سانگھڑ: سیاسی بساط میں تبدیلی مگر ۔۔۔!





سانگھڑ کا نام سنتے ہی ذہن میں سب سے پہلے جو نام آتا ہے وہ پیر صاحب پگارا کا ہے۔ اور یہ کہنا کسی طور خلاف حقیقت نہیں ہو گا کہ "سانگھڑ اور پیر صاحب پگارا" لازم ملزوم ہیں کیوں کہ جب سے وطن عزیز معرض وجود میں آیا ہے تب سے سانگھڑ نہ صرف روحانی طور پر پیر صاحب کی مریدیت میں رہا ہے بلکہ سیاسی طور پر بھی یہاں مسلم لیگ فنکشنل کی ہی حکمرانی رہی ہے۔ سانگھڑ کی سیاست پر فنکشنل لیگ ایک طویل عرصہ اس طرح قابض رہی ہے کہ یہ بات مشہور ہو گئی تھی کہ اگر پیر صاحب انتخابات میں کسی نشست پر "کھمبا" بھی کھڑا کر دیں تو وہ بلا مقابلہ جیت جائے گا۔
لیکن یہ سب کچھ پیر پگارا ہفتم شاہ مردان شاہ کی حیات تک ہی درست رہا۔ 11 جنوری 2012ء بروز بدھ کو ان کی وفات کے  بعد ہر گزرتے دن کے ساتھ نہ صرف گدی کی گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے بلکہ سیاسی نظم و ضبط اور اثر و رسوخ بڑی تیزی سے رو بزوال ہے۔
پیر شاہ مردان شاہ کی وفات کے بعد جب دستار فضیلت بڑے فرزند پیر صبغت اللہ شاہ راشدی کے سر پر رکھی گئی اور باقی برادران نے نہ صرف ان کی حمایت کی بلکہ سیاسی سرپرستی بھی متفقہ طور پر ان کے سپرد کی تو یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ قیادت کی تبدیلی اور نسبتاً نوجوان قیادت کی آمد سے نہ صرف روحانی اثر کا دائرہ وسیع ہو گا بلکہ سیاست میں بھی خوش آئند تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ لیکن گزرتے وقت نے ان اندازوں کو غلط ثابت کر دیا۔
ابتدا  میں تو نئے پیر پگارا نے بڑا جوش و خروش دکھایا، نئے فیصلے کیے، کچھ پرانی روایات کو توڑا (سندھی ٹوپی اور اجرک وغیرہ کا استعمال)، سندھ کی قوم پرست جماعتوں کو ساتھ ملا کر سندھ  کی سیاست میں بڑی ہلچل مچانے کی کوشش کی اور اہم پیش رفت کے طور پر 17 دسمبر 2012ء حیدرآباد میں ایک جلسہ عام کا انعقاد کر دیا۔ سندھ کی سیاست میں بلاشبہ یہ ایک اہم تبدیلی پیش رفت تھی اور توقع کی جا رہی تھی کہ مئی 2013ء میں منعقد ہونے والے انتخابات میں سندھ کی سیاسی بساط میں بڑے پیمانے پر تبدیلی رونما ہو گی اور پی پی پی کی روایتی اور جاگیردارانہ سیاست کے مقابلے میں نئے چہرے سامنے آئیں گے جو سندھ کی تقدیر بدلنے میں کردار ادا کریں گے۔
لیکن 2013ء کے انتخابات میں ایک بار پھر پاکستان پیپلز پارٹی بازی لے گئی اور سندھ میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ جبکہ فنکشنل لیگ نے نئی قیادت کے علی الرغم ترقی کے بجائے زوال کی جانب سفر کا آغاز کر دیا۔ اگرچہ عام اتنخابات میں اپنی سابقہ اور موروثی نشتیں حاصل کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہو گئے لیکن عوام کو نظر انداز کرنے کے رویے میں تبدیلی نہ لانے کی وجہ سے اپنی نشستوں پر اپنی گرفت برقرار نہ رکھ سکے جس کا واضح ثبوت چند ہی ماہ بعد منعقد ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج ہیں۔
بطور مثال صرف ایک نشست این اے 235 کا تذکرہ مفید ہو گا۔ اس تذکرے کی وجہ اس سیٹ کی اہمیت ہے۔ عام انتخابات میں پیر شاہ مردان شاہ کے منجھلے فرزند صدر الدین راشدی نے دو حلقوں سے حصہ لیا اور دونوں میں کامیابی حاصل کی۔ بعد ازاں این اے 236 اپنے پاس رکھا اور 235 خالی کر دیا۔ اسی سال اگست میں جب اس خالی کردہ نشست پر ضمنی انتخابات ہوئے تو پی پی پی نے شاذیہ مری کو اپنا امیدوار نامزد کیا جس نے کم و بیش 10 ہزار کے مارجن سے کامیابی حاصل کی جس کے مقابلے میں فنکشنل لیگ کے منجھے ہوئے سیاستدان اور علاقے میں اثر و رسوخ رکھنے والے خدا بخش راجڑ تھے۔ باوجود اس کے کہ راجڑ صاحب وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں اس نشست پر کوئی کمال نہ دکھا سکے حالانکہ 2010ء میں جب یہ نشست غلام دستگیر راجڑ کی نا اہلی کی وجہ سے خالی ہوئی تھی تو خدا بخش راجڑ یہاں سے بلا مقابلہ منتخب ہو گئے تھے۔

