2.28.2012

بہترین معاشرے کی تشکیل میں عورت کا کردار



تحریر : راجہ اکرام الحق 

معاشرہ خاندان سے اور خاندان افراد سے بنتا ہے۔ یعنی کہ معاشرے کی بنیادی اکائی اور بنیادی جز فرد ہے، مختلف اجزاء یعنی افراد کے مجموعے سے کل یعنی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ تو جب تک اجزاء یعنی فرد ہر  لحاظ سے مکمل، مفید اور با صلاحیت نہیں ہو گا تب تک بہترین معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔
اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ بہترین معاشرے کے لیے بہترین افراد کی ضرورت ہے، اور بہترین افراد کی تیاری کے لیے بہترین تربیت کا کردار انتہائی ابتدائی اور اہم ہے۔ 

فرد کی تربیت کے مختلف مراحل  ہیں جن سے گزر کر ایک بہترین فرد تیار ہوتا ہے جو آگے جا کر وہ خاندان اور پھر معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوتا ہے۔  تربیت کے ان مراحل میں سے سب سے اہم مرحلہ پیدائش سے لے کر سن شعور میں پہنچنے تک کا ہے، بلکہ جدید تحقیق کے مطابق یہ مرحلہ پیدائش سے کچھ ماہ قبل ہی شروع ہو جاتا ہے ۔ 

اس ابتدائی مرحلے میں ایک عورت ماں کے روپ میں معاشرے کی تشکیل کا کار گراں مایہ سر انجام دینا شروع کر دیتی ہے۔  یہ تربیت اگر اچھے انداز سے ہو گی اور ان تمام تقاضوں کو پورا کرنے والے ہو گی جو ایک بچے کا قوم کا معمار اور بہترین معاشرے کا صورت گر بنانے کے لیے ناگزیر ہیں تو معاشرہ بہترین ہوگا ۔ لیکن اگر تربیت کے اس مرحلے میں ماں اپنے کردار سے غفلت برتے، یا بوجوہ کردار ادا نہ کر سکے اور تربیت میں کمی رہ جائے تو پھر بہتر معاشرے کی توقع رکھنا ایک خواب ہی ہو سکتا ہے۔

بہترین معاشرے اور قوموں کی تشکیل میں عورت کی اسی اہمیت کے پیش نظر ہی ہٹلر نے کہا تھا کہ  "تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو میں تمہیں  پڑھی لکھی قوم دوں گا " یعنی پڑھی لکھی ، ترقی یافتہ اور بہترین قوم اور معاشرے کی تشکیل میں اصل کردار ماں کا ہے
اسی حوالے سے عربوں نے بھی عورت کی اہمیت کو محسوس کیا اور کہا کہ تعليم رجل واحد ھو تعليم لشخص واحد، بينما تعليم امرأة واحدة يعني تعليم أسرة بكاملھا‘‘ ایک مرد کو تعلیم دینا ’سکھانا‘ فرد واحد کو تعلیم دینا ہے جبکہ ایک عورت کو تعلیم دینا ایک پورے خاندان کو تعلیم دینے کے مترادف ہے۔ اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایک عورت کی تعلیم ایک پورے خاندان کی تعلیم کے مترادف ہے اور جب خاندان تعلیم یافتہ اور مہذب ہوں گے تو اس کے نتیجے میں بننے اور تشکیل پانے والا معاشرہ بھی بہترین ہو گا ۔ 

صرف بطور ماں ہی نہیں بلکہ بطور استاد بھی عورت کا کردار زیادہ اہم ہے۔ خاص طور پر تعلیم کے ابتدائی مراحل میں عورت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ صرف آج کی بات ہی نہیں شروع سے ہی بچے ابتدائی تعلیم اور قرآن پاک کی تعلیم خواتین کے پاس پڑھتے ہیں۔ جدید تعلیمی نظام کا جائزہ لیں تو مونٹیسوری اسکول سے  لے کر آگے کے مراحل تک خواتین ہی اہم کردار ادا کر رہی ہیں ۔ 

