نیا سال: نئی فکر اور نئی امید




دنیا میں مختلف قومیں مختلف ایام مختلف حوالوں سے مناتی آئی ہیں ۔ ان ایام کے پیچھے کوئی  تاریخی ورثہ یا کوئی ایسا تاریخی واقعہ ہوتا ہے جس کی یاد  منانے  یا کسی تاریخی انسان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے یہ دن منائے جاتے ہیں۔ انسانی زندگی جب ترقی کے مراحل اور منازل طے کرتی آگے بڑھنے لگتی اور  مختلف اقوام نے فتوحات کے ذریعے دیگر اقوام کے علاقوں پر قبضہ کیا تو  مختلف قبائل اور اقوام کو مل جل کر رہنے اور زندگی بسر کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران جہاں اور بہت سی عادات اور رسم و رواج منتقل ہوئے وہیں مختلف تہوار بھی منتقل ہوئے۔ان تہواروں میں سے بعض ایسے تھے جو کہ خاص مذہبی رنگ میں منائے جاتے تھے۔ اور کچھ ایسے تھے جو کسی علاقے کے ساتھ خاص تھے جن  میں کسی مذہبی تعلیم کا  عمل دخل نہیں تھا۔

دیگر کئی تہواروں کی طرح نئے سال کی پہلی رات یا نیو ایر نائٹ  New Year Night کو بھی ایک تہوار کا درجہ حاصل ہو گیا ہے اور یہ بھی ایک عرصہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں بڑے زورو شور سے منائی جاتی ہے۔اس کا آغاز انیسویں صدی میں برٹش رائل نیوی کے ایک جہاز سے ہوا اور خشکی میں سب سے پہلے ء1910 میں ایک ساحلی شہر اینا ڈین میں منایا گیا۔ 1980ء تک تو یہ لعنت یورپ تک ہی محدود تھی لیکن اس کے بعد یہ مرض وبا کی طرح پھیلا اور پوری دنیا کوبشمول بر صغیر اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
وطن عزیز پاکستان میں پہلی بار 90کی دہائی میں اس تقریب کا آغاز ہوا ۔ کیوں کہ انگریز برصغیر سے چلا تو گیا لیکن جاتے جاتے ایسے انڈے بچے دے گیا جو اندھی تقلید میں اپنے اکابر سے بھی کئی ہاتھ آگے ہیں۔ پہلے پہل یہ صرف بڑے لوگوں کا شوق ہوا کر تا تھا لیکن اب سر عام اس رات کو منایا جاتا ہے۔ اربوں روپے کے جام چھلکائے جاتے ہیں، کروڑوں کی بجلی اور گیس ضائع کی جاتی ہے، انواع و اقسام کے کھانوں پر لاکھوں روپے لگا دیئے جاتے ہیں۔ سیکڑوں خواتین اپنی چادر عصمت تارتار کرواتی ہیں ، کیوں کہ عموما ایسی پارٹیوں میں سنگلز کی انٹری ممنوع ہوتی ہے۔

دو روز بعد ایک بار پھر نئے سال کا آغاز ہو رہا ہے اور یقینا ایک بڑی تعداد اس رات کو اسی طرح منانے کے لیے بے چین و بیتاب ہوں گے۔  نہ صرف عوام بلکہ بہت سے حکومتی اہلکار بھی پر تول رہے ہوں گے۔ لیکن اس بار وطن عزیز جن حالات سے گزر رہا ہے ایسے میں وقت کا تقاضا یہی ہے کہ  حکومت کو اس قسم کی تمام تقریبات پر سختی سے پابندی لگا دینی چاہیئے۔ کیوں کہ ملک ویسے بھی دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ اربوں ڈالرز کے قرضے لیے جا رہے ہیں ۔ بجلی اور گیس نایاب ہو چکی ہے، بے روزگاری اور افراط زر کی بدترین صورتحال ہے ۔ ان حالات میں اس طرح کے کسی کام کی اجازت دینا بجائے خود حکومت کے عقل و شعور پر ایک سوالیہ نشان ہو گا ۔  اگر ان بے حیائی کے کاموں میں صرف ہونے والا پیسا بچا کر کسی مثبت کام میں صرف کیا جائے تو کئی لوگ اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
خاص طور پر خادم اعلی جناب شہباز شریف صاحب کو اس پر خصوصی توجہ د ینی چاہیئے تاکہ وطن اور اہل وطن دونوں کے لئے بہتری ہو کیوں کہ اس قسم کے کاموں کے لئے داتا کی نگری ۔لاہور ۔ بہت مشہور ہے ۔ لہذا وہاں ہونے والی ہر ایسی سرگرمی کے ذمہ دار وہ براہ راست ہوں گے کیوں کہ یہ ان کی مسئولیت میں آتا ہے۔

اسلام خوشی منانے کے بالکل منافی نہیں ہے بلکہ صحت مند تفریخ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ لیکن جس تفریح میں مال کے  اسراف کے ساتھ ساتھ جان کے ضیاع کا بھی خطرہ ہو ، معاشرے کی اخلاقی اقدار تباہ ہوتی ہوں، طبلے کی تھاپ پر جوانیاں ناچتی ہوں اور ہوس کے متلاشی ابن آدم مال و زر کے زور پر بنت حوا کی چادر عصمت تار تار کرنے پر تلے ہوں وہاں اسلام حکومت کو پابند کرتا ہے کہ اس کام کو روکے اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دے۔ تاکہ معاشرہ بہتر انسانی اقدار کی روشنی میں ترقی کرتا رہے۔
اسلامی تہذیب کی بذات خود ایک مکمل اور جامع تہذیب ہے۔ اس میں جہاں انسان کی دیگر فطری خواہشات و ضروریات کا خیال رکھا گیا ہے وہیں خوشی کو منانے کے لئے ایسے تہوار بھی مقرر کر دئیے گئے ہیں جن میں انسان اپنی خوشی کا اظہار کر سکتا ہے۔ لیکن ایک خصوصیت جو صرف اسلام کی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کسی بھی حالت میں ہوں، خوشی یا غمی، حد سے زیاتی کو برا جانا گیا ہے۔

ہر مسلمان کو خود اس موضوع پر سوچنا چاہیئے کہ اس مختصر زندگی  کا ایک اور سال بیت گیا، موت ایک سال مزید قریب آ گئی ۔ کیا یہ وقت رقص و سرود کی محفلیں سجانے، ناچنے اور بھنگڑے ڈالنے کا ہے یا یہ رات اپنے رب کے سامنے سر جھکا کر گزشتہ گناہوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگنے اور آئندہ کے لیے راہ راست پر چلنے کی توفیق مانگنے کا ہے۔
بطور پاکستانی بھی ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم نے گزشتہ سال ملک و ملت کے لیے کون سا ایسا کام کیا جس سے بہتر نتائج کی توقع کی جا سکتی ہو۔ اگر نہیں کیا تو آئندہ کے لیے غور و فکر کریں اور ایسی منصوبہ بندہ کریں جو ہمارے لیے انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی مفید ہو۔  گزشتہ سال میں حالات و واقعات کی وجہ سے جو مایوسیاں پیدا ہوئی ہیں انہیں ختم کرنے اور امید کے دیے روشن کرنے کے لیے مثبت اور تعمیری سوچ کو پروان چڑھانے اور فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے ۔ اس لیے مل کر سوچنا ہو گا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے کون سی ایسی  حکمت عملی  ہو گی بہتر نتائج لا سکتی ہے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اسلام : حقوق نسواں کا سب سے بڑا محافظ



بعد از حمد و ثنا۔
افراد سے معاشرہ اور معاشرے سے اقوام وجود میں آتی ہیں ۔ اقوام کی پر سکون زندگی اور پرامن بقا کے لئے انصاف اولین شرط ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر بقائے باہمی نا صرف مشکل بلکہ ناممکن بن جاتی ہے۔ معاشرہ کے امن کو برقرار رکھنے کے لیے افراد کے کچھ حقوق مقرر کر دیئے گئے ہیں جن کی پاسداری سے پر امن فضا کا قیام ممکن ہے۔ ایک عرصہ تک ان حقوق کو بنیادی حقوق یا فطری حقوق کے نام سے موسوم کیا جاتا رہا لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے انسانی تمدن ترقی پذیر ہوتا رہا اور نئے نئے نقطہائے  نظر اور اصطلاحات کا ظہور ہوا تو بنیادی یا فطری حقوق "انسانی حقوق" کی اصطلاح کے ساتھ رائج ہونا شروع ہوئے۔

غیر اسلامی دنیا میں ان حقوق کو کس طرح تسلیم کروایا گیا، اس کے لئے کتنے لوگوں کو جان کے نذرانے پیش کرنے پڑے، یہ ایک تفصیل طلب بحث ہے اور تاریخ اس سے بخوبی واقف ہے۔لیکن یہ بات دلچسپ ہے کہ  اس تمام بحث میں انسان سے مراد صرف مرد لیا جاتا رہا جبکہ عورت ماضی قریب تک اسی استحصال کا شکار رہی جس کی وہ ایک عرصہ سے چلی آرہی تھی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد اگرچہ اقوام متحدہ کی سطح پر باقاعدہ انسانی حقوق کے لئے کمیشن تشکیل دیئے گئے اور درجنوں دستاویزات وجود میں آئیں لیکن اس ساری مشق میں بھی عورت کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا۔ ”انسانی حقوق کا عالمی منشور“ تشکیل پانے اور تمام ممبر ممالک کی طرف سے اسے اپنے قانون اور دستور کا حصہ بنانے کے باوجود عورتوں کے حقوق کے لئے الگ دستاویزات تیار کرنے کی ضرورت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ شاید  ان ارباب عقل کے نزدیک خواتین”انسان“ کی تعریف پر پورا نہیں اترتیں۔

1948ءمیں انسانی حقوق کے عالمی منشور کی تشکیل سے قبل اس حوالے سے کیا صورت حال تھی اور اس کی بہتری کے لئے کیا کیا کاوشیں ہوئیں اس کا مطالعہ بھی اہم ہے ۔ لیکن اس ضمن میں یہ سمجھنا کافی ہو گا کہ انسان کو اپنے فطری حقوق جو اسے پیدائشی طور پر حاصل ہیں انہیں حاصل کرنے ہی نہیں بلکہ صرف تسلیم کروانے کے لئے کئی صدیاں لگ گئیں۔ اس کے باوجود بھی یہ حقوق محدود طبقات کے لئے ہی تھے ۔ کہیں جاگیرداروں اور بادشاہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے ضمن میں جس کے نتیجے میں میگنا کارٹا (1215ء) وجود میں آیا، کہیں مزدوروں کے حقوق، کہیں سیاسی حقوق اورکہیں اس طرح کی دیگر اصطلاحات کی صورت میں کچھ دستاویزات سامنے آئیں۔

