آزادی مارچ کا مایوس کن اختتام




راجہ اکرام الحق

کہتے ہیں کہ ایک جنگل  میں باقی تو سبھی جانور تھے لیکن گدھے کی نسل کے جانور نہیں ہوا کرتے تھے۔ کافی عرصہ بعد کہیں سے ایک گدھا جنگل میں آ وارد ہوا ،  اس کی ڈیل ڈول، قد کاٹھ اور رعب دار آواز نے ہر جانور کو مرعوب کر دیا، یہاں تک کہ شیر بھی  اس سے خوفزدہ رہتا اور مڈ بھیڑ سے کتراتا تھا ۔    بطور خاص جب وہ اپنی 'رعب دار' آواز میں 'خطاب' کرتا تو سارا جنگل سہم سا جاتا۔  گدھے نے جب دیکھا کہ شیر بھی مجھ سے سہما سا رہتا ہے اور باقی جانور بھی میری باتیں بڑے دھیان سے سنتے ہیں اور ایک آواز پر جمع ہو جاتے ہیں تو اس نے خود کو جنگل کا 'بادشاہ' سمجھنا شروع کر دیا ۔ 

ایک دن کسی بات پر شیر اور گدھا آمنے سامنے ہو گئے،  بات 'تو تو ، میں میں ' اور 'تو تکار' سے بڑھ کر باہم دست و گریبان ہونے پر پہنچ گئی، شیر بیچارہ گھبرایا ہوا تھا کہ یہ عجیب الخلقت جانور نہ جانے کس طرح وار کرے گا اور کون کون سے اوزار استعمال کرے گا ،  اسی خوف کی وجہ سے اس نے حملہ کرنے میں پہل نہیں کی۔ گدھا چونکہ گدھا ہوتا ہے اس نے جھوٹی طاقت کے زعم میں آ کرشیر پر حملہ کر دیا  اور اٹھتے ہی  اپنا واحد اور آخری حربہ ''دولتی'' کی بوچھاڑ  کر دی۔ شیر اپنا بچاؤ کرتا رہا اور انتظار کرتا رہا کہ شاید یہ پہلا وار ہے اس کے بعد نہ جانے اور کون سے توپ تفنگ نکلیں گے، لیکن جب کافی دیر تک گدھے نے ''دولتی'' پر ہی انحصار کیا تو شیر نے اطمینان کا سانس لیا  اور گدھے سے کہا ، "میں ویسے ہی اتنے دن خوفزدہ رہا، تیرے پاس تو ''جوش خطابت'' اور ''دو لتی'' کے سوا کچھ بھی نہیں ۔
نہ جانے کیوں  17 اگست 2014 کی رات آزادی مارچ کے شرکاء سے تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے خطاب کو سن کر یہ قصہ یاد آ گیا۔ جس روز حکومت کے خلاف مارچ کا فیصلہ کیا گیا تھا تب سے شائع ہونے والے بیانات کا اگر جائزہ لیا جائے اور اس وقت آزادی مارچ جس خستہ حال کا شکار ہے اس سے موازنہ کیا جائے تو مذکورہ بالا قصہ بے طرح یاد آتا ہے۔   

اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ مارچ ، احتجاج اور دھرنا ایک جمہوری حق ہے اور ہر شہری اسے جب اور جہاں چاہے استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن ہر چیز کی کچھ حدود و قیود، کچھ طور طریقے اور کچھ پیمانے ہوتے ہیں جن کو ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے تو نتائج مایوس کن نکلتے ہیں۔  حالیہ مارچ میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تبدیلی اور انقلاب کی دعویدار جماعت اپنے ساتھ عوامی مطالبات کی ایک فہرست لاتی، ایسے مطالبات جو معقول بھی ہوتے، قابل قبول بھی ہوتے اور قابل حصول بھی۔ جن کا تعلق صرف فرد واحد کی ذات سے یا اس کی انا سے نہ ہوتا بلکہ وہ براہ راست عوامی مطالبات ہوتے۔ پہلے سے یہ طے کیا جاتا کہ ان مطالبات میں سے کتنے فیصد کامیابی کو اطمینان بخش سمجھا جائے گا  اور ''کچھ لو کچھ دو'' کی صورت اگر پیش آئے تو کس حد تک سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔ مارچ کی پوری کاروائی مرحلہ وار طے کی جاتی اور پھر اس کے مطابق آگے بڑھا جاتا اور اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کی جاتی۔

