انقلاب کی گرتی ساکھ




تحریر: راجہ اکرام الحق


14 اگست 2014 ءسے جاری آزادی مارچ حقیقی اور لغوی آزادی کی جانب بڑی تیزی سے رواں دواں ہے۔ اور خدشہ ہے کہ اگر یہ سفر اسی رفتار سے جاری رہا تو سرزمین پاکستان پر آزادی کا ایسا سورج اپنی پوری تابانی کے ساتھ ضو فشاں ہو گا کہ "مادر پدر آزادی" بھی منہ چھپاتی پھرے گی۔ لیکن برا ہو جاوید ہاشمی کا جنہوں نے اپنی خود نوشت "ہاں میں باغی ہوں" کی لاج رکھتے ہوئے ایک بار پھر بغاوت کر دی۔ ہاشمی صاحب کو تو اس بغاوت کے کئی فائدے ہو سکتے ہیں لیکن عمران خان کے حق میں یہ بغاوت خود کش حملے سے کم نہیں۔ البتہ ہاشمی صاحب کے انکشافات اور خدشات سننے کے امپائر کی انگلی کے تعین میں کچھ رہنمائی ملی۔

یار لوگوں نے اٹھتے ہی ہاشمی صاحب کی نیت میں فتور تلاش کر لیا۔ نہ تحقیق کی گزارش نہ الزامات عائد کرنے والے پر کوئی کیس اور نہ ہرجانے کا دعویٰ۔ لیکن اگر جاوید ہاشمی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا جائزہ لیا جائے اور ان کا تقابل ان کی بدن بولی (باڈی لینگویج) سے کیا جائے، ان کے سابقہ کردار پر نگاہ ڈالی جائے، زمینی حقائق اور منظر نامے کو پیش نظر رکھ کر سوچا جائے تو کوئی ایک وجہ ایسی نہیں ملتی جس کی بنیاد پر ہاشمی صاحب کی نیت میں فتور والے نظریے کو تقویت ملتی ہو۔ نیز یہ بات بھی اہم ہے کہ ہاشمی صاحب کے انکشافات اپنی نوعیت کے نئے الزامات نہیں بلکہ آزادی مارچ کے آغاز پر ہی اصحاب فہم نے اشاروں کنایوں میں تو کبھی کھلے بندوں ان خدشات کا اظہار کر دیا تھا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، دونوں جماعتوں کے دھرنے کے طریقہ کار، وقت کی ہم آہنگی اور مطالبات کی یکسانیت کی وجہ سے یہ تاثر پختہ ہوتا گیا کہ واقعتا کوئی قوت ہے جو اس سارے پتلی تماشے کی ڈور کو بڑے ماہرانہ انداز سے حرکت دے رہی ہے، ہاشمی صاحب نے اس مفروضے پر مہر تصدیق لگا کر اسے حقیقت کا روپ دے دیا۔
 
ہاشمی صاحب کے انکشافات اور خدشات کو ایک جانب رکھ کر بھی اگر دیکھا جائے اور دونوں تنظیموں کے پروگرامات اور مارچ کا جائزہ لیا جائے تو یہ تصور پختہ ہو جاتا ہے کہ واقعتا سب کچھ پہلے سے طے شدہ ہے۔ ایک ہی وقت کا انتخاب، ایک ہی روٹ کا انتخاب، دھرنے کے لیے ایک ہی جگہ کا انتخاب، ایک مطالبے میں مکمل یکسانیت اور یکساں ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ، ایک ہی وقت میں مارچ کو آگے بڑھانے کا فیصلہ، ریڈ زون اور پارلیمینٹ ہاؤس میں گھسنے اور توڑ پھوڑ کی مشترکہ کوشش، پی ٹی وی پر حملہ اور بالآخر 2 ستمبر کو "دو جان یک کنٹینر"  کا عملی مظاہرہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ میچ فکس تھا اور سب کچھ پیشگی طے شدہ تھا۔ لیکن ہاشمی صاحب نے جو پسوڑی ڈال دی ہے اس کے بعد امپائر کو اپنی ساکھ بچانے کی فکر زیادہ ہے اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ اب میچ کا فیصلہ مختلف ہو سکتا ہے۔
 
انقلاب مارچ ایک طرف، آزادی مارچ اپنی جگہ، مطالبات کا قرین عقل ہونا یا نہ ہونا اور فریقین کا رویہ اپنی جگہ، تاہم یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ ہاشمی صاحب کی پریس کانفرنس کے بعد عمران خان کی حیثیت عرفی زائل ہو چکی، اس سارے ڈرامے میں ان کا کردار مشکوک ہو چکا بلکہ اگر غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو منتخب حکومت کے خلاف خفیہ سازش کرنے اور اس سازش میں قابل احترام ملکی ادارے کو ملوث کرنے کے جرم میں بغاوت کا مقدمہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس وقت ملکی حالات اس قدر گھمبیر ہیں کہ شاید اس جانب کسی کی سوچ ہی نہیں جا رہی۔
 
ابھی ہاشمی صاحب کے انکشافات پر سیر حاصل بحث ہوئی ہی نہیں تھی کہ مرید حسین نے تحریک انصاف کے ایک اور سرکردہ رہنما اور اپنے بڑے بھائی شاہ محمود قریشی کے حوالہ سے انکشافات کا دفتر کھول دیا۔ ان الزامات میں بھی مرکزی کردار فوج ہی نظر آ رہی ہے جس نے تحریک انصاف کے "آزادی مارچ" کو مزید مشکوک بنا دیا اور ہچکولے کھاتی کشتی کو مزید خطرے میں ڈال دیا۔ 

اس سارے منظر نامے کے بعد سوال یہ ہے کہ اب عمران خان کے وعدوں، دعووں، جمہوریت پسندی، آزدی مارچ کی کیا حیثیت رہ گئی ؟ کیا ان حالات میں عمران خان کا نواز شریف کے استعفیٰ کے مطالبے پر اڑا رہنا عقل مندی ہے۔ کیا نواز شریف کا استعفیٰ زیادہ ضروری ہے یا عمران خان کا اپنی حیثیت عرفی بحال کرنا زیادہ ضروری ہے؟ کیا اگر یہ انکشافات بے بنیاد ہوتے، یا الزامات میں صداقت نہ ہوتی تو عمران خان اس طرح ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیتے یا ہتک عزت کا کیس کر کے بھاری بھرکم ہرجانے کا دعویٰ کرتے؟عمران خان یا تحریک انصاف بے شک تسلیم نہ کریں لیکن فوج کا فوری اظہار لا تعلقی اور عمران کی خاموشی بزبان حال بہت کچھ کہہ گئی ہے۔ یہی سوالات قریشی صاحب کے حوالہ سے بھی اٹھائے جا سکتے ہیں۔

دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ خان صاحب اور تحریک انصاف اب وزارت عظمیٰ کی جنگ کو کچھ وقت کے لیے موؤخر کر کے پہلے اپنی حیثیت عرفی کی بحالی پر توجہ دیں اس سے قبل کہ ان کا تیزی سے گرتا ہوا قبولیت کا گراف صفر سے بھی نیچے لڑھک جائے اور سوائے افسوس کے کچھ نہ بچے۔ اور عوام نے تحریک انصاف اور عمران خان کی صورت میں اپنے حسین مستقبل کا جو خواب دیکھا تھا وہ مکمل چکنا چور نہ ہو جائے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>