"قادری" انقلاب تماشا: ڈور کس کے ہاتھ ہو سکتی ہے؟





یوں تو حضرت کے سارے ہی کام کسی پیچیدہ خواب کی تعبیر کے طور پر ہوتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ خواب میں گزارے ہوئے سالوں کی تعداد اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے (تلمذ والا خواب بطور مثال) لیکن موجودہ انقلابی جذبہ، اس کا طریقہ کار اور وقت کا انتخاب کسی خواب کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کا محرک براہ راست کوئی حکم نامہ ہے جس کے ساتھ ساتھ دنیاوی بشارتیں اور انعام و کرام بھی بیش بہا ملے ہیں۔
سب ہی یہ سوچ رہے ہیں کہ آخر یوں بیٹھے بٹھائے اچانک قادری صاحب کے دل میں پاکستان اور پاکستانیوں سے ہمدردی کے جذبات کیسے امڈ آئے؟ کیسے وہ دیکھتے ہی دیکھتے اس قدر بیتاب ہوئے کہ کینیڈا سے اٹھے اور پاکستان میں انقلاب کی آمد تک کے لیے خود کو ایک (محل نما) کنٹینر میں محصور کر دیا۔
یوں تو ہمارے ہاں ہر ہی مسئلے کا سبب امریکہ اور اسرائیل کو کہا جاتا ہے اور اب یہ ایک مزاح کی حیثیت اختیار کر گیا ہے لیکن موجودہ وقت اور حالات میں اگر ہم خطے کی صورتحال، زمینی حقائق اور واقعاتی شواہد پر غور کریں تو صاف لگتا ہے کہ عین انتخابات کے وقت میں یہ پسوڑی ڈالنا بلکہ ڈلوانا کسی خاص مقصد کے پیش نظر ہے۔ اور یہ اس کا محرک خواب نہیں بلکہ کوئی "نادیدہ قوت" ہے
اگر ہم خطے کی صورتحال دیکھیں تو اگلے سال ہمارے پڑوسی ملک افغانستان سے امریکہ بہادر اپنی تمام تر ہزیمت سمیٹتے ہوئے واپسی کے لیے رخت سفر باندھ رہا ہے جس کا اظہار وہ تسلسل کے ساتھ کر رہا ہے۔ لیکن یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ  وہ اپنی ہزیمت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ تاہم اہل نظر اچھے طریقے سے جانتے ہیں کہ اس کے  12 سالہ قیام کے بعد بھی افغانستان کی جو حالت ہے وہ پہلے سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔
اب امریکہ بہادر چاہتا ہے کہ وہ فاتحانہ انداز سے رخصت ہو جس کے لیے اسے خطے میں کچھ معاونین کی ضرورت ہے۔ ان معاونین میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے اور اس کے بعد بھارت اور دیگر ہیں۔ لہذا ان معاونین سے اپنی مرضی کا تعاون حاصل کرنے کے لیے وہاں پر ہم خیال حکومتوں اور فوجی قیادتوں کا ہونا از حد ضروری ہے۔ بھارت تو امریکہ نواز ہے ہی کیوں کہ امریکہ نے اسے بہت نوازا ہے اور وہاں حکومت بدلنے کا قریب قریب کوئی امکان نہیں۔
البتہ پاکستان کی موجودہ حکومت مکمل طور پر امریکہ کے تابع ہے جس کی ناقابل تردید مثالیں ریمنڈ ڈیوس، ایبٹ آباد واقعہ اور میمو گیٹ کیس ہیں۔ تاہم فوجی قیادت کے ساتھ بھی بہت سے معاملات میں امریکہ کی ہم آہنگی چلی آ رہی ہے خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں بہت سے اتار چڑھاؤ کے بعد اب تعلقات معمول پر ہیں۔
لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف انتخابات سر پر ہیں اور موجودہ حکومت کا جانا یقیینی ہے۔ آئندہ بننے والی کوئی بھی حکومت چاہے وہ ن لیگ کی ہو یا عمران خان کسی کے ساتھ مل کر بنا لے یا کسی اور جماعت کی ہو۔ اول تو وہ اپنی مقبولیت کوداؤ پر لگا کر امریکہ کے ساتھ ایسا کوئی کھلا تعاون نہیں کرے گا اور اگر چاہے بھی تو وہ اپنے پہلے سال میں امریکہ کے ساتھ اس طرح تعاون نہیں کر سکے گا جیسا کہ اس وقت امریکہ کو ضرورت ہو گی۔
دوسری جانب موجودہ فوجی قیادت کی مدت بھی قریب الاختتام ہے اور نئی قیادت یقینا نئی حکومت کے ساتھ مل کر نئی ترجیحات کا تعین کرے گی، نئی پالیسیاں بنائے گی اور نئے انداز سے کام کرے گی اور وہ بھی امریکہ کی باعزت واپسی میں شاید کوئی کردار ادا کرنے کے بجائے اپنی ساکھ بنانے اور افغانستان میں اپنا حصہ بنانے کے لیے کوشش کرے۔
ایسے وقت میں امریکہ بہادر کے پاس اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں کہ انتخابات کو ملتوی کرایا جائے، موجودہ حکومت کسی نہ کسی طرح برقرار رہے یا کوئی اور نگران حکومت ہو جو ان کی اپنی مرضی کی ہو، یا پھر ایسے حالات پیدا کر دیئے جائیں کہ مجبوراً فوج اقتدار پر قابض ہو جائے۔ اور یہ واضح ہے کہ فوج اگر آ گئی تو پھر کیانی صاحب کی مدت ملازمت غیر معینہ مدت تک بڑھ جائے گی۔
نیز یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ افغانستان میں ہزیمت کا سامنا صرف امریکہ کو نہیں بلکہ 40 کے قریب دیگر ممالک بھی ہیں جو اس جنگ میں براہ راست شامل ہیں اور  شکست کا بہت بڑا حصہ ان سب میں برابر تقسیم ہو گا۔ لہذا پاکستان میں ہونے والے حالیہ تماشے کے پیچھے امریکہ کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک بھی برابر کے شریک ہو سکتے ہیں خاص طور پر کینیڈا بھی کیوں کہ اس نے بھی افغانستان کی گنگا میں اشنان کرنے کے لیے اپنے فوجی بھیج رکھے ہیں۔
شنید ہے کہ امریکی پیسہ براستہ کینڈا آئے تو اس کی اثر پذیری میں کئی گناہ اضافہ ہو جاتا ہے (مسکراتے ہوئے)
مکمل تحریر اور تبصرے >>>