اسلام : حقوق نسواں کا سب سے بڑا محافظ



بعد از حمد و ثنا۔
افراد سے معاشرہ اور معاشرے سے اقوام وجود میں آتی ہیں ۔ اقوام کی پر سکون زندگی اور پرامن بقا کے لئے انصاف اولین شرط ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر بقائے باہمی نا صرف مشکل بلکہ ناممکن بن جاتی ہے۔ معاشرہ کے امن کو برقرار رکھنے کے لیے افراد کے کچھ حقوق مقرر کر دیئے گئے ہیں جن کی پاسداری سے پر امن فضا کا قیام ممکن ہے۔ ایک عرصہ تک ان حقوق کو بنیادی حقوق یا فطری حقوق کے نام سے موسوم کیا جاتا رہا لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے انسانی تمدن ترقی پذیر ہوتا رہا اور نئے نئے نقطہائے  نظر اور اصطلاحات کا ظہور ہوا تو بنیادی یا فطری حقوق "انسانی حقوق" کی اصطلاح کے ساتھ رائج ہونا شروع ہوئے۔

غیر اسلامی دنیا میں ان حقوق کو کس طرح تسلیم کروایا گیا، اس کے لئے کتنے لوگوں کو جان کے نذرانے پیش کرنے پڑے، یہ ایک تفصیل طلب بحث ہے اور تاریخ اس سے بخوبی واقف ہے۔لیکن یہ بات دلچسپ ہے کہ  اس تمام بحث میں انسان سے مراد صرف مرد لیا جاتا رہا جبکہ عورت ماضی قریب تک اسی استحصال کا شکار رہی جس کی وہ ایک عرصہ سے چلی آرہی تھی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد اگرچہ اقوام متحدہ کی سطح پر باقاعدہ انسانی حقوق کے لئے کمیشن تشکیل دیئے گئے اور درجنوں دستاویزات وجود میں آئیں لیکن اس ساری مشق میں بھی عورت کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا۔ ”انسانی حقوق کا عالمی منشور“ تشکیل پانے اور تمام ممبر ممالک کی طرف سے اسے اپنے قانون اور دستور کا حصہ بنانے کے باوجود عورتوں کے حقوق کے لئے الگ دستاویزات تیار کرنے کی ضرورت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ شاید  ان ارباب عقل کے نزدیک خواتین”انسان“ کی تعریف پر پورا نہیں اترتیں۔

1948ءمیں انسانی حقوق کے عالمی منشور کی تشکیل سے قبل اس حوالے سے کیا صورت حال تھی اور اس کی بہتری کے لئے کیا کیا کاوشیں ہوئیں اس کا مطالعہ بھی اہم ہے ۔ لیکن اس ضمن میں یہ سمجھنا کافی ہو گا کہ انسان کو اپنے فطری حقوق جو اسے پیدائشی طور پر حاصل ہیں انہیں حاصل کرنے ہی نہیں بلکہ صرف تسلیم کروانے کے لئے کئی صدیاں لگ گئیں۔ اس کے باوجود بھی یہ حقوق محدود طبقات کے لئے ہی تھے ۔ کہیں جاگیرداروں اور بادشاہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے ضمن میں جس کے نتیجے میں میگنا کارٹا (1215ء) وجود میں آیا، کہیں مزدوروں کے حقوق، کہیں سیاسی حقوق اورکہیں اس طرح کی دیگر اصطلاحات کی صورت میں کچھ دستاویزات سامنے آئیں۔

اسلام کے نقطہ نظر سے انسانی حقوق کا تصور اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ انسان کا وجودقدیم ہے۔ جب اللہ تعالی نے پہلا انسان روئے زمین پر بھیجا اور اسے ”اسماءکلھا“ کا علم دیا تو ساتھ ہی اسے دیگر افراد کے حقوق کا شعور بھی عطا کر دیا۔اور ہر نبی علیہ السلام کے پیغام میں یہ تمام حقوق سموئے ہو ئے تھے۔ لیکن بعد کے ادوار میں جیسے جیسے انسان نے آسمانی پیغام کو بھلا دیا اور اپنے انبیاءعلیہم السلام کی تعلیمات کو مسخ کر دیا تو ان حقوق کا تصور بھی ختم ہوتا چلا گیا۔ چونکہ انسانی فطرت ہے کہ اگر اسے کسی اعلی طاقت کا خوف نہ ہو تو وہ بہیمیت کی انتہا کو پہنچنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ  کمزوروں کو دبانا اور انہیں اپنی خدمت اور آسائش کے لئے استعمال کرنا انسانی تاریخ کا مکروہ ترین باب ہے۔ اور اس پورے کھیل میں چونکہ عورت سب سے کمزور اور قوت مدافعت سے عاری مخلوق تھی لہذا اس کی اس کمزوری سے بھر پور فائدہ اٹھایا گیا اور اسے جانوروں سے بھی بد تر سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ بازاروں کے میلوں میں ان کی خریدوفروخت کی جاتی تھی،راہبانہ مذاہب میں لڑکیوں کو باعث نحوست اور گناہ کا سرچشمہ تصور کیا جاتا تھا۔ اور ہندوستان کے بعض علاقوں میں تو آج بھی شوہر کی میت کے ساتھ عورت کو زندہ جلا دیا جاتا ہے۔

