پارس کا پتھر ثابت ہوئی ہے  ۔ اب نہ تو کسی کو کشمیر کی فکر ہے اور نہ ہی پانی کا مسئلہ زیر بحث ہے۔ بس پاکستان پر دباؤ ہے کہ ان حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کی جائے۔
اگرچہ پاکستان دہشت گردی سے متاثر ہونے والے ملکوں میں سر فہرست  ہے ۔ ایک طرف بیرونی مداخلت روکنے کے لئے اسے فوج کی بڑی تعداد اپنی سرحدوں پر بھیجنی پڑی تو دوسری طرف داخلی انتشار پر قابو پانے کے لئے بے پناہ وسائل خرچ کرنے پڑ ے۔
لیکن اس کے باوجود پاکستانی حکمرانوں کے لئے بھی دہشت گردی ”پارس پتھر  “سے کم نہیں ہے۔کیوں کہ اس ضمن میں اب تک لاکھوں ڈالرز وصول کئے جا چکے ہیں۔ گزشتہ حکمرانوں نے اربوں روپے کمائے، جن کا بیشتر حصے سے  خوب شاہ خرچیاں کی گئیں۔ کچھ  اپنوں کو نوازنے اور مخالفوں کو چپ کرانے یا پچھاڑنے کے ”کار خیر“ میں استعمال ہو گئے۔
صاحبو!  مجھے کہنے دیجیئے کہ دہشت گردی اپنی تمام تر نقصانات کے علی الرغم بعض ممالک کے لئے ”پارس کا پتھر “ ثابت ہوئی ہے۔ ہر ملک اسے اپنے مفادات کے لئے استعمال کر رہا ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ دیگر ممالک کے حکمران اس کے استعمال میں ذاتی اور سیاسی مفادات کے ساتھ ساتھ ملکی مفاد کوبھی مد نظر رکھتے ہیں ، جبکہ پاکستان میں یہ پتھر صرف حکمران طبقے کے ذاتی مفادات کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
رہی عوام تو وہ دہشت گرد نہ ہونے کی سزا کاٹ رہی ہے۔ کہتے ہیں کہ پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے ایسے ہی پارس پتھر دہشت گردوں ہی کو کھینچ رہا ہے ۔۔ سو دہشت گردکسی بھی قماش کا ہو  دہشت گردی کے انعام پر سونا بن رہا ہے اور غریب عوام انہی کے ہاں اپنا سونا رہن رکھوا کر غریبی کے پتھر ڈھو رہے ہیں  ۔۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ترقی کی ضمانت ۔۔ دین یا لادینیت

ترقی اور کامیابی کی خواہش ہر انسان کے دل میں پیدائشی طور پر موجود ہے۔ جیسے ہی انسان شعور کے میدان میں قدم رکھتا ہے دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ میں لگ جاتا ہے۔ تعلیمی میدان ہو یا کھیل کا میدان، اچھے روزگار کی طلب ہو یا کاروبار کا ذکر ، یا پھر معاشرے میں اچھے مقام کی تگ و دو، زندگی کے ہر شعبے میں مقابلے اور مسابقت کا سماں ہے۔ یہ ایک فرد کا حال ہے۔ انہی افراد سے معاشرہ اور معاشرے سے قومیں تشکیل پاتی ہیں۔
مسابقت اور مقابلے کا یہ عنصر فرد سے معاشرے میں آجاتا ہے اور دوسروں سے آگے نکلنے کے لئے اجتماعی تگ و دو کا آغاز ہو جاتا ہے۔ قوم کے اجزائے ترکیبی میں رنگ، نسل، زبان، علاقائیت اور مذہب یا نظریہ جیسے عناصر شامل ہیں لیکن ان سب میں اہم اور موثر عنصر مذہب ہے۔ کیوں کہ نظریات اور مذہب پر تشکیل پانے والی اجتماعیت پائیدار اور دیر پا ہوتی ہے۔
