1.01.2013

طاہر بھائی الطاف بھائی: پاکستان کی شامت آئی؟؟





وطن عزیز نے اپنی 65 سالہ زندگی میں جو نابغے دیکھے ہیں ان کی مثال دیگر ممالک اپنی سو سالہ تاریخ میں پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ ہر نابغہ اپنے تئیں، نجات دھندہ، انقلابی، کامیابی کا روشن استعارہ اور پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے والا ہوتا ہے۔ باقی تو اپنی اپنی توانائیاں صرف کر کے اور ملک کا بیڑہ غرق کر کے کسی نہ کسی حد تک سکون کی کیفیت میں ہیں۔
ابھی پرانی نجات دھندوں کے حب الوطنی کے جذبات کے اثرات سے عوام پاکستان نکلے ہی نہ تھے کہ انقلابیوں کی ایک اور فوج برساتی مینڈکوں کی طرح پھدکتی کودتی ایک بار پھر عوام کے سینے پر مونگ دلنے کے لیے میدان عمل میں اتر آئی ہے۔
ابھی عمران خان کے سونامی انقلاب کے تھپیڑوں میں کچھ کمی آئی تھی، کچھ جھاگ بیٹھی تھی کہ ایک اور انقلابی، جو سیاست کی بھول بھلیوں میں بے مثال ناکامیوں سے مایوس ہو کر مذہب کے میدان میں جھنڈے گاڑنے کے لیے بدیس سدھار گئے تھے ایک بار پھر انقلاب کے ہاتھوں مجبور ہو کر وطن عزیز واپس آ گئے ہیں اور دن رات عوام کے غم میں گھل رہے ہیں۔ اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ پاکستان کے استحکام، اس کے نظام کی اصلاح اور عوام کی بہبود کے لیے اس سیاسی جماعت کو اپنا ہمسفر اور ہم نشین بنایا ہے جو تشکیل پاکستان کو اس صدی کی سب سے بڑی غلطی کہتے ہیں، جو وطن سے اس قدر محبت کرتے ہیں کہ یہاں آنے تک کی ہمت نہیں کر پاتے اور جن کے کارنامے ان کی حب الوطنی کی زندہ و جاوید مثال ہے۔
یوں تو موصوف کے معتقدین انہیں شیخ الاسلام سے کم کسی مرتبے پر رکھنے کے سرے سے روادار ہی نہیں لیکن شیخ صاحب کے کارنامے اور قصے اگر سن لیے جائیں تو بادی النظر میں ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ شاید انہیں کسی خاص مقصد کے لیے تیار کیا گیا اور اب استعمال کیا جا رہا ہے۔ حضرت کے خطبات، ان کے خواب اور بیانات سننے کے بعد ایک من چلے نے فی البدیہہ انہیں ایسا لقب دیا جو ان کی اصل حقیقت کو آشکار کرنے کے لیے کسی بھرپور مقالے سے زیادہ مؤثر ہے۔ اور ہو ہے "شیک الاسلام"۔ جس طرح کے کارنامے حضرت اب تک منصہ شہود پر آئے ہیں اس کے بعد شیخ کے بجائے Shake الاسلام والا لقب زیادہ جامع، زیادہ قرین قیاس اور زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔
رہی سہی کسر اس وقت پوری ہو گئ جب اسلام کے شیخ نے قادیانیوں کے سب بے بڑے حمایتی کو اپنا دست و بازو بنا لیا اور یہاں تک فرما دیا کہ ایم کیو ایم اور ہم ایک روح دو جسم ہیں۔ مقام حیرت ہے کہ تھوڑی سی شہرت اور مدد حاصل کرنے کے لیے شیک صاحب کہاں تک گر گئے۔
لیکن یہ حیرت تو ہمیں ہے، ان کے لیے تو یہ جوڑ فطری ہے کیوں کہ ایک جانب شیک الاسلام ہیں تو دوسری جانب شیک الباکستان۔ دونوں مل کر اسلام اور پاکستان کو جو حشر کرنے پر تلے ہوئے ہیں اس کا اندازہ ذی شعور حلقوں کو روز اول ہی سے ہو رہا ہے۔
ایک جملہ معترضہ کے طور پر یہ بات بھی ذکر کر دی جائے تو مفید ہو گی کہ، فصلی انقلابیوں کی قدر مشترک ہے کہ وزیر اعظم بننے کا شوق یکساں طور پر پایا جاتا ہے۔ عمران خان تو نئے انتخابات کے بعد خود کو وزیر اعظم سے کم کسی پوسٹ پر دیکھنے کے روادار نہیں لیکن شیک صاحب تو ابھی سے نگران سیٹ اپ کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور 14 جنوری والے Shake Pakistan مارچ کا اہم ایجنڈہ بھی یہی ہے ۔
اب دیکھئے شیک الاسلام اور شیک الباکستان مل کر کیا گل کھلاتے ہیں۔

