Pages

جشن آزادی کیوں منائیں ؟






اب صف ماتم اٹھا دو نوحہ خوانی چھوڑ دو
موت ہے عنوان جس کا وہ کہانی چھوڑ دو

اس بار کا یوم آزادی جن حالات میں آیا ہے ان میں جشن منانے کا خیال واقعی انسان کو مغموم کر دیتا ہے اور مایوسی کے مہیب سائے اس قدر چھا گئے ہیں کہ مختلف اطراف سے "جشن نہیں ماتم" کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔

لیکن اگر کچھ دیر جذبابیت سے نکل کر حقیقت پسندی سے سوچا جائے تو مایوسی اور اس کے نتیجے میں "ماتم" کی صدائیں بلند دور رس نقصانات کا باعث ہو سکتی ہیں۔

جشن کا مطلب ضروری نہیں کے بھنگڑے ڈالنا اور شہنائیاں بجانا ہو۔ یوم آزادی منانے کے ایک سے زائد طریقے ہیں۔ جن میں سے حالات کے مطابق کوئی بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ اور اس کا مقصد جہاں اس آزادی کی نعمت کا شکر بجا لانا، اپنے بزرگوں کی قربانیوں کا اعتراف کرنا، آنے والی نسل میں آزادی کا احساس اور شعور بیدار کرنا ہے وہیں اس کا ایک اہم مقصد معاشرے کے ناسوروں کے‌خلاف آواز اٹھانا، اور بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے اس دن ایک بار پھر وہی عزم کرنا جس کے ساتھ 1947 میں مسلمان قوم اٹھی تھی اور بر صغیر کو تقسیم کر کے ایک مسلمان ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر کیا تھا۔

ماتم اور وہ بھی اس روز ۔۔۔ یہ تو اس طبقہ فکر کی فتح ہو گی جس نے روز اول سے آج تک اس اسلامی ریاست کی مخالفت کی اور نظریہ پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ یہ سارے حالات انہی کے پیدا کردہ ہیں، اور اگر وہ محبان وطن سے اس روز ماتم کروانے میں کامیاب ہو گئے تو پھر ہم اپنی آنے والی نسل کو کیا شعور آزادی دیں گے؟


آزادی کا جشن منانا زندہ قوموں کا شعار ہے اور اس سے قوم کو ایک نیا جوش، ایک نیا جذبہ اور ایک ولولہ تازہ ملتا ہے۔ ہم آج جن حالات سے گزر رہے ہیں یقینا ان کی وجہ سے مایوسی اور بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے اور ہو رہی ہے۔ اور مایوسی ایک ایسی مہلک وبا ہے جب یہ کسی قوم میں پیدا ہو جائے تو پھر ترقی کا عمل یکسر رک جاتا ہے۔ کیوں کہ آگے بڑھنے اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ صرف اسی میں پیدا ہو سکتا ہے جس میں امید کا دیا روشن ہو، جسے بہتر مستقبل کا یقین ہو اور جسے اس بات پر بھروسہ ہو کہ میری محنت ضائع نہیں ہو گی بلکہ اس کے نتیجے میں بہتر حالات اور ترقی ملے گی۔

موجودہ حالات میں جشن آزاد کو اس کے تمام تر تقاضوں کے مطابق منانا، عوام میں آزادی کا شعور بیدار کرنا اور وطن عزیز کی ترقی، بہتری اور استحکام کے لیے عوام پاکستان کے دلوں میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔   اس کے لیے ارباب حکومت سے لے کر نیچے تک ہر ہر ذی شعور شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔

حالات واقعی بہت ناگفتہ بہ ہیں لیکن بہتری کی امید کے ساتھ مایوسی کا خاتمہ ضروری ہے۔
اس موقع پر مکرمی اجمل انجم صاحب کی تازہ ترین نظم کے چند اشعار ضرور پیش کرنا چاہوں گا

وطن کی مٹی ۔۔۔۔۔ یقین رکھنا
کہیں جہاں میں ، خزاں کی رُت دائمی نہیں ہے
ستم کی کالی سیاہ راتیں ، طویل بھی ہوں
تو ان کا ڈھلنا
رُتیں بدلنا ۔۔۔۔۔ نسیم ِ صبح ِ بہار چلنا
یہ دین ِ فطرت ہے ، عین ِ حق ہے
یہ بالیقیں ہے
یقین رکھنا ۔۔۔۔۔ شب ِ ستم کا ، عذاب رُت کا
یہ بالیقیں دور ِ آخریں ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

