جشن آزادی: کیوں؟ کیسے؟



آزادی کی قدر و منزلت سے شاید ہی کوئی ناواقف ہو۔ زندہ قومیں اس بیش بہا نعمت  کا سودا کسی قیمت پر نہیں کرتیں بلکہ اپنا سب کچھ لٹا کر آزادی کی نعمت کا حصول ممکن بناتی ہیں۔اسی جذبے کا اظہار شاعر نے کیا ہے کہ ؛
عشق و آزادی بہار زیست کا سامان ہے
عشق میری جاں آزادی میرا ایمان ہے
عشق پر قربان میری ساری زندگی
لیکن آزادی پر میرا عشق بھی قربان ہے

آج ہم کن حالات میں جشن آزادی منانے جا رہے ہیں؟؟؟
وطن عزیز پاکستان کو آزاد مملکت کے طور پر معرض وجود میں آئے 66 سال مکمل ہو چلے، یہ آزادی جن قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی ان کی اندوہناک داستان ہم میں سے کون نہیں جانتا۔ آگ اور خون کے دریا سے گزر کر جب یہ وطن حاصل کیا گیا تو ایک ہی مقصد پیش نظر اور ایک ہی نعرہ سب کی زبان پر تھا۔
پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔۔ لا الہ الا اللہ


لیکن ہم اس عہد کے ساتھ وفا نہ کر سکے، اپنے مقصد اور اس بنیادی نظریے کو پس پشت ڈال دیا جس کے لئے ہزاروں عصمت مآب ماؤں بہنوں نے قربانیاں دی تھیں، ہزاروں بھائیوں اور بیٹوں نے اپنی جانیں لٹا دی تھیں، اور ہزاروں بوڑھوں نے اپنی متاع حیات وار دی تھی ۔۔

وہ اسلام جس کے نام پر اس ساری جدو جہد اور قربانیوں کی داستاں رقم کی گئی تھیں اپنے ہی گھر میں اجنبی ہو گیا۔ کار حکومت سے لے کر انفرادی زندگی تک ہر جگہ اسلامی تعلیمات سے روگردانی اور دوری ایک عام روش بن گئی۔

نظریے کی بنیاد پر حاصل کی گئی مملکت نے جب اپنے نظریے سے دوری اختیار کی تو باوجود ظاہر آزادی کے، غیروں کی ذہنی غلامی کی زنجیریں پہنتی چلی گئی۔ اور آج یہ عالم ہے کہ ہمارے سیاہ و سفید کے مالک بیرونی آقاؤں کے اشارہ ابرو پر کٹھ پتھلیوں کی طرح ناچنے کوباعث  فخر سمجھتے ہیں۔

غیروں کی غلامی میں ہم اس قدر آگے نکل گئے کہ اپنے ملکی مفاد تک کو بالائے طاق رکھ دیا، غربت اور بے روزگاری پر توجہ دینے کے بجائے اپنے بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کے حصول میں مگن رہے۔ جس کے نتیجے میں حالات بد سے بد تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ترقی تو درکنار، مہنگائی اور بے روزگاری تک پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ اور سب سے بڑھ کر امن و امان کی صورتحال اس قدر دگرگوں کہ انسان اپنے گھر میں محفوظ نہیں۔

اس پر حالات کی ستم ظریفی کہ پانی نے ہمیں چاروں اور سے آ لیا۔ آسمان پانی برسانے لگا اور زمین سے پانی ابلنے لگا۔ رہی سہی کسر ہماری ’’امن کی آشا‘‘ کے ہمدرد ساتھی اور ہمارے دیرینہ ’دوست‘ نے پوری کر دی۔ جب دیکھا کہ پانی روک کر تو انہیں ختم نہیں کر سکے تو چلو اس موقع پر پانی بہا کر ان کا صفایا کرتے ہیں۔

ایک طرف پانی کی تباہ کاریاں ہیں، بے گو ر کفن لاشے، لٹے پٹے لوگ اور بے گھر خاندان کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار پڑے ہیں، تو دوسری جانب روشنیوں کے شہر کراچی میں اس سیلابی پانی والا کام سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکنان کر رہے ہیں۔ یہاں پانی کا سیلاب ہے تو وہاں خون کے دریا۔