اسلام کے نقطہ نظر سے انسانی حقوق کا تصور اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ انسان کا وجودقدیم ہے۔ جب اللہ تعالی نے پہلا انسان روئے زمین پر بھیجا اور اسے ”اسماءکلھا“ کا علم دیا تو ساتھ ہی اسے دیگر افراد کے حقوق کا شعور بھی عطا کر دیا۔اور ہر نبی علیہ السلام کے پیغام میں یہ تمام حقوق سموئے ہو ئے تھے۔ لیکن بعد کے ادوار میں جیسے جیسے انسان نے آسمانی پیغام کو بھلا دیا اور اپنے انبیاءعلیہم السلام کی تعلیمات کو مسخ کر دیا تو ان حقوق کا تصور بھی ختم ہوتا چلا گیا۔ چونکہ انسانی فطرت ہے کہ اگر اسے کسی اعلی طاقت کا خوف نہ ہو تو وہ بہیمیت کی انتہا کو پہنچنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ  کمزوروں کو دبانا اور انہیں اپنی خدمت اور آسائش کے لئے استعمال کرنا انسانی تاریخ کا مکروہ ترین باب ہے۔ اور اس پورے کھیل میں چونکہ عورت سب سے کمزور اور قوت مدافعت سے عاری مخلوق تھی لہذا اس کی اس کمزوری سے بھر پور فائدہ اٹھایا گیا اور اسے جانوروں سے بھی بد تر سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ بازاروں کے میلوں میں ان کی خریدوفروخت کی جاتی تھی،راہبانہ مذاہب میں لڑکیوں کو باعث نحوست اور گناہ کا سرچشمہ تصور کیا جاتا تھا۔ اور ہندوستان کے بعض علاقوں میں تو آج بھی شوہر کی میت کے ساتھ عورت کو زندہ جلا دیا جاتا ہے۔

ترقی کے اس دور میں مغرب نے ”حقوق نسواں “اور ”آزادیءنسواں“کے خوبصورت نعرے کی آڑ میں جو حقوق عورت کو عطا کئے  ہیں وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ۔۔۔ اسے عملی طور پر طوائف اور داشتہ کی سطح پر لے آیا ہے، اسے ایک ایسی شے بنا ڈالا ہے جس سے مرد لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ آرٹ اور کلچر کے خوبصورت پردوں میں اس کا اس قدر استحصال کیا گیا کہ عملا جنس کے متلاشیوں اور کاروباریوں کے ہاتھوں کھلونا بن گئی۔

اسلامی تصور
اسلام میں حقوق کا تصور انتہائی جامع ہے اور اس میں” انسان “کی اصطلاح میں تمام طبقات شامل ہیں  اور  انسان ہونے کے ناطے تمام طبقات "بنیادی انسانی حقوق" کے یکساں مستحق ہیں۔ اگرچہ بعض معاملات میں بعض افراد کے کچھ خاص حقوق ہیں جیسا کہ ، والدین کے حقوق، بچوں کے حقوق، پڑوسیوں کے حقوق وغیرہ لیکن انسانی حقوق کی حد تک تمام افراد بلا تفریق رنگ و نسل، ملک و ملت، قبیلہ و برادری برابر ہیں۔یہاں چونکہ حقوق نسواں ہمارا موضوع بحث ہے لہذا دیگر طبقات کا صرف اشارہ ہی کافی ہو گا۔

موجودہ دور میں بطور خاص 11 ستمبر2001 ءکے بعد سے اسلام ہر لحاظ سے مورد الزام ہے جس میں دہشت گردی ، انتہا پسندی اور انسانی حقوق قابل ذکر ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حالات میں اسلام کا جو تصور مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے پیش کیا جا رہا ہے یا خود بعض مسلمان ممالک میں بعض مسلمان جن جاہلانہ روایات پر عمل پیرا ہیں اس کی رو سے انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اسلام نے عورت کے ساتھ ناانصافی کا رویہ روا رکھا ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور ہمارا دعوی ہے کہ" اسلام حقوق نسواں کا سب سے بڑا علمبردار ہے"۔ 

درحقیقت اسلام کی آفاقی اور انقلابی تعلیمات نے عورت کو اس کے حقیقی حقوق اور مرتبہءعزت عطا کیا ہے اور اگر اسلام کی طرف سے دیئے گئے حقوق کا اجمالی جائزہ لیا جائے  تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ ان حقوق کا تصور دیگر تہذیبوں میں نہ آج ہے نہ اس کی کوئی مثال ماضی کے کسی دور میں ملتی ہے۔

اس وقت دنیا کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے، اور یہ آبادی دنیا کے بہت سے معاشروں میں منقسم ہیں۔ ان تمام معاشروں کا رہن سہن یکساں نہیں ہے اور ہر معاشرے میں اسلام پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا بھی ممکن نہیں۔ لہذا ان معاشروں کو دیکھ کر اس بات کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ اسلام میں خواتین کے حقوق کیا ہیں؟بلکہ اس سلسلے میں اسلامی شریعت کے حقیقی مصادر سے براہ راست رہنمائی لینا ضروری اور قرین انصاف ہے۔ 

اسلام کے بنیادی مآخذ قرآن اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ اور ان مصادر سے ملنے والی تعلیمات نے عورت کو آج سے تقریبا 15 صدیاں قبل مرد کے برابر حقوق عطا کرتے ہوئے اسے مرد کی غلامی سے نجات دلائی جس میں وہ صدیوں سے جکڑی ہوئی تھی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بنیادی اسلامی مصادر کی روشنی میں حقوق نسواں کی نشاندہی کی جائے ۔البتہ اسلامی تعلیمات کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ دیگر قابل ذکر مذاہب اور تہذیبوں کی تعلیمات پر بھی روشنی ڈالی جائے تاکہ اسلام کی تعلیمات کی جامعیت واضح ہوجائے (بضدها تتبين الاشياء)۔

مزید براں اس امر کی ضرورت بھی محسوس کی جاتی ہے کہ اسلام ایک عورت کو معاشرتی، معاشی، سماجی اورتمدنی لحاظ سے جو حقوق عطا کرتا ہے نیز معاشرے میں مختلف حوالوں سے عورت کے جوخصوصی حقوق عطا کئے گئے ہیں۔۔مثلا؛ ماں ، بہن، بیٹی وغیرہ ہونے کے ناطے ان کا تفصیلی جائزہ لے کر دنیا کے سامنے آشکار کیا جائے تا کہ ”حقوق نسواں “ اور ”آزادیءنسواں“ کے نام پر مذہب بیزار لوگوں کے پروپیگنڈے کا سد باب کیا جا سکے۔
دعا ہے کہ اللہ ہمیں اس کام کو بانداز احسن کر نے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اسلام پسندوں کی فتوحات اور ضرورت احتیاط



یہ ایک مصدقہ حقیقت ہے کہ اسلام کی فطرت میں ایک ایسی قدرتی لچک ہے کہ اسے جتنا دبایا جائے اتنا ہی ابھرتا ہے۔ اور جب ابھرتا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی۔ ابتدائے اسلام سے ہی کفر نے پوری کوشش کی کہ اس نظام زندگی کو پھلنے پھولنے نہ دیا جائے، اس مقصد کے لیے انہوں نے ہر ممکن طریقہ آزمایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ  و سلم کی ذات گرامی کو لالچ دے کر، پر کشش مراعات کا یقین دلا کر اور جب بات نہ بنی تو ایذا رسانی اور قتل کے منصوبوں تک نوبت پہنچ گئی۔ اور پھر پوری ملت کفر نے اسلام کو مٹانے کے لیے گٹھ جوڑ کر لیا لیکن یہ سارا دباؤ خود ان کے لیے وبال جان بن گیا اور اسلام اپنی اس قدرتی و فطری لچک کی وجہ سے ابھرتا ہی چلا گیا ۔ 

سقوط خلافت عثمانیہ کے کے بعد سے لے کر آج تک ایک بار پھر  اسلام اور مسلمان کسی نہ کسی طور پرغیر مسلم تسلط کے زیر سایہ رہے ۔ بلکہ ایک طویل عرصہ تک تمام ہی مسلم ممالک نو آبادیاتی نظام میں جکڑے رہے۔ اس نو آبادیاتی دور میں مسلمانوں کی تہذیب، کلچر، رسم و رواج اور زبان تک کو بدل دیا گیا۔ ایک طرف انگریز اور دوسری جانب فانسیسی طاقت نے مسلمانوں کی ظاہری و باطنی تباہی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔  اور اب تک کسی نہ کسی صورت میں ان طاقتوں کا اثر و رسوخ مسلمان ممالک پر قائم ہے، حکومت سازی سے لے کر قانون سازی  اور پالیسی سازی تک ہر ہر پہلو ان کے زیر اثر ہے۔  ظاہری آزادی حاصل ہونے کے بعد بھی اب تک بیشتر مسلم ممالک اسی نظام یعنی سیکولرزم کو اپنائے ہوئے ہیں ۔ اسلام پسندوں کا ناطقہ بند کرنے کے لیے مصر  کے مصطفی کمال سے لے کر حسنی مبارک تک، ترکی کے کمال اتا ترک اور اس کے پیروکاروں اور تیونس میں علی زین العابدین جیسے حکمرانوں نے جس طرح اسلام دشمنی کی مثالیں قائم کیں وہ کسی تذکرے کی محتاج نہیں ۔ 

کیوں کہ اسلام زمانے میں دبنے کو نہیں   آیا اس لیے اس سارے عمل کا ایک رد عمل ضرور سامنے آنا تھا۔ 2011ء اس رد عمل کا سال ثابت ہوا۔ تیونس میں ایک نوجوان کی خود سوزی کے نتیجے میں شروع ہونے والا عوامی احتجاج بالآخر اسلامی انقلاب کی صورت میں ظاہر ہوا اور اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں 52 فیصد نشستیں اسلام پسند لے گئے۔ یہ انقلاب اب تک کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور کتنے ہی جابروں کا بوریا بستر گول کروا چکا ہے۔ تیونس کے بعد مراکش  میں بھی احتجاج شروع  ہوئے جس کے نتیجے میں انتخابات ہوئے تو وہاں بھی اسلام پسندوں نے معرکہ مار لیا ۔ مراکش میں حکام کے مطابق اعتدال پسند اسلامی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (پی جے ڈی) نے پارلیمانی انتخابات جیت لیے ہیں۔ اب مصر میں انتخابات کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک کی اطلاع کے اخوان المسلمون اکثریت حاصل کرنے والی جماعت ہے۔ اس سے قبل ترکی میں سیکولرزم کے سخت پہرے میں اسلام پسندوں کی مسلسل کامیابی کے مناظر بھی دنیا دیکھ چکی کے۔ عسکری میدان میں دیکھا جائے تو  افغانستان میں مسلمان مجاہدین طالبان نے عالمی طاقت اور اس کے اتحادی چالیس سے زائد ممالک کی فوج کو ناکوں چنے چبوا دیے ہیں اور اب مذاکرات کرنے اور افغانستان سے باعزت واپسی کے لیے مختلف طرح سے پاپڑ بیل رہے ہیں۔