میڈیا کا بنیادی مقاصد سےاعراض: اہل فکر کی ذمہ داری



تحریر: راجہ اکرام الحق
ذرائع ابلاغ کے بنیادی مقاصد میں سے اہم ترین تین مقاصد ہیں، تفریح، ذہن سازی اور معلومات کی فراہمی۔ اگر ان تین مقاصد کا تجزیہ کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اصل مقصد ذہن سازی ہے جس کے لیے تفریح کے مختلف ذرائع اور معلومات کی فراہمی کو بطور وسیلہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ذہن سازی در اصل قوم سازی Nation building   ہے اور اس کے لیے معاشرے کی ضرورت، اس کی سماجی و معاشرتی اقدار اور وقت و حالات کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر منصوبہ سازی کرنا اور لائحہ عمل طے کرنا ضروری ہے  تب ہی ان مقاصد کا حصول ممکن ہوگا۔ شاید ذہن سازی اور انسان سازی کے اس اعلیٰ  مقصد کی وجہ سے ہی صحافت کو مقدس پیشہ گردانا جاتا ہے۔
ان مقاصد کی روشنی میں اگر ہم وطن عزیر کے ذرائع ابلاغ کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا میڈیا نہ صرف یہ کہ بنیادی مقاصد سے کوسوں دور ہے بلکہ کسی اور کے اہداف کی تکمیل کرتا نظر آتا ہے۔ تفریح اور معلومات کی فراہمی کے لیے جو معیارات ذرائع ابلاغ نے طے کیے ہوئے ہیں ان میں نہ تو ہمارے معاشرے کی ضروریات کا لحاظ ہے، نہ معاشرتی و سماجی اقدار کو درخور اعتناء سمجھا گیا ہے اور نہ ہی وقت اور حالات کے تقاضوں کو خاطر میں لایا گیا ہے۔
اس بے راہ روی کی اہم وجوہات میں سرمایہ دارانہ ذہنیت، استعمار کی نقالی اور ذہنی مرعوبیت اہم ترین ہیں۔ سرمایہ دارانہ ذہنیت نے ذرائع ابلاغ کو سرمایہ داروں کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے، ان کے منافع کو دگنا کرنے اور ان کے لیے عوام کا خون نچوڑنے کی کے نئے افق تلاش کرنے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ معلومات اور تفریح کے ذرائع میں سے ان چیزوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جن کا معاشرے کی ضروریات سے دور دور تک کا واسطہ نہیں ہوتا۔ بنیادی مسائل سے آگاہی کے بجائے اشتہارات اور گلیمر پر سارا سارا دن گزر جاتا ہے۔ اشتہارات میں بھی ان اشیاء کو جگہ دی جاتی ہے جو نوے فیصد عوام کی نہ تو ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی ان تک رسائی کی سکت۔ ملکی مسائل سے آگاہی کے بجائے غیر ملکی فلموں اور فلم سٹارز کی تعریف و توصیف میں گھنٹوں صرف کر دیے جاتے ہیں۔
ایک اسلامی ملک جس میں  بسنے والے چھیانوے فیصد  سے زائد مسلمان ہوں، جن کے بزرگوں نے اسلام کے نام پر ایک مملکت حاصل کرنے کے لیے ناقابل بیان قربانیاں دی ہوں اس میں رائج ذرائع ابلاغ کا معیار، اس کا ضابطہ اخلاق، اس کی ترجیحات اور اس کے وسائل کا استعمال کن خطوط کی روشنی میں اور کس بنیاد پر ہونا چاہیے اس حوالے سے اصولا کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن کچھ عاقبت نا اندیشوں نے ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی اور کسی حد تک کامیاب بھی ہو گئے۔ شومئی قسمت کہ وطن عزیز کے ہر اہم ادارے اور ذرائع ابلاغ کے ہر اہم چینل پر  ایسے ہی افراد کا کہیں قبضہ اور کہیں اثر و رسوخ ہے۔
بسا اوقات یوں لگتا ہے کہ دنیا بھر کا میڈیا فی الحقیقت ایک ہی  مرکز سے کنٹرول ہو رہا ہے۔ ایک مخصوص لابی ہے جس نے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کو خرید رکھا ہے  اور کوئی بھی پروگرام اس کی  طے کی گئی منصوبہ بندی کے خلاف نشر نہیں ہو سکتا۔ کسی چیز کا ہوا کھڑا کرنا ہو تو دنیا بھر کا میڈیا یک جان ہو جاتا ہے اور شرق و غرب میں ایک ہی صدا سنائی دیتی ہے۔ اور اگر اس میڈیا کے ارباب اختیار نہ چاہیں تو بڑے سے بڑا مسئلہ کوئی توجہ حاصل نہیں کر سکتا۔ جسے چاہیں مجرم بنا دیں اور جسے چاہیں ہیرو بنا دیں ۔  جسے چاہیں ترقی کے بام عروج پر پہنچا دیں اور جسے چاہیں صفر کی قدر سے بھی نیچے لے جائیں۔
غیر مسلم اور غیر نظریاتی ممالک میں موجود ذرائع ابلاغ کسی نہ کسی حد تک اپنے ملکی مفاد  کو پیش نظر رکھتے ہیں لیکن اسلامی ممالک میں میڈیا کی صورتحال بہت تشویش ناک ہے۔ معاشرتی اقدار اور اخلاقی ضوابط تو درکنار ملکی مفاد تک کا لحاظ نہیں رکھا جاتا ۔ ایسے میں ارباب اقتدار اور اہل فکر و دانش کو اس اہم شعبے کی جانب توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے۔ حکومت ایک ایسا ضابطہ اخلاق طے کرے جو صرف حکومتی مفاد کا تحفظ نہ کرتا ہو بلکہ ملکی مفاد، معاشرتی و سماجی اقدار اور اخلاقی ضابطوں  کا جامع ہو۔ جس میں ملکی مسائل اور ان کے حل کے لیے عوامی شمولیت کے حوالے سے  آگاہی کے ساتھ ساتھ اخلاقی و سماجی قدروں کے پرچار اور تحفظ کا اہتمام بھی ہو۔ اگر اب بھی حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے اور ذرائع ابلاغ اسی نہج پر رواں دواں رہے تو ہمارے موجود خاندانی نظام،  سماجی قدروں اور ملکی مفاد کا بھی جنازہ نکل جائے گا۔
محب وطن اہل فکر و دانش اور اصحاب ثروت کا کام ہے کہ وہ  آگے بڑھ کر ذرائع ابلاغ کے میدان میں جگہ بنائیں، نئے ذرائع پیدا کریں اور معاشرے کی فکری نشو و نما میں اپنا کردار ادا کریں۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

