سانحہ نوابشاہ: کون مرا کس نے مارا؟





ابھی 22 مئی کے زخموں سے خون رسنا بند نہیں ہوا تھا کہ 25 مئی بروز جمعہ کو ایک اور سانحہ رونما ہو گیا۔ صوبہ سندھ کے ضلع نوابشاہ میں قاضی احمد کے مقام پر کراچی سے کوہاٹ جانے والی ایک بس پرفائرنگ کر کے 8 افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔  میری معلومات کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں کراچی سے پنجاب یا سرحد  جانے والی مسافر بسوں پر اس طرح فائرنگ کی گئی ہو۔ اگر پہلا نہ بھی ہو تو اس نوعیت کے واقعات  شاذ و نادر ہی ہیں۔"لوٹ مار کے واقعات اس سے مستثنیٰ ہیں کیوں کہ وہ کم و بیش ہر جگہ رونما ہوتے رہتے ہیں"  واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ مرحومین کی مغفرت فرمائے اور  ان کے خون کی قربانی  کے بدلے وطن عزیز کو امن کی دولت سے نوازے۔ آمین

یہ فائرنگ کس نے کی،  نشانے پر کون تھا، پس پردہ مقاصد کیا تھے  اور کون  سے عناصر  اس میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ ان سوالوں کا جواب یا تو عینی شاہدین دے سکتے تھے یا پھر تفتیش کے بعد ہی مصدقہ طور پر کچھ کہا جا سکتا تھا۔ تاحال اس حوالے سے کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی کہ  اس فعل مذموم کا ارتکاب کس نے کیا اور کس کے کہنے پر کیا۔

بادی النظر میں یہ کہا جا سکتا ہے  کہ سندھ کا علاقہ ہے، مرنے والوں میں صوبہ پنجاب کے لوگ بھی شامل ہیں،  سندھی قوم پرستوں کو پنجاب سے پرخاش ہے جس کی بنا پر وہ اس طرح کااقدام کر سکتے ہیں۔

   لیکن معاملہ اس کے بالکل برعکس  نکلا۔  ابھی سندھی، پنجابی اور پٹھا ن خاموش تھے کہ مہاجر صوبے کے دعوے داروں نے اس واقعہ کو کیش کرانا شروع کر دیا۔ سوشل میڈیا پر یہ افواہیں پھیلانا شروع کر دیں کہ "اردو بولنے والوں اور مہاجروں کو قتل کیا گیا"۔ بظاہر دیکھا جائے تو مہاجروں کا اس پورے واقعے سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ کیوں کہ نہ تو ان کا علاقہ تھا اور نہ کوہاٹ جانیوالی کسی بس میں ان کا پایا جانا ضروری تھا۔ لیکن اس کے باوجود جس انداز سے ان لوگوں نے افواہیں پھیلانا شروع کیں اس نے ان کے کردار کو مشکوک بنا دیا۔
22 مئی کو سندھ 
قوم پرستوں کی ریلی پر فائرنگ کر کے 11 فراد کی ہلاکت کے بعد ایم کیو ایم پر جو الزامات لگ رہے تھے اس سے توجہ ہٹانے کے لیے اس واقعے کا جس طرح ایم کیوا یم  نے سہارا لینے کی کوشش کی  اس سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ 

تفتیش کا پہلا اصول ہی شک ہے۔ اسی شک کے فلسفے کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایم کیو ایم یا مہاجر صوبے کے دعویداروں نے جس انداز سے سانحہ نوابشاہ کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کی ہے اس سے اس شک کو تقویت ملتی ہے کہ اس واقعے میں ملوث عناصر میں ان کا پایا جانا بعید از قیاس نہیں۔ عین ممکن ہے کہ کراچی کے واقعہ سے توجہ ہٹانے اور سندھ قوم پرستوں کو سبق سکھانے کے لیے معصوم پنجابیوں اور پٹھانوں کی بلی چڑھائی گئی  ہو۔

تفتیش کا دوسرا اہم اصول یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ واقعہ سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔  اس اصول کے پیش نظر دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ اس سانحے سے فائدہ حاصل کرنے کی سب سے پہلی کوشش ایم کیو ایم کی جانب سے کی گئی جس نے ان کے کردار کو اور بھی مشکوک بنا دیا۔

اس اندوہناک سانحے کی تفتیش کے دوران تمام ہی پہلووں کو مد نظر کر تمام عناصر کو  زیر تفتیش لایا جانا ضروری ہے تا کہ مجرم کیف کردار تک پہنچ سکیں اور آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام ہو سکے۔

ایک اور اہم بات جو سب پاکستانیوں کو مد نظر رکھنی چاہیے اس طرح کے واقعات لسانی تعصب کو ہوا دینے کے لیے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں اور ملک دشمن عناصر  تعصب کی آگ کو بھڑکانے کے لیے ان واقعات کو  بہت مؤثر انداز سے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس لیے جوش کے بجائے ہوش کا دامن تھامنا ہو گا تا کہ سماج دشمن اور ملک دشمن عناصر کے مقاصد پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکیں۔  

مکمل تحریر اور تبصرے >>>