11.18.2011

بھارت میں دہشت گردی کا اصل چہرہ



 تحریر : راجہ اکرام الحق
بھارت شاید خطے کا واحد ایسا ملک ہے جس میں جہاں ایک طرف علیحدگی کی سب سے زیادہ تحریکیں سرگرم عمل او ر فعال ہیں وہیں مذہبی انتہا پسند اپنے سوا کسی کو چین سے رہنے کی اجازت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان دو اسباب نے دیگر بے شمار کے ساتھ مل کر بھارت کی اندرونی حالت کو خطرناک حد تک تشویش ناک بنا دیا ہے۔ بطور خاص گزشتہ چند سالوں کے دوران ہونے والے مختلف واقعات نے دہشت گردی کی جو ایک لہر دوڑا دی ہے اس سے ہر انسان ہراساں نظر آتا ہے۔ جس میں احمد آباد ک، مکہ مسجد حیدر آباد، درگاہ اجمیر شریف اور مالی گاؤں میں بم دھماکے کا واقعہ ، پٹنہ میں عیسائیوں کے خلاف ہونے والے فسادات ، سمجھوتہ ایکپریس میں آتش زدگی اور ممبی پر ہونے والے حملے قابل ذکر ہیں۔
بھارت کا رویہ شروع ہی سے یہ رہا ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات رونما ہونے کے بعد تحقیق و تفتیش کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہوئے فوری طور پر الزام لگا دیتا ہے اور میڈیا بھی غیر جانبداری اور معروضیت کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے۔پھر پروپیگنڈے کا ایسا طوفان بدتمیزی برپا ہوتا ہے کہ اصل حقائق، اصل مجرم اور اصل چہرے اس کے شور تلے دب جاتے ہیں۔ اس طرح کی غیر سنجیدہ حرکت سے ان عناصر کو مزید ہلہ شیری ملتی ہے اور وہ اپنے نئے ہدف کے لئے تیاری میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کئی سال گزرنے کے باوجود بھارت نہ تو اصل مجرموں تک پہنچ سکا ہے اور نہ ہی ان واقعات کی روک تھام کے لئے کوئی مؤثر اقدامات کر سکا ہے۔
بھارت کی طرف سے سر فہرست ملزمان پڑوسی ملک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ، کالعدم جہادی تنظیمین یا انڈیا سے تعلق رکھنے والی مسلمان تنظیمیں انڈین مجاہدین اور سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (SIMI)ہی ہوتے ہیں۔ پہلے سے تیار شدہ ان ملزمان کی موجودگی انہیں تحقیق و تفتیش کی صعوبتوں اور پیچیدگیوں سے یکسر بے نیاز کر دیتی ہے۔ لیکن یہ اصل چہر نہیں ہے۔
قارئین کو یاد ہو گا کہ سمجھوتہ ایکسپریس اور مالی گاؤں والے واقعات کے بعد کرنل پروہت کا کردار سامنے آیا تھا جوکہ دہشت گردوں کے ساتھ تعاون میں ملوث تھا۔ پھر اس کے بعد ممبئی حملوں میں کرنل پروہت کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے والے ہیمنت کرکرے کی موت کا واقعہ بھی اسے انداز سے ہوا کہ ہندوستان میں دہشت گردی کے اصل چہرے کے خدو خال مزید واضح ہو گئے۔
اسی چہرے کو مزید بے نقاب کرنے کے لئے حال ہی میں انڈیا سے ایک کتاب چھپی ہے who killed karkary? The Real face of Terrorism in India ۔اس کتاب کے مصنف ایس ایم مُشِرف ہیں جو کہ سابق انسپیکٹر جنرل پولیس ۔مہاراشٹر ہیں ۔ مصنف نے 310صفحات کی اس کتاب میں ہیمنت کرکرے کے قتل کے اصل مجرموں کو بے نقاب کرنے کے لئے ممبئی حملوں اور ہندوستان میں ہونے والے ان اہم واقعات کی تحقیق پیش کی ہے جن میں بظاہر پڑوسی ملک ، آئی ایس آئی ، یا پھر بھارت کی کچھ اسلامی تنظیموں کو ہی مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔لیکن اس کتاب میں تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ اس کے پیچھے ہندو انتہا پسند وں او ر بطور خاص ہندوتوا کا ہاتھ ہے جن کی پشت پناہی فوج کے موجودہ اور سابقہ افسران کر رہے ہیںجن میں کرنل پروہت سب سے قابل ذکر ہے ۔کتاب میں موجود دلائل بہت ہی واضح انداز میں اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتے یں کہ ہیمنت کرکرے اصل مجرموں تک پہنچ چکا تھا اس لئے اس کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت قتل کروا دیا گیا۔ ان میں سے چند اہم واقعات کا ذکر اس اجمال کی تفصیل کے لئے کافی ہوگا۔
اس سلسلے کا سب سے اہم واقعہ مالی گاؤں میںہونے والا بم دھماکا ہے۔ 29 ستمبر 2008ءکو یہ واقعہ رونما ہوا ۔ اس کی تحقیقات کی ذمہ داری اینٹی ٹیرورزم اسکواڈ(ATS) کے سربراہ ہیمنت کرکرے کو دی گئی۔ دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے پہلی مرتبہ پیشہ ورانہ انداز میں تحقیق کی گئی اور اس کے نتائج نے نہ صرف انڈیا بلکہ پوری دنیا کی آنکھیں کھول دیں۔ جمہوریت اور سیکولرزم کے سارے دعوے زمین بوس ہو گئے۔ تحقیق نے یہ ثابت کر دیا کہ مسلح افواج کے افسران، حکومتی مشینری، انتہا پسند ہندوتوا اور سنگھ پریوار کا اس واقعے کے ساتھ واضح تعلق ہے۔
اور پھر بھارتی فوج کی تشکیل کردہ Court of Inquiry کی طرف سے اپنی آزاد تحقیقات کے بعد کرنل پروہت کے کورٹ مارشل کی سفارش نے رہی سہی کسر نکال دی جس کے بعد اس امر میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا کہ مالی گاؤں دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ اس تحقیق کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس اصل دہشت گرد نیٹ ورک کا سراغ مل گیا جو دہشت گردی کے تقریبا ہر واقعے میں کسی نہ کسی طور پر ملوث ہے اور جس کے کرتا دھرتا لوگوں میں کئی پردہ نشینوں کے نام بھی آتے ہیں۔
کرنل پروہت اور ان کے تائید یافتہ افراد اور گروہوں نے نہ صرف اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی بلکہ اور بھی انتہائی اہم واقعات میں ملوث ہونے کا اقرار کیا جو بھارت کے لئے نہ صرف اندرونی طور پر بلکہ دیگر ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات کے لئے بھی غیر معمولی حد تک خطرناک تھے ، اور کسی بھی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے تھے۔ان میں سے اہم ترین 19 فروری 2007ءکو سمجھوتا ایکسپریس کا سانحہ ، 18مئی 2007ءکو مکہ مسجد حیدر آباد میں ہونے والا دھماکہ اور 11 اکتوبر 2007ءکو اجمیر شریف درگاہ پر ہونے والا دھماکہ ہیں۔ ان تمام ہی واقعات کے ذمہ داری ابتدائی طور پر پڑوسی ملک اور مسلمان تنظیموں پر ہی لگائی گئی تھی لیکن تحقیقات نے بالکل برعکس نتائج سامنے لائے۔