ان حالات میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ اس بار جشن آزادی کیسے منایا جائے؟
اہل وطن کی ایک تعداد تو پچھلے کئی سالوں سے اس قدر مایوس اور بد دل ہو چکی ہے کہ اس کے لئے اس ایک دن کو منانا سراسر منافقانہ روش ہے۔ کہ جب ہم سارا سال اسی وطن کے ساتھ دشمنی کا عملی ثبوت دیں، ملک میں ہر سو آگ اور خون کا ہولناک کھیل کھیلا جا رہا ہو، بلوچستان سے لے کر قبائلی علاقوں تک اور خیبر سے کراچی تک کوئی جگہ محفوظ نہ ہو، حکمران اور عوام سب اس ملک کو لوٹنے میں مصروف ہوں، وطن عزیز میں ہم وطنوں سے زیادہ آزادیاں وطن دشمنوں اور بلیک واٹر والوں کو ہوں، ہماری تقدیر کے فیصلے اسلام آباد کے بجائے واشنگٹن میں ہوں، اور ہم آزاد ہو کر بھی بد ترین غلامی سے گزر رہے ہوں تو ایسے میں جشن آزادی منانا اور مبارکباد کی تقریبات منعقد کرنا منافقت اور دوغلا پن ہے۔

دوسرے لوگ وہ ہیں جن کے خیال میں سارا سال نہ سہی اسی ایک دن میں ہی اپنے وطن سے محبت کا اظہار، یکجہتی کا مظاہرہ اور اس عہد کی یاد تازہ کر لینا بہت ضروری ہے۔ تا کہ آزادی  کا احساس نہ صرف برقرار رہے بلکہ نسل نو تک منتقل بھی ہوتا رہے۔

اور بہت کم لوگ ایسے ہیں جو سارا سال بھی اور اس خاص دن میں بھی وطن عزیز کی ترقی کے لئے کوشاں، سرگرم عمل اور دعا گو ہیں۔

تمام حقائق درست سہی، تمام مایوسیاں اور جھنجھلاہٹ بجا سہی، حالات بہت دردناک سہی، غیروں کی اجارہ  داری سہی لیکن پھر بھی اس وطن عزیز کی صورت میں ہمیں جو ایک نعمت بیش بہا ملی ہوئی ہے، اور ان بد ترین حالات میں بھی ہم جن آزادیوں سے مستفیدہو رہے  ہیں شاید ہی کسی اور ملک کے باسیوں کو نصیب ہوں۔ اور ویسے بھی آزادی کا ایک لمحہ بھی اس قدر قیمتی ہے کہ اس کے جشن میں ساری زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ اس لئے ہمیں اس نعمت کی قدر کرتے ہوئے سجدہ شکر بجا لانا چاہیئے۔

آج کے یوم آزادی کا تقاضا
آج کے  حالات میں یہ یوم آزادی تقاضا کرتا ہےکہ  ایک بار پھر اس جذبے اور ولولے کے ساتھ تعمیر پاکستان کے لیے اٹھ کھڑا ہوا جائے  جسکا مظاہرہ 14 اگست 1947ء  کو کیا گیا تھا،  اس قربانی کا جو ہمارے اسلاف نے دی، اس ہمت کا جو اس بے سرو سامان قوم نے دکھائی اور اس بھائی چارے کا جو مہاجرین کے ساتھ میزبانوں نے کیا۔  اس وقت ایک پورا ملک از سر نو تعمیر ہونے جا رہا تھا، وسائل نہ ہونے کے برابر تھے، سب لوگ بے سروسامان تھے، لیکن پھر بھی ایک عزم تھا جس نے ایک خواب کو حقیقت بنا دیا۔