ترقی کے اس دور میں مغرب نے ”حقوق نسواں “اور ”آزادیءنسواں“کے خوبصورت نعرے کی آڑ میں جو حقوق عورت کو عطا کئے  ہیں وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ۔۔۔ اسے عملی طور پر طوائف اور داشتہ کی سطح پر لے آیا ہے، اسے ایک ایسی شے بنا ڈالا ہے جس سے مرد لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ آرٹ اور کلچر کے خوبصورت پردوں میں اس کا اس قدر استحصال کیا گیا کہ عملا جنس کے متلاشیوں اور کاروباریوں کے ہاتھوں کھلونا بن گئی۔

اسلامی تصور
اسلام میں حقوق کا تصور انتہائی جامع ہے اور اس میں” انسان “کی اصطلاح میں تمام طبقات شامل ہیں  اور  انسان ہونے کے ناطے تمام طبقات "بنیادی انسانی حقوق" کے یکساں مستحق ہیں۔ اگرچہ بعض معاملات میں بعض افراد کے کچھ خاص حقوق ہیں جیسا کہ ، والدین کے حقوق، بچوں کے حقوق، پڑوسیوں کے حقوق وغیرہ لیکن انسانی حقوق کی حد تک تمام افراد بلا تفریق رنگ و نسل، ملک و ملت، قبیلہ و برادری برابر ہیں۔یہاں چونکہ حقوق نسواں ہمارا موضوع بحث ہے لہذا دیگر طبقات کا صرف اشارہ ہی کافی ہو گا۔

موجودہ دور میں بطور خاص 11 ستمبر2001 ءکے بعد سے اسلام ہر لحاظ سے مورد الزام ہے جس میں دہشت گردی ، انتہا پسندی اور انسانی حقوق قابل ذکر ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حالات میں اسلام کا جو تصور مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے پیش کیا جا رہا ہے یا خود بعض مسلمان ممالک میں بعض مسلمان جن جاہلانہ روایات پر عمل پیرا ہیں اس کی رو سے انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اسلام نے عورت کے ساتھ ناانصافی کا رویہ روا رکھا ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور ہمارا دعوی ہے کہ" اسلام حقوق نسواں کا سب سے بڑا علمبردار ہے"۔ 

درحقیقت اسلام کی آفاقی اور انقلابی تعلیمات نے عورت کو اس کے حقیقی حقوق اور مرتبہءعزت عطا کیا ہے اور اگر اسلام کی طرف سے دیئے گئے حقوق کا اجمالی جائزہ لیا جائے  تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ ان حقوق کا تصور دیگر تہذیبوں میں نہ آج ہے نہ اس کی کوئی مثال ماضی کے کسی دور میں ملتی ہے۔

اس وقت دنیا کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے، اور یہ آبادی دنیا کے بہت سے معاشروں میں منقسم ہیں۔ ان تمام معاشروں کا رہن سہن یکساں نہیں ہے اور ہر معاشرے میں اسلام پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا بھی ممکن نہیں۔ لہذا ان معاشروں کو دیکھ کر اس بات کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ اسلام میں خواتین کے حقوق کیا ہیں؟بلکہ اس سلسلے میں اسلامی شریعت کے حقیقی مصادر سے براہ راست رہنمائی لینا ضروری اور قرین انصاف ہے۔ 

