11.18.2011

دہشت گردی یا پارس کا پتھر

ساری دنیا کہتی ہی نہیں جانتی بھی ہے کہ دہشت گردی ایک لعنت ہے۔  کوئی مذہب تو کجا کوئی ہوشمند اور ذی شعور انسان اس کی اجازت نہیں دے سکتالیکن یہی دہشت گردی اپنی تمام تر خامیوں، تباہیوں اور نقصانات کے باوجود بعض ممالک کے لئے پارس کا پتھر ثابت ہوئی ہے۔
پارس کا پتھر اس حوالے سے مشہور ہے کہ دہ خود تو پتھر ہوتا ہے لیکن اگر لوہے کو چھو لے تو اسے سونا بنا دیتا ہے۔اردو لغت میں اسکے بارے میں لکھا ہے کہ ’’ایک پتھر جس کی نسبت مشہور ہے کہ لوہے سے چھو جائے تو اسے سونا بنا دیتا ہے‘‘۔ اب اس میں  کتنی حقیقت ہے اور کتنا فسانہ ہے اس راز سے اہل علم ہی شناسا ہوں گے۔
لیکن ان تمام ممالک کی فہرست میں سب سے نمایاں نام تو امریکہ بہادر کا ہے جسے دہشت گردی کے پارس پتھر نے سونا بنا دیا ۔ بلکہ یوں کہیے کہ اس کو تو کسی  پری کی جادو کی چھڑی مل گئی ہے جسے جیسا گھماتا ہے وہ ویسا ہی ہو جاتا ہے ۔۔۔ کبھی کبھی تو یوں کہنا  زیادہ بہتر لگتا ہے کہ جیسے اس کے ہاتھ میں تو عمرو عیار کی زنبیل آگئی ہے اوراس میں جس چیز کا خیال دل میں لا کر ہاتھ ڈالتا ہے وہ چیز اس کے اندر سے نکل آتی ہے ۔
قصہ دراصل یہ ہے کہ دنیا میں کسی نے بھی اجتماعی طور پر کبھی دہشت گردی کی بین الاقوامی اور جامع تعریف متعین نہیں کی ہے ۔جنگل کے قانون کی طرح ہر جنگلی جانور کا اپنا ہی قانون اور قاعدہ ہے ۔ اب اگردہشت گردی کی تعریف  متعین ہو جاتی توامریکہ اور اس کے حواری اپنی مرضی سے اس پارس پتھر کا استعمال نہیں کر سکتے تھے۔
اب چونکہ دہشت گردی کی تعریف متعین نہیں ہے لہذا جو بات امریکہ سرکار کو اچھی نہ لگی وہ دہشت گردی ہے۔ کسی نے بات نہ مانی تو وہ دہشت گرد ہے ۔ غرضیکہ دہشت گردی اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود امریکہ کے لئے پارس کا پتھر ثابت ہوئی۔ اب وہ جس انداز میں مرضی چاہیں اپنی خواہشات پوری کر سکتے ہیں ، اور اس کام میں ان کے حواری ان کے شانہ بشانہ ہیں۔
اسرائیل کو لیجئے۔ دہشت گردی اس کے لئے بھی ایک انعام سے کم نہیں۔ جب دل چاہا فلسطین پر حملہ کر دیا ۔۔ وجہ ؟؟  ”دہشت گردی “ کی روک تھام۔اس کے بعد اقوام متحدہ سمیت کوئی اسے روک نہیں سکتا۔
بھارت بھی اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں ۔ اس کے لئے تو دہشت گردی کسی نعمت  سے کم نہیں۔ پچھلے دنوں بھارت  کئی بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو نے کی وجہ سے بین الاقوامی تنقید کا نشانہ بنا ہوا تھا اور اس پر اپنے ملک میں اقلیتوں کے ساتھ وحشت و بربریت رواں رکھنے  پر  کچھ دباؤ تھا۔جس کے باعچ اسے اپنی خواہشات کی تکمیل میں مشکلات کا سامنا تھا۔
مثال کے طور پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے حق خود ارادیت نہ دینے کا مجرم ہونے کی وجہ سے اسے مختلف اطراف سے تنقید کا سامنا تھا۔ اب پانی کے مسئلے پر سند ھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزیاں زوروں پر ہیں ۔ پاکستان نے شور مچایا تو بھارت سرکار پر تنقید ہونے لگی۔