آج جب کہ ہمارے پاس بے شمار وسائل ہیں، ملک کا ایک حصہ اگر تباہ ہوا ہے تو ایک بڑا حصہ تا حال بفضل تعالی سلامت ہے اور کارو بار زندگی معمول کے مطابق ہے۔ اگر ہم سب ایک بار پھر اسی جذبے کا عزم کریں،  اور ہم میں سے ہر فرد سندھی، پنجابی، پٹھان یا بلوچی کے بجائے صرف ایک پاکستانی مسلمان بن کر سوچے اور وطن عزیز کو اسلام کا مضبوط قلعہ بنانے کے لیے کوشش کرے تو کچھ ناممکن نہیں ۔ بہت جلد حالات بدلیں گے، وطن عزیز امن کا گہوارہ ہو گا اور ہر لب خندہ اور چہرہ شاداب ہو گا، کھیت ہرے بھرے اور بازار پر رونق ہوں گے۔

آیئے عہد کریں کہ وطن عزیز کو جنت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل کہ جسے اندیشہ زوال نہ ہو

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ویلنٹائن ڈے : یوم محبت یا دعوت تباہی؟





چودہ فروری   کو    دنیا بھر میں یہ دن ”یوم محبت “ کے نام سے منایا جاتا ہے۔ قوم، نسل اور مذہب کی قید سے بالا تر ہو کر انسانوں کی ایک بڑی تعدا د بشمول مسلمان اس کا اہتمام کرتی ہے۔ ۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ اس ”یوم محبت“ کی تاریخی حقیقت سے سوائے چند ایک کے کوئی واقف نہیں۔
ویلنٹائن کی حقیقت کیا ہے؟
یہ رسم کئی صدیاں پرانی ہے۔ تاریخی اعتبار سے اس دن کی حقیقت کے بارے میں ایک سے زائد آراءہیں۔ ؒویلنٹائن“ نامی کسی شخص کی طرف منسوب تقریبا نصف درجن کہانیاں ایسی ہیں جن کو اس ”یوم محبت“ کا یوم آغاز تصور کیا جاتا ہے ۔ ان تمام روایات کو یہاں ذکرکرنا ، پھر تاریخی تحقیق کے ذریعے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرنا، تاریخی شواہد کی روشنی میں کسی ایک کو اس ”یوم محبت “ کا نقطہ آغاز قرار دینا ہمارا مقصود نہیں ۔ ان بے شمار قصوں میں سے چند ایک کا ذکرکافی ہو گا جن کو پڑھ کر اندازہ ہو جائے گا کہ یہ واقعہ کس حد تک حقیقی ہے، اس کو بنیاد بنا کر ایک پورا دن اس کردار کے لئے خاص کرنا کس کہاں تک عقلمندی ہے ۔
ایک قصہ اس طرح ہے کہ رومی بت پرست تھے ۔ ان رومیوں کے ایک پوپ نے ،جس کا نام ”ویلنٹائن “ تھا ،نے بت پرستی چھوڑ کر عیسائیت قبول کر لی۔ جس کی پاداش میں اسے سزائے موت دے دی گئی۔ لیکن بعد میں جب رومیوں نے عیسائیت قبول کر لی تو انہوں نے پوپ ویلنٹائن کے یوم وفات کو ”یوم محبت “ کے طور پر منایا۔ اس طرح ویلنٹائن ڈے کا آغاز ہوا۔ اس روایت کا مبنی بر حقیقت ہونا تقریبا محال لگتا ہے۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ رومی فوج کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا تھا، لوگ فوج میں بھرتی ہونے سے کتراتے تھے۔ بادشاہ نے جب محسوس کیا کہ شادی شدہ لوگ اپنے اہل و عیال کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تو اس نے شادیوں پر پابندی لگا دی۔ ایک رائے یہ ہے کہ بادشاہ کا خیال تھا کہ بہادر اور جرات مند فوجی کا غیر شادی شدہ ہونا ضروری ہے۔ کیوں کہ ایسے نوجوان دیگر افکار سے آزاد ہوتے ہیں ۔ الغرض فلسفہ جو بھی تھا ، بادشاہ نے شادی پر پابندی لگا دی۔ ویلنٹائن نامی ایک پادری نے بادشاہ کے حکم کے خلاف چھپ کر شادیاں کروانا شروع کردیں، یا خود شادی کر لی۔ جس کی پاداش میں اسے سزائے موت دے کی گئی۔ اور یہ 14فروری کا دن تھا۔ بعد میں اس ویلنٹائن کی یاد میں یہ دن منایا جانے لگا۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ویلنٹائن نے ایک راہبہ سے 14فروری کو یہ کہہ کر شادی رچالی کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ 14فروری کا دن ایسا ہے کہ اس دن اگر راہب اور راہبہ آپس میں میلاپ کر لیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جاتا۔ یاد رہے کہ عیسائی مذاہب میں ایک فرقے کے عقائد کے مطابق راہب اور راہبہ زندگی بھر کنوانے رہتے ہیں۔ ان کی مذہبی تعلیمات کے مطابق جو کوئی اپنے آپ کو کلیساءکی خدمت کے لئے پیش کر دے تو وہ عمر بھر شادی نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ شادی اور پھر ازدواجی زندگی کی صورت میں وہ اصلی گناہ دوبارہ ایکٹیویٹ ہو جاتا ہے جس کا ارتکاب آدم علیہ السلام اور بی بی حوا نے کیا تھا اور حضرت عیسی علیہ السلام نے صولی پر چڑھ کر تمام انسانیت کی جانب سے اس کا کفارہ ادا کیا تھا۔
ویلنٹائن کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے راہبہ نے ہاں کر دی اور انہوں نے شادی رچا لی۔ اس جرم کی پاداش میں انہیں سزا ئے موت دے دی گئی۔ تب سے لوگ اس دن کو یوم محبت کے نام سے مناتے ہیں۔
اگر اس واقعہ کو سچ مان لیا جائے تو عقل کا تقاضا یہ ہے کہ عیسائی مذہب کے مطابق اس دن کو ”یوم مذمت “ کے طور پر منانا جاتا۔ کیوں کہ اس دن ایک مذہبی روایت کے خلاف قدم اٹھایا گیا ۔ کلیسا کے اصولوں کو پامال کیا گیا ، اور اہل کلیسا میں سے دو اہم لوگوں نے مذہبی تعلیمات کے صراحتا خلاف کام کیا ۔ لیکن اس سب کے باوجود عیسائیت کے پیروکار اس دن کو ”یوم محبت“ کے طور پر مناتے ہیں اور مذہبی پادریوں کی جانب سے کبھی اس کی مذمت نہیں کی گئی ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہل کلیسا کو بھی اپنی تعلیمات کے غیر فطری ہونے کا احساس ہو چکا ہے ۔
مزے کی بات یہ ہے کہ عیسائی تاریخ میں ویلنٹائن نامی تین افراد کا ذکر ملتا ہے اور تینوں کو کسی نہ کسی جرم میں موت کی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔
حقیقت کچھ بھی ہو یہ دن عیسائی برادری کے لئے عید کی حیثیت اختیار کر گیا، جو پہلے پہل تو صرف بعض جگہوں پر منایا جاتا تھا لیکن ذرائع ابلاغ کی وسعت نے اس طرح کی کئی خبائث کو اسلامی معاشروں میں بھی پروان چڑھا دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ دن ہمارے ہاں بھی اسی اہتمام و احترام سے منایا جانے لگا۔ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم احساس کمتری کا اس قدر شکار ہو چکے ہیں کہ مغرب کی ہر روایت اپنانے کو نہ صرف قابل فخر سمجھتے ہیںبلکہ اسی تقلید کو ہر قسم کی روشن خیالی اور جدیدیت کا معیار سمجھتے ہیں۔
اسلام ایک مکمل دین اور ضابطہ حیات ہونے کے ساتھ ساتھ فطری مذہب ہے۔ اس نے اپنے ماننے والوں کی تمام طبعی خواہشات کے پیش نظر ان تمام معاملات زندگی کو اپنی تعلیمات میں سمویا ہے جو تقاضائے بشری ہیں۔ لیکن ان جذبات کی تکمیل و تسکین کے لئے اسلام نے مسلمانوں کو بے لگا م نہیں چھوڑا بلکہ کچھ اصول وضع کئے ہیں۔ ان اصولوں کے مطابق کئے جانے والا ہر کام عبادت شمار ہوتا ہے ۔ اسلام خوشی اور تفریح سے ہر گز منع نہیں کرتا بلکہ صحت مند تفریح کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اسی کے پیش نظر مسلمانوں کے لئے سال میں دو عیدیں رکھی ہیں۔ تا کہ مسلمان اس دن خوشی کا اظہار کر سکیں، ایک دوسرے کو تحائف دیں، دعوتیں کریں۔ اس کے علاوہ شادی بیاہ کی تقریبات یا اس طرح کے دیگر ایسے مواقع جو انسانی زندگی کا لازمہ اور معاشرے کی ضرورت ہیں ان میں بھی خوشی منانے کی پوری اجازت ہے۔
