8.13.2013

جشن آزادی: کیوں؟ کیسے؟



آزادی کی قدر و منزلت سے شاید ہی کوئی ناواقف ہو۔ زندہ قومیں اس بیش بہا نعمت  کا سودا کسی قیمت پر نہیں کرتیں بلکہ اپنا سب کچھ لٹا کر آزادی کی نعمت کا حصول ممکن بناتی ہیں۔اسی جذبے کا اظہار شاعر نے کیا ہے کہ ؛
عشق و آزادی بہار زیست کا سامان ہے
عشق میری جاں آزادی میرا ایمان ہے
عشق پر قربان میری ساری زندگی
لیکن آزادی پر میرا عشق بھی قربان ہے

آج ہم کن حالات میں جشن آزادی منانے جا رہے ہیں؟؟؟
وطن عزیز پاکستان کو آزاد مملکت کے طور پر معرض وجود میں آئے 66 سال مکمل ہو چلے، یہ آزادی جن قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی ان کی اندوہناک داستان ہم میں سے کون نہیں جانتا۔ آگ اور خون کے دریا سے گزر کر جب یہ وطن حاصل کیا گیا تو ایک ہی مقصد پیش نظر اور ایک ہی نعرہ سب کی زبان پر تھا۔
پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔۔ لا الہ الا اللہ


لیکن ہم اس عہد کے ساتھ وفا نہ کر سکے، اپنے مقصد اور اس بنیادی نظریے کو پس پشت ڈال دیا جس کے لئے ہزاروں عصمت مآب ماؤں بہنوں نے قربانیاں دی تھیں، ہزاروں بھائیوں اور بیٹوں نے اپنی جانیں لٹا دی تھیں، اور ہزاروں بوڑھوں نے اپنی متاع حیات وار دی تھی ۔۔

وہ اسلام جس کے نام پر اس ساری جدو جہد اور قربانیوں کی داستاں رقم کی گئی تھیں اپنے ہی گھر میں اجنبی ہو گیا۔ کار حکومت سے لے کر انفرادی زندگی تک ہر جگہ اسلامی تعلیمات سے روگردانی اور دوری ایک عام روش بن گئی۔

نظریے کی بنیاد پر حاصل کی گئی مملکت نے جب اپنے نظریے سے دوری اختیار کی تو باوجود ظاہر آزادی کے، غیروں کی ذہنی غلامی کی زنجیریں پہنتی چلی گئی۔ اور آج یہ عالم ہے کہ ہمارے سیاہ و سفید کے مالک بیرونی آقاؤں کے اشارہ ابرو پر کٹھ پتھلیوں کی طرح ناچنے کوباعث  فخر سمجھتے ہیں۔

غیروں کی غلامی میں ہم اس قدر آگے نکل گئے کہ اپنے ملکی مفاد تک کو بالائے طاق رکھ دیا، غربت اور بے روزگاری پر توجہ دینے کے بجائے اپنے بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کے حصول میں مگن رہے۔ جس کے نتیجے میں حالات بد سے بد تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ترقی تو درکنار، مہنگائی اور بے روزگاری تک پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ اور سب سے بڑھ کر امن و امان کی صورتحال اس قدر دگرگوں کہ انسان اپنے گھر میں محفوظ نہیں۔

اس پر حالات کی ستم ظریفی کہ پانی نے ہمیں چاروں اور سے آ لیا۔ آسمان پانی برسانے لگا اور زمین سے پانی ابلنے لگا۔ رہی سہی کسر ہماری ’’امن کی آشا‘‘ کے ہمدرد ساتھی اور ہمارے دیرینہ ’دوست‘ نے پوری کر دی۔ جب دیکھا کہ پانی روک کر تو انہیں ختم نہیں کر سکے تو چلو اس موقع پر پانی بہا کر ان کا صفایا کرتے ہیں۔

ایک طرف پانی کی تباہ کاریاں ہیں، بے گو ر کفن لاشے، لٹے پٹے لوگ اور بے گھر خاندان کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار پڑے ہیں، تو دوسری جانب روشنیوں کے شہر کراچی میں اس سیلابی پانی والا کام سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکنان کر رہے ہیں۔ یہاں پانی کا سیلاب ہے تو وہاں خون کے دریا۔