میمو کیس کا فیصلہ : حکومت کا ایک اور امتحان





28 نومبر 2011ء کو سماعت کے لیے منظور کیے جانے والے میمو کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ میمو ایک حقیقت ہے اور اس کا خالق حسین حقانی ہے۔ اس  میں فریقوں کی ایک لمبی فہرست ہے جس میں پاکستان کے اعلیٰ ترین ادارے اور  اداروں کے سربراہان شامل ہیں جن میں  وفاق، صدر پاکستان، بری افواج کے سربراہ، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ شجاع پاشا، امریکہ کے لیے پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی اور پاکستان نژاد امریکی شہری  منصور اعجاز قابل ذکر ہیں۔  سوائے پی پی اور اس کے چند  چہیتوں اور چاہنے والوں کے سب ہی اس میمو کی حقیقت کے قائل تھے۔ آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ اپنے حلفیہ بیان میں اس کے حقیقی ہونے کا اظہار کر چکے تھے ۔ 

اگرچہ فیصلے میں اس میمو کا خالق حسین حقانی کو قرار دیا گیا ہے لیکن ایک سوال ابھرتا ہے کہ کیا حسین حقانی موجودہ حکومت اور بطور خاص صدر آصف علی زرداری کے مرضی یا حکم کے بغیر اس طرح کا کوئی اقدام اٹھا سکتے ہیں؟ ایک معمولی فہم کا مالک انسان بھی اس کا جواب نفی میں دے گا۔

پی پی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے پی پی کے اس جیالے نے فیصلہ آنے کے بعد کہہ دیا کہ کمیشن جانبدار تھا۔   سوال یہ ہے کہ یہ جانبداری اب آشکار ہوئی ہے  یا پہلے سے موصوف اس کا علم رکھتے تھے؟ اگر پہلے سے علم تھا تو پھر راز و نیاز کے بجائے اظہار کو بہتر کیوں نہ سمجھا گیا؟ 

اگر آرمی چیف، آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی کے حلفیہ بیانات  اور سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے حالیہ فیصلے سے ہٹ کر دیکھا جائے  تو پی پی اور اس کے جیالوں کا  رد عمل اس میمو کی حقیقت کو آشکار کرنے کے لیے کافی ہے۔   بطور خاص منصور اعجاز کو پاکستان آنے سے روکنے کے لیے حکومت وقت اور بالخصوص سابق وزیر داخلہ اور حالیہ مشیر داخلہ رحمٰن ملک کا  کردار صاف ظاہر کرتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہی نہیں بلکہ  ساری ہی دال کالی ہے۔ 

اس کے بعد دوسرا اہم واقعہ جو حسین حقانی کے مجرم ہونے کی مزید توثیق کرتا ہے  وہ اس کا وعدے کے مطابق واپس نہ آنا ہے۔ حسین حقانی کو اس شرط پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی کہ وہ  عدالت کے نوٹس پر چار دن  میں  عدالت کے روبرا پیش ہونے کے پابند ہوں گے۔ جبکہ صورتحال یہ ہے کہ بارہا نوٹس ملیا پر "ککھ نہ ہلیا"۔ لیکن شاید حقانی صاحب کو    پی پی پی کی تاریخ کا ایک اہم کردار بابر اعوان یاد نہیں ۔ یہ تاریخی روایت بتاتی ہے کہ جس کا "ککھ" نہیں ہلتا وہ پورا کا پورا ہل جاتا ہے۔ 

پاکستان پیپلز پارٹی  کا رویہ یہ رہا ہے کہ  روزانہ عدلیہ کے احترام کے دعوے کرتی ہے اور عملا ہمیشہ اس کے فیصلوں کی خلاف ورزی کرتی ہے ۔ اس کی بہترین مثالیں این آر او کا فیصلہ، سوئس عدالتوں کو خطوط کا معاملہ، وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت  کا فیصلہ اور رحمٰن ملک کی نا اہلیت کا فیصلہ ہیں جن میں حکومت نےصراحتاً عدلیہ کے فیصلے کی مخالفت کی۔  اب دیکھنا یہ ہے کہ اس فیصلے کے حوالے سے ان کی پیش رفت کیا ہو گی۔  کیا اپنے روایتی رویے کو برقرار رکھے گی یا  اپنے اس جیالے کی قربانی  دے کر سرخرو ہونے کی کوشش کرے گی۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

نصاب تعلیم کا نفسیاتی پہلو: پہلو تہی کے منفی اثرات



راجہ اکرام الحق:
نوجوان قوم کے معمار ہوتے ہیں اور ان معماران کی بہترین تعمیر   میں جہاں والدین، معاشرہ اور استاد کردار ادا کرتے ہیں وہیں نصاب تعلیم  کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہوا کرتا  ہے۔  کیوں کہ نصابِ تعلیم ذہنی پرداخت اور فکری تشکیل کے ساتھ ساتھ شخصیت کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔  بچے کے ناپختہ اور صاف ذہن میں جو تصویر درسگاہ میں ابتدائی سال سے اپنے نقش و نگار ابھارنا شروع کرتی ہے تعلیم سے فراغت تک وہ تصویر اس حد تک پختہ ہو جاتی ہے کہ اس کے نقوش انمٹ ہو جاتے ہیں۔ 