اب اس کے پاس مذاکرات کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا جس میں لازما بھارت کو رسم دنیا نبھانے کی خاطر ہی سہی  کچھ توماننا پڑتا ۔ اسی اثناء میں بھارت کی لاٹری نکل آئی اور ممبئی حملے ہوگئے جو دہشت گردی کے کھاتے میں لکھ دیئے گئے۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بغیر تحقیق کئے پاکستان پر الزام لگا دیا گیا۔ بھارتی میڈیا نے بھی حکومت کے کندھے سے کندھا ملا لیا اور پوری دنیا میں پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا۔پاکستانی قیادت پختہ عمر سیاست دانوں کی سیاسی نا پختگی کی وجہ سے بوکھلا گئی ۔
پاکستانیوں کی بوکھلاہٹ نے بھارت سرکار کے حوصلے اور بلند کر دئیے جس کے نتیجے میں انہوں نے پروپیگنڈا اور تیز کر دیا۔ پاکستان پر دباؤ اتنا بڑھا کہ اس کو اپنے پرانے تمام مسائل بھول گئے ۔ اور بھارت کے ساتھ  ثبوت ڈھونڈنے میں بھائی بھائی ہو گئے ۔۔  یہ حملے کس نے کرائے، اس کے پیچھے کن عناصر کا ہاتھ تھا۔ خود اندرونی علیحدگی پسند اس میں ملوث ہیں یا بیرونی ہاتھ ہے۔ یہ ساری باتیں ابھی تک تشنہ جواب ہیں ۔ جبکہ ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ یہ حملے خود بھارت سرکار کا کارنامہ ہے ۔
حقیقت جو بھی ہے بھارت کے لئے یہ دہشت گردی پارس کا پتھر ثابت ہوئی ہے  ۔ اب نہ تو کسی کو کشمیر کی فکر ہے اور نہ ہی پانی کا مسئلہ زیر بحث ہے۔ بس پاکستان پر دباؤ ہے کہ ان حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کی جائے۔
اگرچہ پاکستان دہشت گردی سے متاثر ہونے والے ملکوں میں سر فہرست  ہے ۔ ایک طرف بیرونی مداخلت روکنے کے لئے اسے فوج کی بڑی تعداد اپنی سرحدوں پر بھیجنی پڑی تو دوسری طرف داخلی انتشار پر قابو پانے کے لئے بے پناہ وسائل خرچ کرنے پڑ ے۔
لیکن اس کے باوجود پاکستانی حکمرانوں کے لئے بھی دہشت گردی ”پارس پتھر  “سے کم نہیں ہے۔کیوں کہ اس ضمن میں اب تک لاکھوں ڈالرز وصول کئے جا چکے ہیں۔ گزشتہ حکمرانوں نے اربوں روپے کمائے، جن کا بیشتر حصے سے  خوب شاہ خرچیاں کی گئیں۔ کچھ  اپنوں کو نوازنے اور مخالفوں کو چپ کرانے یا پچھاڑنے کے ”کار خیر“ میں استعمال ہو گئے۔
صاحبو!  مجھے کہنے دیجیئے کہ دہشت گردی اپنی تمام تر نقصانات کے علی الرغم بعض ممالک کے لئے ”پارس کا پتھر “ ثابت ہوئی ہے۔ ہر ملک اسے اپنے مفادات کے لئے استعمال کر رہا ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ دیگر ممالک کے حکمران اس کے استعمال میں ذاتی اور سیاسی مفادات کے ساتھ ساتھ ملکی مفاد کوبھی مد نظر رکھتے ہیں ، جبکہ پاکستان میں یہ پتھر صرف حکمران طبقے کے ذاتی مفادات کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
رہی عوام تو وہ دہشت گرد نہ ہونے کی سزا کاٹ رہی ہے۔ کہتے ہیں کہ پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے ایسے ہی پارس پتھر دہشت گردوں ہی کو کھینچ رہا ہے ۔۔ سو دہشت گردکسی بھی قماش کا ہو  دہشت گردی کے انعام پر سونا بن رہا ہے اور غریب عوام انہی کے ہاں اپنا سونا رہن رکھوا کر غریبی کے پتھر ڈھو رہے ہیں  ۔۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