لیکن یہاں صورتحال یہ تھی کہ تیاری اور انتظام صفر، نہ ایجنڈا نہ کوئی لائحہ عمل، یہاں تک کہ زندگی کی اہم ترین تقریر جس سے قبل 12 گھنٹے خلوت میں تپسیا کی گئی، سوچ و بچار کے کٹھن مرحلے سے گزرا گیا، دھیان و گیان کی منازل طے کی گئیں اس تقریر کا بھی 90 فیصد "رقیب روسیاہ" کے 'لقموں' پر مشتمل تھا۔ 
جہاں تک مطالبات کی  بات ہے تو آزادی مارچ کا جواز بخشنے والے مطالبات واقعی اہم تھے اور ان پر بات چیت بھی ہو سکتی ہے اور ان کو منوانے کے لیے دھرنا بھی دیا جا سکتا ہے۔ لیکن آزادی مارچ کے آغاز کے بعد  اس  پورے قصے میں سوائے وزیر اعظم کے استعفیٰ کے کوئی قابل ذکرمطالبہ  سامنے نہیں آیا۔ اوریہ مطالبہ ہر خاص و عام کی نظر میں غیر معقول بھی تھا، نا قابل قبول بھی تھا اور ناقابل حصول بھی۔  یہ مطالبہ اور پھر اس کے حصول کے لیے اپنایا گیا طریقہ کار سوائے چند افراد کے سب کی نظر میں یکساں طور پر غلط تھا اور آج تک اس طریقہ کار کی مذمت کی جا رہی ہے۔ کیوں کہ اگر بفرض محال عمران خان کی تمنا پوری ہو جاتی اور اس مارچ کے نتیجہ میں وزیر اعظم استعفیٰ دے دیتے تو ایک ایسی روایت چل پڑتی جو تباہ کن ہوتی۔ پھر آئینی اور جمہوری طریقہ سے بننے والی حکومتیں پسند نا پسند کی بنیاد پر دھرنوں اور مارچوں کے ذریعہ گرانے کی رسم چل پڑتی اور زبوں حالی کا شکار ملک مزید تباہی کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا۔  کیوں کہ اگر ایک   صوبے میں مخلوط حکومت بنانے والا فرد یہ کر سکتا ہے تو وفاق میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت یہ کام بطریق احسن کر سکتی ہے۔ 

عمران خان کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل بیٹھ کر اپنے رویوں اور طریق کار کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے نیز اپنے ارد گرد افراد  کو پرکھنا بھی چاہییے کہ کون مخلص ہیں اور کون اپنی سیاست کے مردہ گھوڑے  میں عمران خان کے ذریعہ جان ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

نیز یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ سیاسی معاملات کو کبھی بند گلی میں داخل نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہمیشہ اتنی گنجائش رکھیں کہ اگر نظر ثانی کرنے  کی ضرورت پیش آئے تو کوئی قابل عمل صورت اختیار کی جا سکے۔ ورنہ اگر خود کو ہی عقل کل سمجھ کر ہر بات کو اپنے من پسند انداز سے منوانے کی روش جاری رکھی گئی  اور مخلص دوستوں کے بجائے اقتدار کے حریصوں کے مشوروں سے اپنا مستقبل طے کرنے کی کوشش کی تو انجام اس سے بھی مایوس کن ہو سکتا ہے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>