اس لیے کسی بھی ملک میں نصاب سازی کے کام کو  بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔ نصاب سازی کا کام  پختہ، تجربہ کار اور ماہرین نفسیات کو سونپا جاتا ہے تا کہ  ایسا  نصاب تیار ہو  جو ملکی و ملی مفاد سے ہم آہنگ ہو اور مطلوبہ افراد کار کی تیاری میں ممد و معاون ہو۔  لہذا یہ کہنا کسی طور غلط نہ ہو گا کہ تعلیم کا اہم ہدف انسان سازی ہے۔  جس نے اس صنعت پر توجہ دی  اس نے دنیا سے اپنا لوہا منوایا اور جس نے اس معاملے میں نا اہلی  اور عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا غلامی اس کا مقدر ٹھہری۔  

یوں تو وطن  عزیز میں اس وقت درجن بھر کے لگ بھگ نظام ہائے تعلیم رائج ہیں  لیکن اگر ہم اپنی سہولت کے لیے کسی  بڑی  اور واضح تقسیم پر قناعت کرنا چاہیں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا نظام تعلیم تین  بڑے نظاموں میں منقسم  ہے۔ ایک حکومتی یا سرکاری نظام تعلیم، دوسرا پرائیویٹ نظام تعلیم جس میں بیشتر برطانیہ اور امریکہ کا تیار کردہ نصاب  رائج ہے۔  اور تیسرا  دینی نظام تعلیم جو کہ مدارس عربیہ کی صورت میں ملک کے طور و عرض میں رائج ہے۔ ان تینوں نظاموں سے تیار ہونے والے افراد کے رویے، طرز عمل ، ذہنی ساخت اور انداز فکر  ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتا ہے  کیوں کہ ان تینوں نظام ہائے تعلیم کے نصابات ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔ 

اگر سرکاری  نظام تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہےکہ   انسان سازی کی یہ صنعت  اپنی پیداواری صلاحیت کے لحاظ سے بانجھ پن کا شکار ہے۔   کہیں نہ کہیں کوئی ایسی کمی ضرور ہے  جس کی وجہ سے یہ تعلیمی ڈھانچہ  ملکی و ملی تقاضوں   اور معاشرتی اقدار سے اہم آہنگ رجال کار فراہم کرنے سے قاصر ہے  ۔ اس سے نکلنے والے  بیشتر افرا د  فکری و عملی طور پر کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ  ذہنی  مرعوبیت کا شکار ہوتے ہیں۔ اور علمی بالغ  نظری کے  فقدان کے ساتھ ساتھ حب الوطنی کے جذبہ مطلوبہ  سے عاری بھی  ہوتے ہیں۔   اس کے مقابلے میں پرائیویٹ یا نجی تعلیمی نظام کے فارغ التحصیل جن کے شب و روز  آکسفورڈ اور کیمبرج کے نصاب ہائے تعلیم کو پڑھتے ہوئے گزرتے ہیں ، اور جن کی فکری و ذہنی  پرداخت اسی خاص ماحول میں ہوتی ہے وہ  علمی طور پر مضبوط اور  پر اعتماد تو ہوتے ہیں لیکن ملکی مفاد اور جذبہ حب الوطنی کے فقدان کا شکار ہوتے ہیں۔یہی لوگ برسر اقتدار آتے ہیں اور بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے ملکی مفاد اور خود مختاری  تک کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔  اول الذکر جو کام مرعوبیت کی وجہ سے کر تے ہیں وہی کام ثانی الذکر  خوشنودی کے لیے کر گزرتے ہیں۔ الغرض دونوں ہی طرح کے افراد ہمارے معاشرتی اور ملکی مزاج  کے لیے سود مند نہیں ہیں۔
  اس  ساری صورتحال کی اصل وجہ یہی ہے کہ ان نصاب ہائے تعلیم کی تیاری ہماری قومی و معاشرتی نفسیات اور ضرورتوں کے مطابق نہیں ہوئی۔ سرکاری نظام تعلیم لارڈ میکالے کے "سنہری اصولوں" پر کاربند ہے تو پرائیوٹ نظام سارا کا سارا ہے ہی درآمد شدہ۔ 


ان دو نظاموں کے مقابلے میں  رائج  دینی نظام تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو  وہ ایک اور انتہا پر ہے۔  لب و لہجہ اور انداز و اطوار پانچ صدیاں قبل والے، اپنے سوا کسی کو خاطر میں نہ لینا ،  اپنا کلام پیش کر دینا اور جواب آں غزل سننے کا روادار نہ ہونا۔  اسی کا نتیجہ ہے کہ بہت سے ایسے معاملات جو افہام و تفہیم اور مذاکرے و مکالمے سے حل ہو سکتے ہیں ان میں بھی  نوبت دست و گریباں ہونے تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ حال تو اپنے ہم مذہب  افراد کے ساتھ ہے۔ جہاں تک غیر مسلموں کا تعلق ہے  تو وہ اس قابل ہی نہیں کہ ان کے ساتھ مکالمہ کیا جائے ۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ مدارس میں رائج نصاب اس زمانے کا ہے جب مسلمان حاکم اور طاقت ور تھے۔ لہذا نصاب وہ نفسیاتی پہلو  رچا بسا ہے جو ایک حکمران قوم کا ہوا کرتا ہے۔
  مدارس دینیہ میں رائج موجودہ  نصاب اورنگزیب کے زمانے میں  نظام الدین فرنگی محلی کا ترتیب دیا ہوا" درس نظامی"  ہے۔ اس وقت مسلمان اقتدار میں تھے اور مقتدر قوم کی فکری و  ذہنی ساخت نفسیاتی طور پر محکوم سے کئی لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔  اسی کے پیش نظر  "درس نظامی" کی تیاری میں اُس وقت اور حالات کے تقاضوں کو پیش نظر رکھا گیا،  ان ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی جو ایک حکمران قوم کی ہوا کرتی ہیں اور ایسا نصاب تیار کیا گیا جس سے نکلے ہوئے افراد نہ صرف معاشرتی بلکہ انتظامی و حکومتی ذمہ داریاں بھی  بانداز احسن ادا کر سکیں۔  جبکہ آج کے دور میں مسلمانوں کی حالت کا اگر جائزہ لیا جائے تو ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد کے بعد سے اب تک ہم کبھی ذہنی، کبھی جسمانی اور کبھی دونوں طرح کی  غلامیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ آج کے دور کے تقاضے اس دور سے یکسر مختلف ہیں، اب معاملہ حاکم اور محکوم کا نہیں رہا، بلکہ کہیں مسلمان مغلوب ہیں اور کہیں معاملہ برابری کی سطح کا ہے۔ ایسے میں مذاکرات ، مکالمہ، کچھ دو اور کچھ لو کے اصولوں کو اپنانا ناگزیر ہے لیکن طبقہ علماء میں یہ خو بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ 