اسلام کے بنیادی مآخذ قرآن اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ اور ان مصادر سے ملنے والی تعلیمات نے عورت کو آج سے تقریبا 15 صدیاں قبل مرد کے برابر حقوق عطا کرتے ہوئے اسے مرد کی غلامی سے نجات دلائی جس میں وہ صدیوں سے جکڑی ہوئی تھی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بنیادی اسلامی مصادر کی روشنی میں حقوق نسواں کی نشاندہی کی جائے ۔البتہ اسلامی تعلیمات کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ دیگر قابل ذکر مذاہب اور تہذیبوں کی تعلیمات پر بھی روشنی ڈالی جائے تاکہ اسلام کی تعلیمات کی جامعیت واضح ہوجائے (بضدها تتبين الاشياء)۔

مزید براں اس امر کی ضرورت بھی محسوس کی جاتی ہے کہ اسلام ایک عورت کو معاشرتی، معاشی، سماجی اورتمدنی لحاظ سے جو حقوق عطا کرتا ہے نیز معاشرے میں مختلف حوالوں سے عورت کے جوخصوصی حقوق عطا کئے گئے ہیں۔۔مثلا؛ ماں ، بہن، بیٹی وغیرہ ہونے کے ناطے ان کا تفصیلی جائزہ لے کر دنیا کے سامنے آشکار کیا جائے تا کہ ”حقوق نسواں “ اور ”آزادیءنسواں“ کے نام پر مذہب بیزار لوگوں کے پروپیگنڈے کا سد باب کیا جا سکے۔
دعا ہے کہ اللہ ہمیں اس کام کو بانداز احسن کر نے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اسلام پسندوں کی فتوحات اور ضرورت احتیاط



یہ ایک مصدقہ حقیقت ہے کہ اسلام کی فطرت میں ایک ایسی قدرتی لچک ہے کہ اسے جتنا دبایا جائے اتنا ہی ابھرتا ہے۔ اور جب ابھرتا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی۔ ابتدائے اسلام سے ہی کفر نے پوری کوشش کی کہ اس نظام زندگی کو پھلنے پھولنے نہ دیا جائے، اس مقصد کے لیے انہوں نے ہر ممکن طریقہ آزمایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ  و سلم کی ذات گرامی کو لالچ دے کر، پر کشش مراعات کا یقین دلا کر اور جب بات نہ بنی تو ایذا رسانی اور قتل کے منصوبوں تک نوبت پہنچ گئی۔ اور پھر پوری ملت کفر نے اسلام کو مٹانے کے لیے گٹھ جوڑ کر لیا لیکن یہ سارا دباؤ خود ان کے لیے وبال جان بن گیا اور اسلام اپنی اس قدرتی و فطری لچک کی وجہ سے ابھرتا ہی چلا گیا ۔ 

سقوط خلافت عثمانیہ کے کے بعد سے لے کر آج تک ایک بار پھر  اسلام اور مسلمان کسی نہ کسی طور پرغیر مسلم تسلط کے زیر سایہ رہے ۔ بلکہ ایک طویل عرصہ تک تمام ہی مسلم ممالک نو آبادیاتی نظام میں جکڑے رہے۔ اس نو آبادیاتی دور میں مسلمانوں کی تہذیب، کلچر، رسم و رواج اور زبان تک کو بدل دیا گیا۔ ایک طرف انگریز اور دوسری جانب فانسیسی طاقت نے مسلمانوں کی ظاہری و باطنی تباہی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔  اور اب تک کسی نہ کسی صورت میں ان طاقتوں کا اثر و رسوخ مسلمان ممالک پر قائم ہے، حکومت سازی سے لے کر قانون سازی  اور پالیسی سازی تک ہر ہر پہلو ان کے زیر اثر ہے۔  ظاہری آزادی حاصل ہونے کے بعد بھی اب تک بیشتر مسلم ممالک اسی نظام یعنی سیکولرزم کو اپنائے ہوئے ہیں ۔ اسلام پسندوں کا ناطقہ بند کرنے کے لیے مصر  کے مصطفی کمال سے لے کر حسنی مبارک تک، ترکی کے کمال اتا ترک اور اس کے پیروکاروں اور تیونس میں علی زین العابدین جیسے حکمرانوں نے جس طرح اسلام دشمنی کی مثالیں قائم کیں وہ کسی تذکرے کی محتاج نہیں ۔ 

