8.13.2012

جشن آزادی کیوں منائیں ؟






اب صف ماتم اٹھا دو نوحہ خوانی چھوڑ دو
موت ہے عنوان جس کا وہ کہانی چھوڑ دو

اس بار کا یوم آزادی جن حالات میں آیا ہے ان میں جشن منانے کا خیال واقعی انسان کو مغموم کر دیتا ہے اور مایوسی کے مہیب سائے اس قدر چھا گئے ہیں کہ مختلف اطراف سے "جشن نہیں ماتم" کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔

لیکن اگر کچھ دیر جذبابیت سے نکل کر حقیقت پسندی سے سوچا جائے تو مایوسی اور اس کے نتیجے میں "ماتم" کی صدائیں بلند دور رس نقصانات کا باعث ہو سکتی ہیں۔

جشن کا مطلب ضروری نہیں کے بھنگڑے ڈالنا اور شہنائیاں بجانا ہو۔ یوم آزادی منانے کے ایک سے زائد طریقے ہیں۔ جن میں سے حالات کے مطابق کوئی بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ اور اس کا مقصد جہاں اس آزادی کی نعمت کا شکر بجا لانا، اپنے بزرگوں کی قربانیوں کا اعتراف کرنا، آنے والی نسل میں آزادی کا احساس اور شعور بیدار کرنا ہے وہیں اس کا ایک اہم مقصد معاشرے کے ناسوروں کے‌خلاف آواز اٹھانا، اور بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے اس دن ایک بار پھر وہی عزم کرنا جس کے ساتھ 1947 میں مسلمان قوم اٹھی تھی اور بر صغیر کو تقسیم کر کے ایک مسلمان ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر کیا تھا۔

ماتم اور وہ بھی اس روز ۔۔۔ یہ تو اس طبقہ فکر کی فتح ہو گی جس نے روز اول سے آج تک اس اسلامی ریاست کی مخالفت کی اور نظریہ پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ یہ سارے حالات انہی کے پیدا کردہ ہیں، اور اگر وہ محبان وطن سے اس روز ماتم کروانے میں کامیاب ہو گئے تو پھر ہم اپنی آنے والی نسل کو کیا شعور آزادی دیں گے؟


آزادی کا جشن منانا زندہ قوموں کا شعار ہے اور اس سے قوم کو ایک نیا جوش، ایک نیا جذبہ اور ایک ولولہ تازہ ملتا ہے۔ ہم آج جن حالات سے گزر رہے ہیں یقینا ان کی وجہ سے مایوسی اور بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے اور ہو رہی ہے۔ اور مایوسی ایک ایسی مہلک وبا ہے جب یہ کسی قوم میں پیدا ہو جائے تو پھر ترقی کا عمل یکسر رک جاتا ہے۔ کیوں کہ آگے بڑھنے اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ صرف اسی میں پیدا ہو سکتا ہے جس میں امید کا دیا روشن ہو، جسے بہتر مستقبل کا یقین ہو اور جسے اس بات پر بھروسہ ہو کہ میری محنت ضائع نہیں ہو گی بلکہ اس کے نتیجے میں بہتر حالات اور ترقی ملے گی۔

موجودہ حالات میں جشن آزاد کو اس کے تمام تر تقاضوں کے مطابق منانا، عوام میں آزادی کا شعور بیدار کرنا اور وطن عزیز کی ترقی، بہتری اور استحکام کے لیے عوام پاکستان کے دلوں میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔   اس کے لیے ارباب حکومت سے لے کر نیچے تک ہر ہر ذی شعور شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔

حالات واقعی بہت ناگفتہ بہ ہیں لیکن بہتری کی امید کے ساتھ مایوسی کا خاتمہ ضروری ہے۔
اس موقع پر مکرمی اجمل انجم صاحب کی تازہ ترین نظم کے چند اشعار ضرور پیش کرنا چاہوں گا

وطن کی مٹی ۔۔۔۔۔ یقین رکھنا
کہیں جہاں میں ، خزاں کی رُت دائمی نہیں ہے
ستم کی کالی سیاہ راتیں ، طویل بھی ہوں
تو ان کا ڈھلنا
رُتیں بدلنا ۔۔۔۔۔ نسیم ِ صبح ِ بہار چلنا
یہ دین ِ فطرت ہے ، عین ِ حق ہے
یہ بالیقیں ہے
یقین رکھنا ۔۔۔۔۔ شب ِ ستم کا ، عذاب رُت کا
یہ بالیقیں دور ِ آخریں ہے

5 comments:

Ali Hasaan نے لکھا ہے

اچھی سوچ ہے اور اچھا گمان رکھنا چاہیے

August 13, 2012 at 11:03 AM
Adnan Shahid نے لکھا ہے

راجہ بھائی بہت خوب
بھیا اگر اچھے دن نہیں رہے تو ان شاء اللہ یہ بُرے دن بھی نہیں رہیں گے
اللہ پاک پاکستان پہ اپنا خصوصی کرم فرمائیں گے اور ایک دن روشن صبح ضرور طلوع ہوگی۔
ہمیں بس اپنے حصے کا دیا جلانا ہے

August 13, 2012 at 11:04 AM
Behna Ji نے لکھا ہے

السلام علیکم
بالکل ٹھیک کہا آپ نے اکرام بھائ- آپ کی مثبت سوچ اور بلند جزبہ قابل قدر ہے- ایک مسلمان تو مایوس ہو نہیں سکتا کہ اسکا توکل اور انحصار جس زات عظیم پر ہے ،اسکے لئے تو کچھ بھی ناممکن نہیں- وہ تو بس آپکی قربانی، لگن اور خلوص کو ازماتا ہے اور جب آُپ سے خوش ہو جاتا ہے تو اپنی رحمتوں اور برکتوں کے دہانے آُپ پر کھول دیتا ہے-

اللہ ہم سب کو صبر اور استقامت کے ساتھ اپنے مقصد زندگی پر چلائے آمین-

August 14, 2012 at 2:13 AM
PakistanRadio.Net نے لکھا ہے

Grand Celebration has been started dont forget to participate..
@ 8:30 pm pst
call us live via skype "pradio.net"

click to listen: www.kahopakistan.com

August 14, 2012 at 9:00 AM
sahrish farooq نے لکھا ہے

waqat hamessha ek saa nhi rehtaa raja jee

April 17, 2013 at 2:08 PM

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