کسی بھی ملک کا نظام تعلیم  جن مقاصد و اہداف کے حصول کے لیے کوشاں ہوتا ہے مذکورہ بالا نظام ہائے تعلیم  ان  مقاصد  و اہداف کے حصول میں مطلوبہ کامیابی حاصل کرنے سے تا حال قاصر ہیں۔  اس ناکامی میں جو  عنصر کلیدی کردار ادا کر رہا ہے وہ نصاب تعلیم ہے۔ نصاب کا نفسیات کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔   نصابِ تعلیم  طلبہ کی ذہنی پرداخت پر نفسیاتی پہلو سے اس طرح اثر انداز ہوتا ہے کہ ان کی ظاہری و باطنی  شخصیت  میں غیر محسوس انداز سے ایک خاص نفسیاتی طرز عمل غالب آ جاتا ہے اور اس نفسیاتی طرز عمل کا رنگ معمولات حیات میں جا بجا  نظر آتا ہے۔

ان معروضات کے پیش نظر ہمارے ارباب اقتدار کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔   بطور خاص موجودہ  ملکی حالات میں ہم جس قدر قحط الرجال کا شکار ہیں ایسے میں یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ  موجودہ نصاب کی اساسی کتب اور بنیادی مضامین کو برقرار رکھتے ہوئے  ایسا نصاب تیار کیا جائے تو جو ملکی تقاضوں اور ہماری معاشرتی اقدار سے ہم آہنگ ہو  اور جس کے تیار کردہ رجال کار اپنی مطلوبہ ذمہ داریاں بانداز احسن ادا کر سکیں۔  

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سانحہ نوابشاہ: کون مرا کس نے مارا؟





ابھی 22 مئی کے زخموں سے خون رسنا بند نہیں ہوا تھا کہ 25 مئی بروز جمعہ کو ایک اور سانحہ رونما ہو گیا۔ صوبہ سندھ کے ضلع نوابشاہ میں قاضی احمد کے مقام پر کراچی سے کوہاٹ جانے والی ایک بس پرفائرنگ کر کے 8 افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔  میری معلومات کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں کراچی سے پنجاب یا سرحد  جانے والی مسافر بسوں پر اس طرح فائرنگ کی گئی ہو۔ اگر پہلا نہ بھی ہو تو اس نوعیت کے واقعات  شاذ و نادر ہی ہیں۔"لوٹ مار کے واقعات اس سے مستثنیٰ ہیں کیوں کہ وہ کم و بیش ہر جگہ رونما ہوتے رہتے ہیں"  واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ مرحومین کی مغفرت فرمائے اور  ان کے خون کی قربانی  کے بدلے وطن عزیز کو امن کی دولت سے نوازے۔ آمین

یہ فائرنگ کس نے کی،  نشانے پر کون تھا، پس پردہ مقاصد کیا تھے  اور کون  سے عناصر  اس میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ ان سوالوں کا جواب یا تو عینی شاہدین دے سکتے تھے یا پھر تفتیش کے بعد ہی مصدقہ طور پر کچھ کہا جا سکتا تھا۔ تاحال اس حوالے سے کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی کہ  اس فعل مذموم کا ارتکاب کس نے کیا اور کس کے کہنے پر کیا۔

بادی النظر میں یہ کہا جا سکتا ہے  کہ سندھ کا علاقہ ہے، مرنے والوں میں صوبہ پنجاب کے لوگ بھی شامل ہیں،  سندھی قوم پرستوں کو پنجاب سے پرخاش ہے جس کی بنا پر وہ اس طرح کااقدام کر سکتے ہیں۔