ہار جیت کھیل کا حصہ ہے لیکن اصل چیز ہوتی ہے اسپورٹس مین اسپرٹ اور کچھ کر دکھانے کا جذبہ۔ لیکن بصد افسوس یہاں مفقود ہے۔ نہ عام انتخابات میں فنکشنل کی کامیابی نے ان کے رویے میں تبدیلی لائی اور نہ ضمنی انتخابات میں ناکامی ان پر اثر انداز ہو سکی۔ عوام کا کوئی پرسان حال پہلے تھا نہ اب۔ لیکن پی پی پی نے اس خلا کو محسوس کیا اور اسے پر کرنے کے لیے محنت کی۔ صوبہ سندھ کے باقی اضلاع میں پی پی پی کا کچھ نہ کچھ اثر رہا ہے لیکن سانگھڑ میں باوجود کوشش کے کبھی کامیابی نہ ہو سکی تھی۔ شاید اسی وجہ سے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے سانگھڑ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور اس محنت کے اثرات بڑی تیزی سے نظر آنا شروع ہو رہے ہیں۔
عوام کی ایک قابل ذکر تعداد کی نہ صرف نظریں پی پی پی پر ہیں بلکہ وہ اپنا آئندہ کا سیاسی قبلہ پی پی پی کو بنانے کے لیے بیتاب نظر آتے ہیں۔ شنید ہے کہ عنقریب وزیر اعلیٰ سندھ اور فریال تالپر سندھ کے دیگر قائدین کے ہمراہ سانگھڑ کا دورہ کرنے والے ہیں جس موقع پر علاقہ کی اہم شخصیات اور ان کے حامیوں کی ایک قابل ذکر تعداد فنکشنل لیگ کو خیرباد کہہ کر پی پی پی سے ناطہ جوڑنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ تبدیلی ہمیشہ خوش آئند ہوتی ہے اور یقیناً یہاں بھی اس کے کچھ مثبت اثرات مرتب ہوں گے، عوام کی آواز کو کچھ نہ کچھ پذیرائی ملے گی اور عشروں سے فائلوں کے بوجھ تلے مسائل حل ہونے کی امید پیدا ہوگی۔
جہاں یہ بات خوش آئند ہے کہ عوام میں شعور بیدار ہو رہا ہے اور گدی کی روایتی سیاست دم توڑ رہی ہے وہیں یہ بات باعث تشویش ہے کہ اس خلا کو پر کرنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی بھی کرپشن کی سرخیل، روایتی، موروثی سیاسی جماعت ہے جس کی سیاست کا عظیم محور جاگیردارانہ سیاست ہی ہے۔ گدی کی روایت سے نکل کر جاگیرداری نظام میں الجھ جانا آسمان سے گر کر کھجور میں اٹکنے کے مترادف ہو گا۔ 