عورت کی اہمیت کسی لحاظ سے بھی مرد سے کم نہیں بلکہ شایدکہیں زیادہ ہوتی ہے کیونکہ ایک مرد علم حاصل کرکے زیادہ سے زیادہ اپنے گھر کے لے مفید واقع ہوسکتا ہے جبکہ عورت کی تعلیم کا اثر گھر و گھرانے سے بڑھ کر شہر و معاشرے تک پھیل جاتا ہے۔ ایک مہذب عورت ہی بہترین انسانی تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ ایک با کردار اور مضبوط ارادہ عورت ہی دلیر قوم کو جنم دیتی ہے۔ ایک پرہیزگار و صاحب تقویٰ عورت ہی متقی و عبادت گزار بندے تربیت کرتی ہے۔ بالاخر یہ ماں ہی ہے جو ابتدا میں اپنے بچے کی تربیت کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کے پروان چڑھنے کے لیے مناسب ماحول فراہم کرتی ہے۔ اپنے گھریلو ماحول اور معاشرے کی فضاء کو اپنے اور دیگر بچوں کے لیے مہیا کرتی ہے۔ گویا جس معاشرے میں بھی تعلیم یافتہ خواتین کی کثرت ہوگی وہاں نہ صرف گھر کا ماحول بلکہ معاشرہ بھی انسانی نشو ونما کے لیے نہایت سازگار ہوگا۔ جیسا کہ مشہور ہے انسان کا لباس اس کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے اسی طرح ایک پاک و پاکیزہ ماحول اور صاف ستھرا محلہ وہاں بسنے والوں کی شخصیت کی مفسر و مبیّن ہوتا ہے۔ یعنی ایک صاف ستھری گلی، پاکیزہ در و دیوار اور مہذب لوگ پڑھے لکھے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔

پوری تاریخ میں کہیں کوئی ایسی فتح دکھائی نہیں دیتی جس میں خواتین کے مضبوط ارادوں کے بغیر مردوں کو کچھ حاصل ہوا ہو۔ اسلام کے آغاز کی سختیوں میں ام عمارؒکی دلیرانہ شجاعت نظر آتی ہے، ہجرت حبشہ میں جناب ام حبیبہ نظر آتی ہیں، شعب ابی طالب میں جناب خدیجہ ؑ نمایاں دیکھائی دیتی ہیں۔ اسی طرح جناب فاطمہ زہرا ؑ جنگ بدر کے معرکے سے لے کر، احد کے میدان میں، خندق کے حصار میں، ہر جگہ مردوں کے شانہ بشانہ کہیں زخمیوں کی تیمارداری، کہیں مردوں کو رجزخوانی کے ساتھ حوصلہ اور وقت آنے پر ہاتھوں میں ہتھیار لے کر رسول اللہ ؐ کی جان کی حفاظت کرتی نظر آتی ہیں۔

المختصر  بہترین معاشرے کی تشکیل میں عورت کا کردار کلیدی ہے ۔ اگر اقوام عالم میں نمایاں مقام حاصل کرنا ہے تو ہمیں خواتین کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینی ہو گی۔

5 comments:

Behna Ji نے لکھا ہے

السلام علیکم

1 وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

71 اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کےمددگار ہیں نیکی کا حکم کرتے ہیں اوربرائی سے روکتے ہیں اورنماز قائم کرتے ہیں اور زکواة دیتے ہیں اور الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر الله رحم کرے گا بے شک الله زبردست حکمت والا ہے


سورة التوبة

بالکل ٹھیک کہا آپ نے نے راجہ بھائ -چلئے پہلا تبصرہ بھِی ایک عورت کی طرف سے ہی آیا -
ام عروبہ

April 22, 2012 at 3:35 AM
عکس خیال نے لکھا ہے

جزاک اللہ خیرا
پہلا تبصرہ ایک عورت کی طرف سے دیکھ کر خوشی ہوئی اور ایک گونہ تسلی ہوئی کہ خواتین اپنا کردار ادا کرنے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔

April 22, 2012 at 8:27 AM
sahrish نے لکھا ہے

بہت اچھی تحریر ھے اپ کی پڑھ کر بہت اچھا لگا ۔۔۔۔اللہ اپ کو کمیاب کارے اپ کے مقصد میں ۔۔۔۔ آمین

June 25, 2012 at 9:15 AM
Miss Khan نے لکھا ہے

خوبصورت تحریر..... بہترین اسلوب بیان

January 2, 2013 at 3:47 PM
dua awan نے لکھا ہے

بہت خوبصورت تحریر ہے ما شا ء اللہ

May 18, 2013 at 5:24 AM

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