   لیکن معاملہ اس کے بالکل برعکس  نکلا۔  ابھی سندھی، پنجابی اور پٹھا ن خاموش تھے کہ مہاجر صوبے کے دعوے داروں نے اس واقعہ کو کیش کرانا شروع کر دیا۔ سوشل میڈیا پر یہ افواہیں پھیلانا شروع کر دیں کہ "اردو بولنے والوں اور مہاجروں کو قتل کیا گیا"۔ بظاہر دیکھا جائے تو مہاجروں کا اس پورے واقعے سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ کیوں کہ نہ تو ان کا علاقہ تھا اور نہ کوہاٹ جانیوالی کسی بس میں ان کا پایا جانا ضروری تھا۔ لیکن اس کے باوجود جس انداز سے ان لوگوں نے افواہیں پھیلانا شروع کیں اس نے ان کے کردار کو مشکوک بنا دیا۔
22 مئی کو سندھ 
قوم پرستوں کی ریلی پر فائرنگ کر کے 11 فراد کی ہلاکت کے بعد ایم کیو ایم پر جو الزامات لگ رہے تھے اس سے توجہ ہٹانے کے لیے اس واقعے کا جس طرح ایم کیوا یم  نے سہارا لینے کی کوشش کی  اس سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ 

تفتیش کا پہلا اصول ہی شک ہے۔ اسی شک کے فلسفے کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایم کیو ایم یا مہاجر صوبے کے دعویداروں نے جس انداز سے سانحہ نوابشاہ کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کی ہے اس سے اس شک کو تقویت ملتی ہے کہ اس واقعے میں ملوث عناصر میں ان کا پایا جانا بعید از قیاس نہیں۔ عین ممکن ہے کہ کراچی کے واقعہ سے توجہ ہٹانے اور سندھ قوم پرستوں کو سبق سکھانے کے لیے معصوم پنجابیوں اور پٹھانوں کی بلی چڑھائی گئی  ہو۔

تفتیش کا دوسرا اہم اصول یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ واقعہ سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔  اس اصول کے پیش نظر دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ اس سانحے سے فائدہ حاصل کرنے کی سب سے پہلی کوشش ایم کیو ایم کی جانب سے کی گئی جس نے ان کے کردار کو اور بھی مشکوک بنا دیا۔

اس اندوہناک سانحے کی تفتیش کے دوران تمام ہی پہلووں کو مد نظر کر تمام عناصر کو  زیر تفتیش لایا جانا ضروری ہے تا کہ مجرم کیف کردار تک پہنچ سکیں اور آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام ہو سکے۔

ایک اور اہم بات جو سب پاکستانیوں کو مد نظر رکھنی چاہیے اس طرح کے واقعات لسانی تعصب کو ہوا دینے کے لیے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں اور ملک دشمن عناصر  تعصب کی آگ کو بھڑکانے کے لیے ان واقعات کو  بہت مؤثر انداز سے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس لیے جوش کے بجائے ہوش کا دامن تھامنا ہو گا تا کہ سماج دشمن اور ملک دشمن عناصر کے مقاصد پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکیں۔  

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کراچی کو خطرہ کس سے ہے؟






خوشحالی اور بدحالی ، امن اور بد امنی، انصاف اور ظلم ہر معاشرے میں کسی نہ کسی صورت میں پائے جا سکتے ہیں۔ انسانوں کے اعمال اور نصیب دونوں ہی ان کے وجود اور معدوم ہونے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اگر اعمال راست ہوں، نیکی کا بول بالا ہو، ایثار و قربانی کے جذبات موجود ہوں، دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا جاتا ہو تو بدحالی کے بجائے خوشحالی، بدامنی کے بجائے امن و آشتی اور ظلم کے بجائے انصاف ہوتا ہے ۔ لیکن اگر نفسا نفسی کا عالم ہو، ہر طرف آپا دھاپی مچی ہو، اپنی آسائشوں کے لئے دوسروں کے منہ کا نوالہ چھیننے کو عیب تصور نہ کیا جاتا ہو، دنیاوی جاہ ہی مقصد زندگی بن جائے تو پھر معاملہ بالکل برعکس ہو جاتا ہے۔

لیکن کچھ لوگوں پر قسمت کی دیوی مہربان ہوتی ہے۔ ان تمام بد اعمالیوں کے باوجود بھی یہ مصیبتیں ان پر نازل نہیں ہوتیں۔۔ مگر کب تک، مہلت کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے ، اور جو سبق نہ سیکھے اس کا انجام دردناک ہی نہیں عبرت ناک بھی ہوتا ہے۔
شہر کراچی ایک زمانے میں روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، ملک بھر سے رزق کے متلاشی کراچی کا رخ کرتے تھے۔ اور اس شہر نے کبھی کسی کو مایوس واپس نہیں کیا بلکہ ہمیشہ خوش آمدید ہی کہا اور ایک ماں کی طرح اپنی آغوش میں پناہ دی۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر لوگ تلاش معاش کے لئے یہاں آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔

یہ بھی مسلم حقیقت ہے کہ اگر کراچی سے ان افراد نے حصول معاش کیا تو بدلے میں اس کی ترقی میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑا ویران حصہ(سہراب گوٹھ سے لے کر لالو کھیت تک) گنجان آباد علاقے میں تبدیل ہو گیا۔ سستی اور وافر افرادی قوت کے باعث ملک بھر سے سرمایہ کاروں نے کراچی کا رخ کیا اور بے شمار کارخانے کراچی کی رونق اور کشش میں روز افزوں اضافہ کرنے لگے۔
لیکن پھر ہمارے اعمال بدلے۔ نیتوں میں کھوٹ آنا شروع ہونے لگی۔مال کی ہوس میں اضافہ ہوا۔ آنکھوں پر حرص و ہوا کی پٹی چڑھ گئی اور وہی لوگ جو کل تک ہمارے بھائی تھے دشمن نظر آنے لگے۔ ہمیں کراچی کی زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگ لگنے لگی۔ اور باہر سے آنے والے بوجھ محسوس ہونا شروع ہو گئے۔