7 comments:

افتخار راجہ نے لکھا ہے

ویسے مذید کچھ لکھنا تو گستاخی ہی ہوگی، مگر آپ کی تائید کرتے ہوئے یہ یاد کراتا چلوں کہ یہ موبلی جی قول فعل کےتضاد کے چمپئن ہیں، چاہے وہ خوابوں کا بیان ہو، ، جعلی حملہ یا پھر اب ہر روز بیان تبدیل ہورہے، ہلہ ہلہ کرکے

January 1, 2013 at 11:07 AM
محمد ریاض شاہد نے لکھا ہے

جب مولانا پہلی دفعہ ٹی وی پر جلوہ گر ہوئے تھے تو ان کا انداز بیاں بہت اچھا لگا تھا ۔ پھر جب انہوں نے سیاست میں پیر دھرا تو ان کی قلابازیاں دیکھ دیکھ کر اب مدت ہوئی کبھی خواہش نہیں ابھری کہ دوبارہ دیکحوں

January 1, 2013 at 11:50 AM
عکس خیال نے لکھا ہے

مکرمی راجہ افتخار
ان موبلی صاحب نے روز اول سے ہی ایسے ایسے کرتب دکھائے ہیں کہ ذرا سا بھی شعور رکھنے والا سمجھ سکتا ہے، مگر پھر بھی عوام کی ایک بڑی تعداد نہ کیا سوچ کر ان کی عقیدت میں بھنگڑے ڈالنے اور سجدے کرنے تک کے لیے تیار ہے

January 1, 2013 at 1:14 PM
عکس خیال نے لکھا ہے

السلام علیکم مکرمی ریاض شاھد
تشریف آوری کا شکریہ

ان حضرت نے کافی عرصہ اپنے خوابوں اور بیانوں سے دھوم مچائے رکھی لیکن لگتا ہے اب ان کا سیاسی دنگل ان کی اصلیت کو برے طریقے سے بے نقاب کر دے گا

January 1, 2013 at 1:15 PM
Muhammad Mahtab Saleem نے لکھا ہے

پہلے کیا کوئ کسر رہ گیَ تھی جو مولوی صاحب پوری کریں گے ۔

January 1, 2013 at 7:12 PM
Ammar IbneZia نے لکھا ہے

جب طاہر القادری صاحب کی وطن واپسی ہوئی تو اعلانات اور نعروں نے مجھے دال میں کچھ کچھ کالا دکھایا، لیکن متحدہ قومی موومنٹ سے اتحاد کے بعد اب بغیر سیاہ چشمہ پہنے مجھے پوری دال کالی نظر آرہی ہے۔

January 2, 2013 at 12:13 AM
Raja Atif نے لکھا ہے

راجہ اکرام صاحب انتہائی شاندار تحریر،مزا آیا پڑھ کے۔

ویسے الطاف قادری گٹھ جوڑ ۔۔۔نو کمنٹس۔۔۔۔
ٓ

January 2, 2013 at 1:15 PM

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