 اس سارے منظر نامے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام اور اسلامی قوتیں ایک بار پھر ابھرنا شروع ہو گئی ہیں۔  لیکن یہ سب ملت کفر اتنی آسانی سے ہضم نہیں ہو رہا۔  سیکولر عناصر کی شکست پرمغربی نظریات سے متاثر جماعتیں خاصی پریشان ہیں۔دراصل سیکولر جماعتوں کو انتخابات سے قبل اپنی کامیابی کا پکایقین تھا۔ شکست سے دوچار ہونے کے بعد انہوں نے الزامات لگانے اور تیونس کے مستقبل کے حوالے سے شکوک وشبہات پیدا کرنے شروع کردیے ہیں۔ مصر میں اخوان المسلمون کی نظر آتی کامیابی سے اسرائیل کے پیٹ میں مروڑ پڑنا شروع ہو چکے ہیں۔ اور اسرائیل کے خدشات براہ راست امریکہ کے خدشات تصور کیے جاتے ہیں کیوں کہ سارے کھیل کے اصل مہرے یہودیوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ 

کامیابیوں کا یہ موسم بہت ہی احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک ایک قدم پھونک پھونک کر اٹھانا ہوگا۔ انتقال اقتدار کے سارے مراحل بہت ہی حکمت عملی کے ساتھ طے کرنا ہوگا۔ اسلام کا آغاز جس طرح بالتدریج ہوا، محرمات اور مکروہات کی تعلیمات جس طرح مرحلہ وار دی گئیں اور ان پر عمل در آمد کے لیے جو طریقہ کار اپنایا گیا  اس کی روح کے مطابق آئندہ کی منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔  جلد بازی یا جذباتیت کا مظاہرہ منفی نتائج پیدا کر سکتا ہے۔  اس حوالے سے ترکی میں جو طریقہ کار اپنایا گیا اس کا مطالعہ کرنا، اسے سمجھنا اور اس کے مطابق لائحہ عمل طے کر کے معاملات کو آگے بڑھانا یقینا مفید ہو گا۔  

کامیابی یقینا خوشی کا احساس دلاتی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لانے اور  اس موقع کو درست طور پر استعمال کرنے کی توفیق طلب کرنے  کی بھی ضرورت ہے۔ اور یقینا فتح مکہ کے موقع پر فاتح عظیم نبی رحمت صلی اللہ علیہ و سلم نے جو نمونہ ہمارے لیے چھوڑا اس سے بہتر کوئی مثال نہیں ہو سکتی۔ تشکر کے جذبات سے سر جھکا ہوا ہو ، دشمنوں کے لیے "لا تثریب علیکم الیوم " کا اعلان ہو اور "لتکون کلمۃاللہ ھی العلیا" کا مقصد عظیم منتہائے نظر ہو۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

واقعہ کربلااور اس کے تقاضے



شیطان نے جس دن حضرت آدم علیہ السلا م کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا اس دن سے ہی حق اور باطل کے درمیان کشمکش کا آغاز ہو گیا تھا۔ زمین پر انسان کے نزول کے بعد سب سے پہلے ہابیل اور کابیل کا واقعہ رونما ہوا اور اس کے بعدسے آج تک تاریخ انسانی ایسے واقعات سے لبریز ہے کہ کس طرح ابلیس اور اس کے پیروکاروں نے حق پرست بندگان خدا کو راہ راست سے باز رکھنے کی کوشش کی اور باز نہ آنے والے افراد کو مختلف انداز سے ایذا رسانی کا سلسلہ جاری رکھا جو کہ ہنوز جاری ہے۔فرعون، نمرود، ہامان ۔۔۔۔۔۔۔وغیرہ اسی کا تسلسل ہیں ۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرر بو لہبی

اسلامی تاریخ اپنی تمام تردرخشانیوں کے علی الرغم بعض ایسے واقعات لئے ہوئے ہے جو خون کے آنسو رلانے کے لئے کافی ہیں ۔ جن کو رونما ہوتے دیکھ کر زمین و آسماں پر سکتہ طاری ہو جاتا تھا۔ ان واقعات میں سے واقعہ کربلا سب سے دردناک ہے۔ اس واقعے کی تفصیلات سے شاید ہی کوئی مسلمان ناواقف ہو ۔ نواسہ رسول ، جگر گوشہ بتول اپنے بہتر جانثاروں کے ساتھ نکلے اور اپنے نانا صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے باطل کے خلاف ڈٹ گئے۔ ان کی نگاہ میں تعداد اور مال و اسباب کی کوئی اہمیت نہیں تھی ۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ کبھی یہ قدم نہ اٹھاتے ۔

جب خلافت ملوکیت میں تبدیل ہو گئی ، حکمران طبقہ عیش و عشرت میں مشغول ہو گیا ، شاہی خزانے کو اپنی ملکیت سمجھا جانے لگا ، اسلام کی بنیادی اقدار کا خاتمہ ہو گیا، نسلی اور قومی عصبیتوں کا دور شروع ہو گیا ۔ یزید کی حکومت قائم ہو گئی ۔ جس کی زبردستی بیعت لی جا رہی تھی ۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے بیعت سے انکار کر دیا ۔ اور بیعت کر بھی کیسے کر سکتے تھے ۔ اپنے نانا کی سنتوں سے کیسے منہ موڑ سکتے تھے ۔ تربیت ہی ایسی تھی کہ اسلام کے خلاف کوئی قدم اٹھانا تو کجا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔
کوفہ کا علاقہ اسلامی تاریخ میں مختلف وجوہات کی بنا پر اچھے نام سے یاد نہیں کیا جاتا۔ اس واقعہ میں بھی ان کا کردار قابل تعریف نہ رہا۔ انہوں نے خطوط بھیج کر امام حسین رضی اللہ عنہ کو بلایا کہ آئیے ہم آپ کی بیعت کریں گے ۔ امام حسین اپنے اہل و عیا ل کے ساتھ کوفہ جانے کے لئے تیا ر ہوئے ۔ آپ کے قافلے میں معصوم بچے اور خواتین بھی شریک تھیں۔
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت مشیت الہی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر پہلے ہی دے دی تھی کہ حسین رضی اللہ عنہ اپنی جان کا نذرانہ دے کر اسلام کی آبیاری اپنے خون سے کریں گے ۔ لیکن جن حالات میں یہ واقعہ پیش آیا ، اس کا جو پس منظر تھا اسے جاننے سے اس قربانی کی اہمیت مزید اجاگر ہوجاتی ہے اور دل میں عظمت حسین رضی اللہ عنہ میں اضافہ ہوتا ہے ۔

تعداد صرف بہتر ، جن میں سے بھی 32سوار اور 40پیادہ ۔ کوئی فوج نہیں ۔اپنوں سے سینکڑوں میل دور ، خواتین اور بچوں کے ساتھ ۔ دوسری جانب چار ہزار فوج ، مسلح اور تربیت یافتہ ۔ان حالات میں اتنا بڑا قدم اٹھانا اور ناحق کے سامنے جھکنے سے انکا ر کر دینا بلا شبہ قربانی کا بہت اعلی مرتبہ ہے۔ ایں سعادت بزور بازہ نیست
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشا لب بام ابھی
معرکہ بپا ہو گیا ایک ایک کر کے تمام جانثار شہید ہوتے گئے ۔ آخر میں جنت کے نوجوانوں کے سردار رہ گئے ، نماز عصر کا وقت ہوا آپ نے نماز شروع کی جب آپ سجدے میں اپنے رب کے قریب ہوئے تو شمر نے آپ علیہ السلام کو شہید کر دیا ۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون(
ہر سال کی طرح اس سال بھی 10محرم الحرام کا دن گزر گیا۔ ہم میں سے ہر کسی نے روایتی انداز میں اپنی محبت کا اظہار کرنے کی کوشش کی ۔ جلسے جلوس ہوئے، ریلیاں نکالی گئیں، ماتم ہوئے الغرض ہر کسی نے اپنے انداز سے اظہار محبت کے لئے کوشش کی۔
لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اس طرح ہم محبت کا حق ادا کرنے میں کامیاب ہوگئے؟
کیا سنت شبیری ہم سے یہی تقاضا کرتی ہے ؟ کیا روز حشر ہم سر اٹھا کر یہ کہہ سکیں گے کہ ہم نے حق ادا کر دیاتھا؟ کہیں ہم دیگر رسم و رواج کی طرح یہ دن بھی صرف تقریبات میں تو نہیں گزار رہے؟

آج امت مسلمہ جن حالات سے دوچار ہے وہ ان سے چنداں مختلف نہیں ہیں جن میں امام شہید رضی اللہ عنہ نے عظیم قربانی دی۔ اگر مسلمان کفار کے مقابلے میں عددی لحاظ سے کم ہیں تو وہ بھی چار ہزار کے مقا بلے میں صرف بہتر تھے۔ اگر ہم جدید جنگی سازو سامان کے لحاظ سے دشمن سے کم ہیں تو ان72میں سے بھی صرف 32سوار تھے باقی پا پیادہ تھے۔اس پر مزید یہ کہ یہ قافلہ جنگ کے لئے تیار ہو کر نہیں گیا تھا کیوں کہ بچوں اور خواتین کو جنگی فوج میں نہیں رکھا جاتا۔ اور ہمارے پاس تیاری کے لئے بے شمار وقت ہے ۔ اگر ایک بار پھر وہی جذبہ بیدار ہوجائے تو وہ وقت دور نہیں جب چہار دانگ عالم میں اسلام کا پرچم لہرا رہا ہو اور پوری انسانیت امن اور چین کے ساتھ اسلام کی رحمتوں سے بہرہ ور ہو۔
اور اگر ہم کامیاب نہ بھی ہوئے تو کم از کم تاریخ ہمیں اچھے الفاظ میں یاد تو رکھے گی ۔ کیوں کہ کربلا میں اگرچہ امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے چند جانثاروں کے ساتھ شہید ہو گئے اور بظاہر ابن زیاد میدان جنگ میں کامیاب رہا ۔ اور جنگ کے بعد کوفہ کی جامع مسجد میں اس نے امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر رکھ کر یہ اعلان بھی کیا کہ امام حسین ہار گئے اور یزید جیت گیا لیکن تاریخ گواہ ہے کہ امام حسین ہار کر جیت گئے اور یزید جیت کر ہار گیا کیوں کہ یہ خالق کائنات کی سنت ہے کہ فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے ۔ اس پر مزید یہ کہ جو حیات جاوداں اور تذکرہ خیر امام حسین کے حصے میں آیا وہ دوسروں کے لئے کہاں۔
نہ شمر کی وہ جفا رہی نہ ابن زیاد کا وہ ستم رہا
رہا تو نام حسین کا جسے زندہ رکھتی ہے کربلا
آج کا دن ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم ایک بار پھر متحد ہو جائیں ، آپس کے اختلافات کو ختم کر کے اسلام کے حیقیقی پیغام کو دنیا تک پہنچانے کے لئے نواسہءرسول صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت پر عمل پیرا ہو جائیں تاکہ کسی اسرائیل کی دوبارہ یہ ہمت نہ ہو کہ فلسطین کے نہتے مسلمانوں پر چڑھ دوڑے۔ کسی افغانستان اور عراق پر امریکہ کو حملہ کرنے کی ہمت نہ ہو ۔ لیکن اس کے لئے ہمیں وہ جگر پیدا کرنا ہوگا کیوں کہ۔۔۔ آج ایک بار پھر وقت ہم سے تقاضا کر رہا ہے کہ
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