پھر کیا ہوا؟ وہی جو اس کا فطری نتیجہ ہے۔ امن و امان تباہ ہو گیا۔ اپنے اپنوں کے گلے کاٹنے لگے، روشنیاں تاریکیوں میں بدل گئیں، صنعتیں خسارے کا شکار ہو گئیں۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے کراچی خوف کی علامت بن گیا۔

ذمہ دار کوئی بھی ہو ، قصور کسی کا بھی ہو، لیکن یہ ہے ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ۔
اب جب کہ وطن عزیز چاروں جانب سے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی چالوں اور سازشوں کا شکار ہے۔ ایک کے بعد دوسری مصیبت رونما ہو رہی ہے۔ ملک کا ایک حصہ مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسے میں پھر ایک بار ایک بڑی تعداد کے لئے شہر کراچی آخری امید ہے۔ لیکن دوسری جانب اہل وطن کو ایک دوسرے پر الزام تراشیوں سے فرصت نہیں۔ سب کا مدعا یہی ہے کہ کراچی کو خطرہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ خطرہ کس سے ہے۔

ایک گروہ کے خیال میں خطرہ ”اسلا مائیزیشن “ سے ہے، دوسرے کے خیال میں خطرہ ”طالبانائزیشن“ سے ہے، تیسرے کے خیال میں ”پٹھانائزیشن“ سے ہے اور ایک بڑی تعداد کے خیال میں کراچی کو خطرہ صرف ”الطافائزیشن“ یا ”مہاجرائزیشن“ سے ہے۔

ایک لمحے کے لئے ہم یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ مذکورہ بالا تما ہی گروہوں سے کراچی کو خطرہ ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہو گا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ کس ملک سے ان کا تعلق ہے؟ کہاں کی شہریت کے حامل ہیں؟ کس دین و مذہب کے ماننے والے ہیں؟
تو جواب کا خلاصہ یقینا یہی ہو گا کہ یہ سب تو ”اپنے“ ہی لوگ ہیں۔ اسلام کے ماننے والے ہیں، پاکستان میں بسنے والے ہیں اور پاکستان ہی کے شہری بھی ہیں۔ تو اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ کراچی کو خطرہ ”اپنوں “ سے ہے۔

اگر ہم سب فرقہ واریت اور گروہ بندی کو نظر انداز کر کے ملکی مفاد کے لئے سوچنا شروع کر دیں تو نہ صرف کراچی بلکہ وطن عزیز پاکستان تمام خطرات سے نکل سکتا ہے۔
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اگر وطن عزیز کو امن و آشتی کا گہوارا بنانا ہے، کراچی کو ایک بار پھر روشنیوں کا شہر بنانا ہے اور دنیا میں نام روشن کرنا ہے تو ہمیں اپنے اعمال پر نظر ثانی کرنی ہو گی۔ان حالات میں غیروں کو کوسنا اورتمام فسادات اور ہنگاموں کا ذمہ دار انہیں ٹھہرانا اپنے دل کو طفل تسلی دینے سے زیادہ کچھ نہیں ہو گی۔ کیوں کہ کراچی کو خطرہ کسی اور سے نہیں بلکہ خطرہ ”اپنوں“ سے ہے ۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

جوہری توانائی کا تحفظ : پس پردہ حقائق ، ممکنہ صورت



تحریر: راجہ اکرام الحق
جوہری ہتھیاروں کو دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے اور دنیا کو  "جوہری دہشت گردی" سے بچانے کے اعلانیہ ایجنڈے کے تحت دوسری جوہری تحفظ کی سربراہی کانفرس جنوبی کوریا کے دار الحکومت سیول میں 26 مارچ کو منعقد ہوئی۔  اس سلسلے کی پہلی کانفرنس12 اور 13 اپریل  2010ء کو امریکہ کے شہر واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوئی تھی، کانفرنس میں دنیا بھر کے پچاس سے زائد ممالک  اور تنظیموں نے شرکت کی جن میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں۔  ۔  کانفرنس کا ایجنڈا تین نکاتی تھا ؛