 اسلام خوشی منانے کا ہر گز مخالف نہیں۔ لیکن جو تہوار کوئی مذہبی یا تہذیبی پس منظر رکھتے ہوں۔ جس کا منایا جانا کسی مذہبی واقعے کی یاد دلاتا ہو، اس کو منانا اسلامی نقطہ نظر سے ٹھیک نہیں۔ مذہبی تہواروں کی کو منانے کا مقصد کچھ روایات ، تصورات اور عقائد کو انسانی معاشروں میں پروان چڑھانا ہوتا ہے۔ اس لئے دیگر مذاہب کے مذہبی تہوار منانا خطرے سے خالی نہیں۔
ان اسلامی ایام کے علاوہ کسی بھی ایسے دن کا منانا جس کا ہماری روایات سے تعلق نہیں علماءکے متفقہ فتویٰ کے مطابق بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔ اور اس دن تحفے دینا اور کسی بھی سرگرمی میں شامل ہونا ”تعاون علی الاثم و العدوان“ (برائی اور زیادتی کے کام میں تعاون) کے تحت آتا ہے۔
ایک طبقہ کی رائے ہے کہ اسلام خوشی منانے سے ہر گز منع نہیں کرتا اس لئے اس دن خوشی منانے میں کوئی حرج نہیں۔ مزید یہ کہ آپ ان کے طریقے مت اپنائیں بلکہ اسلامی طریقے اپناکر اسلامی انداز میں یہ دن منا سکتے ہیں اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔۔ افسوس ہے ان دانشوروں پر ۔ طریقہ بدلنے سے کوئی غلط کام جائز نہیں ہو جاتا۔ اگر خوشی ہی منانی ہے تو کسی اور دن کا انتخاب کر لیجئے۔ اسی دن منانا ضروری ہے؟
اس دن خوشی منانے کا مطلب ان کی مشابہت اختیار کرنا ہے، اور اسلام کی واضح تعلیمات ہیں کہ ”جس نے کسی قوم کی مشابہت کی وہ انہیں میں سے ہے“ اب ہر انسان خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ کن میں سے ہونا پسند کرتا ہے۔
یہ تو مذہبی پہلو ہے۔ معاشرتی اور اخلاقی پہلو سے یہ دن جو برائیاں ساتھ لاتا ہے وہ کوئی بھی شریف النفس قبول نہیں کر سکتا۔ مغربی اور غیر اسلامی معاشروں کا جو کلچر میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کو یہ دن منانے کی دعوت دیتا ہے ، وہ طریقے بھی سکھاتا ہے، اس دن کی راہ و رسم سے بھی آگاہ کرتا ہے ۔ محبت اور عشق کے خوبصورت پردوں میں جنسی بے راہ روی اس دن کا خاصہ ہے۔ بظاہر محبت کا پرچار ہے لیکن درحقیقت تباہی ہی تباہی ہے ۔ اخلاق کی تباہی، معاشرتی اقدار کی تباہی، وسائل اور اوقات کی تباہی اور بالآخر خاندانی نظام کی تباہی۔
یہ ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے کہ اس برائی کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔ لوگوں میں اسلامی تعلیمات کے حوالے سے آگہی پیدا کریں، اس دن اور ایسے دیگر تہواروں کی خرابیوں اور خرافات سے اپنی نوجوان نسل کو آگا کرنے کے ساتھ اسے اس دلدل میں گرنے سے بچانے کی کوشش کریں۔
بطور خاص وطن عزیز جن اخلاقی، معاشرتی، اور معاشی بحرانوں سے گزر رہا ہے وہ کسی صورت بھی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے تہواروں پر سرکاری طور پر پابندی لگائیں۔ تاکہ اخلاقی اور جانی نقصان کے ساتھ ساتھ ملکی وسائل کا نقصان بھی روکا جا سکے۔
اگر ہم نے ابھی آنکھیں نہ کھولیں، اپنی روایات کا پاس نہ رکھا اور مغرب کی تقلید میں مست رہے تو وہ وقت دور نہیں کہ ہم اخلاقی زوال میں مغرب سے آگے نکل جائیں۔
اپنی ملت پے قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

