6 ستمبر یوم دفاع پاکستان اور اس کے تقاضے



قوموں اورملکوں کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو عام ایام کے برعکس بڑی قربانی مانگتے ہیں۔یہ دن فرزندان وطن سے حفاظت وطن کے لئے تن من دھن کی قربانی کا تقاضا کرتے ہیں، ماؤں سے ان کے جگر گوشے اور بوڑھے باپوں سے ان کی زندگی کا آخری سہارا قربان کرنے کامطالبا کرتے ہیں۔قربانی کی لازوال داستانیں رقم ہوتی ہیں، سروں پر کفن باندھ کر سرفروشان وطن رزمگاہ حق و باطل کا رخ کرتے ہیں ،آزادی کو اپنی جان و مال پر ترجیح دے کر دیوانہ وار لڑتے ہیں، کچھ جام شہادت نوش کر کے امر ہو جاتے ہیں اور کچھ غازی بن کر سرخرو ہوتے ہیں۔ تب جا کر کہیں وطن اپنی آزادی، وقار اور علیحدہ تشخص برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
یہ ایام فیصلہ کن ہوتے ہیں، اگر قربانی کا حق ادا نہ کیا جائے، جان و مال کو وطن پر ترجیح دی جائے، ماں کی ممتا اپنے جگر گوشے کو قربان کرنے سے گریزاں ہو، بوڑھا باپ اپنا اور خاندان کا سہارا کھونے کے لئے تیار نہ ہو تو پھر وطن اپنا وجود کھو بیٹھتے ہیں، قومیں تاریخ کا حصہ اور پارینہ قصہ بن جاتی ہیں، اور آزادی کی کے بجائے غلامی کی زندگی قوموں کا مقدر بن جاتی ہے۔
ایسا ہی ایک دن وطن عزیز پاکستان پر بھی آیا جب بھارت نے اپنے خبث باطن سے مجبور ہو کر ستمبر 1965ءکو پاکستان پر شب خون مارا۔ بھارت کا خیال تھا کہ راتوں رات پاکستان کے اہم علاقوں پر قبضہ کر لیں گے اور ناشتے میں لاہور کے پائے کھائیں گے۔ لیکن انہیں اندازہ نہیں کہ شیر سویا ہوا ہو پھر بھی شیر ہی ہوتا ہے۔ افواج پاکستان اور عوام پاکستان نے مل کر دیوانہ وار دشمن کا مقابلہ کیا۔ سروں پر کفن باندھ کر دشمن سے بھڑ گئے، جسموں سے بارود باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے، عوام نے اپنا سب کچھ دفاع وطن کے لئے قربان کر دیا۔ اور ہندو بنیے کے ناپاک عزائم کو رزق خاک بنا دیا ۔طاقت کے نشے سے چور بھارت پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کے لئے آیا تھا لیکن ہمشہ کے لئے ناکامی کا بد نما داغ اپنے سینے پر سجا کر واپس گیا۔ وہ شاید اس بات سے بھی واقف نہیں کہ جو زمین شہداءکے لہو سے سیراب ہوتی ہے وہ بڑی ذرخیز اور بڑی شاداب ہوتی ہے۔ اس کے سپوت اپنی دھرتی کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو توڑنے اور اس کی طرف دیکھنے والی ہر میلی آنکھ کو پھوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جان وار دیتے ہیں لیکن وطن پر آنچ نہیں آنے دیتے۔ اور اس کا بہترین مظاہرہ 6ستمبر 1965ءکو کیا گیا، انتہائی بے سرو سامانی کے عالم میں بھی جرات و بہادری کی وہ درخشاں مثالیں قائم کی گئیں کہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔
آج ہم 44واں یوم دفاع منا رہے ہیں، ہر سال کی طرح اس سال بھی وطن عزیز کے لئے دعائیں ہوں گی، سرکاری اور نجی سطح پر تقاریب کا اہتمام ہوتا ہے، افواج پاکستان پریڈ پیش کرتی ہیں ، توپوں کی سلامی سے شہداءکو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ دفاع وطن کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کے دعوے کئے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اور پھر شام ہو جاتی ہے ، جب صبح سو کر اٹھتے ہیں تو سب کچھ بھول جاتا ہے۔ ایک دن قبل کئے گئے وعدے اور دعوے بھول جاتے ہیں ۔ پھر وہی کاروبار زندگی، وہی سیاست کی سیاہ کاریاں، وہی دولت کی ہوس، وہی اقتدار کی جنگ، وہی کاسہ لیسی ، وہی غیروں کی غلامی، وہی ازلی دشمنوںسے دوستی کی پینگیں ۔۔۔ نیز ہر وہ کام جو دفاع وطن کے فلسفے کے خلاف اور جو شہداءکے مقدس خون سے غداری کے مترادف ہو، حب الوطنی کے لبادے میں کیا جاتا ہے۔
کیا اسی لئے شہداءنے اپنا خون، ماؤں نے اپنے جگر گوشے اور قوم نے اپنے سپوت قربان گاہ عشق میں وار دیئے تھے؟ کیا ہم نے اسی لئے قربانیوں کی داستانیں رقم کی تھیں کہ پھر اسی دشمن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گے؟ کیا جرات و بہادری کا یہی تقاضا ہے کہ اپنا جائز حق مانگنے کے لئے بھی منتیں اور سماجتیں کی جائیں، دشمن ہمارا پانی بند کر دے، ہماری شہ رگ پر قابض ہو کر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے اور ہم مذاکرات کے لئے اپنے سارے وسائل صرف کر دیں، جس کا نتیجہ سوائے دشمن کو مزید مہلت دینے کے کچھ نہ ہو۔ ؟


اگر قیامت کے دن ان ماؤں نے ہمارا گریبان پکڑکر سوال کر لیا کہ کیا اسی لئے ہم نے اپنے بیٹے وطن کے لئے وارے تھے تو کیا جواب ہو گا۔ ؟ اگر شہیدوں نے پوچھ لیا کہ کیا ہم اسی لئے جان سے ہارے تھے تو کیا جواب ہوگا؟

آج وطن عزیز جن حالات سے دوچار وہ انتہائی تشویش ناک ہیں ۔ اندرونی اور بیرونی طور پر دشمنان پاکستان ہماری جڑیں کھوکھلی کرنے میں مصروف عمل ہیں، ایک طرف بھارت ہے جس کو چین نصیب نہیں، دوسری جانب افغان سرحد پر استعماری قوتیں اسلامی جمہوریہ کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہیں۔ اندرونی طور پر قبائلی علاقوں میں اپنی ہی فوج اپنی ہی عوام کے خلاف برسرپیکار ہے۔ بلوچستان میں ہماری اپنی کوتاہیوں کے باعث آزادی کی تحریک دن بدن زور پکڑ رہی ہے۔ خودکش حملوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ مہنگائی بام عروج پر پہنچ چکی ہے۔اور حکمران اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔
امریکہ بہادر پاکستان کے اندر تک گھس آیا ہے، بدنام زمانہ ”بلیک واٹر “ امریکی سفارتخانے کی زیر سرپرستی مصروف ہے۔ پاکستان کی سالمیت کا ضامن ایٹمی پروگرام خطرات میں گھرتا جا رہا ہے اور ہم سوئے ہوئے ہیں۔

ان مشکل حالات میں ضروری ہو گیا ہے کہ ایک بار پھر اسی جذبے کے ساتھ دفاع وطن کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ وہی جرات اور بہادری، وہی عزم و استقلال اور وہی جہد مسلسل ہمارا زاد راہ ہو۔ اس سے ایک طرف ہم بیرونی دشمن کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے تقویت حاصل کریں تو دوسری جانب اندرونی مشکلات کا مقابلہ کرنے میں تحمل و برداشت کا مظاہرہ کریں۔ تاکہ ہماری طرف سے اٹھنے والا کوئی جذباتی قدم دشمن کو فائدہ نہ دے۔
آزادی بہت بڑی نعمت ہے اور نعمت قربانی مانگتی ہے۔ جتنی بڑی نعمت ہو اتنی بڑی قربانی ہوتی ہے ۔ ہمارے اسلاف نے قربانیاں دیں جس کے نتیجے میں ہم آج آزاد فضا میں جی رہے ہیں۔ دنیا کے نقشے پر ایک آزاد وطن اور آزاد قوم کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے قربانی کا جذبہ ماند پڑتا ہے اسی طرح آزادی کا تصور بھی دھندلاتا جاتا ہے۔

بدقسمتی سے آج ہم اسی دور سے گزر رہے ہیں۔ ہم نے قربانی سے انحراف کیا تو دشمنوں نے ہر محاذ سے ہماری آزادی کو چیلنج کر دیا۔ ڈرون حملوں سے لے کر اسلام آباد میں امریکہ کے 200گھر کرائے پر لینا، بلیک واٹر کی کاروائیاں، بلوچستان میں آزادی کی تحریک، سرحد کی صورتحال اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

آئیے مل کر عہد کریں کہ وطن عزیز پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر وطن عزیز کی فلاح اور دفاع کے لئے کردار ادا کریں گے۔ اور اپنے قول و فعل سے کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے وطن عزیز کی عزت پر حرف آ سکے۔

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اب کے عید کیسے منائیں؟

 
 