26 نومبر 2008ءکو ممبئی میںہونے والے حملوں کی آڑ میں ہیمنت کرکرے کو اس کی ایمانداری کا بہترین ”صلہ“ دیتے ہوئے قتل کروا دیا گیا۔قانون کا تقاضا تھا کہ اس قدر اہم شخصیت کے قتل کی تحقیق فوری طور پر ہو جاتی لیکن تا حال حکومتی سطح پر اس طرح کی کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی جو بذات خود کسی سازش کا پتہ دیتی ہے۔ یاد رہے مالیگاو ¿ں پر ہونے والی تحقیقات پر بی جے پی ناپسندیدگی کا اظہار کر چکی تھی ۔
ہندو ستان میں دہشت گردی کا اصل چہرہ دیکھنے کے لئے بھی اس قتل کی تحقیقات ناگزیر ہیں تا کہ پتہ چلایا جا سکے کہ آخر وہ کون لوگ ہیں جو نہ صرف دہشت گردی میں ملوث ہیں بلکہ اس کی روک تھام کرنے والے افسران کو راستے سے ہٹانے کا کام بھی بڑی صفائی سے کر رہے ہیں۔
ایس ۔ایم ۔ مُشرِف نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اس قتل میں IB ملوث ہے۔ اس خدشے کی چند وجوہات ہیں جو کافی وزن رکھتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ حکومت کو بریف کرنے کا کام آئی بیIB کے ذمہ ہے، اور کرکرے کی تحقیقات آئی بھی کی رپورٹ کے بالکل برعکس جار ہی تھیں جو اس کے لئے نہ صرف خفت کا باعث تھیں بلکہ آئی بی کی ساکھ کے لئے بھی نقصان دہ تھیں۔ اس شرمندگی اور بدنامی سے بچنے کے لئے ضروری تھا کہ یہ کانٹا ہی نکال دیا جائے ۔مصنف نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ IB برہمنوں کا ایک ٹولہ ہے جن کے ہندوتوا کے ساتھ گہرے مراسم ہیں۔ چونکہ ہندوستان میں ہونے والی تمام تر دہشت گردی میں ہندو انتہا پسند وں کا ہاتھ ہوتا ہے جن کی پشت پناہی سرکاری اور سیاسی سطح ہوتی ہے۔ اس لئے وہ کسی ایسے شخص کو ہرگز برداشت نہیں کر سکتے جو ان کے کالے کرتوتوں کو بے نقاب کر سکتا ہے۔
یہاں ایک اور بات قابل غور ہے کہ کرنل پروہت پر نہ صرف کرکرے کی تحقیق میں بلکہ مسلح افواج کی طرف سے کی جانے والی تحقیق میں بھی جرم ثابت ہو چکا ہے اور اس کے کورٹ ماشل کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگانا ہر گز مشکل نہیں کہ کرنل کے عہدے پر فائز یہ شخص تنہا یہ کام نہیں کر رہا بلکہ ضرور اسے اپنے اعلی افسران کا آشیر باد اور جونیئرز کا مکمل تعاون حاصل ہو گا۔ ایک پورا نیٹ ورک ہے جو پوری تندہی کے ساتھ نہ صرف مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے بلکہ پاکستان اور مسلم تنظیموں کو بدنام کرنے میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہا۔
اس ساری بحث سے پتہ چلتا ہے کہ اصل دہشت گرد ہندو انتہا پسند ہیں جن کو مسلح افواج اور IB کا مکمل تعاون اور آشیر باد حاصل ہے۔
ہندوستان میں ہونے ولی دہشت گردی کے اصل چہرے کو دیکھنے کے لئے یہ کتاب انتہائی ناگزیر ہے ۔پالیسی سازوں، تجزیہ نگاروں اور اہل قلم کے لئے اس کا مطالعہ انتہائی مفید ہو گا ۔

2 comments:

Tahir Abbasi نے لکھا ہے

Sr G!
Masha Allah Cha Gae ho, hum kun gherakhlaqi batin lekhin ge. Ye to bot arq-rizi he ap ki.
Allah give u more strength and spirit
Tahir Abbasi

November 22, 2011 at 11:12 PM
عکس خیال نے لکھا ہے

السلام علیکم عباسی صاحب
پسندیدگی اور حوصلہ افزائی کا شکریہ
آپ کی حوصلہ افزائی ہمارے جذبوں کے لیے مہمیز کا کام دے گی

November 23, 2011 at 10:08 AM

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