مذہب یا نظریہ جو کسی بھی قوم کی بنیاد ہو وہ فطری اور بشری تقاضوں کو اپنی تعلیمات کا حصہ بناتا ہے، کیوں کہ اگر فطری تقاضوں کا لحاظ نہ کیا جائے تو اجتماعیت تا دیر بحال نہیں رہ سکتی۔ انہی فطری تقاضوں میں ایک ترقی اور کامیابی کا حصول ہے لہذا ہر مذہب اور نظریہ اپنے پیروکاروں کی ترقی کے لئے ایسے اصول وضع کرتا اور انہیں اپنی بنیادی تعلیمات کا حصہ بناتا ہے کہ اگر ان کے مطابق زندگی گزاری جائے تو یقینی کامیابی مقدر ہوتی ہے۔ اور اگر روگردانی برتی جائے تو ایک وقت کے بعد زوال شروع ہو جاتا ہے تباہی مقدر بن جاتی ہے۔ جس کی بے شمار مثالیں انسانی تاریخ میں موجود ہیں جن میں اپنی بنیادی تعلیمات سے روگردانی کرنے والی قومیں صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دی گئیں۔ اور جو اپنی تعلیمات پر کاربند رہیں انہوں نے دنیا پر حکومت کی۔
لیکن آج کل دنیا میں سیکولرازم کا طوطی بول رہا ہے۔ اہل دانش و بینش ، مغرب کے فاضلین اور سوشلسٹ اکابر کے خوشہ چین اس بات پر ایمان کی حد تک متیقن ہیں کہ کامیابی کی تمام راہیں سیکولر ازم یا لا دینیت کے چوراہے سے گزر کر جاتی ہیں، اور ترقی کی راہ میں واحد رکاوٹ دین یا مذہب ہے۔
ان روشن خیال دانشوروں سے اگر تاریخ انسانی سے کوئی مثال طلب کی جائے تو ہزاروں سال پر مشتمل اس تاریخ میں سے وہ صرف ایک مثال پیش کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں۔
 مذہب کی وجہ سے زوال و ناکامی اور ترک مذہب اور دین بیزاری کے باعث ترقی و کامیابی کی مثال وحید جو آج تک بطور دلیل پیش کی جاتی ہے وہ یورپ کا عصر تاریک (ڈارک ایج)   ہے۔
مگر بدقسمتی سے وہ مثال ”سوال گندم جواب چنا“ کے مصداق ان کے دعوے کا بھرم نہیں رکھ سکتی کیوں کہ دلیل دعوے کے مطابق نہیں۔ اصول یہ ہے کسی بھی مسئلے پر بات کرنے سے پہلے اس کے اجزاءکا علم ضروری ہے، اور مثال پیش کرتے ہوئے مسئلے کے بنیادی اجزاءکو پیش نطر رکھنا ہی اہل علم کا شیوہ ہے۔
بطور مثال اگر مذہب کی بات ہو، ترقی اور زوال میں اس کے کردار کی ہو تو مذہب اور اس کی بنیادی تعلیمات کے علم کے ساتھ ساتھ قوم کی ترقی کے لئے بتائے گئے اصولوں اور ان کی روشنی میں کار جہاں گیری کا ادراک بھی انتہائی ضروری ہے۔ تاکہ اس مذہب سے منسوب قوم کے زوال کا جائزہ لینے یا مذہب کو زوال کا سبب قرار دینے سے پہلے یہ دیکھ لیا جائے کہ آیا مذکورہ قوم بنیادی تعلیمات اور کار جہاں گیری کے اصولوں پر کار بند تھی یا نہیں؟ ورنہ صرف مذہب سے نسبت ترقی کی ضمانت نہیں ۔ 

عصر تاریک (ڈارک ایج )  کا اگر مختصر جائزہ لیا جائے تو یہ وہ دور ہے جب یورپ کی زمام اقتدار عیسائی رجال دین اور اہل کلیسا کے ہاتھ میں تھی۔ اہل کلیسا کی بات حرف آخر تھی اور اس سے اختلاف کا مطلب اپنی موت کا جواز مہیا کرنے یا موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف تھا۔ دینی و دنیاوی تمام معاملات میں اہل کلیسا کی رائے وحی سماوی کا درجہ رکتھی تھی۔ سزا و جزا کے تمام اختیارات کا منبع کلیسا تھا۔