عید کا سماں ہے ، ہر انسان شاداں و فرحاں ہے ، بچے اجلے لباس پہنے اپنے ہم جولیوں کے ساتھ کھیل کود میں مگن ہیں ، ایک بچہ افلاس و یاس کی تصویر بنے آبدیدہ نگاہوں سے حسرت کے ساتھ بچوں کو کھیلتے اور خوش ہوتے دیکھ رہا ہے ۔
ایک انتہائی شفقت بھری آواز پر بچہ چونک گیا ۔ بیٹا آپ نے نئے کپڑکیوں نہیں پہنے؟ یہ سوال سن کر بچے کی آنکھوں میں آنسو تیز ہو گئے ، کہنے لگا مجھے میرے حال پر چھوڑ دیجئے ۔ اصرار پر کہنے لگا کہ میرے والدین نہیں ہیں، کون مجھے نہلا دھلا کر تیار کرے گا، کون میرے لئے نئے کپڑے لائے گا؟۔ یہ سن کر سوال کرنے والا آبدیدہ ہو گیا، پیار سے پوچھا۔ کیا تم یہ نہ چاہو گے کہ میں تمہارا باپ بن جاؤں، فاطمہ تمہاری بہن ہو، علی تمہارے چچا ہوں، اور حسن اور حسین تمہارے بھائی (رضوان اللہ علیہم اجمعین)۔بچا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان گیا۔آپ اسے ساتھ لے گئے، نہلا دھلا کر نئے کپڑے پہنائے ، یہ سب دیکھ کر بچے کی چہرے پر بھی بشاشت آ گئی، اک حوصلہ ملا کہ اس کا بھی کوئی ہے۔ بچہ گیا اور دوسرے بچوں میں گھل مل گیا۔
یہ ایک چھوٹا سا واقعہ اپنے اندر خوشی کے سب سے بڑے موقع کے حوالے سے ہمارے لئے مشعل را ہ ہے۔ رحمت کائنات، فخر موجودات سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں درس دیا کہ”عید صرف خوش ہونے کا ہی نہیں بلکہ خوش کرنے کا نام ہے، اور اصلی خوشی وہی ہے جو دوسرے کے چہرے پر سجائی جائے“۔

عید کیا ہے؟ ایک تہوار ، خوشی کا تہوار ۔ خوشی کا تہوار وہ قدر مشترک ہے جو ہر قوم اور مذہب میں پائی جاتی ہے،اور ہر قوم کے کچھ دن اور مواقع ایسے ہیں جن میں وہ خوشی مناتے ہیں، انداز اپنے اپنے مذہب، تہذیب اور روایات کے مطابق ہوتے ہیں۔
اسلام ایک مکمل اور فطری دین ہے ،فطرت انسانی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نے بھی اپنے پیرو کاروں کے لئے خوشی اورغم کے حوالے سے نہ صرف تعلیمات دی ہیں بلکہ خوشی اور تفریح کے مواقع بھی مہیا کیے ہیں ۔ اسلام صحت مند تفریح کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس لئے دیگر اقوام کے مقابلے میں ہماری خوشیاں منانے کا انداز بھی ذرا مختلف ہوتا ہے۔
عہد رسالت میں دیکھیں تو عید کے دن مسجد نبوی کے صحن میں نیزہ بازی کے مقابلے ہو رہے ہیں، مختلف فن کے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے کندھے پر ٹھوڑی رکھ کر دیکھتی رہتی ۔۔
نہ صرف بچوں کو بلکہ بڑوں کی تفریح کا بھی خیال رکھنا ہمارے آقا صلی اللہ علیہ و سلم کا عمل ہے اور اس میں ہمارے لئے تعلیمات ہیں ۔
اگر ہم اپنے حالات کا جائزہ لیں، اپنے خوشی منانے کے طریقے کو دیکھیں تو احساس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی اقدار کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ صحت مند تفریح کے بجائے اغیار کی تقلید میں اس طرح کی محافل کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں بیہودگی اور فحاشی کے تمام مظاہر خوشی کے نام پر سجائے جاتے ہیں۔
صحت مند تفریح کے بجائے مضر صحت و اخلاق سرگرمیاں سر عام کی جاتی ہیں، سینما گھروں میں رونق اور بوڑھے والدین گھروں پر اکیلے۔ اپنے بچوں کے سوا کسی کے بچوں کا کوئی احساس نہیں، افلاس زدہ بچوں کو اپنے ساتھ گھر لا کر نئے کپڑے پہنانا تو کجا انہیں اپنے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتے، کپڑے خراب ہو جائیں گے، جراثیم لگ جائیں گے۔

بلا شبہ عید ایک خوشی کا موقع ہے اور ہمیں خوش ہونے کا حکم دیا گیا ہے، یہاں تک کہ روزہ بھی منع کردیا گیا ہے اور فرمایا کہ ”یہ کھانے پینے اور خوش ہونے کے دن ہیں“۔
لیکن اگر ایک نظر ہم امت مسلمہ کی حالت پر دوڑائیں تو کیا اس کے بعد بھی ہمیں یہ حق پہنچتا ہے کہ ہم پھلجھڑیاں اڑائیں، قہقہے لگائیں، شادیانے بجائیں، سویاں کھائیں، فلمیں دیکھیں اور ناچیں گائیں؟ کیا ہم اتنے بے حس ہو گئے ہیں کہ ہمیں اپنوں کا احساس ہے نہ وعدوں کا پاس؟ کیا نبوی طریقہ خوشی ہمارے لئے قابل عمل نہیں، کیا ہمیں یہ نہیں سکھایا گیا کہ خوش ہونا ہی نہیں بلکہ خوش کرنا بھی ہے۔
اگر ہم سمجھتے ہیں کہ ہم مجبور ہیں، لاچار ہیں، بے بس ہیں، ظالم طاقتور ہے، ہم اپنے بھائیوں کے لئے ، اپنی بہنوں کے لئے اپنی ماؤں اور بیٹیوں کے لئے کچھ نہیں کر سکتے ۔ انہیں پنجہ ظلم سے آزادی نہیں دلا سکتے تو کم از کم اس عید کے موقع پر ان مظلوموں کے لئے چند گھڑیاں مختص تو کر سکتے ہیں، جن میں ہم بارگاہ رب العزت میں دست دعا دراز کریں ، کہ اللہ انہیں ظلم سے نجات دلائے، اللہ ظلم کی کمر توڑ دے۔ اللہ تعالی افغانستان، کشمیر، فلسطین، اور دنیا میں جہاں جہاں بھی مسلمان مظلوم ہیں ان کو ظلم سے نجات دے، ظلم کی سیاہ رات چھٹ جائے اور آزادی کا نور ان پر سایہ فگن ہو
عید کا دن اہل پاکستان سے درخواست کرتا ہوا نظر آتا ہے کہ
افلاس ہے رقص کناں جن کی ٹوٹی پھوٹی کٹیاوں میں
تم اپنی عید منا کر ان کو بھول نہ جانا دعاوؤں میں
وہ افغانی کہساروں میں جن کے ماں باپ شہید ہوئے
ان معصوموں کی چیخیں ہر سو، پھیل رہی ہیں فضاؤں میں
بھارت کے ظلم کی دھوپ میں وہ کشمیری قافلے پا پیادہ
ہے جن کی طلب کہ آکر بیٹھیں ، پاکستان کی چھاؤں میں
وہ بنگلہ دیشی کیمپوں میں جو روز دعائیں کرتے ہیں
اس پاکستان سے الفت کی زنجیر ہے جن کے پاؤں میں
اس مسجد اقصی کی چھت پر اور صحن میں جن کا بسیرا ہے
وہ سارے کبوتر جو محصور ہیں ، خوں آشام بلاؤں میں
تم اپنی عید منا کر ان کو بھول نہ جانا دعاؤں میں

آئیے مل کر عہد کریں کہ اس عید پر کسی بچے کے آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دیں گے، کسی غریب کو تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیں گے، تاکہ کوئی غربت کا مارا یہ نہ کہے کہ
عید آئی ہے لیکن میری کہاں ہے
میری خاموشی میری زباں ہے
کپڑے پھٹے ہیں جوتے پرانے
عید آگئی ہے مجھ کو رلانے
اللہ اس عید کو امت مسلمہ کے لئے خوشیوں اور مسرتوں کا دن بنائے، ظلم سے نجات اور اسلام کے بول بالے کا دن بنائے۔آمین
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

جشن آزادی کیوں منائیں ؟






اب صف ماتم اٹھا دو نوحہ خوانی چھوڑ دو
موت ہے عنوان جس کا وہ کہانی چھوڑ دو

اس بار کا یوم آزادی جن حالات میں آیا ہے ان میں جشن منانے کا خیال واقعی انسان کو مغموم کر دیتا ہے اور مایوسی کے مہیب سائے اس قدر چھا گئے ہیں کہ مختلف اطراف سے "جشن نہیں ماتم" کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔

لیکن اگر کچھ دیر جذبابیت سے نکل کر حقیقت پسندی سے سوچا جائے تو مایوسی اور اس کے نتیجے میں "ماتم" کی صدائیں بلند دور رس نقصانات کا باعث ہو سکتی ہیں۔

جشن کا مطلب ضروری نہیں کے بھنگڑے ڈالنا اور شہنائیاں بجانا ہو۔ یوم آزادی منانے کے ایک سے زائد طریقے ہیں۔ جن میں سے حالات کے مطابق کوئی بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ اور اس کا مقصد جہاں اس آزادی کی نعمت کا شکر بجا لانا، اپنے بزرگوں کی قربانیوں کا اعتراف کرنا، آنے والی نسل میں آزادی کا احساس اور شعور بیدار کرنا ہے وہیں اس کا ایک اہم مقصد معاشرے کے ناسوروں کے‌خلاف آواز اٹھانا، اور بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے اس دن ایک بار پھر وہی عزم کرنا جس کے ساتھ 1947 میں مسلمان قوم اٹھی تھی اور بر صغیر کو تقسیم کر کے ایک مسلمان ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر کیا تھا۔