افواج پاکستان نشانہ :: امتیازی رویوں کا نتیجہ



26نومبر کو افغانستان میں "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کے فریضہ مقدسہ پر مامور نیٹو افواج نے پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے ہی اتحادی افواج، افواج پاکستان کی چوکی پر حملہ کر کے 24 باوردی جوان شہید کر دیے۔  شہادت پانے والوں میں صرف سپاہی نہیں بلکہ میجر رینک تک کے اہلکار شامل تھے۔ 

اس واقعہ کے بعد ہمارے عسکری قائدین و ارباب اقتدار   کو جن چیزوں احساس پہلی بار ہوا اور بڑی شدت سے ہوا وہ  ملکی سلامتی، حدود کی خلاف ورزی، استحکام پر حملہ زیادہ قابل زکر ہیں۔
خلاف معمول  پاکستان نے اس کاروائی پر سخت رد عمل کا اظہار کیا اور فوری طور پر افواج پاکستان کے سربراہ نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے نیٹو کی سپلائی کو معطل کرنے کا حکم دے دیا۔   حکومت نے سخت احتجاج کیا، کابینہ کے اجلاس بلائے گئے، افغانستان سے  احتجاج کیا گیا کہ ان کے زمین ہمارے خلاف استعمال ہوئی ہے، دفتر خارجہ نے امریکہ سفیر کیمرون منٹر سے وضاحت طلب کی ۔ الغرض وہ سب کچھ ہوا جو ایسے موقع پر ہونا چاہیے لیکن پہلے نہیں ہوتا تھا۔

یہ واقع کیوں رونما ہوا؟ یہ دانستہ تھا یا غیر ارادی ؟  اس کے اصل محرکات اور اسباب کیا ہو سکتے ہیں اس حوالے سے ایک سے زائد آراء پائی جاتی ہیں ۔  ایک خیال یہ بھی ہے کہ امریکہ جو کہ پاکستان پر ایک عرصہ سے دباؤ ڈال رہاہے کہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف شمالی وزیرستان میں کاروائی کریں اور دہشت گردوں کے ساتھ جو روابط ہیں انہیں ختم کریں لیکن پاکستان مسلسل روابط کی تردید اور کاروائی سے تردد کر رہا ہے۔ اور گزشتہ ماہ کابل میں طالبان کے حملے اور ربانی کے قتل کے بعد یہ تک کہا گیا کہ اگر "کاروائی نہ کی گئی تو پاکستان کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور ہم خود کاروائی کا حق رکھتے ہیں"۔ ہو سکتا ہے یہ اسی قولی بیان کا عملی نمونہ ہو۔ الغرض جو بھی ہوا اور جس وجہ سے بھی ہوا انتہائی افسوس ناک ہے ۔ 

ایک اہم بات جس کی جانب اس سارے مباحثوں اور مذاکروں میں کوئی توجہ نہیں دی گئی وہ یہ ہے کہ ہمیں اس حال تک پہنچانے میں سب سے اہم اور اصل سبب ہمارا امتیازی رویہ  ہے۔ ہم مساوات کے بلند بانگ دعوں کے باوجود تفریق آدمیت  کا شکار ہیں ۔ ہم وردی والے میں اور بغیر وردی والے میں فرق کرتے ہیں۔ ہم امیر اور غریب میں فرق کرتے ہیں، ہم افسر اور نوکر میں امتیاز کرتے ہیں۔

گزشتہ دس سال سے پاکستانی عوام کو خاک و خوں میں نہلا دیا گیا، 35 ہزار کے لگ بھگ لوگ اس نام نہاد اتحاد کا ایندھن بن گئے، پاکستان کے تعلیمی اداروں سے لے کر کاروباری مراز اور تو اور مساجد تک غیر محفوظ ہو گئیں۔ یہاں تک  عوامی حفاظت پر مامور ادارے بھی بلند و بالا قلعوں میں محصور ہو کر رہ گئے لیکن نہ ہمارے ارباب اختیار پر اور نہ عسکری قائدین کے کان پر کوئی جوں تک رینگی ۔  روز ڈرون حملے ہوتے رہے اور اپنی ہی سرزمین سے ہوتے رہے لیکن ہم نے مجرمانہ خاموشی سادھے رکھی۔ 

اب جب باوردی لوگ صرف 24 کی تعداد میں اس "دہشت گردی" کا شکار ہوئے تو عسکری قیادت سے لے کر ایوان اقتدار تک سب ہی تلملا اٹھے، ملکی سلامتی، سرحدوں کا تحفظ، خود مختاری، اور نہ جانے کون کون سی چیزیں پہلی بار انہیں خطرے میں محسوس ہوئیں۔ نیٹو سپلائی بند، بون کانفرنس میں شرکت سے معذرت اور ایئر بیسسز خالی کرنے کا فوری حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔ 

اگر روز اول سے ہی پاکستان کے ارباب اقتدار ہر شہری کو یکساں تصور کرتے اور ایک عام فرد کی ہلاکت پر اس طرح  رد عمل کا اظہار کرتی۔ سرحدوں کی خلاف ورزی کو پہلے دن سے ہی ملکی سالمیت اور خود مختاری  پر حملہ تصور کرتی اور ملکی وقار کو وہی اہمیت دیتی جو 24فوجی جوانوں کی شہادت کے بعد سامنے آیا ہے تو نہ ریمنڈ ڈیوس آتے، نہ سانحہ ایبٹ آباد پیش آتا اور نہ سلالہ چیک پوسٹ پر ہم اپنے قیمتی 24 جوان یوں ضائع کرتے۔ ہمارے اس دوغلے رویے نے ہمیں اس حال تک پہنچایا ہے کہ جب کسی کا دل چاہا چڑھ دوڑا ۔ 

اب بھی وقت ہے کہ اگر ہم ہر شہری کو یکساں اہمیت دیں اور ہر طرح کی بیرونی مداخلت پر ایسا ہی جرات مندانہ رد عمل ظاہر کریں تو ہم اپنا کھویا ہوا وقار، تباہ شدہ امن اور روٹھی ہوئی خوشیاں واپس لا سکتے ہیں ۔  
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سنت ابراھیمی ۔ نار نمرود سے نجات کا واحد ذریعہ


ویسے تو تمام ہی انبیاءکرام علیہم السلام معصوم اور قابل تقلید تھے لیکن بعض کو جو درجہ اور مقام حاصل ہوا وہ رہتی دنیا تک کے لیے کامیابی کا ضامن ہے۔ اسی فرق مراتب کو بیان کرتے ہوئے قرآن کریم میں ارشاد ہوا "تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض" کہ ہم نے بعض رسولوں کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے۔ افضل ترین اور الوالعزم انبیاءمیں ابراہیم علیہ السلام کو خاص مقام حاصل تھا۔ انہوں نے جن حالات میں جن آزمائشوں سے مقابلہ کرتے ہوئے ثابت قدمی اور استقامت کا مظاہرہ کیا وہ آج کے حالات میں ہمارے لئے بہترین مشعل راہ ہے۔ 

آخر وہ کیا عمل تھا اور وہ کیا طریقہ کار تھا جس پر چل کر سیدنا ابراہیم کو یہ مقام ذی شان حاصل ہوا؟ اور وہ کیا سنتیں انہوں نے چھوڑی ہیں کہ سنت ابراہیمی کو زندہ رکھنے کے لئے ہر سال مسلمانوں کو قربانی کا حکم ملا ،حج بیت اللہ فرض ہوا اور سیدہ حاجرہ کی یاد میں صفا و مروة کے درمیان سات چکر لگانے کو لازمی قرار دیا گیا؟ اس فلسفے کو سمجھنے کے لئے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی حیات پر اک نظر دوڑانی پڑے گی۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام ایک بت ساز اور بت فروش کے گھر میں پیدا ہوئے، اور یہ کوئی معمولی پیشہ نہ تھا۔ پتھروں کو خدا بنانے کا کام یقینا اپنے وقت کا اہم ترین اور معزز ترین پیشہ ہوگا۔ اور اس پیشے کی وجہ سے آزر اور اس کے خاندان کو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہوگا۔ ہر باپ کی طرح آزر کی بھی یہی خواہش تھی کہ اس کا بیٹا بھی یہ کام سیکھ لے، اور مستقبل میں جانشینی کے فرائض سر انجام دیتے ہوئے خاندان کے اس شرف کو برقرار رکھے۔ لیکن " تدبیر کنند بندہ تقدیر کنند خندہ" ۔

اسے کیا علم تھا کہ جسے وہ بت ساز اور بت فروش بنانے کا سوچ رہا ہے وہ تو بت شکن بنے گا۔ نہ صرف مٹی کے بت بلکہ وہ معاشرے میں بنے ہوئے ہر بت کو پاش پاش کرنے کے لئے آیا ہے ۔چاہے وہ بت خوف غیر اللہ کا ہو، چاہے وہ بت انسانوں کی خدائی کا ہو یا خاندانی تفاخر کا ہو۔ اور آپ نے اپنی زندگی میں یہ سب کر دکھایا، ہر بت کو پاش پاش کیا اور اسباب کے بجائے مسبب الاسباب پر یقین و ایمان کی درخشاں مثالیں پیش کیں ۔

آپ علیہ السلام کی زندگی یوں تو ساری کی ساری قابل تقلید ہے، اس پر چل کر کامیابی کا حصول یقینی ہے لیکن اگر ہم اس فسلفہ حیات کو تلاش کرنا چاہیں جس کے باعث آپ کے زندگی کو سنت قرار دے کر رہتی دنیا تک کے لئے کامیابی کی ضمانت اور مشعل راہ بنا دیاگیا تو وہ ہے "معمولات زندگی میں فکر و تدبر اور عقل کا استعمال لیکن جب حکم خداوندی آ جائے تو بلا چوں و چراں سر تسلیم خم کر دینا"۔ 