"قادری" انقلاب تماشا: ڈور کس کے ہاتھ ہو سکتی ہے؟





یوں تو حضرت کے سارے ہی کام کسی پیچیدہ خواب کی تعبیر کے طور پر ہوتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ خواب میں گزارے ہوئے سالوں کی تعداد اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے (تلمذ والا خواب بطور مثال) لیکن موجودہ انقلابی جذبہ، اس کا طریقہ کار اور وقت کا انتخاب کسی خواب کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کا محرک براہ راست کوئی حکم نامہ ہے جس کے ساتھ ساتھ دنیاوی بشارتیں اور انعام و کرام بھی بیش بہا ملے ہیں۔
سب ہی یہ سوچ رہے ہیں کہ آخر یوں بیٹھے بٹھائے اچانک قادری صاحب کے دل میں پاکستان اور پاکستانیوں سے ہمدردی کے جذبات کیسے امڈ آئے؟ کیسے وہ دیکھتے ہی دیکھتے اس قدر بیتاب ہوئے کہ کینیڈا سے اٹھے اور پاکستان میں انقلاب کی آمد تک کے لیے خود کو ایک (محل نما) کنٹینر میں محصور کر دیا۔
یوں تو ہمارے ہاں ہر ہی مسئلے کا سبب امریکہ اور اسرائیل کو کہا جاتا ہے اور اب یہ ایک مزاح کی حیثیت اختیار کر گیا ہے لیکن موجودہ وقت اور حالات میں اگر ہم خطے کی صورتحال، زمینی حقائق اور واقعاتی شواہد پر غور کریں تو صاف لگتا ہے کہ عین انتخابات کے وقت میں یہ پسوڑی ڈالنا بلکہ ڈلوانا کسی خاص مقصد کے پیش نظر ہے۔ اور یہ اس کا محرک خواب نہیں بلکہ کوئی "نادیدہ قوت" ہے
اگر ہم خطے کی صورتحال دیکھیں تو اگلے سال ہمارے پڑوسی ملک افغانستان سے امریکہ بہادر اپنی تمام تر ہزیمت سمیٹتے ہوئے واپسی کے لیے رخت سفر باندھ رہا ہے جس کا اظہار وہ تسلسل کے ساتھ کر رہا ہے۔ لیکن یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ  وہ اپنی ہزیمت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ تاہم اہل نظر اچھے طریقے سے جانتے ہیں کہ اس کے  12 سالہ قیام کے بعد بھی افغانستان کی جو حالت ہے وہ پہلے سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔
اب امریکہ بہادر چاہتا ہے کہ وہ فاتحانہ انداز سے رخصت ہو جس کے لیے اسے خطے میں کچھ معاونین کی ضرورت ہے۔ ان معاونین میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے اور اس کے بعد بھارت اور دیگر ہیں۔ لہذا ان معاونین سے اپنی مرضی کا تعاون حاصل کرنے کے لیے وہاں پر ہم خیال حکومتوں اور فوجی قیادتوں کا ہونا از حد ضروری ہے۔ بھارت تو امریکہ نواز ہے ہی کیوں کہ امریکہ نے اسے بہت نوازا ہے اور وہاں حکومت بدلنے کا قریب قریب کوئی امکان نہیں۔
