جشن آزادی کیوں منائیں ؟
اب صف ماتم اٹھا دو نوحہ خوانی چھوڑ دو
موت ہے عنوان جس کا وہ کہانی چھوڑ دو
اس
بار کا یوم آزادی جن حالات میں آیا ہے ان میں جشن منانے کا خیال واقعی
انسان کو مغموم کر دیتا ہے اور مایوسی کے مہیب سائے اس قدر چھا گئے ہیں کہ
مختلف اطراف سے "جشن نہیں ماتم" کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔
لیکن
اگر کچھ دیر جذبابیت سے نکل کر حقیقت پسندی سے سوچا جائے تو مایوسی اور اس
کے نتیجے میں "ماتم" کی صدائیں بلند دور رس نقصانات کا باعث ہو سکتی ہیں۔
جشن
کا مطلب ضروری نہیں کے بھنگڑے ڈالنا اور شہنائیاں بجانا ہو۔ یوم آزادی
منانے کے ایک سے زائد طریقے ہیں۔ جن میں سے حالات کے مطابق کوئی بھی اپنایا
جا سکتا ہے۔ اور اس کا مقصد جہاں اس آزادی کی نعمت کا شکر بجا لانا، اپنے
بزرگوں کی قربانیوں کا اعتراف کرنا، آنے والی نسل میں آزادی کا احساس اور
شعور بیدار کرنا ہے وہیں اس کا ایک اہم مقصد معاشرے کے ناسوروں کےخلاف
آواز اٹھانا، اور بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے اس دن ایک بار پھر وہی عزم
کرنا جس کے ساتھ 1947 میں مسلمان قوم اٹھی تھی اور بر صغیر کو تقسیم کر کے
ایک مسلمان ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر کیا تھا۔
ماتم اور
وہ بھی اس روز ۔۔۔ یہ تو اس طبقہ فکر کی فتح ہو گی جس نے روز اول سے آج تک
اس اسلامی ریاست کی مخالفت کی اور نظریہ پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم
نہیں کیا۔ یہ سارے حالات انہی کے پیدا کردہ ہیں، اور اگر وہ محبان وطن سے
اس روز ماتم کروانے میں کامیاب ہو گئے تو پھر ہم اپنی آنے والی نسل کو کیا
شعور آزادی دیں گے؟
آزادی
کا جشن منانا زندہ قوموں کا شعار ہے اور اس سے قوم کو ایک نیا جوش، ایک
نیا جذبہ اور ایک ولولہ تازہ ملتا ہے۔ ہم آج جن حالات سے گزر رہے ہیں یقینا
ان کی وجہ سے مایوسی اور بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے اور ہو رہی ہے۔ اور
مایوسی ایک ایسی مہلک وبا ہے جب یہ کسی قوم میں پیدا ہو جائے تو پھر ترقی
کا عمل یکسر رک جاتا ہے۔ کیوں کہ آگے بڑھنے اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ صرف
اسی میں پیدا ہو سکتا ہے جس میں امید کا دیا روشن ہو، جسے بہتر مستقبل کا
یقین ہو اور جسے اس بات پر بھروسہ ہو کہ میری محنت ضائع نہیں ہو گی بلکہ اس
کے نتیجے میں بہتر حالات اور ترقی ملے گی۔
موجودہ
حالات میں جشن آزاد کو اس کے تمام تر تقاضوں کے مطابق منانا، عوام میں
آزادی کا شعور بیدار کرنا اور وطن عزیز کی ترقی، بہتری اور استحکام کے لیے
عوام پاکستان کے دلوں میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کرنا وقت کی ضرورت
ہے۔ اس کے لیے ارباب حکومت سے لے کر نیچے تک ہر ہر ذی شعور شہری کو اپنا
کردار ادا کرنا ہوگا ۔
حالات واقعی بہت ناگفتہ بہ ہیں لیکن بہتری کی امید کے ساتھ مایوسی کا خاتمہ ضروری ہے۔
اس موقع پر مکرمی اجمل انجم صاحب کی تازہ ترین نظم کے چند اشعار ضرور پیش کرنا چاہوں گا
وطن کی مٹی ۔۔۔۔۔ یقین رکھنا
کہیں جہاں میں ، خزاں کی رُت دائمی نہیں ہے
ستم کی کالی سیاہ راتیں ، طویل بھی ہوں
تو ان کا ڈھلنا
رُتیں بدلنا ۔۔۔۔۔ نسیم ِ صبح ِ بہار چلنا
یہ دین ِ فطرت ہے ، عین ِ حق ہے
یہ بالیقیں ہے
یقین رکھنا ۔۔۔۔۔ شب ِ ستم کا ، عذاب رُت کا
یہ بالیقیں دور ِ آخریں ہے