ماتم اور وہ بھی اس روز ۔۔۔ یہ تو اس طبقہ فکر کی فتح ہو گی جس نے روز اول سے آج تک اس اسلامی ریاست کی مخالفت کی اور نظریہ پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ یہ سارے حالات انہی کے پیدا کردہ ہیں، اور اگر وہ محبان وطن سے اس روز ماتم کروانے میں کامیاب ہو گئے تو پھر ہم اپنی آنے والی نسل کو کیا شعور آزادی دیں گے؟


آزادی کا جشن منانا زندہ قوموں کا شعار ہے اور اس سے قوم کو ایک نیا جوش، ایک نیا جذبہ اور ایک ولولہ تازہ ملتا ہے۔ ہم آج جن حالات سے گزر رہے ہیں یقینا ان کی وجہ سے مایوسی اور بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے اور ہو رہی ہے۔ اور مایوسی ایک ایسی مہلک وبا ہے جب یہ کسی قوم میں پیدا ہو جائے تو پھر ترقی کا عمل یکسر رک جاتا ہے۔ کیوں کہ آگے بڑھنے اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ صرف اسی میں پیدا ہو سکتا ہے جس میں امید کا دیا روشن ہو، جسے بہتر مستقبل کا یقین ہو اور جسے اس بات پر بھروسہ ہو کہ میری محنت ضائع نہیں ہو گی بلکہ اس کے نتیجے میں بہتر حالات اور ترقی ملے گی۔

موجودہ حالات میں جشن آزاد کو اس کے تمام تر تقاضوں کے مطابق منانا، عوام میں آزادی کا شعور بیدار کرنا اور وطن عزیز کی ترقی، بہتری اور استحکام کے لیے عوام پاکستان کے دلوں میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔   اس کے لیے ارباب حکومت سے لے کر نیچے تک ہر ہر ذی شعور شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔

حالات واقعی بہت ناگفتہ بہ ہیں لیکن بہتری کی امید کے ساتھ مایوسی کا خاتمہ ضروری ہے۔
اس موقع پر مکرمی اجمل انجم صاحب کی تازہ ترین نظم کے چند اشعار ضرور پیش کرنا چاہوں گا

وطن کی مٹی ۔۔۔۔۔ یقین رکھنا
کہیں جہاں میں ، خزاں کی رُت دائمی نہیں ہے
ستم کی کالی سیاہ راتیں ، طویل بھی ہوں
تو ان کا ڈھلنا
رُتیں بدلنا ۔۔۔۔۔ نسیم ِ صبح ِ بہار چلنا
یہ دین ِ فطرت ہے ، عین ِ حق ہے
یہ بالیقیں ہے
یقین رکھنا ۔۔۔۔۔ شب ِ ستم کا ، عذاب رُت کا
یہ بالیقیں دور ِ آخریں ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

میڈیا کا بنیادی مقاصد سےاعراض: اہل فکر کی ذمہ داری



تحریر: راجہ اکرام الحق
ذرائع ابلاغ کے بنیادی مقاصد میں سے اہم ترین تین مقاصد ہیں، تفریح، ذہن سازی اور معلومات کی فراہمی۔ اگر ان تین مقاصد کا تجزیہ کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اصل مقصد ذہن سازی ہے جس کے لیے تفریح کے مختلف ذرائع اور معلومات کی فراہمی کو بطور وسیلہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ذہن سازی در اصل قوم سازی Nation building   ہے اور اس کے لیے معاشرے کی ضرورت، اس کی سماجی و معاشرتی اقدار اور وقت و حالات کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر منصوبہ سازی کرنا اور لائحہ عمل طے کرنا ضروری ہے  تب ہی ان مقاصد کا حصول ممکن ہوگا۔ شاید ذہن سازی اور انسان سازی کے اس اعلیٰ  مقصد کی وجہ سے ہی صحافت کو مقدس پیشہ گردانا جاتا ہے۔
ان مقاصد کی روشنی میں اگر ہم وطن عزیر کے ذرائع ابلاغ کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا میڈیا نہ صرف یہ کہ بنیادی مقاصد سے کوسوں دور ہے بلکہ کسی اور کے اہداف کی تکمیل کرتا نظر آتا ہے۔ تفریح اور معلومات کی فراہمی کے لیے جو معیارات ذرائع ابلاغ نے طے کیے ہوئے ہیں ان میں نہ تو ہمارے معاشرے کی ضروریات کا لحاظ ہے، نہ معاشرتی و سماجی اقدار کو درخور اعتناء سمجھا گیا ہے اور نہ ہی وقت اور حالات کے تقاضوں کو خاطر میں لایا گیا ہے۔
اس بے راہ روی کی اہم وجوہات میں سرمایہ دارانہ ذہنیت، استعمار کی نقالی اور ذہنی مرعوبیت اہم ترین ہیں۔ سرمایہ دارانہ ذہنیت نے ذرائع ابلاغ کو سرمایہ داروں کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے، ان کے منافع کو دگنا کرنے اور ان کے لیے عوام کا خون نچوڑنے کی کے نئے افق تلاش کرنے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ معلومات اور تفریح کے ذرائع میں سے ان چیزوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جن کا معاشرے کی ضروریات سے دور دور تک کا واسطہ نہیں ہوتا۔ بنیادی مسائل سے آگاہی کے بجائے اشتہارات اور گلیمر پر سارا سارا دن گزر جاتا ہے۔ اشتہارات میں بھی ان اشیاء کو جگہ دی جاتی ہے جو نوے فیصد عوام کی نہ تو ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی ان تک رسائی کی سکت۔ ملکی مسائل سے آگاہی کے بجائے غیر ملکی فلموں اور فلم سٹارز کی تعریف و توصیف میں گھنٹوں صرف کر دیے جاتے ہیں۔
ایک اسلامی ملک جس میں  بسنے والے چھیانوے فیصد  سے زائد مسلمان ہوں، جن کے بزرگوں نے اسلام کے نام پر ایک مملکت حاصل کرنے کے لیے ناقابل بیان قربانیاں دی ہوں اس میں رائج ذرائع ابلاغ کا معیار، اس کا ضابطہ اخلاق، اس کی ترجیحات اور اس کے وسائل کا استعمال کن خطوط کی روشنی میں اور کس بنیاد پر ہونا چاہیے اس حوالے سے اصولا کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن کچھ عاقبت نا اندیشوں نے ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی اور کسی حد تک کامیاب بھی ہو گئے۔ شومئی قسمت کہ وطن عزیز کے ہر اہم ادارے اور ذرائع ابلاغ کے ہر اہم چینل پر  ایسے ہی افراد کا کہیں قبضہ اور کہیں اثر و رسوخ ہے۔
بسا اوقات یوں لگتا ہے کہ دنیا بھر کا میڈیا فی الحقیقت ایک ہی  مرکز سے کنٹرول ہو رہا ہے۔ ایک مخصوص لابی ہے جس نے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کو خرید رکھا ہے  اور کوئی بھی پروگرام اس کی  طے کی گئی منصوبہ بندی کے خلاف نشر نہیں ہو سکتا۔ کسی چیز کا ہوا کھڑا کرنا ہو تو دنیا بھر کا میڈیا یک جان ہو جاتا ہے اور شرق و غرب میں ایک ہی صدا سنائی دیتی ہے۔ اور اگر اس میڈیا کے ارباب اختیار نہ چاہیں تو بڑے سے بڑا مسئلہ کوئی توجہ حاصل نہیں کر سکتا۔ جسے چاہیں مجرم بنا دیں اور جسے چاہیں ہیرو بنا دیں ۔  جسے چاہیں ترقی کے بام عروج پر پہنچا دیں اور جسے چاہیں صفر کی قدر سے بھی نیچے لے جائیں۔
غیر مسلم اور غیر نظریاتی ممالک میں موجود ذرائع ابلاغ کسی نہ کسی حد تک اپنے ملکی مفاد  کو پیش نظر رکھتے ہیں لیکن اسلامی ممالک میں میڈیا کی صورتحال بہت تشویش ناک ہے۔ معاشرتی اقدار اور اخلاقی ضوابط تو درکنار ملکی مفاد تک کا لحاظ نہیں رکھا جاتا ۔ ایسے میں ارباب اقتدار اور اہل فکر و دانش کو اس اہم شعبے کی جانب توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے۔ حکومت ایک ایسا ضابطہ اخلاق طے کرے جو صرف حکومتی مفاد کا تحفظ نہ کرتا ہو بلکہ ملکی مفاد، معاشرتی و سماجی اقدار اور اخلاقی ضابطوں  کا جامع ہو۔ جس میں ملکی مسائل اور ان کے حل کے لیے عوامی شمولیت کے حوالے سے  آگاہی کے ساتھ ساتھ اخلاقی و سماجی قدروں کے پرچار اور تحفظ کا اہتمام بھی ہو۔ اگر اب بھی حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے اور ذرائع ابلاغ اسی نہج پر رواں دواں رہے تو ہمارے موجود خاندانی نظام،  سماجی قدروں اور ملکی مفاد کا بھی جنازہ نکل جائے گا۔
محب وطن اہل فکر و دانش اور اصحاب ثروت کا کام ہے کہ وہ  آگے بڑھ کر ذرائع ابلاغ کے میدان میں جگہ بنائیں، نئے ذرائع پیدا کریں اور معاشرے کی فکری نشو و نما میں اپنا کردار ادا کریں۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