البتہ پاکستان کی موجودہ حکومت مکمل طور پر امریکہ کے تابع ہے جس کی ناقابل تردید مثالیں ریمنڈ ڈیوس، ایبٹ آباد واقعہ اور میمو گیٹ کیس ہیں۔ تاہم فوجی قیادت کے ساتھ بھی بہت سے معاملات میں امریکہ کی ہم آہنگی چلی آ رہی ہے خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں بہت سے اتار چڑھاؤ کے بعد اب تعلقات معمول پر ہیں۔
لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف انتخابات سر پر ہیں اور موجودہ حکومت کا جانا یقیینی ہے۔ آئندہ بننے والی کوئی بھی حکومت چاہے وہ ن لیگ کی ہو یا عمران خان کسی کے ساتھ مل کر بنا لے یا کسی اور جماعت کی ہو۔ اول تو وہ اپنی مقبولیت کوداؤ پر لگا کر امریکہ کے ساتھ ایسا کوئی کھلا تعاون نہیں کرے گا اور اگر چاہے بھی تو وہ اپنے پہلے سال میں امریکہ کے ساتھ اس طرح تعاون نہیں کر سکے گا جیسا کہ اس وقت امریکہ کو ضرورت ہو گی۔
دوسری جانب موجودہ فوجی قیادت کی مدت بھی قریب الاختتام ہے اور نئی قیادت یقینا نئی حکومت کے ساتھ مل کر نئی ترجیحات کا تعین کرے گی، نئی پالیسیاں بنائے گی اور نئے انداز سے کام کرے گی اور وہ بھی امریکہ کی باعزت واپسی میں شاید کوئی کردار ادا کرنے کے بجائے اپنی ساکھ بنانے اور افغانستان میں اپنا حصہ بنانے کے لیے کوشش کرے۔
ایسے وقت میں امریکہ بہادر کے پاس اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں کہ انتخابات کو ملتوی کرایا جائے، موجودہ حکومت کسی نہ کسی طرح برقرار رہے یا کوئی اور نگران حکومت ہو جو ان کی اپنی مرضی کی ہو، یا پھر ایسے حالات پیدا کر دیئے جائیں کہ مجبوراً فوج اقتدار پر قابض ہو جائے۔ اور یہ واضح ہے کہ فوج اگر آ گئی تو پھر کیانی صاحب کی مدت ملازمت غیر معینہ مدت تک بڑھ جائے گی۔
نیز یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ افغانستان میں ہزیمت کا سامنا صرف امریکہ کو نہیں بلکہ 40 کے قریب دیگر ممالک بھی ہیں جو اس جنگ میں براہ راست شامل ہیں اور  شکست کا بہت بڑا حصہ ان سب میں برابر تقسیم ہو گا۔ لہذا پاکستان میں ہونے والے حالیہ تماشے کے پیچھے امریکہ کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک بھی برابر کے شریک ہو سکتے ہیں خاص طور پر کینیڈا بھی کیوں کہ اس نے بھی افغانستان کی گنگا میں اشنان کرنے کے لیے اپنے فوجی بھیج رکھے ہیں۔
شنید ہے کہ امریکی پیسہ براستہ کینڈا آئے تو اس کی اثر پذیری میں کئی گناہ اضافہ ہو جاتا ہے (مسکراتے ہوئے)
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