کیوں کہ اسلام زمانے میں دبنے کو نہیں   آیا اس لیے اس سارے عمل کا ایک رد عمل ضرور سامنے آنا تھا۔ 2011ء اس رد عمل کا سال ثابت ہوا۔ تیونس میں ایک نوجوان کی خود سوزی کے نتیجے میں شروع ہونے والا عوامی احتجاج بالآخر اسلامی انقلاب کی صورت میں ظاہر ہوا اور اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں 52 فیصد نشستیں اسلام پسند لے گئے۔ یہ انقلاب اب تک کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور کتنے ہی جابروں کا بوریا بستر گول کروا چکا ہے۔ تیونس کے بعد مراکش  میں بھی احتجاج شروع  ہوئے جس کے نتیجے میں انتخابات ہوئے تو وہاں بھی اسلام پسندوں نے معرکہ مار لیا ۔ مراکش میں حکام کے مطابق اعتدال پسند اسلامی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (پی جے ڈی) نے پارلیمانی انتخابات جیت لیے ہیں۔ اب مصر میں انتخابات کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک کی اطلاع کے اخوان المسلمون اکثریت حاصل کرنے والی جماعت ہے۔ اس سے قبل ترکی میں سیکولرزم کے سخت پہرے میں اسلام پسندوں کی مسلسل کامیابی کے مناظر بھی دنیا دیکھ چکی کے۔ عسکری میدان میں دیکھا جائے تو  افغانستان میں مسلمان مجاہدین طالبان نے عالمی طاقت اور اس کے اتحادی چالیس سے زائد ممالک کی فوج کو ناکوں چنے چبوا دیے ہیں اور اب مذاکرات کرنے اور افغانستان سے باعزت واپسی کے لیے مختلف طرح سے پاپڑ بیل رہے ہیں۔

 اس سارے منظر نامے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام اور اسلامی قوتیں ایک بار پھر ابھرنا شروع ہو گئی ہیں۔  لیکن یہ سب ملت کفر اتنی آسانی سے ہضم نہیں ہو رہا۔  سیکولر عناصر کی شکست پرمغربی نظریات سے متاثر جماعتیں خاصی پریشان ہیں۔دراصل سیکولر جماعتوں کو انتخابات سے قبل اپنی کامیابی کا پکایقین تھا۔ شکست سے دوچار ہونے کے بعد انہوں نے الزامات لگانے اور تیونس کے مستقبل کے حوالے سے شکوک وشبہات پیدا کرنے شروع کردیے ہیں۔ مصر میں اخوان المسلمون کی نظر آتی کامیابی سے اسرائیل کے پیٹ میں مروڑ پڑنا شروع ہو چکے ہیں۔ اور اسرائیل کے خدشات براہ راست امریکہ کے خدشات تصور کیے جاتے ہیں کیوں کہ سارے کھیل کے اصل مہرے یہودیوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ 

کامیابیوں کا یہ موسم بہت ہی احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک ایک قدم پھونک پھونک کر اٹھانا ہوگا۔ انتقال اقتدار کے سارے مراحل بہت ہی حکمت عملی کے ساتھ طے کرنا ہوگا۔ اسلام کا آغاز جس طرح بالتدریج ہوا، محرمات اور مکروہات کی تعلیمات جس طرح مرحلہ وار دی گئیں اور ان پر عمل در آمد کے لیے جو طریقہ کار اپنایا گیا  اس کی روح کے مطابق آئندہ کی منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔  جلد بازی یا جذباتیت کا مظاہرہ منفی نتائج پیدا کر سکتا ہے۔  اس حوالے سے ترکی میں جو طریقہ کار اپنایا گیا اس کا مطالعہ کرنا، اسے سمجھنا اور اس کے مطابق لائحہ عمل طے کر کے معاملات کو آگے بڑھانا یقینا مفید ہو گا۔  

کامیابی یقینا خوشی کا احساس دلاتی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لانے اور  اس موقع کو درست طور پر استعمال کرنے کی توفیق طلب کرنے  کی بھی ضرورت ہے۔ اور یقینا فتح مکہ کے موقع پر فاتح عظیم نبی رحمت صلی اللہ علیہ و سلم نے جو نمونہ ہمارے لیے چھوڑا اس سے بہتر کوئی مثال نہیں ہو سکتی۔ تشکر کے جذبات سے سر جھکا ہوا ہو ، دشمنوں کے لیے "لا تثریب علیکم الیوم " کا اعلان ہو اور "لتکون کلمۃاللہ ھی العلیا" کا مقصد عظیم منتہائے نظر ہو۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