ابتدا ءہی فکر و تدبر سے ہے۔ تارا دیکھا ، چاند دیکھا، سورج دیکھا، یہی سمجھا کہ بس یہی رب ہیں لیکن جب انہیں غروب ہوتے اور زوال پذیرہوتے دیکھا تو سوچا کہ وہ کیسے رب ہو سکتا ہے جو خود ڈوب جائے۔ بلکہ ضرور کوئی ہے جو اس کائنات کو چلا رہا ہے اور سب اس کے حکم کے پابند ہیں۔

پھر دیکھیے بت شکنی کا کا م سر انجام دینا تھا، اپنے آپ کو بیمار بنایا۔ جب سب چلے گئے تو سارے بت توڑ کر کلہاڑی بڑے بت کی گردن پر لٹکا دی اور پوچھنے پر فرمایا کہ "یہ تو ان کے بڑے نے کیا ہے"۔ مقصد ان کو یہ باور کرانا تھا کہ جو خود اپنی حفاظت نہیں کر سکتے، مکھی تک نہیں اڑا سکتے اور بول نہیں سکتے وہ کیسے الوہیت اور ربوبیت کے درجے پر فائز ہو سکتے ہیں؟۔

بادشاہ کے ساتھ تاریخی مکالمہ دیکھ لیجئے۔ جب بادشاہ نے زندگی اور موت کا اختیار اپنے پاس ہونے کا دعوی بھی کر دیا اور دو اشخاص میں سے ایک کو مارنے اور دوسرے کو زندہ چھوڑنے کا حکم دے کر بظاہر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو لا جواب کرنے کی کوشش کی تو آپ نے فرمایا کہ ’میرا رب تو مشرق سے سورج نکالتا ہے ، اگر تو خدائی کا دعوے دار ہے تو سورج کو مغرب سے طلوع کرکے دکھا۔ "فبھت الذی کفر" کافر بادشاہ حیران و پریشان رہ گیا ۔

اس طرح کے بے شمار واقعات سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ملتے ہیں جہاں تلاش حق کی جستجو اور فکر و تدبر کا استعمال نہایت ہی بہترین انداز میں ملتا ہے۔ لیکن کمال یہ ہے کہ اس صلاحیت کو رب کی دین ہی سمجھتے ہیں،اور جب کسی حوالے سے رب کا حکم آ جائے اطاعت وفرمانبرداری کے ایسے باب رقم ہوتے ہیں کہ تاریخ مثال پیش کرنے سے قاصر ہے، عقل کا استعمال کر کے تاویلیں اور حیلے تراشنے کے بجائے  ’بے خطر آتش نمرود میں عشق‘ کا منظر پیش کیا۔
بڑھاپے میں عطا ہونے والے فرزند اور شریکہ حیات کو بے آب و گیاہ صحرا میں چھوڑنے کا واقعہ ہو یا اپنے ہی بیٹے کو اپنے ہی ہاتھوں سے خدا کے لئے ذبح کرنے کا حکم، یا پھر نار نمرود میں کودنے کا مرحلہ۔ بلا چوں و چراں اس طرح سر تسلیم خم کر دیا کہ"عقل ہے محو تماشا لب بام ابھی"۔

آج جب ہم ہر طرف سے آتش نمرود میں گھرے ہوئے ہیں، تمام عالم کفر ملة واحدہ کی صورت مسلمانوں پر پل پڑا ہے، صرف مسلمان ہونے کے جرم کی پاداش میں ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے جا رہے ہیں کہ الامان و الحفیط۔ ان حالات میں سنت ابراھیمی ہی وہ لائحہ عمل اور وہ راہ نجات ہے جس پر عمل کر کے حالات میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اور سنت ابراہیمی یہ ہے کہ  "معمولات زندگی میں فکر و تدبر اور عقل کا استعمال لیکن جب حکم خداوندی آ جائے تو بلا چوں و چراں سر تسلیم خم کر دینا"۔ 

آج بھی ہو جو ابراہیم کا یمان پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

فکرِ اقبال کا پیغام ۔ نوجوانوں کے نام



آج 9  نومبر اس عظیم انسان کا یوم پیدائش ہے جسے ہم میں سے اکثر بطور شاعر جانتے ہیں لیکن اسے صرف شاعر کہنا اس کی شان میں کمی کے مترادف ہے۔ گزشتہ صدی کا ایک عظیم مفکر، جس کی فکر نے کبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا کر دیا، ایک عظیم فلسفی جس کے فلسفے نے بےعملی کے عمومی رویے سے ہٹ کر عملیت اور جدو جہد کا درس دیا۔ ایک سیاسی مدبر جس نے بیسویں صدی کے سب سے کامیاب نظریہ ‘‘نظریہ پاکستان’’ کا تصور پیش کیا اور اسے حقیقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک صوفی جس نے تمام قدیم رائج شدہ تصورات کے خلاف آواز اٹھائی جن کے خلاف بولنے پر کفر کے فتوے منتظر تھے جس کا ذکر ‘‘ابلیس کی مجلس شوریٰ’’ میں بالتفصیل ہے۔ذکرو فکر صبح گاہی اور مزاج خانقاہی میں پختہ تر ہو کر دنیا و ما فیہا سے بے خبر ہونے کی مذمت کرتے ہوئے اس حقیقی تصوف اور تزکیے کا درس دیا جو مطلوب شریعت ہے۔ ایک شاعر بے مثل جس نے زلف گرہ گیر، وصل و فراق، عشق و حسن کے جاں گداز جذبات اور ہوش ربا داستانوں سے ہٹ کر ایک مژدہ جانفزا اور ایک پیام امید دیا۔ شاندار ماضی کی جھلک دکھا کر پر شکوہ مستقبل کے لئے حال میں جدو جہد کرنے کا درس دیا۔ جمود و انحطاط سے نکل کر اجتہاد و ارتقاء کی شاہراہ پر گامزن ہونے کا جوش و ولولہ دیا۔

اقبال کی فکر کو عموما تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ تین ادوار ہیں جن میں فکری ارتقاء ہوا۔ یہ تقسیم اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس کے بغیر بادی النظر میں ان کے ابتدائی اور آخری دور کے خیالات میں تضاد نظر آتا ہے۔ وہی اقبال جو ایک دور میں ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے اور مبہم طور پر ایک قوم کے تصور کی طرف جار رہے تھے جس کا ایک ثبوت ان کا مندرجہ ذیل شعر ہے
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
لیکن جب انہوں نے انگلستان جا کر مغربی قومیت اور وطنیت کو قریب سے دیکھا اور اسلام کے سیاسی و سماجی نظام کا خصوصی مطالعہ کیا تو جدید جغرافیائی وطنیت کے شدید مخالف اور وطن اور سرحدوں کی قید سے ما وراء ہو جاتے ہیں اور صرف اسلام کو ہی قومیت کی بنیاد قرار دیتے ہیں
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
اور
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
عام شاعرانہ اور فلسفیانہ بے عملی اور حال مستی کے بر عکس علامہ اقبال اقبال بطور ایک مفکر اور شاعر تحرک کے قائل تھے۔ ان کا خیال تھا کہ معاشرے کو متحرک رکھنے کے لئے ہر دم تازہ افکار و خیالات از حد ضروری ہیں "جہانِ تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود" یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جمود کو ختم کرکے اس فکری ارتقاء اور عقلیت پسندی کی حمایت کی جس کو مسلمان علماء ایک عرصہ سے چھوڑ چکے تھے۔ تہذیبی زوال چونکہ علمی اور فکری زوال کے باعث آتا ہے اور اس وقت مسلمان من حیث القوم فکری اور علمی حوالے سے شدید جمود، زوال اور احساس محرومی کا شکار تھے۔ ماضی پرستی کی دھن میں مستقبل سے نظریں چرا رہے تھے۔ انہوں نے اعتماد، خودی اور جدو جہد کا درس دے کر دل مسلم میں وہ تمنا پیدا کرنے کی کوشش کی جو قلب کو گرما دے اور روح کو تڑپا دے۔ اور مسلم نوجوانوں کو چشم تصور میں وہ گردوں دکھایا جس کا وہ ایک ٹوٹا ہوا ستارا ہے۔ علامہ اقبال کے افکار میں یہ حقیقیت پسندی، عملیت، فکری و عملی ارتقاء کی دعوت اور فلسفہ خودی اس لئے تھا کہ ان کی فکر براہ راست قرآن و سنت سے ماخوذ ہے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو فکر سے زیادہ عمل پر زور دیتی ہے اور انہیں یہ یقین تھا کہ اسلام ہی وہ زندہ قوت ہےجو ذہن انسانی کو نسل و وطن کی قیود سے آزاد کر کے بنی نوع انسان کی فلاح کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔
 آج مسلمان جس فکری و عملی دیوالیہ پن کا شکار ہیں، جمود و انحطاط کی جس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، غیروں سے مرعوبیت اور ذہنی غلامی کی جن پستیوں میں گرے ہوئے ہیں اس کی مثال اسی شکست خورہ شاہین کی سی ہے جو کرگسوں میں پلا ہو۔ ان حالات میں فکر اقبال ایک مژدہ جانفزا اور امید کا پیغام ہے۔ اس بار ہمیں روایتی انداز میں صرف تقاریب کا اہتمام کرنے اور پھر سب کچھ بھول جانے کے بجائے پیام اقبال کو سمجھنا ہوگا، اور یہ عہد کرنا ہو گا اب جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں والی زندگی کی حقیقت کو پانا ہے اور اس فکر کو اپنا کر خودی کے اس مقام تک پہنچنا ہے کہ
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

پھر ان شاء اللہ حالات بدلیں گے اور اس آدم خاکی کو وہ عروج حاصل ہو گا کہ انجم بھی سہم جائیں گے۔
لیکن اگر اب بھی ہم نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور اس پیغام کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی کوشش نہ کی تو "ہماری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں" 

تحریر: راجہ اکرام الحق
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بھارت میں دہشت گردی کا اصل چہرہ