میمو کیس کا فیصلہ : حکومت کا ایک اور امتحان





28 نومبر 2011ء کو سماعت کے لیے منظور کیے جانے والے میمو کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ میمو ایک حقیقت ہے اور اس کا خالق حسین حقانی ہے۔ اس  میں فریقوں کی ایک لمبی فہرست ہے جس میں پاکستان کے اعلیٰ ترین ادارے اور  اداروں کے سربراہان شامل ہیں جن میں  وفاق، صدر پاکستان، بری افواج کے سربراہ، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ شجاع پاشا، امریکہ کے لیے پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی اور پاکستان نژاد امریکی شہری  منصور اعجاز قابل ذکر ہیں۔  سوائے پی پی اور اس کے چند  چہیتوں اور چاہنے والوں کے سب ہی اس میمو کی حقیقت کے قائل تھے۔ آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ اپنے حلفیہ بیان میں اس کے حقیقی ہونے کا اظہار کر چکے تھے ۔ 

اگرچہ فیصلے میں اس میمو کا خالق حسین حقانی کو قرار دیا گیا ہے لیکن ایک سوال ابھرتا ہے کہ کیا حسین حقانی موجودہ حکومت اور بطور خاص صدر آصف علی زرداری کے مرضی یا حکم کے بغیر اس طرح کا کوئی اقدام اٹھا سکتے ہیں؟ ایک معمولی فہم کا مالک انسان بھی اس کا جواب نفی میں دے گا۔

پی پی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے پی پی کے اس جیالے نے فیصلہ آنے کے بعد کہہ دیا کہ کمیشن جانبدار تھا۔   سوال یہ ہے کہ یہ جانبداری اب آشکار ہوئی ہے  یا پہلے سے موصوف اس کا علم رکھتے تھے؟ اگر پہلے سے علم تھا تو پھر راز و نیاز کے بجائے اظہار کو بہتر کیوں نہ سمجھا گیا؟ 

اگر آرمی چیف، آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی کے حلفیہ بیانات  اور سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے حالیہ فیصلے سے ہٹ کر دیکھا جائے  تو پی پی اور اس کے جیالوں کا  رد عمل اس میمو کی حقیقت کو آشکار کرنے کے لیے کافی ہے۔   بطور خاص منصور اعجاز کو پاکستان آنے سے روکنے کے لیے حکومت وقت اور بالخصوص سابق وزیر داخلہ اور حالیہ مشیر داخلہ رحمٰن ملک کا  کردار صاف ظاہر کرتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہی نہیں بلکہ  ساری ہی دال کالی ہے۔ 

اس کے بعد دوسرا اہم واقعہ جو حسین حقانی کے مجرم ہونے کی مزید توثیق کرتا ہے  وہ اس کا وعدے کے مطابق واپس نہ آنا ہے۔ حسین حقانی کو اس شرط پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی کہ وہ  عدالت کے نوٹس پر چار دن  میں  عدالت کے روبرا پیش ہونے کے پابند ہوں گے۔ جبکہ صورتحال یہ ہے کہ بارہا نوٹس ملیا پر "ککھ نہ ہلیا"۔ لیکن شاید حقانی صاحب کو    پی پی پی کی تاریخ کا ایک اہم کردار بابر اعوان یاد نہیں ۔ یہ تاریخی روایت بتاتی ہے کہ جس کا "ککھ" نہیں ہلتا وہ پورا کا پورا ہل جاتا ہے۔ 

پاکستان پیپلز پارٹی  کا رویہ یہ رہا ہے کہ  روزانہ عدلیہ کے احترام کے دعوے کرتی ہے اور عملا ہمیشہ اس کے فیصلوں کی خلاف ورزی کرتی ہے ۔ اس کی بہترین مثالیں این آر او کا فیصلہ، سوئس عدالتوں کو خطوط کا معاملہ، وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت  کا فیصلہ اور رحمٰن ملک کی نا اہلیت کا فیصلہ ہیں جن میں حکومت نےصراحتاً عدلیہ کے فیصلے کی مخالفت کی۔  اب دیکھنا یہ ہے کہ اس فیصلے کے حوالے سے ان کی پیش رفت کیا ہو گی۔  کیا اپنے روایتی رویے کو برقرار رکھے گی یا  اپنے اس جیالے کی قربانی  دے کر سرخرو ہونے کی کوشش کرے گی۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

نصاب تعلیم کا نفسیاتی پہلو: پہلو تہی کے منفی اثرات



راجہ اکرام الحق:
نوجوان قوم کے معمار ہوتے ہیں اور ان معماران کی بہترین تعمیر   میں جہاں والدین، معاشرہ اور استاد کردار ادا کرتے ہیں وہیں نصاب تعلیم  کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہوا کرتا  ہے۔  کیوں کہ نصابِ تعلیم ذہنی پرداخت اور فکری تشکیل کے ساتھ ساتھ شخصیت کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔  بچے کے ناپختہ اور صاف ذہن میں جو تصویر درسگاہ میں ابتدائی سال سے اپنے نقش و نگار ابھارنا شروع کرتی ہے تعلیم سے فراغت تک وہ تصویر اس حد تک پختہ ہو جاتی ہے کہ اس کے نقوش انمٹ ہو جاتے ہیں۔ 

اس لیے کسی بھی ملک میں نصاب سازی کے کام کو  بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔ نصاب سازی کا کام  پختہ، تجربہ کار اور ماہرین نفسیات کو سونپا جاتا ہے تا کہ  ایسا  نصاب تیار ہو  جو ملکی و ملی مفاد سے ہم آہنگ ہو اور مطلوبہ افراد کار کی تیاری میں ممد و معاون ہو۔  لہذا یہ کہنا کسی طور غلط نہ ہو گا کہ تعلیم کا اہم ہدف انسان سازی ہے۔  جس نے اس صنعت پر توجہ دی  اس نے دنیا سے اپنا لوہا منوایا اور جس نے اس معاملے میں نا اہلی  اور عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا غلامی اس کا مقدر ٹھہری۔  

یوں تو وطن  عزیز میں اس وقت درجن بھر کے لگ بھگ نظام ہائے تعلیم رائج ہیں  لیکن اگر ہم اپنی سہولت کے لیے کسی  بڑی  اور واضح تقسیم پر قناعت کرنا چاہیں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا نظام تعلیم تین  بڑے نظاموں میں منقسم  ہے۔ ایک حکومتی یا سرکاری نظام تعلیم، دوسرا پرائیویٹ نظام تعلیم جس میں بیشتر برطانیہ اور امریکہ کا تیار کردہ نصاب  رائج ہے۔  اور تیسرا  دینی نظام تعلیم جو کہ مدارس عربیہ کی صورت میں ملک کے طور و عرض میں رائج ہے۔ ان تینوں نظاموں سے تیار ہونے والے افراد کے رویے، طرز عمل ، ذہنی ساخت اور انداز فکر  ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتا ہے  کیوں کہ ان تینوں نظام ہائے تعلیم کے نصابات ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔ 

اگر سرکاری  نظام تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہےکہ   انسان سازی کی یہ صنعت  اپنی پیداواری صلاحیت کے لحاظ سے بانجھ پن کا شکار ہے۔   کہیں نہ کہیں کوئی ایسی کمی ضرور ہے  جس کی وجہ سے یہ تعلیمی ڈھانچہ  ملکی و ملی تقاضوں   اور معاشرتی اقدار سے اہم آہنگ رجال کار فراہم کرنے سے قاصر ہے  ۔ اس سے نکلنے والے  بیشتر افرا د  فکری و عملی طور پر کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ  ذہنی  مرعوبیت کا شکار ہوتے ہیں۔ اور علمی بالغ  نظری کے  فقدان کے ساتھ ساتھ حب الوطنی کے جذبہ مطلوبہ  سے عاری بھی  ہوتے ہیں۔   اس کے مقابلے میں پرائیویٹ یا نجی تعلیمی نظام کے فارغ التحصیل جن کے شب و روز  آکسفورڈ اور کیمبرج کے نصاب ہائے تعلیم کو پڑھتے ہوئے گزرتے ہیں ، اور جن کی فکری و ذہنی  پرداخت اسی خاص ماحول میں ہوتی ہے وہ  علمی طور پر مضبوط اور  پر اعتماد تو ہوتے ہیں لیکن ملکی مفاد اور جذبہ حب الوطنی کے فقدان کا شکار ہوتے ہیں۔یہی لوگ برسر اقتدار آتے ہیں اور بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے ملکی مفاد اور خود مختاری  تک کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔  اول الذکر جو کام مرعوبیت کی وجہ سے کر تے ہیں وہی کام ثانی الذکر  خوشنودی کے لیے کر گزرتے ہیں۔ الغرض دونوں ہی طرح کے افراد ہمارے معاشرتی اور ملکی مزاج  کے لیے سود مند نہیں ہیں۔
  اس  ساری صورتحال کی اصل وجہ یہی ہے کہ ان نصاب ہائے تعلیم کی تیاری ہماری قومی و معاشرتی نفسیات اور ضرورتوں کے مطابق نہیں ہوئی۔ سرکاری نظام تعلیم لارڈ میکالے کے "سنہری اصولوں" پر کاربند ہے تو پرائیوٹ نظام سارا کا سارا ہے ہی درآمد شدہ۔ 