 ایک جانب انجیل مقدس کی تعبیر و تشریح کا اخیتار اور دوسری طرف زمین کی ہیئت ، اجرام فلکی کی حرکت جیسے خالص دنیوی معاملات مکمل طور پر اہل کلیسا کے ہاتھ میں تھے۔ کئی نامور سائنس دان اور فلسفی صرف اختلاف رائے کی پاداش میں جان سے جاتے رہے اور کئی ایک کو سر عام زندہ جلا دیا گیا۔ فکرو اظہار پر قدغن کا نتیجہ فکری انجماد اور بے عملی کی صورت میں نکلا۔ اور یہی انجماد قوموں کی حیات میں زوال اور موت کا نقطہ آغاز ہوتا ہے۔ ترقی کی راہیں مسدود ہو گئیں، آگے بڑھنے کا جوش و ولولہ دم توڑ گیا اور تاریخ انسانی کا کئی صدیوں پر محیط عرصہ ہمیشہ کے لئے عصر تاریک کے نام سے موسوم ہو گیا ۔
لیکن یہاں جو بات غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ کیا اس وقت اہل کلیسا عیسائیت کی حقیقی تعلیمات پر کاربند تھے؟ کیا سیدنا عیسی علیہ السلام کی تعلیمات ہی ان کے تمام معاملات میں مشعل راہ تھیں؟کیا فکرو اظہار پر پابندی اور مرتکبین کے لئے سزائیں انجیل مقدس کی روشنی میں دی جاتی تھیں؟ کیا سیدنا عیسی علیہ السلام جیسا رحمدل انسان اتنی ظالم اور بھیانک تعلیمات دے سکتا ہے؟ ان تمام سوالات کا جواب یقینا نفی میں ہے۔
در حقیقت اس وقت جو عیسائیت رائج تھی وہ تحریف شدہ تھی، اناجیل اربعہ آسمانی وحی کے بجائے انسانوں کی آراءکا مجموعہ تھیں جو سیدنا عیسی علیہ السلام کی وفات سے سینکڑوں برس بعد تحریر کی گئیں۔ بلکہ اسے عیسائیت کے بجائے پولس کی تعلیمات کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ اور سینٹ پولس (سینٹ پال)  یہودی الاصل اور عیسی علیہ السلام کے بد ترین دشمنوں میں سے تھا، آپ کی وفات کے بعد عیسائیت قبول کی اور اپنی ذہانت کی بنا پر وہ مقام حاصل کیا کہ عیسائی اسے اپنا امام و پیشوا تصور کرنے لگے۔ جس سے فائدہ اٹھا کر اس نے عیسائیت کی بنیادیں ہی ہلا دیں۔
 توحید کی جگہ تثلیث کا عقیدہ لانے میں اس کا اہم کردار رہا۔ اپنے مقام و مرتبے اور اپنی ذہانت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے عیسی علیہ السلام کی لائی ہوئی تعلیمات کے بجائے ایسی تعلیمات کو عیسائیت میں شامل کر دیا جس نے عیسائیت کو عصر تاریک کی صورت میں ایک مستقل بد نما داغ دیا۔ اور جب عصر تاریک ختم ہوا اور اہل یورپ نے مذہب کا دامن چھوڑ کر سیکولرزم کا سہارا لیا تو ترقی کی منازل طے کرتے بام عروج کو پہنچے۔جسے دلیل بنا کر مذہب کو ترقی کا دشمن کہا جانے لگا۔ مگر ان تعلیمات کو مذہب کہنا اور اس کی ناکامی کو دلیل بنا کر مذہب کو زوال اور ناکامی کا سبب گرداننا سراسر زیادتی اور مذہب بیزاری ہے۔

حقیقت امر یہ ہے کہ دین و مذہب تو ترقی اور کامیابی کا ضامن ہے جس کی مثالیں تاریخ کے اوراق میں بکھری پڑی ہیں۔ ایک زندہ مثال جو عصر تاریک  ہی میں عرب کے ریگزاروں میں قائم ہو ئی۔ جب یورپ تاریک دور سے گزر رہا تھا عین اسی وقت ریگستان عرب میں اسلام کا سورج طلوع ہوا۔ اہل اسلام نے مذہب کی حقیقی تعلیمات کو مشعل راہ بنایا، بنیادی حقوق کا تحفظ کیا گیا، فکرو اظہار کی مکمل آزادی دی گئی۔رنگ و نسل اور امیر و غریب کے تمام امتیازات مٹا دیئے گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے عرب کے بدو اپنے وقت کی مہذب ترین اقوام کو تہذہب سکھاتے نطر آئے۔ مختصر عرصے میں دنیا کی امامت ان کے قدموں میں تھی۔ اور جب تک مذہب کی حقیقی تعلیمات پر کاربند رہے حکمرانی کرتے رہے۔ قلیل تعداد ہو کر بھی بڑی بڑی افواج پر فتح حاصل کرتے رہے اور اقلیت میں ہو کر بھی سینکڑوں سال اکثریت پر حکمرانی کی۔