 تحریر : راجہ اکرام الحق
بھارت شاید خطے کا واحد ایسا ملک ہے جس میں جہاں ایک طرف علیحدگی کی سب سے زیادہ تحریکیں سرگرم عمل او ر فعال ہیں وہیں مذہبی انتہا پسند اپنے سوا کسی کو چین سے رہنے کی اجازت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان دو اسباب نے دیگر بے شمار کے ساتھ مل کر بھارت کی اندرونی حالت کو خطرناک حد تک تشویش ناک بنا دیا ہے۔ بطور خاص گزشتہ چند سالوں کے دوران ہونے والے مختلف واقعات نے دہشت گردی کی جو ایک لہر دوڑا دی ہے اس سے ہر انسان ہراساں نظر آتا ہے۔ جس میں احمد آباد ک، مکہ مسجد حیدر آباد، درگاہ اجمیر شریف اور مالی گاؤں میں بم دھماکے کا واقعہ ، پٹنہ میں عیسائیوں کے خلاف ہونے والے فسادات ، سمجھوتہ ایکپریس میں آتش زدگی اور ممبی پر ہونے والے حملے قابل ذکر ہیں۔
بھارت کا رویہ شروع ہی سے یہ رہا ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات رونما ہونے کے بعد تحقیق و تفتیش کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہوئے فوری طور پر الزام لگا دیتا ہے اور میڈیا بھی غیر جانبداری اور معروضیت کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے۔پھر پروپیگنڈے کا ایسا طوفان بدتمیزی برپا ہوتا ہے کہ اصل حقائق، اصل مجرم اور اصل چہرے اس کے شور تلے دب جاتے ہیں۔ اس طرح کی غیر سنجیدہ حرکت سے ان عناصر کو مزید ہلہ شیری ملتی ہے اور وہ اپنے نئے ہدف کے لئے تیاری میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کئی سال گزرنے کے باوجود بھارت نہ تو اصل مجرموں تک پہنچ سکا ہے اور نہ ہی ان واقعات کی روک تھام کے لئے کوئی مؤثر اقدامات کر سکا ہے۔
بھارت کی طرف سے سر فہرست ملزمان پڑوسی ملک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ، کالعدم جہادی تنظیمین یا انڈیا سے تعلق رکھنے والی مسلمان تنظیمیں انڈین مجاہدین اور سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (SIMI)ہی ہوتے ہیں۔ پہلے سے تیار شدہ ان ملزمان کی موجودگی انہیں تحقیق و تفتیش کی صعوبتوں اور پیچیدگیوں سے یکسر بے نیاز کر دیتی ہے۔ لیکن یہ اصل چہر نہیں ہے۔
قارئین کو یاد ہو گا کہ سمجھوتہ ایکسپریس اور مالی گاؤں والے واقعات کے بعد کرنل پروہت کا کردار سامنے آیا تھا جوکہ دہشت گردوں کے ساتھ تعاون میں ملوث تھا۔ پھر اس کے بعد ممبئی حملوں میں کرنل پروہت کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے والے ہیمنت کرکرے کی موت کا واقعہ بھی اسے انداز سے ہوا کہ ہندوستان میں دہشت گردی کے اصل چہرے کے خدو خال مزید واضح ہو گئے۔
اسی چہرے کو مزید بے نقاب کرنے کے لئے حال ہی میں انڈیا سے ایک کتاب چھپی ہے who killed karkary? The Real face of Terrorism in India ۔اس کتاب کے مصنف ایس ایم مُشِرف ہیں جو کہ سابق انسپیکٹر جنرل پولیس ۔مہاراشٹر ہیں ۔ مصنف نے 310صفحات کی اس کتاب میں ہیمنت کرکرے کے قتل کے اصل مجرموں کو بے نقاب کرنے کے لئے ممبئی حملوں اور ہندوستان میں ہونے والے ان اہم واقعات کی تحقیق پیش کی ہے جن میں بظاہر پڑوسی ملک ، آئی ایس آئی ، یا پھر بھارت کی کچھ اسلامی تنظیموں کو ہی مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔لیکن اس کتاب میں تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ اس کے پیچھے ہندو انتہا پسند وں او ر بطور خاص ہندوتوا کا ہاتھ ہے جن کی پشت پناہی فوج کے موجودہ اور سابقہ افسران کر رہے ہیںجن میں کرنل پروہت سب سے قابل ذکر ہے ۔کتاب میں موجود دلائل بہت ہی واضح انداز میں اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتے یں کہ ہیمنت کرکرے اصل مجرموں تک پہنچ چکا تھا اس لئے اس کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت قتل کروا دیا گیا۔ ان میں سے چند اہم واقعات کا ذکر اس اجمال کی تفصیل کے لئے کافی ہوگا۔
اس سلسلے کا سب سے اہم واقعہ مالی گاؤں میںہونے والا بم دھماکا ہے۔ 29 ستمبر 2008ءکو یہ واقعہ رونما ہوا ۔ اس کی تحقیقات کی ذمہ داری اینٹی ٹیرورزم اسکواڈ(ATS) کے سربراہ ہیمنت کرکرے کو دی گئی۔ دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے پہلی مرتبہ پیشہ ورانہ انداز میں تحقیق کی گئی اور اس کے نتائج نے نہ صرف انڈیا بلکہ پوری دنیا کی آنکھیں کھول دیں۔ جمہوریت اور سیکولرزم کے سارے دعوے زمین بوس ہو گئے۔ تحقیق نے یہ ثابت کر دیا کہ مسلح افواج کے افسران، حکومتی مشینری، انتہا پسند ہندوتوا اور سنگھ پریوار کا اس واقعے کے ساتھ واضح تعلق ہے۔
اور پھر بھارتی فوج کی تشکیل کردہ Court of Inquiry کی طرف سے اپنی آزاد تحقیقات کے بعد کرنل پروہت کے کورٹ مارشل کی سفارش نے رہی سہی کسر نکال دی جس کے بعد اس امر میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا کہ مالی گاؤں دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ اس تحقیق کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس اصل دہشت گرد نیٹ ورک کا سراغ مل گیا جو دہشت گردی کے تقریبا ہر واقعے میں کسی نہ کسی طور پر ملوث ہے اور جس کے کرتا دھرتا لوگوں میں کئی پردہ نشینوں کے نام بھی آتے ہیں۔
کرنل پروہت اور ان کے تائید یافتہ افراد اور گروہوں نے نہ صرف اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی بلکہ اور بھی انتہائی اہم واقعات میں ملوث ہونے کا اقرار کیا جو بھارت کے لئے نہ صرف اندرونی طور پر بلکہ دیگر ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات کے لئے بھی غیر معمولی حد تک خطرناک تھے ، اور کسی بھی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے تھے۔ان میں سے اہم ترین 19 فروری 2007ءکو سمجھوتا ایکسپریس کا سانحہ ، 18مئی 2007ءکو مکہ مسجد حیدر آباد میں ہونے والا دھماکہ اور 11 اکتوبر 2007ءکو اجمیر شریف درگاہ پر ہونے والا دھماکہ ہیں۔ ان تمام ہی واقعات کے ذمہ داری ابتدائی طور پر پڑوسی ملک اور مسلمان تنظیموں پر ہی لگائی گئی تھی لیکن تحقیقات نے بالکل برعکس نتائج سامنے لائے۔
26 نومبر 2008ءکو ممبئی میںہونے والے حملوں کی آڑ میں ہیمنت کرکرے کو اس کی ایمانداری کا بہترین ”صلہ“ دیتے ہوئے قتل کروا دیا گیا۔قانون کا تقاضا تھا کہ اس قدر اہم شخصیت کے قتل کی تحقیق فوری طور پر ہو جاتی لیکن تا حال حکومتی سطح پر اس طرح کی کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی جو بذات خود کسی سازش کا پتہ دیتی ہے۔ یاد رہے مالیگاو ¿ں پر ہونے والی تحقیقات پر بی جے پی ناپسندیدگی کا اظہار کر چکی تھی ۔
ہندو ستان میں دہشت گردی کا اصل چہرہ دیکھنے کے لئے بھی اس قتل کی تحقیقات ناگزیر ہیں تا کہ پتہ چلایا جا سکے کہ آخر وہ کون لوگ ہیں جو نہ صرف دہشت گردی میں ملوث ہیں بلکہ اس کی روک تھام کرنے والے افسران کو راستے سے ہٹانے کا کام بھی بڑی صفائی سے کر رہے ہیں۔
ایس ۔ایم ۔ مُشرِف نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اس قتل میں IB ملوث ہے۔ اس خدشے کی چند وجوہات ہیں جو کافی وزن رکھتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ حکومت کو بریف کرنے کا کام آئی بیIB کے ذمہ ہے، اور کرکرے کی تحقیقات آئی بھی کی رپورٹ کے بالکل برعکس جار ہی تھیں جو اس کے لئے نہ صرف خفت کا باعث تھیں بلکہ آئی بی کی ساکھ کے لئے بھی نقصان دہ تھیں۔ اس شرمندگی اور بدنامی سے بچنے کے لئے ضروری تھا کہ یہ کانٹا ہی نکال دیا جائے ۔مصنف نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ IB برہمنوں کا ایک ٹولہ ہے جن کے ہندوتوا کے ساتھ گہرے مراسم ہیں۔ چونکہ ہندوستان میں ہونے والی تمام تر دہشت گردی میں ہندو انتہا پسند وں کا ہاتھ ہوتا ہے جن کی پشت پناہی سرکاری اور سیاسی سطح ہوتی ہے۔ اس لئے وہ کسی ایسے شخص کو ہرگز برداشت نہیں کر سکتے جو ان کے کالے کرتوتوں کو بے نقاب کر سکتا ہے۔
یہاں ایک اور بات قابل غور ہے کہ کرنل پروہت پر نہ صرف کرکرے کی تحقیق میں بلکہ مسلح افواج کی طرف سے کی جانے والی تحقیق میں بھی جرم ثابت ہو چکا ہے اور اس کے کورٹ ماشل کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگانا ہر گز مشکل نہیں کہ کرنل کے عہدے پر فائز یہ شخص تنہا یہ کام نہیں کر رہا بلکہ ضرور اسے اپنے اعلی افسران کا آشیر باد اور جونیئرز کا مکمل تعاون حاصل ہو گا۔ ایک پورا نیٹ ورک ہے جو پوری تندہی کے ساتھ نہ صرف مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے بلکہ پاکستان اور مسلم تنظیموں کو بدنام کرنے میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہا۔
اس ساری بحث سے پتہ چلتا ہے کہ اصل دہشت گرد ہندو انتہا پسند ہیں جن کو مسلح افواج اور IB کا مکمل تعاون اور آشیر باد حاصل ہے۔
ہندوستان میں ہونے ولی دہشت گردی کے اصل چہرے کو دیکھنے کے لئے یہ کتاب انتہائی ناگزیر ہے ۔پالیسی سازوں، تجزیہ نگاروں اور اہل قلم کے لئے اس کا مطالعہ انتہائی مفید ہو گا ۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