ان دو نظاموں کے مقابلے میں  رائج  دینی نظام تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو  وہ ایک اور انتہا پر ہے۔  لب و لہجہ اور انداز و اطوار پانچ صدیاں قبل والے، اپنے سوا کسی کو خاطر میں نہ لینا ،  اپنا کلام پیش کر دینا اور جواب آں غزل سننے کا روادار نہ ہونا۔  اسی کا نتیجہ ہے کہ بہت سے ایسے معاملات جو افہام و تفہیم اور مذاکرے و مکالمے سے حل ہو سکتے ہیں ان میں بھی  نوبت دست و گریباں ہونے تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ حال تو اپنے ہم مذہب  افراد کے ساتھ ہے۔ جہاں تک غیر مسلموں کا تعلق ہے  تو وہ اس قابل ہی نہیں کہ ان کے ساتھ مکالمہ کیا جائے ۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ مدارس میں رائج نصاب اس زمانے کا ہے جب مسلمان حاکم اور طاقت ور تھے۔ لہذا نصاب وہ نفسیاتی پہلو  رچا بسا ہے جو ایک حکمران قوم کا ہوا کرتا ہے۔
  مدارس دینیہ میں رائج موجودہ  نصاب اورنگزیب کے زمانے میں  نظام الدین فرنگی محلی کا ترتیب دیا ہوا" درس نظامی"  ہے۔ اس وقت مسلمان اقتدار میں تھے اور مقتدر قوم کی فکری و  ذہنی ساخت نفسیاتی طور پر محکوم سے کئی لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔  اسی کے پیش نظر  "درس نظامی" کی تیاری میں اُس وقت اور حالات کے تقاضوں کو پیش نظر رکھا گیا،  ان ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی جو ایک حکمران قوم کی ہوا کرتی ہیں اور ایسا نصاب تیار کیا گیا جس سے نکلے ہوئے افراد نہ صرف معاشرتی بلکہ انتظامی و حکومتی ذمہ داریاں بھی  بانداز احسن ادا کر سکیں۔  جبکہ آج کے دور میں مسلمانوں کی حالت کا اگر جائزہ لیا جائے تو ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد کے بعد سے اب تک ہم کبھی ذہنی، کبھی جسمانی اور کبھی دونوں طرح کی  غلامیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ آج کے دور کے تقاضے اس دور سے یکسر مختلف ہیں، اب معاملہ حاکم اور محکوم کا نہیں رہا، بلکہ کہیں مسلمان مغلوب ہیں اور کہیں معاملہ برابری کی سطح کا ہے۔ ایسے میں مذاکرات ، مکالمہ، کچھ دو اور کچھ لو کے اصولوں کو اپنانا ناگزیر ہے لیکن طبقہ علماء میں یہ خو بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ 

کسی بھی ملک کا نظام تعلیم  جن مقاصد و اہداف کے حصول کے لیے کوشاں ہوتا ہے مذکورہ بالا نظام ہائے تعلیم  ان  مقاصد  و اہداف کے حصول میں مطلوبہ کامیابی حاصل کرنے سے تا حال قاصر ہیں۔  اس ناکامی میں جو  عنصر کلیدی کردار ادا کر رہا ہے وہ نصاب تعلیم ہے۔ نصاب کا نفسیات کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔   نصابِ تعلیم  طلبہ کی ذہنی پرداخت پر نفسیاتی پہلو سے اس طرح اثر انداز ہوتا ہے کہ ان کی ظاہری و باطنی  شخصیت  میں غیر محسوس انداز سے ایک خاص نفسیاتی طرز عمل غالب آ جاتا ہے اور اس نفسیاتی طرز عمل کا رنگ معمولات حیات میں جا بجا  نظر آتا ہے۔

ان معروضات کے پیش نظر ہمارے ارباب اقتدار کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔   بطور خاص موجودہ  ملکی حالات میں ہم جس قدر قحط الرجال کا شکار ہیں ایسے میں یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ  موجودہ نصاب کی اساسی کتب اور بنیادی مضامین کو برقرار رکھتے ہوئے  ایسا نصاب تیار کیا جائے تو جو ملکی تقاضوں اور ہماری معاشرتی اقدار سے ہم آہنگ ہو  اور جس کے تیار کردہ رجال کار اپنی مطلوبہ ذمہ داریاں بانداز احسن ادا کر سکیں۔  

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سانحہ نوابشاہ: کون مرا کس نے مارا؟





ابھی 22 مئی کے زخموں سے خون رسنا بند نہیں ہوا تھا کہ 25 مئی بروز جمعہ کو ایک اور سانحہ رونما ہو گیا۔ صوبہ سندھ کے ضلع نوابشاہ میں قاضی احمد کے مقام پر کراچی سے کوہاٹ جانے والی ایک بس پرفائرنگ کر کے 8 افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔  میری معلومات کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں کراچی سے پنجاب یا سرحد  جانے والی مسافر بسوں پر اس طرح فائرنگ کی گئی ہو۔ اگر پہلا نہ بھی ہو تو اس نوعیت کے واقعات  شاذ و نادر ہی ہیں۔"لوٹ مار کے واقعات اس سے مستثنیٰ ہیں کیوں کہ وہ کم و بیش ہر جگہ رونما ہوتے رہتے ہیں"  واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ مرحومین کی مغفرت فرمائے اور  ان کے خون کی قربانی  کے بدلے وطن عزیز کو امن کی دولت سے نوازے۔ آمین

یہ فائرنگ کس نے کی،  نشانے پر کون تھا، پس پردہ مقاصد کیا تھے  اور کون  سے عناصر  اس میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ ان سوالوں کا جواب یا تو عینی شاہدین دے سکتے تھے یا پھر تفتیش کے بعد ہی مصدقہ طور پر کچھ کہا جا سکتا تھا۔ تاحال اس حوالے سے کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی کہ  اس فعل مذموم کا ارتکاب کس نے کیا اور کس کے کہنے پر کیا۔

بادی النظر میں یہ کہا جا سکتا ہے  کہ سندھ کا علاقہ ہے، مرنے والوں میں صوبہ پنجاب کے لوگ بھی شامل ہیں،  سندھی قوم پرستوں کو پنجاب سے پرخاش ہے جس کی بنا پر وہ اس طرح کااقدام کر سکتے ہیں۔

   لیکن معاملہ اس کے بالکل برعکس  نکلا۔  ابھی سندھی، پنجابی اور پٹھا ن خاموش تھے کہ مہاجر صوبے کے دعوے داروں نے اس واقعہ کو کیش کرانا شروع کر دیا۔ سوشل میڈیا پر یہ افواہیں پھیلانا شروع کر دیں کہ "اردو بولنے والوں اور مہاجروں کو قتل کیا گیا"۔ بظاہر دیکھا جائے تو مہاجروں کا اس پورے واقعے سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ کیوں کہ نہ تو ان کا علاقہ تھا اور نہ کوہاٹ جانیوالی کسی بس میں ان کا پایا جانا ضروری تھا۔ لیکن اس کے باوجود جس انداز سے ان لوگوں نے افواہیں پھیلانا شروع کیں اس نے ان کے کردار کو مشکوک بنا دیا۔
22 مئی کو سندھ 
قوم پرستوں کی ریلی پر فائرنگ کر کے 11 فراد کی ہلاکت کے بعد ایم کیو ایم پر جو الزامات لگ رہے تھے اس سے توجہ ہٹانے کے لیے اس واقعے کا جس طرح ایم کیوا یم  نے سہارا لینے کی کوشش کی  اس سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ 

تفتیش کا پہلا اصول ہی شک ہے۔ اسی شک کے فلسفے کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایم کیو ایم یا مہاجر صوبے کے دعویداروں نے جس انداز سے سانحہ نوابشاہ کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کی ہے اس سے اس شک کو تقویت ملتی ہے کہ اس واقعے میں ملوث عناصر میں ان کا پایا جانا بعید از قیاس نہیں۔ عین ممکن ہے کہ کراچی کے واقعہ سے توجہ ہٹانے اور سندھ قوم پرستوں کو سبق سکھانے کے لیے معصوم پنجابیوں اور پٹھانوں کی بلی چڑھائی گئی  ہو۔

تفتیش کا دوسرا اہم اصول یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ واقعہ سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔  اس اصول کے پیش نظر دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ اس سانحے سے فائدہ حاصل کرنے کی سب سے پہلی کوشش ایم کیو ایم کی جانب سے کی گئی جس نے ان کے کردار کو اور بھی مشکوک بنا دیا۔

اس اندوہناک سانحے کی تفتیش کے دوران تمام ہی پہلووں کو مد نظر کر تمام عناصر کو  زیر تفتیش لایا جانا ضروری ہے تا کہ مجرم کیف کردار تک پہنچ سکیں اور آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام ہو سکے۔

ایک اور اہم بات جو سب پاکستانیوں کو مد نظر رکھنی چاہیے اس طرح کے واقعات لسانی تعصب کو ہوا دینے کے لیے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں اور ملک دشمن عناصر  تعصب کی آگ کو بھڑکانے کے لیے ان واقعات کو  بہت مؤثر انداز سے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس لیے جوش کے بجائے ہوش کا دامن تھامنا ہو گا تا کہ سماج دشمن اور ملک دشمن عناصر کے مقاصد پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکیں۔  

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کراچی کو خطرہ کس سے ہے؟






خوشحالی اور بدحالی ، امن اور بد امنی، انصاف اور ظلم ہر معاشرے میں کسی نہ کسی صورت میں پائے جا سکتے ہیں۔ انسانوں کے اعمال اور نصیب دونوں ہی ان کے وجود اور معدوم ہونے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اگر اعمال راست ہوں، نیکی کا بول بالا ہو، ایثار و قربانی کے جذبات موجود ہوں، دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا جاتا ہو تو بدحالی کے بجائے خوشحالی، بدامنی کے بجائے امن و آشتی اور ظلم کے بجائے انصاف ہوتا ہے ۔ لیکن اگر نفسا نفسی کا عالم ہو، ہر طرف آپا دھاپی مچی ہو، اپنی آسائشوں کے لئے دوسروں کے منہ کا نوالہ چھیننے کو عیب تصور نہ کیا جاتا ہو، دنیاوی جاہ ہی مقصد زندگی بن جائے تو پھر معاملہ بالکل برعکس ہو جاتا ہے۔

