6 ستمبر یوم دفاع پاکستان اور اس کے تقاضے



قوموں اورملکوں کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو عام ایام کے برعکس بڑی قربانی مانگتے ہیں۔یہ دن فرزندان وطن سے حفاظت وطن کے لئے تن من دھن کی قربانی کا تقاضا کرتے ہیں، ماؤں سے ان کے جگر گوشے اور بوڑھے باپوں سے ان کی زندگی کا آخری سہارا قربان کرنے کامطالبا کرتے ہیں۔قربانی کی لازوال داستانیں رقم ہوتی ہیں، سروں پر کفن باندھ کر سرفروشان وطن رزمگاہ حق و باطل کا رخ کرتے ہیں ،آزادی کو اپنی جان و مال پر ترجیح دے کر دیوانہ وار لڑتے ہیں، کچھ جام شہادت نوش کر کے امر ہو جاتے ہیں اور کچھ غازی بن کر سرخرو ہوتے ہیں۔ تب جا کر کہیں وطن اپنی آزادی، وقار اور علیحدہ تشخص برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
یہ ایام فیصلہ کن ہوتے ہیں، اگر قربانی کا حق ادا نہ کیا جائے، جان و مال کو وطن پر ترجیح دی جائے، ماں کی ممتا اپنے جگر گوشے کو قربان کرنے سے گریزاں ہو، بوڑھا باپ اپنا اور خاندان کا سہارا کھونے کے لئے تیار نہ ہو تو پھر وطن اپنا وجود کھو بیٹھتے ہیں، قومیں تاریخ کا حصہ اور پارینہ قصہ بن جاتی ہیں، اور آزادی کی کے بجائے غلامی کی زندگی قوموں کا مقدر بن جاتی ہے۔
ایسا ہی ایک دن وطن عزیز پاکستان پر بھی آیا جب بھارت نے اپنے خبث باطن سے مجبور ہو کر ستمبر 1965ءکو پاکستان پر شب خون مارا۔ بھارت کا خیال تھا کہ راتوں رات پاکستان کے اہم علاقوں پر قبضہ کر لیں گے اور ناشتے میں لاہور کے پائے کھائیں گے۔ لیکن انہیں اندازہ نہیں کہ شیر سویا ہوا ہو پھر بھی شیر ہی ہوتا ہے۔ افواج پاکستان اور عوام پاکستان نے مل کر دیوانہ وار دشمن کا مقابلہ کیا۔ سروں پر کفن باندھ کر دشمن سے بھڑ گئے، جسموں سے بارود باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے، عوام نے اپنا سب کچھ دفاع وطن کے لئے قربان کر دیا۔ اور ہندو بنیے کے ناپاک عزائم کو رزق خاک بنا دیا ۔طاقت کے نشے سے چور بھارت پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کے لئے آیا تھا لیکن ہمشہ کے لئے ناکامی کا بد نما داغ اپنے سینے پر سجا کر واپس گیا۔ وہ شاید اس بات سے بھی واقف نہیں کہ جو زمین شہداءکے لہو سے سیراب ہوتی ہے وہ بڑی ذرخیز اور بڑی شاداب ہوتی ہے۔ اس کے سپوت اپنی دھرتی کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو توڑنے اور اس کی طرف دیکھنے والی ہر میلی آنکھ کو پھوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جان وار دیتے ہیں لیکن وطن پر آنچ نہیں آنے دیتے۔ اور اس کا بہترین مظاہرہ 6ستمبر 1965ءکو کیا گیا، انتہائی بے سرو سامانی کے عالم میں بھی جرات و بہادری کی وہ درخشاں مثالیں قائم کی گئیں کہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔
آج ہم 44واں یوم دفاع منا رہے ہیں، ہر سال کی طرح اس سال بھی وطن عزیز کے لئے دعائیں ہوں گی، سرکاری اور نجی سطح پر تقاریب کا اہتمام ہوتا ہے، افواج پاکستان پریڈ پیش کرتی ہیں ، توپوں کی سلامی سے شہداءکو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ دفاع وطن کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کے دعوے کئے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اور پھر شام ہو جاتی ہے ، جب صبح سو کر اٹھتے ہیں تو سب کچھ بھول جاتا ہے۔ ایک دن قبل کئے گئے وعدے اور دعوے بھول جاتے ہیں ۔ پھر وہی کاروبار زندگی، وہی سیاست کی سیاہ کاریاں، وہی دولت کی ہوس، وہی اقتدار کی جنگ، وہی کاسہ لیسی ، وہی غیروں کی غلامی، وہی ازلی دشمنوںسے دوستی کی پینگیں ۔۔۔ نیز ہر وہ کام جو دفاع وطن کے فلسفے کے خلاف اور جو شہداءکے مقدس خون سے غداری کے مترادف ہو، حب الوطنی کے لبادے میں کیا جاتا ہے۔
کیا اسی لئے شہداءنے اپنا خون، ماؤں نے اپنے جگر گوشے اور قوم نے اپنے سپوت قربان گاہ عشق میں وار دیئے تھے؟ کیا ہم نے اسی لئے قربانیوں کی داستانیں رقم کی تھیں کہ پھر اسی دشمن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گے؟ کیا جرات و بہادری کا یہی تقاضا ہے کہ اپنا جائز حق مانگنے کے لئے بھی منتیں اور سماجتیں کی جائیں، دشمن ہمارا پانی بند کر دے، ہماری شہ رگ پر قابض ہو کر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے اور ہم مذاکرات کے لئے اپنے سارے وسائل صرف کر دیں، جس کا نتیجہ سوائے دشمن کو مزید مہلت دینے کے کچھ نہ ہو۔ ؟