  •  جوہری دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات  
  •  جوہری مواد اور اس سے متعلق  سہولیات کا تحفظ
  • جوہری مواد کی غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام 
اس دو روزہ اجلاس میں کون کون سی چیزیں زیر بحث آئیں اور آئندہ کے لیے کیا لائحہ عمل طے کیا گیا اس حوالے سے بے شمار تفصیلات ذرائع ابلاغ میں جا بجا موجود ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جوہری تحفظ کے ان اجلاسوں کا اصل اہداف کیا وہی ہیں جن کا تذکرہ برسر منبر کیا جاتا ہے یا اصل مقاصد اور اہداف پس پردہ ہیں جنہیں "جوہری دہشت گردی" سے بچاؤ کے پردے میں رہ کر حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔؟
اصل ہدف جس کا  چرچا ہے اور جس کے نام پر خرچا ہو رہا ہے وہ جوہری ہتھیاروں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں لگنے سے بچانے کے اقدامات ہیں لیکن  اجلاس کے دوران ہونے والے خطاب اور بالخصوص کانفرنس کے بانی اور روح رواں امریکی صدر کا خطاب اگر سنا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یا تو اس طرح کے اجلاس کااصل مقصد وہ نہیں جو بتایا جاتا ہے یا پھر یہ سمٹ اپنے ہدف سے بہت دور جا چکا ہے۔
اس سے پہلے 2010ء میں ہونے والے پہلے اجلاس کا اگر جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس پروگرام کا اصل ہدف دنیا کے دیگر ممالک کو جوہری توانائی سے دور کر کے امریکہ اپنی اجارہ داری اور چودہراہٹ قائم کرنے کے لیے پیش رفت کر رہا ہے۔ اسی طرح کی صورتحال اس بار کے اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے۔  کیوں کہ اگر کانفرنس کا ہدف واقعتا جوہری مواد کا تحفظ ہے تو اس ایجنڈے میں سر فہرست ایسے اقدامات ہونے چاہیے تھے جن کے ذریعے موجودہ مواد کو محفوظ سے محفوظ تر بنایا جا سکے تا کہ ان تک دہشت گردوں کی رسائی ممکن نہ رہے اور پر امن مقاصد کے لیے ان سے استفادے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔  نیز جن ذمہ دار ممالک کے پاس جوہری توانائی کے حصول کی صلاحیت ہے اور وہ اسے پر امن مقاصد کے لیے یا اپنے دفاع کو بہتر بنانے کے لیے  حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کے ساتھ ہر ممکنہ تعاون کیا جائے تا کہ اس پر صرف چند ممالک کی اجارہ داری نہ رہے۔  اس کے پیش نظر ضروری تھا کہ اس کانفرنس میں وہ تمام ممالک شریک ہوں جو یہ توانائی رکھتے ہیں اور وہ بھی جو اس کے حصول کے بالقریب پہنچ چکے ہیں یا اس حوالے سے کوشش کر رہے ہیں اور عالمی برادری میں متنازعہ فریق کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ تا کہ تمام  متعلقہ ممالک کا موقف سامنے آ جاتا اور بہتر حکمت عملی طے کرنے میں کامیابی ہوتی۔ لیکن گزشتہ بار کی طرح اس بار بھی  اس اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا۔ اور پھر دوران اجلاس ان کو تنبیہ بھی کی جاتی رہی۔

اس اجلاس سے ہٹ کر اگر پاکستانی ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے امریکہ بہادر اور ان کے جغادریوں کے تیور دیکھے جائیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ  ان کے لیے قابل ہضم نہیں ہے۔ اور اس سے بڑھ کر وہ دوہرا معیار جو بھارت اور پاکستان کے حوالے سے برتا جاتا ہے کہ ایک طرف بھارت کے ساتھ معاہدے اور تعاون اور دوسری طرف پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر تشویش کے اظہار اور اس کے خاتمے کے لیے کوششیں۔ 

حالات اس نہج پر جا رہے ہیں کہ کسی بھی چیز کو آئی سو لیشن میں رکھ کر نہیں دیکھا جا سکتا پورے منظر نامے کی ہر ہر کڑی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ یہ اجلاس اور اسے سے قبل جوہری توانائی کے حوالے سے امریکہ اور اس کے ہمنواؤں کی حکمت عملی سے واضح ہے کہ اس کا اصل مقصد اپنی بالادستی کے برقرار کی کوشش ہے جس  کے لیے  ہر اس ملک پر چڑھ دوڑنے کے لیے تیار ہے جو اس جانب پیش رفت کرتا ہو۔ اس حوالے سے ایران، شمالی کوریا اور پاکستان کےساتھ امریکی سلوک شاہد عدل ہے۔ 

جوہری توانائی کی تابکاری اور اس کے نقصانات اپنی جگہ لیکن اگر اس کا مؤثر اور تعمیری استعمال کیا جائے تو  اس کے فوائد بھی بے شمار ہیں ۔ تاہم اس کا ایک اہم فائدہ  کسی بڑی عالمی جنگ کے امکانات کا خاتمہ ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ توانائی ہر فریق کے پاس یکساں موجود ہو۔ کیوں کہ اگر  فریقین کے پاس ہو گی تو استعمال کا امکان نہیں اور اس کی مثال پاکستان اور بھارت سے لی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر کسی ایک کے پاس ہو اور دوسرے کے پاس نہ ہو تو پھر استعمال کے امکانات کئی گناہ بڑھ جاتے ہیں۔  اس کی مثال تاریخ میں موجود بھی ہے اور آئندہ کے لیے امکان اور توقع بھی ہے۔  مثال بھی امریکہ بہادر نے پیش کی جب صرف اس کے پاس یہ توانائی تھی  اور جاپان کے پاس نہیں تھی تو امریکہ نے بلا خطر استعمال کیا ، اور آئندہ بھی امریکہ ہی سے توقع کی جا سکتی ہے کہ اپنی انا کی ناک اونچی رکھنے اور اپنی مزعومہ عالمی قوت برقرار رکھنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ 

اگر حقیقت پسندی سے سوچا جائے تو جوہری مواد کے منفی استعمال اور اس کی تابکاری سے بچنے کی دو ہی صورتیں ہیں۔ یا تو تمام ہی ممالک تابکاری والے مواد کو  تلف کر دیں اور صرف  توانائی  کے مقاصد کے لیے ضروری مواد پر اکتفا کریں، یا پھر تمام ہی ممالک کے پاس یکساں صلاحیت ہو تا کہ کسی کو دوسرے پر جارحانہ اقدام کرنے کی جرات نہ ہو۔ بصورت دیگر امریکہ اور دگر بڑی طاقتیں اپنی چودہراہٹ قائم کرنے کے لیے یونہی سب کو بیوقوف بناتی رہیں گی اور ترقی پذیر ممالک کے لیے اس حوالے سے ہونے والے تمام ہی اقدامات و اجلاس  نشستن، خوردن و برخاستن سے زیادہ کچھ نہیں ہوں گے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>