لیکن کچھ لوگوں پر قسمت کی دیوی مہربان ہوتی ہے۔ ان تمام بد اعمالیوں کے باوجود بھی یہ مصیبتیں ان پر نازل نہیں ہوتیں۔۔ مگر کب تک، مہلت کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے ، اور جو سبق نہ سیکھے اس کا انجام دردناک ہی نہیں عبرت ناک بھی ہوتا ہے۔
شہر کراچی ایک زمانے میں روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، ملک بھر سے رزق کے متلاشی کراچی کا رخ کرتے تھے۔ اور اس شہر نے کبھی کسی کو مایوس واپس نہیں کیا بلکہ ہمیشہ خوش آمدید ہی کہا اور ایک ماں کی طرح اپنی آغوش میں پناہ دی۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر لوگ تلاش معاش کے لئے یہاں آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔

یہ بھی مسلم حقیقت ہے کہ اگر کراچی سے ان افراد نے حصول معاش کیا تو بدلے میں اس کی ترقی میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑا ویران حصہ(سہراب گوٹھ سے لے کر لالو کھیت تک) گنجان آباد علاقے میں تبدیل ہو گیا۔ سستی اور وافر افرادی قوت کے باعث ملک بھر سے سرمایہ کاروں نے کراچی کا رخ کیا اور بے شمار کارخانے کراچی کی رونق اور کشش میں روز افزوں اضافہ کرنے لگے۔
لیکن پھر ہمارے اعمال بدلے۔ نیتوں میں کھوٹ آنا شروع ہونے لگی۔مال کی ہوس میں اضافہ ہوا۔ آنکھوں پر حرص و ہوا کی پٹی چڑھ گئی اور وہی لوگ جو کل تک ہمارے بھائی تھے دشمن نظر آنے لگے۔ ہمیں کراچی کی زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگ لگنے لگی۔ اور باہر سے آنے والے بوجھ محسوس ہونا شروع ہو گئے۔

پھر کیا ہوا؟ وہی جو اس کا فطری نتیجہ ہے۔ امن و امان تباہ ہو گیا۔ اپنے اپنوں کے گلے کاٹنے لگے، روشنیاں تاریکیوں میں بدل گئیں، صنعتیں خسارے کا شکار ہو گئیں۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے کراچی خوف کی علامت بن گیا۔

ذمہ دار کوئی بھی ہو ، قصور کسی کا بھی ہو، لیکن یہ ہے ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ۔
اب جب کہ وطن عزیز چاروں جانب سے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی چالوں اور سازشوں کا شکار ہے۔ ایک کے بعد دوسری مصیبت رونما ہو رہی ہے۔ ملک کا ایک حصہ مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسے میں پھر ایک بار ایک بڑی تعداد کے لئے شہر کراچی آخری امید ہے۔ لیکن دوسری جانب اہل وطن کو ایک دوسرے پر الزام تراشیوں سے فرصت نہیں۔ سب کا مدعا یہی ہے کہ کراچی کو خطرہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ خطرہ کس سے ہے۔

ایک گروہ کے خیال میں خطرہ ”اسلا مائیزیشن “ سے ہے، دوسرے کے خیال میں خطرہ ”طالبانائزیشن“ سے ہے، تیسرے کے خیال میں ”پٹھانائزیشن“ سے ہے اور ایک بڑی تعداد کے خیال میں کراچی کو خطرہ صرف ”الطافائزیشن“ یا ”مہاجرائزیشن“ سے ہے۔

ایک لمحے کے لئے ہم یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ مذکورہ بالا تما ہی گروہوں سے کراچی کو خطرہ ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہو گا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ کس ملک سے ان کا تعلق ہے؟ کہاں کی شہریت کے حامل ہیں؟ کس دین و مذہب کے ماننے والے ہیں؟
تو جواب کا خلاصہ یقینا یہی ہو گا کہ یہ سب تو ”اپنے“ ہی لوگ ہیں۔ اسلام کے ماننے والے ہیں، پاکستان میں بسنے والے ہیں اور پاکستان ہی کے شہری بھی ہیں۔ تو اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ کراچی کو خطرہ ”اپنوں “ سے ہے۔

اگر ہم سب فرقہ واریت اور گروہ بندی کو نظر انداز کر کے ملکی مفاد کے لئے سوچنا شروع کر دیں تو نہ صرف کراچی بلکہ وطن عزیز پاکستان تمام خطرات سے نکل سکتا ہے۔
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اگر وطن عزیز کو امن و آشتی کا گہوارا بنانا ہے، کراچی کو ایک بار پھر روشنیوں کا شہر بنانا ہے اور دنیا میں نام روشن کرنا ہے تو ہمیں اپنے اعمال پر نظر ثانی کرنی ہو گی۔ان حالات میں غیروں کو کوسنا اورتمام فسادات اور ہنگاموں کا ذمہ دار انہیں ٹھہرانا اپنے دل کو طفل تسلی دینے سے زیادہ کچھ نہیں ہو گی۔ کیوں کہ کراچی کو خطرہ کسی اور سے نہیں بلکہ خطرہ ”اپنوں“ سے ہے ۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

جوہری توانائی کا تحفظ : پس پردہ حقائق ، ممکنہ صورت



تحریر: راجہ اکرام الحق
جوہری ہتھیاروں کو دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے اور دنیا کو  "جوہری دہشت گردی" سے بچانے کے اعلانیہ ایجنڈے کے تحت دوسری جوہری تحفظ کی سربراہی کانفرس جنوبی کوریا کے دار الحکومت سیول میں 26 مارچ کو منعقد ہوئی۔  اس سلسلے کی پہلی کانفرنس12 اور 13 اپریل  2010ء کو امریکہ کے شہر واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوئی تھی، کانفرنس میں دنیا بھر کے پچاس سے زائد ممالک  اور تنظیموں نے شرکت کی جن میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں۔  ۔  کانفرنس کا ایجنڈا تین نکاتی تھا ؛

  •  جوہری دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات  
  •  جوہری مواد اور اس سے متعلق  سہولیات کا تحفظ
  • جوہری مواد کی غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام 
اس دو روزہ اجلاس میں کون کون سی چیزیں زیر بحث آئیں اور آئندہ کے لیے کیا لائحہ عمل طے کیا گیا اس حوالے سے بے شمار تفصیلات ذرائع ابلاغ میں جا بجا موجود ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جوہری تحفظ کے ان اجلاسوں کا اصل اہداف کیا وہی ہیں جن کا تذکرہ برسر منبر کیا جاتا ہے یا اصل مقاصد اور اہداف پس پردہ ہیں جنہیں "جوہری دہشت گردی" سے بچاؤ کے پردے میں رہ کر حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔؟
اصل ہدف جس کا  چرچا ہے اور جس کے نام پر خرچا ہو رہا ہے وہ جوہری ہتھیاروں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں لگنے سے بچانے کے اقدامات ہیں لیکن  اجلاس کے دوران ہونے والے خطاب اور بالخصوص کانفرنس کے بانی اور روح رواں امریکی صدر کا خطاب اگر سنا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یا تو اس طرح کے اجلاس کااصل مقصد وہ نہیں جو بتایا جاتا ہے یا پھر یہ سمٹ اپنے ہدف سے بہت دور جا چکا ہے۔
اس سے پہلے 2010ء میں ہونے والے پہلے اجلاس کا اگر جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس پروگرام کا اصل ہدف دنیا کے دیگر ممالک کو جوہری توانائی سے دور کر کے امریکہ اپنی اجارہ داری اور چودہراہٹ قائم کرنے کے لیے پیش رفت کر رہا ہے۔ اسی طرح کی صورتحال اس بار کے اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے۔  کیوں کہ اگر کانفرنس کا ہدف واقعتا جوہری مواد کا تحفظ ہے تو اس ایجنڈے میں سر فہرست ایسے اقدامات ہونے چاہیے تھے جن کے ذریعے موجودہ مواد کو محفوظ سے محفوظ تر بنایا جا سکے تا کہ ان تک دہشت گردوں کی رسائی ممکن نہ رہے اور پر امن مقاصد کے لیے ان سے استفادے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔  نیز جن ذمہ دار ممالک کے پاس جوہری توانائی کے حصول کی صلاحیت ہے اور وہ اسے پر امن مقاصد کے لیے یا اپنے دفاع کو بہتر بنانے کے لیے  حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کے ساتھ ہر ممکنہ تعاون کیا جائے تا کہ اس پر صرف چند ممالک کی اجارہ داری نہ رہے۔  اس کے پیش نظر ضروری تھا کہ اس کانفرنس میں وہ تمام ممالک شریک ہوں جو یہ توانائی رکھتے ہیں اور وہ بھی جو اس کے حصول کے بالقریب پہنچ چکے ہیں یا اس حوالے سے کوشش کر رہے ہیں اور عالمی برادری میں متنازعہ فریق کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ تا کہ تمام  متعلقہ ممالک کا موقف سامنے آ جاتا اور بہتر حکمت عملی طے کرنے میں کامیابی ہوتی۔ لیکن گزشتہ بار کی طرح اس بار بھی  اس اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا۔ اور پھر دوران اجلاس ان کو تنبیہ بھی کی جاتی رہی۔

اس اجلاس سے ہٹ کر اگر پاکستانی ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے امریکہ بہادر اور ان کے جغادریوں کے تیور دیکھے جائیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ  ان کے لیے قابل ہضم نہیں ہے۔ اور اس سے بڑھ کر وہ دوہرا معیار جو بھارت اور پاکستان کے حوالے سے برتا جاتا ہے کہ ایک طرف بھارت کے ساتھ معاہدے اور تعاون اور دوسری طرف پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر تشویش کے اظہار اور اس کے خاتمے کے لیے کوششیں۔ 