اگر یہ مثال دی جا سکتی ہے کہ یورپ نے مذہب اور ملائیت سے چھٹکارا حاصل کیا تو ترقی اور کامیابی ملی، تو آخر یہ مثال کیوں نہیں دی جاتی کہ مسلمان جب تک اپنے مذہب پر عمل کرتے رہے دنیا پر حکمرانی کی اس لئے اگر کامیابی چاہیے تو مذہب کی طرف لوٹنا ہو گا۔
لیکن وہ ایسا کون کہے؟ اہل دانش کی فکری خوراک کا سرچشمہ تو مغرب ہے جہاں سے روشن خیالی اور اسلام دشمنی کے پرچار کا معاوضہ ملتا ہے۔
ہمیں بحیثیت مسلمان اپنا انداز فکر اور زاویہ نظر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ دیگر اقوام کے عروج و زوال کے قصے عبرت و نصیحت کے لئے ضرور پڑھیں مگر تقلید کے لئے نہیں۔ ہماری اپنی تاریخ اتنی جامع ہے کہ اس میں عروج و زوال کے تمام اسباب موجود ہیں، بس ذرا فکر و تدبر کی ضرورت ہے۔
اللہ ہمیں عقل سلیم کے استعمال اور نقل صحیح کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
 
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

امید بنو تعمیر کرو

  • وطن عزیز سیاسی ، معاشی اور امن و امان ہر تین حوالوں سے بہت ہی ناگفتہ بہ حالت سے گزر رہا ہے۔ ق لیگ کی حکومت میں شمولیت، ایم کیو ایم کی علیحدگی اور نون لیگ کی حقیقی اپوزیشن بننے کی کوشش نے سیاسی بازار کو خوب گرم کیا۔ اس گرمی کے براہ راست اثرات کراچی پر پڑےجہاں درجنوں شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، کتنی گودیں ویران ہو گئیں، کتنوں کے سہاگ اجڑ گئے۔ دوسری جانب توانائی کے بحران اور بجٹ کے اثرات نے معاشی طور پر عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ امن و امان کی صورتحال ایک طرف خود کش حملوں اور دھماکوں کی وجہ سے ابتر ہے تو رہی سہی کسر ڈرون حملوں نے پوری کر دی ہے۔ ابتری چاہے سیاسی و معاشی ہو یا امن و امان کے لحاظ سے زد صرف عوام پر پڑتی ہے۔
  • ایسے حالات میں مایوسی اور نا امیدی کا پیدا ہونا، جذباتیت کا بڑھ جانا اور پر تشدد واقعات رونما ہونا ایک فطری عمل ہے۔ کیوں کہ اس طرح کے حالات کا رد عمل کبھی بھی تعمیری نہیں ہوتا، بلکہ نفسا نفسی کی فضا قائم ہوجاتی ہے ، آپ دھاپی اور چھینا جھپٹی شروع ہو جاتی ہے۔ اگر حالات کو بدلنے اور عوام کو ریلیف دینے کی کوشش نہ کی جائے تو یہ عوامی غیظ و غضب سیلابی ریلے کی صورت اختیار کرلیتا ہے ۔ اور یہ ریلا کبھی حکومتوں کو کھا جاتا ہے اور کبھی ملکوں کو۔ اسی طرح کے حالات کے تسلسل کے نتائج عرب دنیا اور شمالی افریقہ کے ملک لیبیا میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
  • اب یہ ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ نفسا نفسی اور آپا دھاپی کو چھوڑ کر "پاکستان کی آواز" بنے۔ اپنے مفادات پر ملکی مفادات کو ترجیح دے اور اپنی وابستگیاں، چاہے وہ سیاسی ہوں یا معاشرتی ، ملکی اور ملی مفادات کے تابع کرے ۔
آئیے!! امید بنیں تعمیر کریں سب مل کر پاکستان کی ۔۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>