سانگھڑ اور اہلیان سانگھڑ کے حق میں بہتر یہ ہوتا کہ کوئی تیسری قوت سامنے آتی جو ان روایتی جماعتوں سے ہٹ کر کوئی نیا لائحہ عمل لے کر میدان میں آتی تا کہ سانگھڑ کے حالات بدلنے کی توقع کی جا سکتی ۔ لیکن حالات سے لگتا ہے کہ جغرافیائی اور ترقیاتی اعتبار سے پس ماندہ علاقے کو ابھی مزید کرب سے گزرنا ہے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

موسم انکشافات: تخریب میں مضمر تعمیر کا پہلو





پاکستانی سیاسیت بلا شبہ نازک دور سے گزر رہی ہے۔ وطن عزیز جمہوریت اور آمریت کے سنگم پر کھڑا ہے، اک قدم آگے گیا تو جمہوریت، پیچھے ہٹا تو آمریت اور یہیں کھڑ ا رہا تو موسم انکشافات و الزامات جو واضح طور پر سیاست کے خد و خال پر اثر انداز ہو گا۔ حالات کا تناؤ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ مخالف تو رہے ایک طرف، ایک ہی صف میں کھڑے لوگ باہم دست و گریباں ہونے کو ہیں۔ مخالفین پر الزام لگانے اور ان کے کچے چٹھے کھولنے کے بجائے اپنے ہی ہم خیال و ہم رقاب لوگوں کو بے نقاب کرنے کی ظالم رسم چل پڑی ہے۔
 
پہلے جاوید ہاشمی نے اپنے ہی قائد اور تحریک انصاف کے چیئرمین کو بے نقاب کیا اور اس کے مزعومہ انقلاب کی قلعی کھول دی۔ ابھی اس کایا پلٹ کا اثر پوری طرح زائل نہ ہوا تھا کہ اسی جماعت کا ایک اور اہم رہنما شاہ محمود قریشی اپنے ہی بھائی کے ہاتھوں سر عام بے نقاب ہو گیا۔ شاہ صاحب نے یقینا الطاف حسین حالی کا یہ مصرعہ گنگنایا ہو گا کہ "دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت"۔ حسن اتفاق دیکھیے جس مارچ اور دھرنے کے پیچھے وردی کی کارفرمائی کی پیش گوئیاں گردش کر رہی ہیں سارے انکشافات انہیں افواہوں  کو تقویت دیتے معلوم ہوتے ہیں۔ طویل دھرنا اور مارچ  جس مقام پر کھڑا ہے یہاں ایسے دھچکے یقینا جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں لیکن عمران خان اور تحریک انصاف ان کو بانداز احسن سہار گئے۔ حالات ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں اور تناؤاس قدر ہے کہ نہ عمران نے ہتک عزت کا دعویٰ کیا اور نہ حکومت کی جانب سے ان معاملات کی تحقیق کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی کیوں کہ اس وقت دونوں ہی جانب جنگی صورتحال نافذ ہے۔

اس میں شک نہیں کہ اس صورتحال سے حکومت اور موجودہ جمہوریت کو بچانے کی خاطر جمع ہونے والا اتحاد بجا طور پر محظوظ ہو رہا تھا لیکن کہتے ہیں کہ "دشمن مرے تے خوشی نہ کرییے سجناں وی مرجاناں"۔
حکومت اور اس کے جمہوریت بچاؤ اتحادیوں کی خوشی کا مزہ اس وقت کرکرا ہو گیا جب موسم انکشافات و الزمات نے یہاں بھی اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا۔ جمہوریت بچانے کی خاطر ساری جماعتیں(99 فیصد) متحد تھیں اور معاملات حسن اسلوبی سے آگے بڑھ رہے تھے کہ چوہدری نثار کو نہ جانے کیا سوجھی کہ اپنی توپوں کا رخ مارچیوں کے بجائے اپنے اتحادیوں کی جانب موڑ کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کا براہ راست نشانہ ایوان بالا میں پی پی کے قائد ایوان معروف قانون دان اعتزاز احسن بنے۔ حکومت کے لیے اور بالخصوص نواز شریف کے لیے یہ صورتحال انتہائی تشویش کا باعث ہے اسی لیے ان کی جانب سے معافی اور معذرت کا عمل مسلسل جاری ہے جس میں ان کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف بھی برابر حصہ ڈال رہے ہیں لیکن چوہدری نثار کی جانب سے بیان واپس لینے یا وضاحت کرنے کی کوئی خبر تا حال احقر کی نظر سے نہیں گزری۔
یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ چوہدری نثار پوری غزل سنا دیں اور چوہدری اعتزاز احسن بردباری سے اسے برداشت کر جائیں اور اپنا کلام پیش نہ کریں۔ دو دن بعد انہوں نے بھی جواب آں غزل پیش کر کے محفل کو کشت و زعفران بنا دیا ۔کلام نرم و نازک کے عادی نے اپنی روایت سے ہٹ کر جارحانہ انداز سے بیٹنگ کی۔