حالات اس نہج پر جا رہے ہیں کہ کسی بھی چیز کو آئی سو لیشن میں رکھ کر نہیں دیکھا جا سکتا پورے منظر نامے کی ہر ہر کڑی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ یہ اجلاس اور اسے سے قبل جوہری توانائی کے حوالے سے امریکہ اور اس کے ہمنواؤں کی حکمت عملی سے واضح ہے کہ اس کا اصل مقصد اپنی بالادستی کے برقرار کی کوشش ہے جس  کے لیے  ہر اس ملک پر چڑھ دوڑنے کے لیے تیار ہے جو اس جانب پیش رفت کرتا ہو۔ اس حوالے سے ایران، شمالی کوریا اور پاکستان کےساتھ امریکی سلوک شاہد عدل ہے۔ 

جوہری توانائی کی تابکاری اور اس کے نقصانات اپنی جگہ لیکن اگر اس کا مؤثر اور تعمیری استعمال کیا جائے تو  اس کے فوائد بھی بے شمار ہیں ۔ تاہم اس کا ایک اہم فائدہ  کسی بڑی عالمی جنگ کے امکانات کا خاتمہ ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ توانائی ہر فریق کے پاس یکساں موجود ہو۔ کیوں کہ اگر  فریقین کے پاس ہو گی تو استعمال کا امکان نہیں اور اس کی مثال پاکستان اور بھارت سے لی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر کسی ایک کے پاس ہو اور دوسرے کے پاس نہ ہو تو پھر استعمال کے امکانات کئی گناہ بڑھ جاتے ہیں۔  اس کی مثال تاریخ میں موجود بھی ہے اور آئندہ کے لیے امکان اور توقع بھی ہے۔  مثال بھی امریکہ بہادر نے پیش کی جب صرف اس کے پاس یہ توانائی تھی  اور جاپان کے پاس نہیں تھی تو امریکہ نے بلا خطر استعمال کیا ، اور آئندہ بھی امریکہ ہی سے توقع کی جا سکتی ہے کہ اپنی انا کی ناک اونچی رکھنے اور اپنی مزعومہ عالمی قوت برقرار رکھنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ 

اگر حقیقت پسندی سے سوچا جائے تو جوہری مواد کے منفی استعمال اور اس کی تابکاری سے بچنے کی دو ہی صورتیں ہیں۔ یا تو تمام ہی ممالک تابکاری والے مواد کو  تلف کر دیں اور صرف  توانائی  کے مقاصد کے لیے ضروری مواد پر اکتفا کریں، یا پھر تمام ہی ممالک کے پاس یکساں صلاحیت ہو تا کہ کسی کو دوسرے پر جارحانہ اقدام کرنے کی جرات نہ ہو۔ بصورت دیگر امریکہ اور دگر بڑی طاقتیں اپنی چودہراہٹ قائم کرنے کے لیے یونہی سب کو بیوقوف بناتی رہیں گی اور ترقی پذیر ممالک کے لیے اس حوالے سے ہونے والے تمام ہی اقدامات و اجلاس  نشستن، خوردن و برخاستن سے زیادہ کچھ نہیں ہوں گے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بنگلہ دیش، مشرقی تیمور اور سوڈان کے بعد اب بلوچستان



تحریر: راجہ اکرام الحق
امریکہ بالخصوص اور سارا عالم کفر بالعموم کسی نہ کسی طریقے سے کسی نہ کسی جگہ عالم اسلام کے خلاف اعلانیہ یا خفیہ طور پر کہیں برسر عمل ہے اور کہیں برسر پیکار۔ اور یہ آج کی بات نہیں بلکہ یہ حق و باطل  کی کشمکش اتنی ہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسان کی ذات۔  عالم اسلام کے خلاف یہ مہم مختلف النوع ہے۔ کہیں بے بنیاد دعووں کی بنیاد پر براہ راست حملہ آور ہو کر، کہیں مسلم ممالک میں بسنے والی اقلیتوں کے حقوق کے نام پر اور کہیں مسلم ممالک میں لسانی و علاقائی عصبیتوں کے بنا پر  اندرونی خلفشار پیدا کر کے۔
لیکن ان ساری حکمت عملیوں میں سے جو دور رس نتائج کی حامل ہے اور جس کے زخموں سے رستے خون کے دھبے کئی برساتوں کے بعد بھی نہیں دھلتے وہ ہے اسلامی ممالک کی علاقائی تقسیم، کبھی اقلیتوں کے حقوق کے نام پر اور کبھی لسانی بنیادوں پر۔
1971 میں پاکستان کو دو لخت کر کے بنگلہ دیش بنانا بظاہر  یوں لگتا ہے کہ ایوب خان کی نخوت اور ذو الفقار علی بھٹو کی انانیت کا نتیجہ ہے لیکن ان حضرات کی ان کاوشوں کے ساتھ ساتھ بیرونی طاقتوں کا منصوبہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں . اگر 2005 میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب  سے ڈی کلاسیفائیڈ کی گئی رپورٹ بعنوان "Pakistan  America Relations. A reassessment" دیکھی جائے تو بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ 1971 میں پیش کی جانے والی اس رپورٹ میں امریکہ بہادر کے عزائم کیا تھے۔  
پاکستان کو دو لخت کرنے کے بعد سامراج کی نظریں مسلمانوں کے سب سے بڑے ملک انڈونیشیا پر جم گئیں۔ پھر وہاں جو کچھ ہوا، اقوام متحدہ نے جس طرح مداخلت کی وہ حیران کن ہے۔ کشمیر، فلسطین اور برما میں جو انسانیت سوز مظالم نصف صدی سے بھی زائد عرصہ سے برپا تھے وہ  اس کے سوئے ہوئے ضمیر کو نہ جگا سکے ۔  دیکھتے ہی دیکھتے  مشرقی تیمور نام سے ایک عیسائی ریاست معرض وجود میں آ گئی۔
اس عظیم معرکے میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اگلی نظر سوڈان پر جم گئی۔ وسیع رقبے پر محیط، قدرتی ذخائر اور بالخصوص تیل کی دولت سے مالا مال ایک اسلامی ملک امریکہ اور اس کی باندی اقوام متحدہ کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹکنے لگا۔ بنگلہ دیش اور انڈونیشیا کی طرح یہاں بھی وہی حکمت عملی اپنائی گئی، علیحدگی پسندوں کو مظلوم ثابت کر کے  "انسانیت کی محبت" میں سرشار ہو کر ان کی مدد کے لیے خدائی مددگار کے طور پر  پہنچ گئے اور بالآخر سوڈان کو دو لخت کر دیا۔
لگتا یوں ہے کہ وہ اپنے تئیں مسلم دنیا کے ہر اس ملک کو نشانہ بناتے ہیں جن سے خطرہ ہوتا ہے کہ مستقبل میں وہ کسی ایسے مقام پر آ سکتا ہے جو ان کے لیے مشکلات پیدا کر سکے۔  اسی لیے پہلے پاکستان، پھر انڈونیشیا اور اس کے بعد سوڈان کے ساتھ یہ گھناؤنا کھیل کھیلا۔  لیکن اس عظیم سانحے کے بعد بھی پاکستان نے  خود کو سنبھالا، حالات جیسے تیسے گزرتے گئے اور بالآخر پاکستان مسلم دنیا کا پہلا ایٹمی ملک بن کر دنیا کے سامنے آیا، جس کے بعد ایک بار پھر توپوں کا رخ پاکستان کی طرف ہو گیا۔
اس کے بعد عراق سے خطرہ تھا کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اب ایران ایک ایسا ملک ہے جو کسی بھی وقت ایٹمی طاقت بن سکتا ہے اس لیے سارے ہی عالم کفر کے پیٹ میں اس پر بھی مروڑ اٹھ رہے ہیں ۔
اب دنیائے اسلام کے دو ہی ممالک ہیں جو کسی بہتر پوزیشن  میں ہیں ، ایک ایران اور دوسرا پاکستان۔ اور آج امریکہ سمیت ساری ہی سامراجی طاقتیں ان دو ممالک کے خلاف بھرپور انداز سے سازشیں کرنے میں مصروف عمل ہیں۔  ایران پر پابندیاں لگانے کی مہم پورے زور و شور سے جاری ہے اور اسرائیل حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
پاکستان کے خلاف خفیہ طور پر بلیک واٹر، ریمنڈ ڈیوس اور مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے سازشوں کے جال بنے گئے، دہشت گردی کی ایسی آگ لگائی گئی کہ پورا پاکستان لیپٹ میں آگیا۔ ایک  طرف حکومت پر دباؤ ڈال کر شمالی وزیر ستان سمیت اس پوری پٹی میں عوام اور فوج کو آمنے سامنے کر کے بغاوت کی کوشش کرائی گئی اور دوسری جانب بلوچستان کے ناراض لوگوں کو ہر طرح سے سپورٹ کر کے انہیں پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی گئی، انہیں بلوچستان میں بیس کیمپ مہیا کیے گئے جہاں سے وہ اپنی  سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
ویسے تو یہ ساری سازش پس پردہ تھی کیوں کہ امریکہ بظاہر پاکستان کے ساتھ دوستی کا دم بھرتا تھا۔ لیکن جب سلالہ چیک پوسٹ کا سانحہ رونما ہو ا اور  نام نہاد دوستی کی دیوار میں دراڑ پڑ گئی تو امریکی جن بوتل سے باہر آ گیا اور وہاں بلوچستان کے حق میں قرار دادیں پیش ہونا شروع ہو گئیں۔  
صورتحال ایک بار پھر 1971 کی طرح ہے، علیحدگی پسندوں کو تب بھی بھارت کے ذریعے اسلحہ مہیا کیا گیا اور اب بھی وہیں سے ہر طرح کا تعاون ہو رہا ہے، بلکہ اب تو اور بھی کئی ممالک اس کار خیر میں حصہ ملا رہے ہیں۔ تب بھی بھارت سے مداخلت کروائی گئی اور پاکستان نے جب دوست سے مدد مانگی تو جواب بھیجا جانے والا ساتواں بحری بیڑا آج تک مدد کو نہیں پہنچ سکا۔  اور اب بھی بلوچستان میں شورش برپا کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان میں  بھارت کو مضبوط کیا جا رہا ہے تا کہ بوقت ضرورت مداخلت کرنی پڑے تو مشکلات نہ ہوں۔
اور آزاد بلوچستان کی اس سازش میں نہ صرف پاکستان بلکہ ایران کو بھی  گستاخی کی سزا دینے کا منصوبہ شامل ہے، کیوں کہ گریٹر بلوچستان کے نقشے میں نہ صرف پاکستانی علاقہ بلکہ ایران کا وہ حصہ جہاں بلوچ آباد ہیں وہ بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔
سامراج  دشمن تو روز اول سے ہی مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے آئے ہیں اور کامیاب ہوتے آئے ہیں ۔ لیکن مقام افسوس یہ ہے کہ مسلمان اس قدر دھوکے کھانے  اور ذلت آمیز شکست سے دو چا رہونے کے بعد بھی آج تک اپنی ان غلطیوں کا ازالہ نہیں کر سکے جن کے باعث دشمن ہر بار جیت جاتا ہے اور ہمارے حصے میں سوائے ہزیمت و ذلت کے اور کچھ نہیں آتا۔
اس وقت بلوچستان جس نازک دور سے گزر رہا ہے اس میں اگر اپنی غلطیوں اور زیادتیوں کا ازالہ نہ کیا گیا، حالات کے تقاضوں کو نہ سمجھا گیا، مظلوموں کی داد رسی نہ کی گئی اور بنگلہ دیش، مشرقی تیمور اور سوڈان جیسے واقعات سے سبق حاصل نہ کیا گیا تو پھر دشمن کو الزام دینے کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ وہ تو  دشمن ہے اور وہی کرے گا جو اس کے مفاد میں ہے۔ قصور تو ہمارا ہے کہ ہم اپنے مفادات سے بے خبر ہیں اور خود ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں کہ دشمن فائدہ اٹھائے ۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بہترین معاشرے کی تشکیل میں عورت کا کردار