دہشت گردی یا پارس کا پتھر

ساری دنیا کہتی ہی نہیں جانتی بھی ہے کہ دہشت گردی ایک لعنت ہے۔  کوئی مذہب تو کجا کوئی ہوشمند اور ذی شعور انسان اس کی اجازت نہیں دے سکتالیکن یہی دہشت گردی اپنی تمام تر خامیوں، تباہیوں اور نقصانات کے باوجود بعض ممالک کے لئے پارس کا پتھر ثابت ہوئی ہے۔
پارس کا پتھر اس حوالے سے مشہور ہے کہ دہ خود تو پتھر ہوتا ہے لیکن اگر لوہے کو چھو لے تو اسے سونا بنا دیتا ہے۔اردو لغت میں اسکے بارے میں لکھا ہے کہ ’’ایک پتھر جس کی نسبت مشہور ہے کہ لوہے سے چھو جائے تو اسے سونا بنا دیتا ہے‘‘۔ اب اس میں  کتنی حقیقت ہے اور کتنا فسانہ ہے اس راز سے اہل علم ہی شناسا ہوں گے۔
لیکن ان تمام ممالک کی فہرست میں سب سے نمایاں نام تو امریکہ بہادر کا ہے جسے دہشت گردی کے پارس پتھر نے سونا بنا دیا ۔ بلکہ یوں کہیے کہ اس کو تو کسی  پری کی جادو کی چھڑی مل گئی ہے جسے جیسا گھماتا ہے وہ ویسا ہی ہو جاتا ہے ۔۔۔ کبھی کبھی تو یوں کہنا  زیادہ بہتر لگتا ہے کہ جیسے اس کے ہاتھ میں تو عمرو عیار کی زنبیل آگئی ہے اوراس میں جس چیز کا خیال دل میں لا کر ہاتھ ڈالتا ہے وہ چیز اس کے اندر سے نکل آتی ہے ۔
قصہ دراصل یہ ہے کہ دنیا میں کسی نے بھی اجتماعی طور پر کبھی دہشت گردی کی بین الاقوامی اور جامع تعریف متعین نہیں کی ہے ۔جنگل کے قانون کی طرح ہر جنگلی جانور کا اپنا ہی قانون اور قاعدہ ہے ۔ اب اگردہشت گردی کی تعریف  متعین ہو جاتی توامریکہ اور اس کے حواری اپنی مرضی سے اس پارس پتھر کا استعمال نہیں کر سکتے تھے۔
اب چونکہ دہشت گردی کی تعریف متعین نہیں ہے لہذا جو بات امریکہ سرکار کو اچھی نہ لگی وہ دہشت گردی ہے۔ کسی نے بات نہ مانی تو وہ دہشت گرد ہے ۔ غرضیکہ دہشت گردی اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود امریکہ کے لئے پارس کا پتھر ثابت ہوئی۔ اب وہ جس انداز میں مرضی چاہیں اپنی خواہشات پوری کر سکتے ہیں ، اور اس کام میں ان کے حواری ان کے شانہ بشانہ ہیں۔
اسرائیل کو لیجئے۔ دہشت گردی اس کے لئے بھی ایک انعام سے کم نہیں۔ جب دل چاہا فلسطین پر حملہ کر دیا ۔۔ وجہ ؟؟  ”دہشت گردی “ کی روک تھام۔اس کے بعد اقوام متحدہ سمیت کوئی اسے روک نہیں سکتا۔
بھارت بھی اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں ۔ اس کے لئے تو دہشت گردی کسی نعمت  سے کم نہیں۔ پچھلے دنوں بھارت  کئی بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو نے کی وجہ سے بین الاقوامی تنقید کا نشانہ بنا ہوا تھا اور اس پر اپنے ملک میں اقلیتوں کے ساتھ وحشت و بربریت رواں رکھنے  پر  کچھ دباؤ تھا۔جس کے باعچ اسے اپنی خواہشات کی تکمیل میں مشکلات کا سامنا تھا۔
مثال کے طور پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے حق خود ارادیت نہ دینے کا مجرم ہونے کی وجہ سے اسے مختلف اطراف سے تنقید کا سامنا تھا۔ اب پانی کے مسئلے پر سند ھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزیاں زوروں پر ہیں ۔ پاکستان نے شور مچایا تو بھارت سرکار پر تنقید ہونے لگی۔
اب اس کے پاس مذاکرات کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا جس میں لازما بھارت کو رسم دنیا نبھانے کی خاطر ہی سہی  کچھ توماننا پڑتا ۔ اسی اثناء میں بھارت کی لاٹری نکل آئی اور ممبئی حملے ہوگئے جو دہشت گردی کے کھاتے میں لکھ دیئے گئے۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بغیر تحقیق کئے پاکستان پر الزام لگا دیا گیا۔ بھارتی میڈیا نے بھی حکومت کے کندھے سے کندھا ملا لیا اور پوری دنیا میں پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا۔پاکستانی قیادت پختہ عمر سیاست دانوں کی سیاسی نا پختگی کی وجہ سے بوکھلا گئی ۔
پاکستانیوں کی بوکھلاہٹ نے بھارت سرکار کے حوصلے اور بلند کر دئیے جس کے نتیجے میں انہوں نے پروپیگنڈا اور تیز کر دیا۔ پاکستان پر دباؤ اتنا بڑھا کہ اس کو اپنے پرانے تمام مسائل بھول گئے ۔ اور بھارت کے ساتھ  ثبوت ڈھونڈنے میں بھائی بھائی ہو گئے ۔۔  یہ حملے کس نے کرائے، اس کے پیچھے کن عناصر کا ہاتھ تھا۔ خود اندرونی علیحدگی پسند اس میں ملوث ہیں یا بیرونی ہاتھ ہے۔ یہ ساری باتیں ابھی تک تشنہ جواب ہیں ۔ جبکہ ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ یہ حملے خود بھارت سرکار کا کارنامہ ہے ۔
حقیقت جو بھی ہے بھارت کے لئے یہ دہشت گردی پارس کا پتھر ثابت ہوئی ہے  ۔ اب نہ تو کسی کو کشمیر کی فکر ہے اور نہ ہی پانی کا مسئلہ زیر بحث ہے۔ بس پاکستان پر دباؤ ہے کہ ان حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کی جائے۔
اگرچہ پاکستان دہشت گردی سے متاثر ہونے والے ملکوں میں سر فہرست  ہے ۔ ایک طرف بیرونی مداخلت روکنے کے لئے اسے فوج کی بڑی تعداد اپنی سرحدوں پر بھیجنی پڑی تو دوسری طرف داخلی انتشار پر قابو پانے کے لئے بے پناہ وسائل خرچ کرنے پڑ ے۔
لیکن اس کے باوجود پاکستانی حکمرانوں کے لئے بھی دہشت گردی ”پارس پتھر  “سے کم نہیں ہے۔کیوں کہ اس ضمن میں اب تک لاکھوں ڈالرز وصول کئے جا چکے ہیں۔ گزشتہ حکمرانوں نے اربوں روپے کمائے، جن کا بیشتر حصے سے  خوب شاہ خرچیاں کی گئیں۔ کچھ  اپنوں کو نوازنے اور مخالفوں کو چپ کرانے یا پچھاڑنے کے ”کار خیر“ میں استعمال ہو گئے۔
صاحبو!  مجھے کہنے دیجیئے کہ دہشت گردی اپنی تمام تر نقصانات کے علی الرغم بعض ممالک کے لئے ”پارس کا پتھر “ ثابت ہوئی ہے۔ ہر ملک اسے اپنے مفادات کے لئے استعمال کر رہا ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ دیگر ممالک کے حکمران اس کے استعمال میں ذاتی اور سیاسی مفادات کے ساتھ ساتھ ملکی مفاد کوبھی مد نظر رکھتے ہیں ، جبکہ پاکستان میں یہ پتھر صرف حکمران طبقے کے ذاتی مفادات کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
رہی عوام تو وہ دہشت گرد نہ ہونے کی سزا کاٹ رہی ہے۔ کہتے ہیں کہ پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے ایسے ہی پارس پتھر دہشت گردوں ہی کو کھینچ رہا ہے ۔۔ سو دہشت گردکسی بھی قماش کا ہو  دہشت گردی کے انعام پر سونا بن رہا ہے اور غریب عوام انہی کے ہاں اپنا سونا رہن رکھوا کر غریبی کے پتھر ڈھو رہے ہیں  ۔۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ترقی کی ضمانت ۔۔ دین یا لادینیت

ترقی اور کامیابی کی خواہش ہر انسان کے دل میں پیدائشی طور پر موجود ہے۔ جیسے ہی انسان شعور کے میدان میں قدم رکھتا ہے دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ میں لگ جاتا ہے۔ تعلیمی میدان ہو یا کھیل کا میدان، اچھے روزگار کی طلب ہو یا کاروبار کا ذکر ، یا پھر معاشرے میں اچھے مقام کی تگ و دو، زندگی کے ہر شعبے میں مقابلے اور مسابقت کا سماں ہے۔ یہ ایک فرد کا حال ہے۔ انہی افراد سے معاشرہ اور معاشرے سے قومیں تشکیل پاتی ہیں۔
مسابقت اور مقابلے کا یہ عنصر فرد سے معاشرے میں آجاتا ہے اور دوسروں سے آگے نکلنے کے لئے اجتماعی تگ و دو کا آغاز ہو جاتا ہے۔ قوم کے اجزائے ترکیبی میں رنگ، نسل، زبان، علاقائیت اور مذہب یا نظریہ جیسے عناصر شامل ہیں لیکن ان سب میں اہم اور موثر عنصر مذہب ہے۔ کیوں کہ نظریات اور مذہب پر تشکیل پانے والی اجتماعیت پائیدار اور دیر پا ہوتی ہے۔
مذہب یا نظریہ جو کسی بھی قوم کی بنیاد ہو وہ فطری اور بشری تقاضوں کو اپنی تعلیمات کا حصہ بناتا ہے، کیوں کہ اگر فطری تقاضوں کا لحاظ نہ کیا جائے تو اجتماعیت تا دیر بحال نہیں رہ سکتی۔ انہی فطری تقاضوں میں ایک ترقی اور کامیابی کا حصول ہے لہذا ہر مذہب اور نظریہ اپنے پیروکاروں کی ترقی کے لئے ایسے اصول وضع کرتا اور انہیں اپنی بنیادی تعلیمات کا حصہ بناتا ہے کہ اگر ان کے مطابق زندگی گزاری جائے تو یقینی کامیابی مقدر ہوتی ہے۔ اور اگر روگردانی برتی جائے تو ایک وقت کے بعد زوال شروع ہو جاتا ہے تباہی مقدر بن جاتی ہے۔ جس کی بے شمار مثالیں انسانی تاریخ میں موجود ہیں جن میں اپنی بنیادی تعلیمات سے روگردانی کرنے والی قومیں صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دی گئیں۔ اور جو اپنی تعلیمات پر کاربند رہیں انہوں نے دنیا پر حکومت کی۔
لیکن آج کل دنیا میں سیکولرازم کا طوطی بول رہا ہے۔ اہل دانش و بینش ، مغرب کے فاضلین اور سوشلسٹ اکابر کے خوشہ چین اس بات پر ایمان کی حد تک متیقن ہیں کہ کامیابی کی تمام راہیں سیکولر ازم یا لا دینیت کے چوراہے سے گزر کر جاتی ہیں، اور ترقی کی راہ میں واحد رکاوٹ دین یا مذہب ہے۔
ان روشن خیال دانشوروں سے اگر تاریخ انسانی سے کوئی مثال طلب کی جائے تو ہزاروں سال پر مشتمل اس تاریخ میں سے وہ صرف ایک مثال پیش کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں۔
 مذہب کی وجہ سے زوال و ناکامی اور ترک مذہب اور دین بیزاری کے باعث ترقی و کامیابی کی مثال وحید جو آج تک بطور دلیل پیش کی جاتی ہے وہ یورپ کا عصر تاریک (ڈارک ایج)   ہے۔
مگر بدقسمتی سے وہ مثال ”سوال گندم جواب چنا“ کے مصداق ان کے دعوے کا بھرم نہیں رکھ سکتی کیوں کہ دلیل دعوے کے مطابق نہیں۔ اصول یہ ہے کسی بھی مسئلے پر بات کرنے سے پہلے اس کے اجزاءکا علم ضروری ہے، اور مثال پیش کرتے ہوئے مسئلے کے بنیادی اجزاءکو پیش نطر رکھنا ہی اہل علم کا شیوہ ہے۔
بطور مثال اگر مذہب کی بات ہو، ترقی اور زوال میں اس کے کردار کی ہو تو مذہب اور اس کی بنیادی تعلیمات کے علم کے ساتھ ساتھ قوم کی ترقی کے لئے بتائے گئے اصولوں اور ان کی روشنی میں کار جہاں گیری کا ادراک بھی انتہائی ضروری ہے۔ تاکہ اس مذہب سے منسوب قوم کے زوال کا جائزہ لینے یا مذہب کو زوال کا سبب قرار دینے سے پہلے یہ دیکھ لیا جائے کہ آیا مذکورہ قوم بنیادی تعلیمات اور کار جہاں گیری کے اصولوں پر کار بند تھی یا نہیں؟ ورنہ صرف مذہب سے نسبت ترقی کی ضمانت نہیں ۔ 