طاہر بھائی الطاف بھائی: پاکستان کی شامت آئی؟؟





وطن عزیز نے اپنی 65 سالہ زندگی میں جو نابغے دیکھے ہیں ان کی مثال دیگر ممالک اپنی سو سالہ تاریخ میں پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ ہر نابغہ اپنے تئیں، نجات دھندہ، انقلابی، کامیابی کا روشن استعارہ اور پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے والا ہوتا ہے۔ باقی تو اپنی اپنی توانائیاں صرف کر کے اور ملک کا بیڑہ غرق کر کے کسی نہ کسی حد تک سکون کی کیفیت میں ہیں۔
ابھی پرانی نجات دھندوں کے حب الوطنی کے جذبات کے اثرات سے عوام پاکستان نکلے ہی نہ تھے کہ انقلابیوں کی ایک اور فوج برساتی مینڈکوں کی طرح پھدکتی کودتی ایک بار پھر عوام کے سینے پر مونگ دلنے کے لیے میدان عمل میں اتر آئی ہے۔
ابھی عمران خان کے سونامی انقلاب کے تھپیڑوں میں کچھ کمی آئی تھی، کچھ جھاگ بیٹھی تھی کہ ایک اور انقلابی، جو سیاست کی بھول بھلیوں میں بے مثال ناکامیوں سے مایوس ہو کر مذہب کے میدان میں جھنڈے گاڑنے کے لیے بدیس سدھار گئے تھے ایک بار پھر انقلاب کے ہاتھوں مجبور ہو کر وطن عزیز واپس آ گئے ہیں اور دن رات عوام کے غم میں گھل رہے ہیں۔ اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ پاکستان کے استحکام، اس کے نظام کی اصلاح اور عوام کی بہبود کے لیے اس سیاسی جماعت کو اپنا ہمسفر اور ہم نشین بنایا ہے جو تشکیل پاکستان کو اس صدی کی سب سے بڑی غلطی کہتے ہیں، جو وطن سے اس قدر محبت کرتے ہیں کہ یہاں آنے تک کی ہمت نہیں کر پاتے اور جن کے کارنامے ان کی حب الوطنی کی زندہ و جاوید مثال ہے۔
یوں تو موصوف کے معتقدین انہیں شیخ الاسلام سے کم کسی مرتبے پر رکھنے کے سرے سے روادار ہی نہیں لیکن شیخ صاحب کے کارنامے اور قصے اگر سن لیے جائیں تو بادی النظر میں ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ شاید انہیں کسی خاص مقصد کے لیے تیار کیا گیا اور اب استعمال کیا جا رہا ہے۔ حضرت کے خطبات، ان کے خواب اور بیانات سننے کے بعد ایک من چلے نے فی البدیہہ انہیں ایسا لقب دیا جو ان کی اصل حقیقت کو آشکار کرنے کے لیے کسی بھرپور مقالے سے زیادہ مؤثر ہے۔ اور ہو ہے "شیک الاسلام"۔ جس طرح کے کارنامے حضرت اب تک منصہ شہود پر آئے ہیں اس کے بعد شیخ کے بجائے Shake الاسلام والا لقب زیادہ جامع، زیادہ قرین قیاس اور زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔
رہی سہی کسر اس وقت پوری ہو گئ جب اسلام کے شیخ نے قادیانیوں کے سب بے بڑے حمایتی کو اپنا دست و بازو بنا لیا اور یہاں تک فرما دیا کہ ایم کیو ایم اور ہم ایک روح دو جسم ہیں۔ مقام حیرت ہے کہ تھوڑی سی شہرت اور مدد حاصل کرنے کے لیے شیک صاحب کہاں تک گر گئے۔
لیکن یہ حیرت تو ہمیں ہے، ان کے لیے تو یہ جوڑ فطری ہے کیوں کہ ایک جانب شیک الاسلام ہیں تو دوسری جانب شیک الباکستان۔ دونوں مل کر اسلام اور پاکستان کو جو حشر کرنے پر تلے ہوئے ہیں اس کا اندازہ ذی شعور حلقوں کو روز اول ہی سے ہو رہا ہے۔
ایک جملہ معترضہ کے طور پر یہ بات بھی ذکر کر دی جائے تو مفید ہو گی کہ، فصلی انقلابیوں کی قدر مشترک ہے کہ وزیر اعظم بننے کا شوق یکساں طور پر پایا جاتا ہے۔ عمران خان تو نئے انتخابات کے بعد خود کو وزیر اعظم سے کم کسی پوسٹ پر دیکھنے کے روادار نہیں لیکن شیک صاحب تو ابھی سے نگران سیٹ اپ کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور 14 جنوری والے Shake Pakistan مارچ کا اہم ایجنڈہ بھی یہی ہے ۔
اب دیکھئے شیک الاسلام اور شیک الباکستان مل کر کیا گل کھلاتے ہیں۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>