تحریر : راجہ اکرام الحق 

معاشرہ خاندان سے اور خاندان افراد سے بنتا ہے۔ یعنی کہ معاشرے کی بنیادی اکائی اور بنیادی جز فرد ہے، مختلف اجزاء یعنی افراد کے مجموعے سے کل یعنی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ تو جب تک اجزاء یعنی فرد ہر  لحاظ سے مکمل، مفید اور با صلاحیت نہیں ہو گا تب تک بہترین معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔
اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ بہترین معاشرے کے لیے بہترین افراد کی ضرورت ہے، اور بہترین افراد کی تیاری کے لیے بہترین تربیت کا کردار انتہائی ابتدائی اور اہم ہے۔ 

فرد کی تربیت کے مختلف مراحل  ہیں جن سے گزر کر ایک بہترین فرد تیار ہوتا ہے جو آگے جا کر وہ خاندان اور پھر معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوتا ہے۔  تربیت کے ان مراحل میں سے سب سے اہم مرحلہ پیدائش سے لے کر سن شعور میں پہنچنے تک کا ہے، بلکہ جدید تحقیق کے مطابق یہ مرحلہ پیدائش سے کچھ ماہ قبل ہی شروع ہو جاتا ہے ۔ 

اس ابتدائی مرحلے میں ایک عورت ماں کے روپ میں معاشرے کی تشکیل کا کار گراں مایہ سر انجام دینا شروع کر دیتی ہے۔  یہ تربیت اگر اچھے انداز سے ہو گی اور ان تمام تقاضوں کو پورا کرنے والے ہو گی جو ایک بچے کا قوم کا معمار اور بہترین معاشرے کا صورت گر بنانے کے لیے ناگزیر ہیں تو معاشرہ بہترین ہوگا ۔ لیکن اگر تربیت کے اس مرحلے میں ماں اپنے کردار سے غفلت برتے، یا بوجوہ کردار ادا نہ کر سکے اور تربیت میں کمی رہ جائے تو پھر بہتر معاشرے کی توقع رکھنا ایک خواب ہی ہو سکتا ہے۔

بہترین معاشرے اور قوموں کی تشکیل میں عورت کی اسی اہمیت کے پیش نظر ہی ہٹلر نے کہا تھا کہ  "تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو میں تمہیں  پڑھی لکھی قوم دوں گا " یعنی پڑھی لکھی ، ترقی یافتہ اور بہترین قوم اور معاشرے کی تشکیل میں اصل کردار ماں کا ہے
اسی حوالے سے عربوں نے بھی عورت کی اہمیت کو محسوس کیا اور کہا کہ تعليم رجل واحد ھو تعليم لشخص واحد، بينما تعليم امرأة واحدة يعني تعليم أسرة بكاملھا‘‘ ایک مرد کو تعلیم دینا ’سکھانا‘ فرد واحد کو تعلیم دینا ہے جبکہ ایک عورت کو تعلیم دینا ایک پورے خاندان کو تعلیم دینے کے مترادف ہے۔ اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایک عورت کی تعلیم ایک پورے خاندان کی تعلیم کے مترادف ہے اور جب خاندان تعلیم یافتہ اور مہذب ہوں گے تو اس کے نتیجے میں بننے اور تشکیل پانے والا معاشرہ بھی بہترین ہو گا ۔ 

صرف بطور ماں ہی نہیں بلکہ بطور استاد بھی عورت کا کردار زیادہ اہم ہے۔ خاص طور پر تعلیم کے ابتدائی مراحل میں عورت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ صرف آج کی بات ہی نہیں شروع سے ہی بچے ابتدائی تعلیم اور قرآن پاک کی تعلیم خواتین کے پاس پڑھتے ہیں۔ جدید تعلیمی نظام کا جائزہ لیں تو مونٹیسوری اسکول سے  لے کر آگے کے مراحل تک خواتین ہی اہم کردار ادا کر رہی ہیں ۔ 

عورت کی اہمیت کسی لحاظ سے بھی مرد سے کم نہیں بلکہ شایدکہیں زیادہ ہوتی ہے کیونکہ ایک مرد علم حاصل کرکے زیادہ سے زیادہ اپنے گھر کے لے مفید واقع ہوسکتا ہے جبکہ عورت کی تعلیم کا اثر گھر و گھرانے سے بڑھ کر شہر و معاشرے تک پھیل جاتا ہے۔ ایک مہذب عورت ہی بہترین انسانی تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ ایک با کردار اور مضبوط ارادہ عورت ہی دلیر قوم کو جنم دیتی ہے۔ ایک پرہیزگار و صاحب تقویٰ عورت ہی متقی و عبادت گزار بندے تربیت کرتی ہے۔ بالاخر یہ ماں ہی ہے جو ابتدا میں اپنے بچے کی تربیت کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کے پروان چڑھنے کے لیے مناسب ماحول فراہم کرتی ہے۔ اپنے گھریلو ماحول اور معاشرے کی فضاء کو اپنے اور دیگر بچوں کے لیے مہیا کرتی ہے۔ گویا جس معاشرے میں بھی تعلیم یافتہ خواتین کی کثرت ہوگی وہاں نہ صرف گھر کا ماحول بلکہ معاشرہ بھی انسانی نشو ونما کے لیے نہایت سازگار ہوگا۔ جیسا کہ مشہور ہے انسان کا لباس اس کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے اسی طرح ایک پاک و پاکیزہ ماحول اور صاف ستھرا محلہ وہاں بسنے والوں کی شخصیت کی مفسر و مبیّن ہوتا ہے۔ یعنی ایک صاف ستھری گلی، پاکیزہ در و دیوار اور مہذب لوگ پڑھے لکھے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔

پوری تاریخ میں کہیں کوئی ایسی فتح دکھائی نہیں دیتی جس میں خواتین کے مضبوط ارادوں کے بغیر مردوں کو کچھ حاصل ہوا ہو۔ اسلام کے آغاز کی سختیوں میں ام عمارؒکی دلیرانہ شجاعت نظر آتی ہے، ہجرت حبشہ میں جناب ام حبیبہ نظر آتی ہیں، شعب ابی طالب میں جناب خدیجہ ؑ نمایاں دیکھائی دیتی ہیں۔ اسی طرح جناب فاطمہ زہرا ؑ جنگ بدر کے معرکے سے لے کر، احد کے میدان میں، خندق کے حصار میں، ہر جگہ مردوں کے شانہ بشانہ کہیں زخمیوں کی تیمارداری، کہیں مردوں کو رجزخوانی کے ساتھ حوصلہ اور وقت آنے پر ہاتھوں میں ہتھیار لے کر رسول اللہ ؐ کی جان کی حفاظت کرتی نظر آتی ہیں۔

المختصر  بہترین معاشرے کی تشکیل میں عورت کا کردار کلیدی ہے ۔ اگر اقوام عالم میں نمایاں مقام حاصل کرنا ہے تو ہمیں خواتین کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینی ہو گی۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>