ان حالات میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ اس بار جشن آزادی کیسے منایا جائے؟
اہل وطن کی ایک تعداد تو پچھلے کئی سالوں سے اس قدر مایوس اور بد دل ہو چکی ہے کہ اس کے لئے اس ایک دن کو منانا سراسر منافقانہ روش ہے۔ کہ جب ہم سارا سال اسی وطن کے ساتھ دشمنی کا عملی ثبوت دیں، ملک میں ہر سو آگ اور خون کا ہولناک کھیل کھیلا جا رہا ہو، بلوچستان سے لے کر قبائلی علاقوں تک اور خیبر سے کراچی تک کوئی جگہ محفوظ نہ ہو، حکمران اور عوام سب اس ملک کو لوٹنے میں مصروف ہوں، وطن عزیز میں ہم وطنوں سے زیادہ آزادیاں وطن دشمنوں اور بلیک واٹر والوں کو ہوں، ہماری تقدیر کے فیصلے اسلام آباد کے بجائے واشنگٹن میں ہوں، اور ہم آزاد ہو کر بھی بد ترین غلامی سے گزر رہے ہوں تو ایسے میں جشن آزادی منانا اور مبارکباد کی تقریبات منعقد کرنا منافقت اور دوغلا پن ہے۔

دوسرے لوگ وہ ہیں جن کے خیال میں سارا سال نہ سہی اسی ایک دن میں ہی اپنے وطن سے محبت کا اظہار، یکجہتی کا مظاہرہ اور اس عہد کی یاد تازہ کر لینا بہت ضروری ہے۔ تا کہ آزادی  کا احساس نہ صرف برقرار رہے بلکہ نسل نو تک منتقل بھی ہوتا رہے۔

اور بہت کم لوگ ایسے ہیں جو سارا سال بھی اور اس خاص دن میں بھی وطن عزیز کی ترقی کے لئے کوشاں، سرگرم عمل اور دعا گو ہیں۔

تمام حقائق درست سہی، تمام مایوسیاں اور جھنجھلاہٹ بجا سہی، حالات بہت دردناک سہی، غیروں کی اجارہ  داری سہی لیکن پھر بھی اس وطن عزیز کی صورت میں ہمیں جو ایک نعمت بیش بہا ملی ہوئی ہے، اور ان بد ترین حالات میں بھی ہم جن آزادیوں سے مستفیدہو رہے  ہیں شاید ہی کسی اور ملک کے باسیوں کو نصیب ہوں۔ اور ویسے بھی آزادی کا ایک لمحہ بھی اس قدر قیمتی ہے کہ اس کے جشن میں ساری زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ اس لئے ہمیں اس نعمت کی قدر کرتے ہوئے سجدہ شکر بجا لانا چاہیئے۔

آج کے یوم آزادی کا تقاضا
آج کے  حالات میں یہ یوم آزادی تقاضا کرتا ہےکہ  ایک بار پھر اس جذبے اور ولولے کے ساتھ تعمیر پاکستان کے لیے اٹھ کھڑا ہوا جائے  جسکا مظاہرہ 14 اگست 1947ء  کو کیا گیا تھا،  اس قربانی کا جو ہمارے اسلاف نے دی، اس ہمت کا جو اس بے سرو سامان قوم نے دکھائی اور اس بھائی چارے کا جو مہاجرین کے ساتھ میزبانوں نے کیا۔  اس وقت ایک پورا ملک از سر نو تعمیر ہونے جا رہا تھا، وسائل نہ ہونے کے برابر تھے، سب لوگ بے سروسامان تھے، لیکن پھر بھی ایک عزم تھا جس نے ایک خواب کو حقیقت بنا دیا۔

آج جب کہ ہمارے پاس بے شمار وسائل ہیں، ملک کا ایک حصہ اگر تباہ ہوا ہے تو ایک بڑا حصہ تا حال بفضل تعالی سلامت ہے اور کارو بار زندگی معمول کے مطابق ہے۔ اگر ہم سب ایک بار پھر اسی جذبے کا عزم کریں،  اور ہم میں سے ہر فرد سندھی، پنجابی، پٹھان یا بلوچی کے بجائے صرف ایک پاکستانی مسلمان بن کر سوچے اور وطن عزیز کو اسلام کا مضبوط قلعہ بنانے کے لیے کوشش کرے تو کچھ ناممکن نہیں ۔ بہت جلد حالات بدلیں گے، وطن عزیز امن کا گہوارہ ہو گا اور ہر لب خندہ اور چہرہ شاداب ہو گا، کھیت ہرے بھرے اور بازار پر رونق ہوں گے۔

آیئے عہد کریں کہ وطن عزیز کو جنت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل کہ جسے اندیشہ زوال نہ ہو

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