ایسے وقت میں جب حکومت کے لیے اپنی بقا اور نواز شریف کے لیے اپنی وزارت عظمیٰ سب سے اہم بلکہ عزت کا مسئلہ بنا ہوا ہے اور اس کو بچانے کے لیے ایک ایک جماعت کا تعاون انتہائی اہم ہے ایسے میں چوہدری نثار کی جانب سے اس پیش رفت نے سب کو انگشت بدنداں کر دیا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ چوہدی نثا ر کا اپنے بیان پر ڈٹے رہنا اور میاں برادران کا مسلسل معافی پر معافی مانگے چلے جانا اس بات کا غماز ہے کہ مسئلہ سنجیدہ اور پیچیدہ ہے۔ یہ صورتحال جہاں ایک جانب بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے وہیں اس میں عمران اور اس کے ہمنواؤں کے لیے تسکین کا سامان بھی ہے۔ یہ صورتحال دیکھ کر خیال آتا ہے کہ سیاست بڑی بے رحم چیز ہے جس میں عزت سادات رہتی ہے نہ شریفوں کی دستار۔

حالات کے اس تناؤ، الزام تراشی، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش سے اگرچہ ملک اور عوام کا بے حد نقصان ہوا ہے، لیکن اس تخریب میں ایک پہلو تعمیر کا بھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ الزام تراشی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کام پاکستانی سیاست میں کوئی نئی روایت یا انہونی بات نہیں لیکن جس طرح کے حالات گزشتہ نصف ماہ سے چل رہے ہیں، تناؤ اور بے یقینی کی جو کیفیت ہے، عوام جس کرب و اذیت سے گزر رہی ہے اور پھر ذرائع ابلاغ جس طرح پل پل بدلتے حالات اور چہروں سے اترتے نقاب عوام کو دکھا رہے ہیں، سوشل میڈیا نے جس طرح اظہار ما فی الضمیر کی کھلی آزدی فراہم کی ہے ایسے وقت میں سیاست دانوں کا یوں باہم دست و گریبان ہونا، ملکی مفاد پر ذاتی مفاد اور انا کو ترجیح دینا، اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کے لیے ملکی سالمیت اور استحکام کو داؤ پر لگانا یقینا عوام کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہو گا۔

ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کا اگر جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ بہت سے اذہان واضح ہو رہے ہیں، دھند چھٹ رہی ہے، پرانی سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور جیالے اپنے قائدین سے متنفر ہو رہے ہیں اور نئے اور مخلص قائدین کی تلاش میں ہیں۔ نہ صرف روایتی سیاسی جماعتوں کے کارکنان بلکہ نئی ابھرنے والی تحریک انصاف کی موجودہ حکمت عملی نے اس کے اپنے کارکنان کو بھی شدید مایوس کیا ہے۔ ہو سکتا ہے جو کام انقلاب اور دھرنے سے نہیں ہوا وہ اہل سیاست کی حرکتیں کر دکھائیں، عوام کی آنکھیں کھل جائیں، اور وہ تبدیلی اور انقلابی شعور بیدار ہو جس کا پاکستان اور عوام پاکستان کو برسوں سے انتظار ہے۔عین ممکن ہے کہ اس تخریب  میں مضمر ہو ایک صورت بھلائی کی۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>