واقعہ کربلااور اس کے تقاضے



شیطان نے جس دن حضرت آدم علیہ السلا م کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا اس دن سے ہی حق اور باطل کے درمیان کشمکش کا آغاز ہو گیا تھا۔ زمین پر انسان کے نزول کے بعد سب سے پہلے ہابیل اور کابیل کا واقعہ رونما ہوا اور اس کے بعدسے آج تک تاریخ انسانی ایسے واقعات سے لبریز ہے کہ کس طرح ابلیس اور اس کے پیروکاروں نے حق پرست بندگان خدا کو راہ راست سے باز رکھنے کی کوشش کی اور باز نہ آنے والے افراد کو مختلف انداز سے ایذا رسانی کا سلسلہ جاری رکھا جو کہ ہنوز جاری ہے۔فرعون، نمرود، ہامان ۔۔۔۔۔۔۔وغیرہ اسی کا تسلسل ہیں ۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرر بو لہبی

اسلامی تاریخ اپنی تمام تردرخشانیوں کے علی الرغم بعض ایسے واقعات لئے ہوئے ہے جو خون کے آنسو رلانے کے لئے کافی ہیں ۔ جن کو رونما ہوتے دیکھ کر زمین و آسماں پر سکتہ طاری ہو جاتا تھا۔ ان واقعات میں سے واقعہ کربلا سب سے دردناک ہے۔ اس واقعے کی تفصیلات سے شاید ہی کوئی مسلمان ناواقف ہو ۔ نواسہ رسول ، جگر گوشہ بتول اپنے بہتر جانثاروں کے ساتھ نکلے اور اپنے نانا صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے باطل کے خلاف ڈٹ گئے۔ ان کی نگاہ میں تعداد اور مال و اسباب کی کوئی اہمیت نہیں تھی ۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ کبھی یہ قدم نہ اٹھاتے ۔

جب خلافت ملوکیت میں تبدیل ہو گئی ، حکمران طبقہ عیش و عشرت میں مشغول ہو گیا ، شاہی خزانے کو اپنی ملکیت سمجھا جانے لگا ، اسلام کی بنیادی اقدار کا خاتمہ ہو گیا، نسلی اور قومی عصبیتوں کا دور شروع ہو گیا ۔ یزید کی حکومت قائم ہو گئی ۔ جس کی زبردستی بیعت لی جا رہی تھی ۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے بیعت سے انکار کر دیا ۔ اور بیعت کر بھی کیسے کر سکتے تھے ۔ اپنے نانا کی سنتوں سے کیسے منہ موڑ سکتے تھے ۔ تربیت ہی ایسی تھی کہ اسلام کے خلاف کوئی قدم اٹھانا تو کجا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔
کوفہ کا علاقہ اسلامی تاریخ میں مختلف وجوہات کی بنا پر اچھے نام سے یاد نہیں کیا جاتا۔ اس واقعہ میں بھی ان کا کردار قابل تعریف نہ رہا۔ انہوں نے خطوط بھیج کر امام حسین رضی اللہ عنہ کو بلایا کہ آئیے ہم آپ کی بیعت کریں گے ۔ امام حسین اپنے اہل و عیا ل کے ساتھ کوفہ جانے کے لئے تیا ر ہوئے ۔ آپ کے قافلے میں معصوم بچے اور خواتین بھی شریک تھیں۔
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت مشیت الہی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر پہلے ہی دے دی تھی کہ حسین رضی اللہ عنہ اپنی جان کا نذرانہ دے کر اسلام کی آبیاری اپنے خون سے کریں گے ۔ لیکن جن حالات میں یہ واقعہ پیش آیا ، اس کا جو پس منظر تھا اسے جاننے سے اس قربانی کی اہمیت مزید اجاگر ہوجاتی ہے اور دل میں عظمت حسین رضی اللہ عنہ میں اضافہ ہوتا ہے ۔