اگر قیامت کے دن ان ماؤں نے ہمارا گریبان پکڑکر سوال کر لیا کہ کیا اسی لئے ہم نے اپنے بیٹے وطن کے لئے وارے تھے تو کیا جواب ہو گا۔ ؟ اگر شہیدوں نے پوچھ لیا کہ کیا ہم اسی لئے جان سے ہارے تھے تو کیا جواب ہوگا؟

آج وطن عزیز جن حالات سے دوچار وہ انتہائی تشویش ناک ہیں ۔ اندرونی اور بیرونی طور پر دشمنان پاکستان ہماری جڑیں کھوکھلی کرنے میں مصروف عمل ہیں، ایک طرف بھارت ہے جس کو چین نصیب نہیں، دوسری جانب افغان سرحد پر استعماری قوتیں اسلامی جمہوریہ کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہیں۔ اندرونی طور پر قبائلی علاقوں میں اپنی ہی فوج اپنی ہی عوام کے خلاف برسرپیکار ہے۔ بلوچستان میں ہماری اپنی کوتاہیوں کے باعث آزادی کی تحریک دن بدن زور پکڑ رہی ہے۔ خودکش حملوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ مہنگائی بام عروج پر پہنچ چکی ہے۔اور حکمران اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔
امریکہ بہادر پاکستان کے اندر تک گھس آیا ہے، بدنام زمانہ ”بلیک واٹر “ امریکی سفارتخانے کی زیر سرپرستی مصروف ہے۔ پاکستان کی سالمیت کا ضامن ایٹمی پروگرام خطرات میں گھرتا جا رہا ہے اور ہم سوئے ہوئے ہیں۔

ان مشکل حالات میں ضروری ہو گیا ہے کہ ایک بار پھر اسی جذبے کے ساتھ دفاع وطن کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ وہی جرات اور بہادری، وہی عزم و استقلال اور وہی جہد مسلسل ہمارا زاد راہ ہو۔ اس سے ایک طرف ہم بیرونی دشمن کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے تقویت حاصل کریں تو دوسری جانب اندرونی مشکلات کا مقابلہ کرنے میں تحمل و برداشت کا مظاہرہ کریں۔ تاکہ ہماری طرف سے اٹھنے والا کوئی جذباتی قدم دشمن کو فائدہ نہ دے۔
آزادی بہت بڑی نعمت ہے اور نعمت قربانی مانگتی ہے۔ جتنی بڑی نعمت ہو اتنی بڑی قربانی ہوتی ہے ۔ ہمارے اسلاف نے قربانیاں دیں جس کے نتیجے میں ہم آج آزاد فضا میں جی رہے ہیں۔ دنیا کے نقشے پر ایک آزاد وطن اور آزاد قوم کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے قربانی کا جذبہ ماند پڑتا ہے اسی طرح آزادی کا تصور بھی دھندلاتا جاتا ہے۔

بدقسمتی سے آج ہم اسی دور سے گزر رہے ہیں۔ ہم نے قربانی سے انحراف کیا تو دشمنوں نے ہر محاذ سے ہماری آزادی کو چیلنج کر دیا۔ ڈرون حملوں سے لے کر اسلام آباد میں امریکہ کے 200گھر کرائے پر لینا، بلیک واٹر کی کاروائیاں، بلوچستان میں آزادی کی تحریک، سرحد کی صورتحال اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

آئیے مل کر عہد کریں کہ وطن عزیز پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر وطن عزیز کی فلاح اور دفاع کے لئے کردار ادا کریں گے۔ اور اپنے قول و فعل سے کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے وطن عزیز کی عزت پر حرف آ سکے۔

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
مکمل تحریر اور تبصرے >>>