عصر تاریک (ڈارک ایج )  کا اگر مختصر جائزہ لیا جائے تو یہ وہ دور ہے جب یورپ کی زمام اقتدار عیسائی رجال دین اور اہل کلیسا کے ہاتھ میں تھی۔ اہل کلیسا کی بات حرف آخر تھی اور اس سے اختلاف کا مطلب اپنی موت کا جواز مہیا کرنے یا موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف تھا۔ دینی و دنیاوی تمام معاملات میں اہل کلیسا کی رائے وحی سماوی کا درجہ رکتھی تھی۔ سزا و جزا کے تمام اختیارات کا منبع کلیسا تھا۔
 ایک جانب انجیل مقدس کی تعبیر و تشریح کا اخیتار اور دوسری طرف زمین کی ہیئت ، اجرام فلکی کی حرکت جیسے خالص دنیوی معاملات مکمل طور پر اہل کلیسا کے ہاتھ میں تھے۔ کئی نامور سائنس دان اور فلسفی صرف اختلاف رائے کی پاداش میں جان سے جاتے رہے اور کئی ایک کو سر عام زندہ جلا دیا گیا۔ فکرو اظہار پر قدغن کا نتیجہ فکری انجماد اور بے عملی کی صورت میں نکلا۔ اور یہی انجماد قوموں کی حیات میں زوال اور موت کا نقطہ آغاز ہوتا ہے۔ ترقی کی راہیں مسدود ہو گئیں، آگے بڑھنے کا جوش و ولولہ دم توڑ گیا اور تاریخ انسانی کا کئی صدیوں پر محیط عرصہ ہمیشہ کے لئے عصر تاریک کے نام سے موسوم ہو گیا ۔
لیکن یہاں جو بات غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ کیا اس وقت اہل کلیسا عیسائیت کی حقیقی تعلیمات پر کاربند تھے؟ کیا سیدنا عیسی علیہ السلام کی تعلیمات ہی ان کے تمام معاملات میں مشعل راہ تھیں؟کیا فکرو اظہار پر پابندی اور مرتکبین کے لئے سزائیں انجیل مقدس کی روشنی میں دی جاتی تھیں؟ کیا سیدنا عیسی علیہ السلام جیسا رحمدل انسان اتنی ظالم اور بھیانک تعلیمات دے سکتا ہے؟ ان تمام سوالات کا جواب یقینا نفی میں ہے۔
در حقیقت اس وقت جو عیسائیت رائج تھی وہ تحریف شدہ تھی، اناجیل اربعہ آسمانی وحی کے بجائے انسانوں کی آراءکا مجموعہ تھیں جو سیدنا عیسی علیہ السلام کی وفات سے سینکڑوں برس بعد تحریر کی گئیں۔ بلکہ اسے عیسائیت کے بجائے پولس کی تعلیمات کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ اور سینٹ پولس (سینٹ پال)  یہودی الاصل اور عیسی علیہ السلام کے بد ترین دشمنوں میں سے تھا، آپ کی وفات کے بعد عیسائیت قبول کی اور اپنی ذہانت کی بنا پر وہ مقام حاصل کیا کہ عیسائی اسے اپنا امام و پیشوا تصور کرنے لگے۔ جس سے فائدہ اٹھا کر اس نے عیسائیت کی بنیادیں ہی ہلا دیں۔
 توحید کی جگہ تثلیث کا عقیدہ لانے میں اس کا اہم کردار رہا۔ اپنے مقام و مرتبے اور اپنی ذہانت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے عیسی علیہ السلام کی لائی ہوئی تعلیمات کے بجائے ایسی تعلیمات کو عیسائیت میں شامل کر دیا جس نے عیسائیت کو عصر تاریک کی صورت میں ایک مستقل بد نما داغ دیا۔ اور جب عصر تاریک ختم ہوا اور اہل یورپ نے مذہب کا دامن چھوڑ کر سیکولرزم کا سہارا لیا تو ترقی کی منازل طے کرتے بام عروج کو پہنچے۔جسے دلیل بنا کر مذہب کو ترقی کا دشمن کہا جانے لگا۔ مگر ان تعلیمات کو مذہب کہنا اور اس کی ناکامی کو دلیل بنا کر مذہب کو زوال اور ناکامی کا سبب گرداننا سراسر زیادتی اور مذہب بیزاری ہے۔

حقیقت امر یہ ہے کہ دین و مذہب تو ترقی اور کامیابی کا ضامن ہے جس کی مثالیں تاریخ کے اوراق میں بکھری پڑی ہیں۔ ایک زندہ مثال جو عصر تاریک  ہی میں عرب کے ریگزاروں میں قائم ہو ئی۔ جب یورپ تاریک دور سے گزر رہا تھا عین اسی وقت ریگستان عرب میں اسلام کا سورج طلوع ہوا۔ اہل اسلام نے مذہب کی حقیقی تعلیمات کو مشعل راہ بنایا، بنیادی حقوق کا تحفظ کیا گیا، فکرو اظہار کی مکمل آزادی دی گئی۔رنگ و نسل اور امیر و غریب کے تمام امتیازات مٹا دیئے گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے عرب کے بدو اپنے وقت کی مہذب ترین اقوام کو تہذہب سکھاتے نطر آئے۔ مختصر عرصے میں دنیا کی امامت ان کے قدموں میں تھی۔ اور جب تک مذہب کی حقیقی تعلیمات پر کاربند رہے حکمرانی کرتے رہے۔ قلیل تعداد ہو کر بھی بڑی بڑی افواج پر فتح حاصل کرتے رہے اور اقلیت میں ہو کر بھی سینکڑوں سال اکثریت پر حکمرانی کی۔
اگر یہ مثال دی جا سکتی ہے کہ یورپ نے مذہب اور ملائیت سے چھٹکارا حاصل کیا تو ترقی اور کامیابی ملی، تو آخر یہ مثال کیوں نہیں دی جاتی کہ مسلمان جب تک اپنے مذہب پر عمل کرتے رہے دنیا پر حکمرانی کی اس لئے اگر کامیابی چاہیے تو مذہب کی طرف لوٹنا ہو گا۔
لیکن وہ ایسا کون کہے؟ اہل دانش کی فکری خوراک کا سرچشمہ تو مغرب ہے جہاں سے روشن خیالی اور اسلام دشمنی کے پرچار کا معاوضہ ملتا ہے۔
ہمیں بحیثیت مسلمان اپنا انداز فکر اور زاویہ نظر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ دیگر اقوام کے عروج و زوال کے قصے عبرت و نصیحت کے لئے ضرور پڑھیں مگر تقلید کے لئے نہیں۔ ہماری اپنی تاریخ اتنی جامع ہے کہ اس میں عروج و زوال کے تمام اسباب موجود ہیں، بس ذرا فکر و تدبر کی ضرورت ہے۔
اللہ ہمیں عقل سلیم کے استعمال اور نقل صحیح کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
 
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

امید بنو تعمیر کرو

  • وطن عزیز سیاسی ، معاشی اور امن و امان ہر تین حوالوں سے بہت ہی ناگفتہ بہ حالت سے گزر رہا ہے۔ ق لیگ کی حکومت میں شمولیت، ایم کیو ایم کی علیحدگی اور نون لیگ کی حقیقی اپوزیشن بننے کی کوشش نے سیاسی بازار کو خوب گرم کیا۔ اس گرمی کے براہ راست اثرات کراچی پر پڑےجہاں درجنوں شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، کتنی گودیں ویران ہو گئیں، کتنوں کے سہاگ اجڑ گئے۔ دوسری جانب توانائی کے بحران اور بجٹ کے اثرات نے معاشی طور پر عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ امن و امان کی صورتحال ایک طرف خود کش حملوں اور دھماکوں کی وجہ سے ابتر ہے تو رہی سہی کسر ڈرون حملوں نے پوری کر دی ہے۔ ابتری چاہے سیاسی و معاشی ہو یا امن و امان کے لحاظ سے زد صرف عوام پر پڑتی ہے۔
  • ایسے حالات میں مایوسی اور نا امیدی کا پیدا ہونا، جذباتیت کا بڑھ جانا اور پر تشدد واقعات رونما ہونا ایک فطری عمل ہے۔ کیوں کہ اس طرح کے حالات کا رد عمل کبھی بھی تعمیری نہیں ہوتا، بلکہ نفسا نفسی کی فضا قائم ہوجاتی ہے ، آپ دھاپی اور چھینا جھپٹی شروع ہو جاتی ہے۔ اگر حالات کو بدلنے اور عوام کو ریلیف دینے کی کوشش نہ کی جائے تو یہ عوامی غیظ و غضب سیلابی ریلے کی صورت اختیار کرلیتا ہے ۔ اور یہ ریلا کبھی حکومتوں کو کھا جاتا ہے اور کبھی ملکوں کو۔ اسی طرح کے حالات کے تسلسل کے نتائج عرب دنیا اور شمالی افریقہ کے ملک لیبیا میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
  • اب یہ ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ نفسا نفسی اور آپا دھاپی کو چھوڑ کر "پاکستان کی آواز" بنے۔ اپنے مفادات پر ملکی مفادات کو ترجیح دے اور اپنی وابستگیاں، چاہے وہ سیاسی ہوں یا معاشرتی ، ملکی اور ملی مفادات کے تابع کرے ۔
آئیے!! امید بنیں تعمیر کریں سب مل کر پاکستان کی ۔۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>