11.18.2011

فکرِ اقبال کا پیغام ۔ نوجوانوں کے نام



آج 9  نومبر اس عظیم انسان کا یوم پیدائش ہے جسے ہم میں سے اکثر بطور شاعر جانتے ہیں لیکن اسے صرف شاعر کہنا اس کی شان میں کمی کے مترادف ہے۔ گزشتہ صدی کا ایک عظیم مفکر، جس کی فکر نے کبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا کر دیا، ایک عظیم فلسفی جس کے فلسفے نے بےعملی کے عمومی رویے سے ہٹ کر عملیت اور جدو جہد کا درس دیا۔ ایک سیاسی مدبر جس نے بیسویں صدی کے سب سے کامیاب نظریہ ‘‘نظریہ پاکستان’’ کا تصور پیش کیا اور اسے حقیقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک صوفی جس نے تمام قدیم رائج شدہ تصورات کے خلاف آواز اٹھائی جن کے خلاف بولنے پر کفر کے فتوے منتظر تھے جس کا ذکر ‘‘ابلیس کی مجلس شوریٰ’’ میں بالتفصیل ہے۔ذکرو فکر صبح گاہی اور مزاج خانقاہی میں پختہ تر ہو کر دنیا و ما فیہا سے بے خبر ہونے کی مذمت کرتے ہوئے اس حقیقی تصوف اور تزکیے کا درس دیا جو مطلوب شریعت ہے۔ ایک شاعر بے مثل جس نے زلف گرہ گیر، وصل و فراق، عشق و حسن کے جاں گداز جذبات اور ہوش ربا داستانوں سے ہٹ کر ایک مژدہ جانفزا اور ایک پیام امید دیا۔ شاندار ماضی کی جھلک دکھا کر پر شکوہ مستقبل کے لئے حال میں جدو جہد کرنے کا درس دیا۔ جمود و انحطاط سے نکل کر اجتہاد و ارتقاء کی شاہراہ پر گامزن ہونے کا جوش و ولولہ دیا۔

اقبال کی فکر کو عموما تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ تین ادوار ہیں جن میں فکری ارتقاء ہوا۔ یہ تقسیم اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس کے بغیر بادی النظر میں ان کے ابتدائی اور آخری دور کے خیالات میں تضاد نظر آتا ہے۔ وہی اقبال جو ایک دور میں ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے اور مبہم طور پر ایک قوم کے تصور کی طرف جار رہے تھے جس کا ایک ثبوت ان کا مندرجہ ذیل شعر ہے
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
لیکن جب انہوں نے انگلستان جا کر مغربی قومیت اور وطنیت کو قریب سے دیکھا اور اسلام کے سیاسی و سماجی نظام کا خصوصی مطالعہ کیا تو جدید جغرافیائی وطنیت کے شدید مخالف اور وطن اور سرحدوں کی قید سے ما وراء ہو جاتے ہیں اور صرف اسلام کو ہی قومیت کی بنیاد قرار دیتے ہیں
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
اور
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
عام شاعرانہ اور فلسفیانہ بے عملی اور حال مستی کے بر عکس علامہ اقبال اقبال بطور ایک مفکر اور شاعر تحرک کے قائل تھے۔ ان کا خیال تھا کہ معاشرے کو متحرک رکھنے کے لئے ہر دم تازہ افکار و خیالات از حد ضروری ہیں "جہانِ تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود" یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جمود کو ختم کرکے اس فکری ارتقاء اور عقلیت پسندی کی حمایت کی جس کو مسلمان علماء ایک عرصہ سے چھوڑ چکے تھے۔ تہذیبی زوال چونکہ علمی اور فکری زوال کے باعث آتا ہے اور اس وقت مسلمان من حیث القوم فکری اور علمی حوالے سے شدید جمود، زوال اور احساس محرومی کا شکار تھے۔ ماضی پرستی کی دھن میں مستقبل سے نظریں چرا رہے تھے۔ انہوں نے اعتماد، خودی اور جدو جہد کا درس دے کر دل مسلم میں وہ تمنا پیدا کرنے کی کوشش کی جو قلب کو گرما دے اور روح کو تڑپا دے۔ اور مسلم نوجوانوں کو چشم تصور میں وہ گردوں دکھایا جس کا وہ ایک ٹوٹا ہوا ستارا ہے۔ علامہ اقبال کے افکار میں یہ حقیقیت پسندی، عملیت، فکری و عملی ارتقاء کی دعوت اور فلسفہ خودی اس لئے تھا کہ ان کی فکر براہ راست قرآن و سنت سے ماخوذ ہے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو فکر سے زیادہ عمل پر زور دیتی ہے اور انہیں یہ یقین تھا کہ اسلام ہی وہ زندہ قوت ہےجو ذہن انسانی کو نسل و وطن کی قیود سے آزاد کر کے بنی نوع انسان کی فلاح کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔
 آج مسلمان جس فکری و عملی دیوالیہ پن کا شکار ہیں، جمود و انحطاط کی جس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، غیروں سے مرعوبیت اور ذہنی غلامی کی جن پستیوں میں گرے ہوئے ہیں اس کی مثال اسی شکست خورہ شاہین کی سی ہے جو کرگسوں میں پلا ہو۔ ان حالات میں فکر اقبال ایک مژدہ جانفزا اور امید کا پیغام ہے۔ اس بار ہمیں روایتی انداز میں صرف تقاریب کا اہتمام کرنے اور پھر سب کچھ بھول جانے کے بجائے پیام اقبال کو سمجھنا ہوگا، اور یہ عہد کرنا ہو گا اب جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں والی زندگی کی حقیقت کو پانا ہے اور اس فکر کو اپنا کر خودی کے اس مقام تک پہنچنا ہے کہ
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

پھر ان شاء اللہ حالات بدلیں گے اور اس آدم خاکی کو وہ عروج حاصل ہو گا کہ انجم بھی سہم جائیں گے۔
لیکن اگر اب بھی ہم نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور اس پیغام کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی کوشش نہ کی تو "ہماری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں" 

تحریر: راجہ اکرام الحق

4 comments:

سیفی خان نے لکھا ہے

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ سے بھی نہیں رہا گیا پیر جی ۔ ۔ ۔

November 21, 2011 at 1:31 AM
seepshah نے لکھا ہے

بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
ہمارے حالات بھی بہتر ہونگے اور یہ طلبہ و طالبات، یہ مستقبل کے معمار ہی تبدیلی لائیں گے۔ ان شاء اللہ
نہیں نو مید اقبال اپنی کشت ویران سے
زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

December 6, 2011 at 5:10 AM
القلم نے لکھا ہے

ریگ عراق منتظر کشت حجاز تشنہ کام
خون حسین باز دہ کوفہ و شام خویش را

December 9, 2011 at 11:07 AM
Muhammad Idrees نے لکھا ہے

السلام علیکم و رحمة اللہ ! محترم راجہ محمد اکرام صاحب، آپ نے ماشاء اللہ بہت ہی اچھی سائٹ بنائی ہے اور یہ آپ کی بہت اچھی کاوش ہے جس سے طلباء ، طالبات کے ساتھ ساتھ عام قارئین کیلئے بھی بہت فائدہ مند اور علم میں اضافہ کا باعث ہے۔اللہ آپ کو اس اچھے کام میں بہت زیادہ ترقی دے اور اسے مزید بہتر بنانے اور زیادہ مواد فراہم کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔ (محمد ادریس، گوجرانوالہ)

June 28, 2012 at 12:26 AM

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