تعداد صرف بہتر ، جن میں سے بھی 32سوار اور 40پیادہ ۔ کوئی فوج نہیں ۔اپنوں سے سینکڑوں میل دور ، خواتین اور بچوں کے ساتھ ۔ دوسری جانب چار ہزار فوج ، مسلح اور تربیت یافتہ ۔ان حالات میں اتنا بڑا قدم اٹھانا اور ناحق کے سامنے جھکنے سے انکا ر کر دینا بلا شبہ قربانی کا بہت اعلی مرتبہ ہے۔ ایں سعادت بزور بازہ نیست
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشا لب بام ابھی
معرکہ بپا ہو گیا ایک ایک کر کے تمام جانثار شہید ہوتے گئے ۔ آخر میں جنت کے نوجوانوں کے سردار رہ گئے ، نماز عصر کا وقت ہوا آپ نے نماز شروع کی جب آپ سجدے میں اپنے رب کے قریب ہوئے تو شمر نے آپ علیہ السلام کو شہید کر دیا ۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون(
ہر سال کی طرح اس سال بھی 10محرم الحرام کا دن گزر گیا۔ ہم میں سے ہر کسی نے روایتی انداز میں اپنی محبت کا اظہار کرنے کی کوشش کی ۔ جلسے جلوس ہوئے، ریلیاں نکالی گئیں، ماتم ہوئے الغرض ہر کسی نے اپنے انداز سے اظہار محبت کے لئے کوشش کی۔
لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اس طرح ہم محبت کا حق ادا کرنے میں کامیاب ہوگئے؟
کیا سنت شبیری ہم سے یہی تقاضا کرتی ہے ؟ کیا روز حشر ہم سر اٹھا کر یہ کہہ سکیں گے کہ ہم نے حق ادا کر دیاتھا؟ کہیں ہم دیگر رسم و رواج کی طرح یہ دن بھی صرف تقریبات میں تو نہیں گزار رہے؟

آج امت مسلمہ جن حالات سے دوچار ہے وہ ان سے چنداں مختلف نہیں ہیں جن میں امام شہید رضی اللہ عنہ نے عظیم قربانی دی۔ اگر مسلمان کفار کے مقابلے میں عددی لحاظ سے کم ہیں تو وہ بھی چار ہزار کے مقا بلے میں صرف بہتر تھے۔ اگر ہم جدید جنگی سازو سامان کے لحاظ سے دشمن سے کم ہیں تو ان72میں سے بھی صرف 32سوار تھے باقی پا پیادہ تھے۔اس پر مزید یہ کہ یہ قافلہ جنگ کے لئے تیار ہو کر نہیں گیا تھا کیوں کہ بچوں اور خواتین کو جنگی فوج میں نہیں رکھا جاتا۔ اور ہمارے پاس تیاری کے لئے بے شمار وقت ہے ۔ اگر ایک بار پھر وہی جذبہ بیدار ہوجائے تو وہ وقت دور نہیں جب چہار دانگ عالم میں اسلام کا پرچم لہرا رہا ہو اور پوری انسانیت امن اور چین کے ساتھ اسلام کی رحمتوں سے بہرہ ور ہو۔
اور اگر ہم کامیاب نہ بھی ہوئے تو کم از کم تاریخ ہمیں اچھے الفاظ میں یاد تو رکھے گی ۔ کیوں کہ کربلا میں اگرچہ امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے چند جانثاروں کے ساتھ شہید ہو گئے اور بظاہر ابن زیاد میدان جنگ میں کامیاب رہا ۔ اور جنگ کے بعد کوفہ کی جامع مسجد میں اس نے امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر رکھ کر یہ اعلان بھی کیا کہ امام حسین ہار گئے اور یزید جیت گیا لیکن تاریخ گواہ ہے کہ امام حسین ہار کر جیت گئے اور یزید جیت کر ہار گیا کیوں کہ یہ خالق کائنات کی سنت ہے کہ فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے ۔ اس پر مزید یہ کہ جو حیات جاوداں اور تذکرہ خیر امام حسین کے حصے میں آیا وہ دوسروں کے لئے کہاں۔
نہ شمر کی وہ جفا رہی نہ ابن زیاد کا وہ ستم رہا
رہا تو نام حسین کا جسے زندہ رکھتی ہے کربلا
آج کا دن ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم ایک بار پھر متحد ہو جائیں ، آپس کے اختلافات کو ختم کر کے اسلام کے حیقیقی پیغام کو دنیا تک پہنچانے کے لئے نواسہءرسول صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت پر عمل پیرا ہو جائیں تاکہ کسی اسرائیل کی دوبارہ یہ ہمت نہ ہو کہ فلسطین کے نہتے مسلمانوں پر چڑھ دوڑے۔ کسی افغانستان اور عراق پر امریکہ کو حملہ کرنے کی ہمت نہ ہو ۔ لیکن اس کے لئے ہمیں وہ جگر پیدا کرنا ہوگا کیوں کہ۔۔۔ آج ایک بار پھر وقت ہم سے تقاضا کر رہا ہے کہ
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری

مکمل تحریر اور تبصرے >>>